طلاق: خاندانی اور سماجی زندگی کا بہت بڑا المیہ

پاکستان میں طلاق اور خلع کی بڑھتی ہو ئی شرح ایک ایسا سماجی المیہ ہے جس کی جڑیں معاشرتی، معاشی اور ثقافتی مسائل سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہ صرف ایک عددی اضافہ نہیں بلکہ ان لاکھوں خواتین کی کہانی ہے جو نا انصافی، تشدد اور بے حسی کا شکار ہو رہی ہیں۔ مریم کی کہانی، جو شمالی وزیرستان سے تعلق رکھتی ہے، اس درد ناک حقیقت کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔ اس کی شادی تمام رسم و رواج کے ساتھ انجام پائی، لیکن جلد ہی اس کی زندگی جہنم بن گئی۔ اس کے شوہر نے نہ صرف اس پر جسمانی تشدد کیا بلکے طرح طرح کے الزامات لگا کر اس کی عزت نفس کو مجروح کیا۔ بالآخر اسے گھر سے نکال باہر کیا گیا۔

اب وہ اپنے میکے میں پناہ لے چکی ہے، لیکن یہاں بھی اس کے مقدر میں اذیت اور تکلیف ہی لکھی ہے۔ وہ اپنے شوہر سے مطالبہ کرتی ہے کہ یا تو اسے واپس بلا لے یا طلاق دے کر اسے آزاد کر دے۔ لیکن جواب میں اسے صرف یہ سننے کو ملتا ہے کہ نہ تو اسے طلاق دی جائے گی اور نہ ہی اس کے ساتھ بیوی جیسا سلوک روا رکھا جائے گا۔ یہ وہ المناک صورتحال ہے جس میں اس جیسی ہزاروں خواتین پھنس چکی ہیں۔

قبائلی معاشروں میں یہ رویہ عام ہے کہ جب کوئی عورت اپنے شوہر کے تشدد سے تنگ آکر میکے واپس آتی ہے تو اس کے اپنے ہی خاندان والے اسے پرایا سمجھتے ہوئے اس کوئی حیثیت تسلیم نہیں کرتے۔ اسے کہا جاتا ہے کہ ایک بار تمہاری شادی ہوچکی ہے، اب تمہارا ٹھکانہ صرف اور صرف سسرال ہی ہے۔ یہاں پر زندہ رہنے کے لیے اگر ایک روٹی کھانی ہے تو خاموشی سے کھا لیا کروں، ورنہ گھر چھوڑ کر جہاں جی چاہے چلی جاؤ۔ ایک المناک رسم یہ بھی ہے کہ اگر مطلقہ عورت کے پاس کوئی جا ئیداد یا زیورات ہوں تو اسے اس وقت تک پناہ دی جاتی ہے جب تک اس کے مال پر قبضہ نہ کر لیا جائے۔ اس کے بعد یا تو اسے گھر سے نکال دیا جاتا ہے یا پھر گھر کی ملازمہ بنا کر رکھ لیا جاتا ہے۔ یہ وہ ظالمانہ روایات ہیں جو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

طلاق یافتہ خواتین کے ساتھ خاندان اور معاشرے کا رویہ انتہائی شرمناک ہے۔ انہیں ہر برائی کی جڑ قرار دے کر ان کی تنہائی کو اور بھی زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے۔ ان کے اپنے خاندان والے بھی انہیں بوجھ سمجھتے ہیں اور معاشی مجبوریوں کے باعث ان کی حمایت کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جو ہمارے معاشرے کی اجتماعی ضمیر پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

معاشی خود مختاری کے بغیر خواتین کے پاس ناخوشگوار شادیوں میں زندگی گزارنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ وہ نہ تو خود اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکتی ہیں اور نہ ہی معاشرہ انہیں باعزت روزگار حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ یہی وہ مجبوری ہے جو انہیں ظلم و ستم سہنے پر مجبور کرتی ہے۔

جذباتی طور پر طلاق یافتہ خواتین انتہائی کمزور ہو جاتی ہیں۔ ڈپریشن، اضطراب اور مالی عدم تحفظ ان کی زندگی کو اجیرن بنا دیتے ہیں۔ بچوں کی پرورش اور ان کے مستقبل کے حوالے سے ان کے ذہن میں ہر وقت خدشات موجود رہتے ہیں۔ باپ اگر بچوں کی ذمہ داریوں سے منہ موڑ لے تو ماں کے لیے صورت حال اور بھی دشوار ہو جاتی ہے۔

یہ صورتحال اس وقت اور بھی المناک ہو جاتی ہے جب ہم شادی کے اسلامی تصور پر غور کرتے ہیں۔ نکاح انسانی معاشرے کی تشکیل اور اس کی بقا کا ایک بنیادی ستون ہے۔ یہ رشتہ صرف دو افراد کے ملاپ کا نام نہیں، بلکہ دو خاندانوں کے باہمی ربط و تعلق، محبت و مودت اور سماجی استحکام کا ذریعہ ہے۔ آسمانی تعلیمات ہوں یا دنیا کے دیگر مذاہب و تہذیبیں، ہر جگہ نکاح کو ایک مقدس اور ناگزیر ادارے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ وہ پاکیزہ بندھن ہے جو مرد و عورت کے درمیان نہ صرف جذباتی سکون فراہم کرتا ہے، بلکہ نسل انسانی کی تسلسل اور صالح اولاد کی پرورش کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ اولاد جو والدین کے لیے نہ صرف دنیا میں سرمایۂ فخر ہوتی ہے، بلکہ آخرت میں صدقہ جاریہ اور ان کے درجات کی بلندی کا باعث بھی بنتی ہے۔

اس کے برعکس طلاق کو شرعی اصطلاح میں نکاح کے بندھن کو توڑنے اور بیوی کو آزاد کرنے کا عمل سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ شرعی طور پر جائز ہے، لیکن اسلام میں اسے انتہائی ناپسندیدہ اور مبغوض عمل قرار دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نکاح کے ذریعے جو اعلیٰ مقاصد حاصل ہوتے ہیں، طلاق ان سب کو نیست و نابود کر دیتی ہے۔ یہ محض دو افراد کی علیحدگی کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے خاندانی ڈھانچے کو متاثر کرنے والا ایک المیہ ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف میاں بیوی کے درمیان تعلقات خراب ہوتے ہیں، بلکہ ان کے اہل خانہ اور آنے والی نسلیں بھی اس کے منفی اثرات سے متاثر ہوتی ہیں۔ طلاق کے بعد سب سے زیادہ نقصان اولاد کو اٹھانا پڑتا ہے، جو نہ ماں کی شفقت سے مستفید ہو پاتی ہے اور نہ باپ کی تربیت و نگرانی سے۔ یہ بچے نازک نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں اور اکثر معاشرے میں وہ مقام حاصل نہیں کر پاتے جو ایک مستحکم خاندانی ماحول میں پروان چڑھنے والے بچوں کو حاصل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامیہ نے جہاں نکاح پر زور دیا ہے، وہیں طلاق کو سخت ناپسندیدہ عمل قرار دے کر اس کے استعمال کو انتہائی مجبوری کے حالات تک محدود کر دیا ہے۔

شریعت میں طلاق کا اختیار principally مرد کو اس لیے دیا گیا ہے کہ عورت فطری طور پر زیادہ جذباتی اور حساس واقع ہوئی ہے۔ معمولی اختلاف یا نااتفاقی کے موقع پر وہ جذبات میں بہہ کر فوری فیصلہ کر سکتی ہے، جبکہ مرد کو نسبتاً زیادہ عقل و تدبر اور دوراندیشی سے کام لینے والا سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ طلاق جیسے سنگین قدم سے پہلے ہزار بار سوچے گا اور اس کے ممکنہ نتائج کو مدنظر رکھے گا۔ مگر افسوس کہ موجودہ دور میں بہت سے مرد اس مقدس اختیار کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے بیوی پر ظلم و تشدد کا ہتھیار بنا لیتے ہیں۔ وہ ہر چھوٹی بڑی بات پر طلاق کی دھمکی دیتے ہیں، جس سے نہ صرف گھریلو ماحول مکدر ہوتا ہے، بلکہ عورت کی نفسیاتی اور جذباتی حالت بھی متاثر ہوتی ہے۔ یہ رویہ شریعت کے اس حکم کے بالکل برعکس ہے، جس میں عورتوں کے ساتھ حسن سلوک اور بھلائی کرنے کی واضح ہدایت دی گئی ہے۔

نبی کریم ﷺ کی متعدد احادیث میں طلاق کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ ایک حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال کاموں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ عمل طلاق ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جو عورت بلا کسی وجہ کے اپنے شوہر سے خلع کا مطالبہ کرے، اس پر جنت کی خوشبو حرام ہو جاتی ہے۔ اسی طرح جو مرد اپنی بیوی سے فائدہ اٹھا کر اسے طلاق دے دے اور اس کا مہر بھی نہ دے، وہ اللہ کے نزدیک سخت عذاب کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ یہاں تک کہ شیطان اپنے کارندوں میں سے اس شخص کو سب سے زیادہ پسند کرتا ہے، جو میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طلاق محض ایک دنیوی معاملہ نہیں، بلکہ اس کے روحانی اور اخلاقی پہلو بھی ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

مزید برآں، پاکستان جیسے معاشروں میں طلاق اور خلع کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیچھے کئی سماجی، معاشی اور نفسیاتی عوامل کارفرما ہیں۔ اگرچہ اسلامی قوانین کے تحت خواتین کو طلاق کا حق حاصل ہے، لیکن عملی طور پر انہیں کئی طرح کی رکاوٹوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مثال کے طور پر، خلع کی صورت میں عورت سے اکثر مہر کی رقم واپس لینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے، جو اس کے لیے مالی طور پر ایک بہت بڑا بوجھ ثابت ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں، طلاق کے بعد خواتین کو شدید سماجی دباؤ اور بدنامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایشیائی معاشروں میں طلاق یافتہ عورت کو اکثر معیوب نظروں سے دیکھا جاتا ہے، اس کے کردار پر شک کیا جاتا ہے اور اسے خاندانی و سماجی تقریبات میں شامل ہونے سے روکا جاتا ہے۔ یہ سماجی stigma نہ صرف اس کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈالتا ہے، بلکہ اسے معاشی خودمختاری حاصل کرنے میں بھی رکاوٹ بنتا ہے۔

اسی طرح معاشی عدم تحفظ بھی طلاق کے عمل کو مشکل بناتا ہے۔ بیشتر خواتین شادی کے بعد مالی طور پر اپنے شوہر پر انحصار کرتی ہیں۔ طلاق کی صورت میں اگر ان کے پاس خود کوئی ذریعۂ آمدن نہ ہو، تو وہ انتہائی مشکل صورت حال سے دوچار ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی خواتین ناخوشگوار ازدواجی زندگی کو برداشت کر لیتی ہیں، لیکن معاشی مجبوریوں کے باعث طلاق کا فیصلہ نہیں کر پاتیں۔ اولاد کی تحویل کا مسئلہ بھی ایک اہم رکاوٹ ہے۔ اگرچہ پاکستانی قانون کے مطابق چھوٹے بچوں کی تحویل عام طور پر ماں کو دی جاتی ہے، لیکن باپ کو ملاقات کے حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ اکثر اوقات طلاق کے بعد باپ بچوں کی تحویل یا ملاقات کے معاملے کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے، جس سے عورت کو جذباتی اذیت سے گزرنا پڑتا ہے۔

اسی طرح معاشرہ طلاق کو ایک سماجی بدنامی کے بجائے، ایک قانونی اور انسانی حق کے طور پر قبول کرے۔ پاکستانی معاشرہ ایک اجتماعی نظام پر چل رہا ہے جہاں انفرادی خوشی سے زیادہ خاندانی عزت کو اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی سوچ خواتین کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھتی ہے۔ جو خواتین اس نظام سے باہر نکلنے کی جرات کرتی ہیں، انہیں معاشرے کی طرف سے دیوار سے لگا دیا جاتا ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف قانونی اصلاحات سے ممکن نہیں ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرے کے سوچنے کے انداز کو بدلا جائے۔ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنایا جائے اور انہیں باعزت روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

سماجی سطح پر طلاق یافتہ خواتین کے ساتھ ہمدردی اور تعاون کا رویہ اپنایا جائے۔

اسی طرح مذہبی رہنماوں کو چاہیئے کہ وہ عوام میں نکاح کی فوائد اور طلاق کے نقصانات کے بارے میں آگاہی پھیلائیں۔ نوجوانوں کو شادی سے پہلے ہی اس کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ سمجھ بوجھ کر فیصلے کر سکیں۔ خواتین کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنا اور انہیں قانونی مدد فراہم کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ خواتین کے تحفظ کے لیے موثر قوانین بنائے اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ عورتوں کے خلاف تشدد کے واقعات پر سخت سزائیں مقرر کی جائیں اور متاثرہ خواتین کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے۔

معاشرے کی سوچ میں تبدیلی لانا ایک طویل عمل ہے، لیکن اس کے بغیر کوئی حل ممکن نہیں ہے۔

طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کی ان خامیوں کی عکاسی کرتا ہے جو ہم نے خود پیدا کی ہیں۔ اس کے حل کے لیے ہم سب کو مل کر کوشش کرنی ہوگی۔ خواتین کے ساتھ ہمدردی، تعاون اور انصاف کا رویہ ہی ہمارے معاشرے کو بہتر بنا سکتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے