پھولوں کے دن، آہوں کے سائے

فروری کی چودہ تاریخ پھولوں کا دن تھا۔ وہ مہینہ ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر جگہ پھول کھلے ہوں۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ ملنے والی ان خوشیوں کو آخر کیسے سمیٹا جائے۔ اور جب مہینہ فروری کا ہو، پھولوں کے دن ہوں اور اچانک ایک ایسی کیفیت آپ پر آشکار کر دی جائے جسے آپ سمجھ نہ سکیں، تب پتا چلتا ہے کہ پاؤں تلے سے زمین کھینچنا کسے کہتے ہیں۔

جب آپ بہت خوش ہوں، دل میں اطمینان ہو کہ صبر کا صلہ اب ملنے ہی والا ہے، اور ایسے میں اگر کسی بڑھیا کی آہ آپ کو لگ جائے، تو وہ آہ بالکل ویسی ہوتی ہے جیسے پرندے کے گھونسلے میں سانپ گھس آئے اور اس کے ننھے بچوں کو نگل جائے۔ چڑیا چونچ میں دانہ لیے واپس آئے اور خالی گھونسلہ دیکھ کر پاگل سی ہو جائے۔ یا جیسے بہت سی بددعائیں اکٹھی ہو کر آپ کو آن لگیں، اور آپ پھر سے اسی مقام پر آ گریں جہاں سے آپ نے ننھے ننھے قدم بڑھانا شروع کیے تھے۔ اس لمحے نہ کوئی آپ کو سنبھالنے والا ہوتا ہے، نہ کوئی آپ کی حالتِ زار کو سمجھنے والا۔

تب آپ کیا کریں گے؟ زار و قطار رونا بھی چاہیں تو نہیں رو سکتے، کیونکہ کوئی آپ کو گلے لگانے والا نہیں۔ دل تجسس اور امید سے آگے بڑھتا ہے، آنکھوں میں آنسو لیے معجزے کا انتظار کرتا ہے، اور زبان پر دعا پر دعا۔

مگر سوال یہ ہے: تب کون لکھے گا؟ تب کون یاد رکھے گا کہ الفاظ کو پیرونا کیا ہوتا ہے، زندگی کے رنگوں کو تحریر میں کیسے بھرا جاتا ہے، جب اپنے ہی دامن میں رنگ باقی نہ رہیں؟ لیکن کیا ہے نا، زندگی رکتی نہیں، چلتی رہتی ہے۔ زخم مندمل ہو جاتے ہیں، اور پھر کبھی یاد آنے پر صرف ایک آہ نکلتی ہے۔ مگر ان زخموں کو اپنا مسکن نہیں بنایا جا سکتا۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے ایک تخلیق کار جنم لیتا ہے۔ جو اپنے زخموں، اپنے ٹوٹے پن کو کبھی رنگوں کے ذریعے اور کبھی الفاظ کے ذریعے بھرنے کی کوشش کرتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے