ارسطو (Aristotle) قدیم یونان کے عظیم ترین فلاسفہ میں سے ایک، فلسفہ، منطق، سائنس اور اخلاقیات کے میدانوں میں اپنے انقلابی نظریات کی وجہ سے مشہور ہے۔ وہ افلاطون (Plato) کا شاگرد اور سکندر اعظم (Alexander the Great) کا استاد تھا۔ ارسطو کی زندگی اور کام نے مغربی فکر کو بنیاد فراہم کی، لیکن اس کی زندگی کا ایک اہم واقعہ اس کی ایتھنز سے فرار اور خود ساختہ جلاوطنی ہے۔ یہ واقعہ 323 قبل مسیح میں سکندر کی موت کے بعد پیش آیا، جب ارسطو پر مذہب کی بے حرمتی (impiety) کا الزام لگایا گیا۔ اس نے ایتھنز چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور کہا: "میں نہیں چاہتا کہ ایتھنز فلسفے کے خلاف ایک اور جرم کرے۔” یہ کہانی نہ صرف ارسطو کی ذاتی زندگی کا ایک باب ہے بلکہ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ کبھی کبھی پیچھے ہٹ جانا بھی حکمت ہوتا ہے، تاکہ علم اور سچائی کا چراغ بجھنے نہ پائے۔
ارسطو 384 قبل مسیح میں شمالی یونان کے شہر سٹیگیرا (Stagira) میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ نکوماکوس (Nicomachus) سکندر کے باپ فلپ دوم (Philip II) کا طبیب تھا، جو مقدونیہ کے بادشاہ تھے۔ یہ خاندانی روابط بعد میں ارسطو کی زندگی پر گہرا اثر ڈالیں گے۔ 17 سال کی عمر میں ارسطو ایتھنز آیا اور افلاطون کی اکیڈمی میں داخل ہوا، جہاں وہ تقریباً 20 سال تک افلاطون کا شاگرد رہا۔ افلاطون کی موت کے بعد، ارسطو نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور مختلف شہروں میں سفر کیا۔ 343 قبل مسیح میں، فلپ دوم نے ارسطو کو سکندر کا استاد مقرر کیا۔ ارسطو نے سکندر کو فلسفہ، ادب، سائنس اور سیاست کی تعلیم دی، جو بعد میں سکندر کی عظیم فتوحات میں مددگار ثابت ہوئیں۔ سکندر نے ارسطو کو حیاتیات کی تحقیق کے لیے وسائل بھی فراہم کیے، جس کی وجہ سے ارسطو نے سینکڑوں جانوروں اور پودوں پر مطالعہ کیا۔
335 قبل مسیح میں، سکندر کی مدد سے ارسطو نے ایتھنز میں اپنا سکول "لائیسیئم” (Lyceum) قائم کیا، جہاں وہ "پریپیٹیٹک سکول” (Peripatetic School) کے نام سے مشہور ہوا، کیونکہ وہ چلتے پھرتے لیکچر دیتا تھا۔ ارسطو نے منطق (Logic)، میٹا فزکس (Metaphysics)، اخلاقیات (Ethics) اور سیاست (Politics) پر اہم کتابیں لکھیں، جو آج بھی مطالعہ کی جاتی ہیں۔ اس کی کتاب "نیکومیچین اخلاقیات” (Nicomachean Ethics) خوشی اور اچھائی کی تعریف کرتی ہے، جبکہ "سیاست” (Politics) میں وہ جمہوریت اور بادشاہت کے فوائد و نقائص پر بحث کرتا ہے۔
سکندر اعظم کی موت 323 قبل مسیح میں بابل میں ہوئی، جب وہ صرف 32 سال کا تھا۔ سکندر کی سلطنت یونان، مصر، فارس اور ہندوستان تک پھیلی ہوئی تھی، لیکن اس کی موت کے بعد سلطنت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔ ایتھنز، جو ایک آزاد شہر ریاست (Polis) تھا، سکندر اور مقدونیہ کی بالادستی سے نفرت کرتا تھا۔ سکندر نے ایتھنز کو فتح کیا تھا اور وہاں مقدونیہ نواز حکومت قائم کی تھی، لیکن ایتھنز کے لوگ آزادی کے خواہشمند تھے۔ سکندر کی موت کے بعد، ایتھنز میں مقدونیہ مخالف جذبات ابھرے۔ ڈیموستھینیز (Demosthenes) جیسے مقررین نے مقدونیہ کے خلاف بغاوت کی تحریک چلائی، جو "لیمک وار” (Lamian War) کے نام سے مشہور ہوئی۔
ارسطو، جو مقدونیہ سے تعلق رکھتا تھا اور سکندر کا استاد تھا، اس ماحول میں شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ وہ مقدونیہ نواز سمجھا جاتا تھا، حالانکہ اس کی فکر آزاد تھی۔ سکندر کی موت کے فوراً بعد، ایتھنز میں مقدونیہ مخالف عناصر نے ارسطو کو نشانہ بنایا۔ ارسطو پر مذہب کی بے حرمتی کا الزام لگایا گیا، جو ایک عام الزام تھا جو سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ یہ وہی الزام تھا جو 399 قبل مسیح میں سقراط پر لگایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں سقراط کو زہر کا پیالہ پینا پڑا تھا۔ سقراط نے مقدمے کا سامنا کیا اور موت قبول کی، جو فلسفے کی تاریخ میں ایک علامت بن گئی۔
ارسطو پر الزام تھا کہ اس نے ایک ہیرو (Hero) کی تعریف میں ایک نظم لکھی تھی جو دیوتاؤں کی توہین تھی۔ یہ الزام کمزور تھا، لیکن سیاسی ماحول کی وجہ سے خطرناک تھا۔ ایتھنز کی عدالتوں میں ایسے مقدمات اکثر سیاسی انتقام کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ لوگوں کو توقع تھی کہ ارسطو سقراط کی طرح ڈٹ جائے گا اور مقدمے کا سامنا کرے گا۔ لیکن ارسطو نے ایک مختلف راستہ چنا۔ اس نے ایتھنز چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور اپنے شاگردوں کو کہا: "میں ایتھنز کو فلسفے کے خلاف دوسرا جرم کرنے نہیں دوں گا۔” (I will not allow the Athenians to sin twice against philosophy.) یہ جملہ سقراط کی موت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ارسطو فلسفے کی حفاظت کو اپنی ذاتی جان سے زیادہ اہم سمجھتا تھا۔
ارسطو کا یہ فیصلہ حکیمانہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ مر گیا تو اس کا کام ادھورا رہ جائے گا۔ اس نے اپنی زندگی بچا کر فلسفے کو زندہ رکھا۔ وہ ایوبویا (Euboea) کے جزیرے پر چالکیس (Chalcis) چلا گیا، جہاں اس کی ماں کا خاندان تھا۔ وہاں اس نے اپنی زندگی کے آخری دن گزارے اور 322 قبل مسیح میں، ممکنہ طور پر معدے کی بیماری سے، وفات پا گیا۔ اس کی جلاوطنی صرف ایک سال کی تھی، لیکن اس نے اسے اپنا کام مکمل کرنے کا موقع دیا۔
یہ واقعہ ہمیں بہت کچھ سکھاتا ہے۔ سب سے پہلے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ دانشمند اپنی جان بچا کر سچائی کو زندہ رکھ سکتا ہے۔ سقراط نے مر کر فلسفے کو ابدی کر دیا، کیونکہ اس کی موت ایک عظیم مثال بن گئی۔ لیکن ارسطو نے جیتے جیتے فلسفے کو آگے بڑھایا۔ اس نے اپنے کام کو جاری رکھا، جو بعد کی نسلوں تک پہنچا۔ کبھی کبھی پیچھے ہٹ جانا بھی حکمت ہوتا ہے۔ اگر ارسطو مر جاتا تو شاید اس کی کتابیں اور نظریات ضائع ہو جاتے۔ فلسفہ میں، ارسطو کا "اعلیٰ مقصد” (Telos) کا تصور یہ بتاتا ہے کہ ہر چیز کا ایک مقصد ہوتا ہے۔ ارسطو کا مقصد علم پھیلانا تھا، اور اس نے اسے حاصل کرنے کے لیے جلاوطنی قبول کی۔
یہ کہانی آج کے دور میں بھی متعلق ہے۔ سیاسی دباؤ، مذہبی انتہا پسندی یا سماجی نفرت کی وجہ سے بہت سے دانشوروں کو جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر، جدید دور میں بہت سے سائنسدان اور فلاسفہ آمریتوں سے بھاگ کر اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علم کا چراغ بجھنے نہ پائے، چاہے اس کے لیے کتنا ہی قربانی کیوں نہ دینا پڑے۔ ارسطو کا فیصلہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ بہادری ہمیشہ سامنے کھڑے رہنے میں نہیں ہوتی؛ کبھی یہ حکمت عملی میں ہوتی ہے۔
ارسطو کا ایتھنز سے فرار فلسفے کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے۔ یہ نہ صرف ایک ذاتی کہانی ہے بلکہ یہ آزادی فکر، سیاسی دباؤ اور حکمت کی علامت ہے۔ ارسطو نے اپنے فیصلے سے ثابت کیا کہ علم کی حفاظت سب سے اہم ہے۔ آج، جب ہم ارسطو کی کتابیں پڑھتے ہیں، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ سب اس کی حکمت کی بدولت ممکن ہوا۔ سقراط اور ارسطو دونوں نے فلسفے کو زندہ رکھا، لیکن مختلف طریقوں سے۔ یہ واقعہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے: کیا ہم اپنے اصولوں پر ڈٹ جائیں یا حکمت سے کام لے کر آگے بڑھیں؟ جواب حالات پر منحصر ہے، لیکن سبق واضح ہے — علم ہمیشہ زندہ رہنا چاہیے۔