پاکستان اس وقت اپنی معاشی تاریخ کے ایک نہایت اہم اور نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب چیلنجز اور مواقع دونوں ہمارے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ مہنگائی، زرِمبادلہ کے ذخائر میں کمی، روپے کی گرتی ہوئی قدر، صنعتی سست روی اور سرمایہ کاری کے کم ہوتے مواقع۔یہ سب بظاہر ایک پریشان کن منظر پیش کرتے ہیں، لیکن اگر ان چیلنجز کا ادراک خلوص نیت اور درست پالیسیز کے ذریعے کیا جائے، تو یہی بحران ہمیں پائیدار ترقی کی راہ دکھا سکتا ہے۔
یہ بات باعثِ اطمینان ہے کہ حکومتِ پاکستان نے گزشتہ چند سالوں میں مالی استحکام کی جانب کئی اقدامات کیے ہیں جن میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ مذاکرات، سبسڈی اصلاحات، اور محصولات کی وصولی کو بہتر بنانے کی کوششیں شامل ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد ایک ایسا مضبوط مالیاتی ڈھانچہ تشکیل دینا ہے جس کے سائے تلے عام شہری کو معاشی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
تاہم زمینی حقائق کچھ اہم سوالات کو جنم دے رہے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 8 ارب ڈالر کی سطح پر ہیں، جو صرف چند ہفتوں کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ مہنگائی کی شرح 25 سے 30 فیصد کے درمیان ہے، جو عام شہری کی قوتِ خرید کو بُری طرح متاثر کر رہی ہے۔ روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی وجہ سے درآمدی اشیاء مہنگی ہو گئی ہیں، جبکہ برآمدی شعبہ مسابقت کی دوڑ میں پیچھے رہتا جا رہا ہے۔
ملک کا مجموعی قرضہ جی ڈی پی کے 70 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے، اور صنعتی پیداوار میں مسلسل منفی رجحانات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ان تمام اشاریوں کو اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے، تو یہ ایک واضح پیغام دیتے ہیں کہ ہمیں فوری، سنجیدہ اور دیرپا معاشی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔
پاکستان میں ٹیکس نیٹ کا دائرہ ابھی تک بہت محدود ہے۔ محض 3 فیصد آبادی انکم ٹیکس ادا کرتی ہے، جو کہ کسی بھی مستحکم معیشت کے لیے ناکافی ہے۔ ایک جدید اور مضبوط ریاست کی بقا اسی وقت ممکن ہے جب عوام اپنی آمدنی کے مطابق ٹیکس دیں، اور ریاست ان وسائل کو مؤثر انداز میں عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کرے۔ اس کے لیے غیر رسمی معیشت کو باقاعدہ نظام میں لانا ناگزیر ہے، تاکہ محصولات میں اضافہ ہو اور ریاست اپنی معاشی خودمختاری بحال کر سکے۔
زراعت، جو کہ پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، آج بھی پسماندہ سہولیات اور کم پیداوار کا شکار ہے۔ کسانوں کو جدید مشینری، کم قیمت کھاد، معیاری بیج اور پانی کی مناسب فراہمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اگر ہم اس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کریں، تو نہ صرف زرعی پیداوار بڑھے گی بلکہ خوراک کی قیمتوں میں استحکام بھی آ سکتا ہے، جو براہ راست مہنگائی پر مثبت اثر ڈالے گا۔
برآمدات میں مسلسل کمی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پاکستان کی برآمدات کا انحصار بڑی حد تک ٹیکسٹائل پر ہے، جبکہ دنیا میں معیشتیں اب جدت، تنوع اور تحقیق پر مبنی مصنوعات پر توجہ دے رہی ہیں۔ہمارے پاس بہت سے ایسے شعبے ہیں جن میں عالمی معیار حاصل کر کے نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) ملک کی اقتصادی ریڑھ کی ہڈی ہیں، لیکن انہیں سرمایہ، تربیت اور مارکیٹ تک رسائی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ آسان قرضوں، کاروباری مشاورت، اور مقامی سطح پر صنعت کاری کو فروغ دے تاکہ لاکھوں نوجوانوں کو باعزت روزگار مل سکے۔
توانائی کا بحران بھی معیشت کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ مہنگی بجلی اور گیس کے باعث صنعتی شعبہ دباؤ کا شکار ہے۔ ہمیں قابلِ تجدید توانائی کے سستے اور دیرپا ذرائع جیسے کہ شمسی اور ہوا سے بجلی کی پیداوارکی طرف فوری اور بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ نہ صرف اس سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا بلکہ ماحولیاتی اثرات میں بھی کمی آئے گی۔
سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے صرف معاشی پالیسیز کافی نہیں ہوتیں بلکہ ایک پائیدار، پر اعتماد اور مستحکم سیاسی ماحول بھی ضروری ہوتا ہے۔ سرمایہ کار وہاں سرمایہ لگاتا ہے جہاں پالیسیز میں تسلسل ہو، قانونی نظام شفاف ہو، اور بدعنوانی کا خاتمہ کیا جا چکا ہو۔ "ایز آف ڈوئنگ بزنس” میں پاکستان کی درجہ بندی نیچے ہونے کی ایک بڑی وجہ بیوروکریسی، پیچیدہ ضوابط، اور پالیسی میں عدم تسلسل ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سرمایہ کاروں کو زمین کے حصول، رجسٹریشن، ٹیکس اور قانونی معاملات میں آسانیاں دی جائیں۔ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس اپروچ اپنائی جائے، اور اداروں کو خودمختار و جواب دہ بنایا جائے۔ بیرونِ ملک پاکستانی سفارت خانوں کو معاشی سفارت کاری کا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ "برینڈ پاکستان” کو فروغ دینے کے لیے عالمی سطح پر ٹریڈ شوز، سرمایہ کاری کانفرنسز اور بزنس فورمز کا انعقاد ضروری ہے۔
تاہم معاشی بہتری کی کوششیں صرف حکومت یا اداروں تک محدود نہیں رہنی چاہئیں۔ عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،ملکی مصنوعات کو ترجیح دینا، ٹیکس دینا، مالی شفافیت اپنانا، فضول خرچی سے گریز، بچت و سرمایہ کاری کو فروغ دینا، اور نوجوانوں کی ہنر مندی کی طرف توجہ دینا ہماری مشترکہ قومی ذمے داری ہے۔
یہ درست ہے کہ پاکستانی معیشت اس وقت نازک صورتحال سے دوچار ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بحرانوں کے اندر مواقع چھپے ہوتے ہیں۔ اگر ہم درست فیصلے کریں، شفاف حکمرانی اپنائیں، اور عوام کو ترقی کے عمل میں شامل کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان ایک خوشحال، خود کفیل اور عالمی سطح پر باوقار معیشت نہ بن سکے۔عوام، حکومت اور ادارے ایک ساتھ مل کر قومی ترقی کے سفر کا آغاز کریں۔ ہمیں صرف پہلے قدم کی ہمت کرنی ہے، پھر منزل خود راستہ دکھائے گی۔