اللہ تعالیٰ نے عورت کو جہاں رحم و کرم اور نزاکت کی پیکر بنایا ہے، وہیں اس کے وجود میں حسن و آرائش کی فطری حس بھی پروان چڑھائی ہے۔ یہ حس اس کی شناخت کا ایک نہایت نرم اور خوبصورت پہلو ہے، جو اسے اپنے ظاہر و باطن دونوں کو سنوارنے کی ترغیب دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر معاشرے، ہر خطے اور ہر تہذیب میں خواتین اپنے اپنے انداز میں اپنی اس فطری خواہش کو پورا کرتی نظر آتی ہیں۔ جھمکے، کنگن، ہار، چوڑیاں اور دیگر زیورات تقریباً ہر ثقافت کا حصہ ہیں، جو اس امر کی واضح علامت ہیں کہ آرائش و زیبائش کا جذبہ انسانی فطرت میں ودیعت کردہ ایک عالمگیر حقیقت ہے۔ یہ مماثلت ہمارے سامنے ایک ایسی ثقافتی چمن کا نقشہ کھینچتی ہے جس میں رنگا رنگی اور تنوع کے باوجود ایک گہری معنوی یکجہتی کارفرما ہے۔
اور یہی وہ نقطۂ اتصال ہے جو پاکستان کے مختلف خطوں اور ثقافتوں میں بسنے والی خواتین کے مخصوص زیورات اور روایتی لباس کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے، جیسا کہ شمالی وزیرستان کی پشتون خواتین کا روایتی لباس "گانڑ خت” اس کی نہایت شاندار مثال پیش کرتا ہے۔
جیسا کہ میں نے پچھلے کالمز میں کئی بار یہ بات دہرائی ہے کہ میرا تعلق شمالی وزیرستان سے ہے، ایک ایسی دھرتی سے جہاں پہاڑوں کی خاموشی میں صدیوں کی داستانیں دفن ہیں اور ہوا کے ہر جھونکے میں بہادری، غیرت، وقار اور روایات کی مہک بسی ہوئی ہے۔ یہاں ترقی کی نئی راہیں کھل رہی ہیں، لیکن ہماری خواتین اپنے روایتی لباس ’’گانڑ خت‘‘ سے کبھی دور نہیں ہوئیں۔ یہ لباس ہماری ثقافت کا ایک ایسا متحرک زیور ہے جس پر پورا علاقہ فخر محسوس کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی ثقافتی وراثت ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی چلی آ رہی ہے۔ کسی بھی رسم، خواہ وہ شادی کی خوشی ہو یا کسی غم کی محفل، ہر تقریب میں خواتین کا گانڑ خت پہننا انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بغیر تقریب میں شرکت کو ادھورا اور حتیٰ کہ نامناسب تصور کیا جاتا ہے۔
لفظ ’’گانڑ خت‘‘ کا مطلب ہے "لمبے چھوڑے گیئر والی فراک” ایک مخصوص قسم کا روایتی گاؤن۔ یہ وزیرستان کا ایک منفرد قبائلی لباس ہے جو چمکدار رنگوں، پیچیدہ کشیدہ کاری اور چاندی کے جڑاؤ کام سے مزین ہوتا ہے۔ گانڑ خت کی ہر ایک تفصیل، ہر ٹانکا اور ہر کڑھائی اپنے اندر ایک گہرا معنی رکھتی ہے۔ مثال کے طور پر، ’’باندینا‘‘ وہ بنیادی کپڑا ہے جسے نہایت محبت اور احتیاط سے منتخب کیا جاتا ہے۔ ’’چولئی‘‘ اور ’’گاگرئی‘‘ خاندانی غیرت اور عزت کی حفاظت کی علامت ہیں، جبکہ ’’لاستینی‘‘ اور ’’خشتکی‘‘ میں دستکاری کی باریکی اور صبر کی عکاسی ہوتی ہے۔ ’’گل ماخئی‘‘ اور ’’ریمول‘‘ وہ خوبصورت نقش و نگار ہیں جو لباس کو دیدہ زیب بناتے ہیں اور دیکھنے والوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں۔ ’’چاوانئی‘‘ چاندی کے وہ جڑاؤ ہیں جو لباس کو ایک شاہکار میں تبدیل کر دیتے ہیں، اور ’’جنڈی‘‘ وہ آخری سنگھار ہے جو پورے لباس پر چار چاند لگا دیتا ہے اور پہننے والے کے وقار میں اضافہ کرتا ہے۔
تقریباً پچیس گز کپڑے سے تیار ہونے والا یہ لباس جب اپنی مکمل شکل میں پہنا جاتا ہے، تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ثقافت کی ایک جیتی جاگتی تصویر سامنے آ گئی ہو۔ یہ محض پہننے کا ایک ذریعہ نہیں، بلکہ ہماری تہذیب اور روایات کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس میں ہماری دھرتی کی خوشبو اور ہماری عورتوں کی عظمت جھلکتی ہے۔ اس لباس کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد اور طریقہ کار میں وقت کے ساتھ کچھ تبدیلیاں آئی ہیں، لیکن اس کی بنیادی شکل اور روح آج بھی وہی ہے۔ نئے ڈیزائن اور جدید تاثرات کے باوجود، یہ اپنی اصل سے کبھی دور نہیں ہوا۔ یہی اس کی پائیداری اور ہماری ثقافت کی مضبوطی کی دلیل ہے۔
گانڑ خت پہننا ایک مہارت کی بات ہے۔ اسے پہننے کا ایک مخصوص انداز ہوتا ہے، جسے سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہماری بزرگ خواتین نئی نسل کو یہ ہنر سکھاتی ہیں، تاکہ یہ روایت زندہ رہے۔ یہ تعلیم و تربیت کا ایک غیر رسمی سلسلہ ہے جو گھروں میں نسلوں سے جاری ہے۔ گانڑ خت ہماری قومی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ ہمیں دنیا بھر میں پہچان دلاتا ہے۔ جب بھی کوئی پشتون خاتون اسے پہن کر کسی بین الاقوامی فورم پر حاضر ہوتی ہے، تو وہ اپنے ساتھ پورے وزیرستان کی ثقافت لے کر جاتی ہے۔ یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے۔
سندھ کی قبائلی زیب و زینت
صوبہ سندھ کی قبائلی خواتین کا روایتی لباس ان کی ثقافتی پہچان کا ایک نہایت دیدہ زیب اور اہم حصہ ہے۔ یہ لباس عام دنوں کے برعکس خاص تقریبات، تہواروں اور خوشی کے مواقع پر ہی پہنا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی اہمیت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ ان کی پوشاک کی خاص بات نفیس گوٹے کا کام ہے، جو چمکدار سنہری یا چاندی کے دھاگے سے کیا جاتا ہے۔ یہ گوٹا رنگ برنگے اور بھڑکیلے کپڑوں، جیسے گہرے سرخ، نیلمی، زرد یا سبز رنگ کے پرانوں اور دوپٹوں پر انتہائی مہارت کے ساتھ پرکشش نمونوں میں کڑھا ہوتا ہے۔ زیورات میں ایک منفرد اور پر وقار انداز یہ ہے کہ خواتین کان سے دوسرے کان تک ایک زنجیر نما زیور پہنتی ہیں، جسے مقامی زبان میں ‘چاندنی’ یا ‘بورے’ کہا جاتا ہے۔ اس زنجیر پر بنی ہوئی باریک جھالریں ہر حرکت کے ساتھ چمکتی اور چھنکتی ہیں، جو اس کے حسن کو چار چاند لگا دیتی ہیں۔ کبھی یہ ایک سادہ مگر پُر تاثیر زنجیر کی شکل میں بھی ہو سکتا ہے۔ گلے کے زیورات بھی ان کی ثقافتی روایات کا ایک اہم جزو ہیں، جہاں وہ مختلف موٹائی اور لمبائی کی حامل ڈوریں پہنتی ہیں۔ ان ڈوروں پر سونے چاندی کے پانی سے چڑھے ہوئے دانے، سکے، قلفی اور رنگین شیشے یا پلاسٹک کے موتی پروئے جاتے ہیں، جو ان کے گلے کی زیبائش کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔
کالاش قبیلے کی ثقافتی پہچان
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع چترال میں آباد کالاش قبیلے کی خواتین کا لباس ان کے منفرد ثقافتی ورثے کی زندہ مثال ہے۔ ان کا روایتی پہناوا نہ صرف خوبصورتی بلکہ موسمی تقاضوں کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔ خواتین اپنے گلے کے زیورات کے طور پر رسیوں یا ڈوروں سے تیار کردہ جھالر نما ہار پہنتی ہیں، جو ان کے لباس کے ہم آہنگ رنگوں میں ہوتے ہیں۔ سر پر پہنی جانے والی کڑھائی والی ٹوپی ان کی پہچان ہے، جس پر روایتی نمونے بنے ہوتے ہیں۔ کالاش خواتین کے کانوں میں عام طور پر چھوٹے اور ہلکے جھمکے ہوتے ہیں، جو ان کی روزمرہ کی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہیں بنتے۔ ان کا بنیادی لباس بھڑکیلے رنگوں اور پیچیدہ کڑھائی والے کپڑوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ پہاڑی علاقے کے سرد موسم کے پیش نظر ان کے کپڑے کسی حد تک موٹے اور گرم ہوتے ہیں۔ لباس کے ایک لازمی جزو کے طور پر وہ ایک خاص قسم کا کوٹ بھی پہنتی ہیں، جس پر انتہائی نفیس اور کڑھائی کی گئی ہوتی ہے۔ یہ کوٹ نہ صرف ان کے لباس کو مکمل کرتا ہے بلکہ اس کی مماثلت وسط ایشیا اور دیگر خطوں کی ثقافتوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
تاجک خواتین کا روایتی لباس
تاجکستان میں خواتین کا روایتی لباس خطے کی ثقافتی وسعت اور پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا سے اس کے تاریخی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ تاجک خواتین سر پر پہنی جانے والی رنگ برنگی ٹوپیوں کے لیے مشہور ہیں، جو اکثر خوبصورت کڑھائی سے مزین ہوتی ہیں۔ یہ ٹوپیاں نہ صرف سر کی زینت ہوتی ہیں بلکہ ان کی ثقافتی شناخت کا ایک اہم علامتی جزو بھی ہیں۔ بعض قبائل میں خواتین ‘کوٹی’ پہنتی ہیں، جو براہ راست طور پر پختونخوا میں پہنی جانے والی کوٹی سے ملتی جلتی ہے، جو دونوں خطوں کے درمیان گہرے ثقافتی تبادلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان کے لباس میں استعمال ہونے والے کپڑے بھی بھڑکیلے رنگوں اور واضح دھاریوں والے ہوتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے کالاش خواتین کے ہاں نظر آتے ہیں، جو دونوں ثقافتوں میں ایک طرح کی جمالیاتی ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔ زیورات میں وہ گلے میں بھاری زنجیریں یا پھر ہلکے پھلکے خوبصورت ہار پہننا پسند کرتی ہیں۔ یہ ہار اکثر رنگین ڈوروں یا دھاگوں سے تیار کیے جاتے ہیں اور ان میں روایتی نمونوں اور موتیوں کا استعمال ہوتا ہے۔ تاجک لڑکیاں سر ڈھانپنے کے لیے اسکارف کا استعمال کرتی ہیں، جسے باندھنے کا ان کا منفرد انداز کشمیری خواتین کی طرز سے ملتا جلتا ہے۔ وہ اپنے رنگ برنگے اسکارف کو نہایت خوبصورتی اور مہارت سے سر پر باندھ کر پیچھے کی طرف ایک چوٹی کی شکل میں لٹا دیتی ہیں، جو ان کے چہرے کے حسیں خطوط کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ اسٹائل دونوں خطوں میں ثقافتی روایات کے اشتراک کی ایک دلچسپ مثال پیش کرتا ہے۔