کمی ہے تو چلّو بھر پانی کی

کمی ہے تو چلّو بھر پانی کی — یہ خیال 2010 کے سیلاب میں تباہ کاری کا اندازہ لگانے کی مشق کے دوران آفت زدہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے اور ایلیٹ حکمرانوں اور نوکر شاہی کے طرزِ حکمرانی کو دیکھ کر، جس میں بے لوث خدمات کے عناصر خال خال ہی تھے، ایک عام سی کنسلٹنٹ اور دردمند پاکستانی کی حیثیت سے میرے دل میں اٹک گیا تھا۔

پندرہ سال گزر گئے، مگر آج بھی اسی ایک “کمی” نے ہمیں اجتماعی طور پر تھام رکھا ہے:

کمی منصوبہ بندی کی، کمی شفافیت کی، کمی انصاف کی—اور سب سے بڑھ کر کمی اُن سچّے سوالوں کی، جو ہم خود سے پوچھنے سے گھبراتے ہیں۔

اس برس (اگست 2025) پنجاب میں راوی، ستلج اور چناب ایک ساتھ بپھرے۔ 38 برس بعد ایسا منظر دوبارہ دیکھنے کو ملا۔ لاکھوں لوگ متاثر ہوئے اور بڑے پیمانے پر انخلا ہوا۔

یہ محض ایک “قدرتی” واقعہ یا سانحہ نہیں تھا؛ موسمیاتی شدت، ڈھانچہ جاتی کمزوریاں اور ہمسایہ ملک سے پانی چھوڑنے کے فیصلے اس کے پیچھے گتھم گتھا نظر آتے ہیں۔

میں تنقید نہیں کر رہی؛ محض آئینہ دکھانا چاہتی ہوں۔ اسی “عکاسی” کے بہانے چند پہلو رکھیے:

1) موسمیاتی شدت: بارش سے بڑھ کر ایک “نیا معمول”

نیشنل اور عالمی رپورٹس بتاتی ہیں کہ اس سال مون سون کی شدت پچھلے سال کے مقابلے 50–60٪ زیادہ رہی۔ کلاؤڈ برسٹس اور تیز بہاؤ نے خاص طور پر خیبرپختونخوا کو لہولہان کیا۔ یہ اسی بڑے تناظر کا حصہ ہے جسے دنیا “کلائمیٹ ایمرجنسی” کہہ رہی ہے۔

آپ نے میری انگریزی تحریروں میں شاید بارہا پڑھا ہوگا: “کلائمیٹ جسٹس” صرف کاربن گنتی نہیں؛ یہ فیصلہ سازی، زمین کے استعمال اور کمزور طبقات تک رسائی کا نام ہے۔

جب نالوں پر قبضہ، دریا کے داؤں میں کچی آبادیوں کی بستی، اور جنگلات کی کٹائی معمول بن جائے تو بارش آفت نہیں، ہمارا اپنا کیا دھرا بن جاتی ہے۔

2) دریا کنارے تجاوزات اور “حکمرانیِ آب”

ریاستی سطح پر اب بالآخر اس پر توجہ دکھائی دے رہی ہے۔ وزیراعظم صاحب نے ندی نالوں پر قبضوں کے خلاف قومی مہم کا عندیہ دیا ہے—لیکن اصل آزمائش عمل درآمد، شفافیت اور عدمِ امتیاز ہے۔

قبضہ بڑا ہو یا چھوٹا، قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔

اسی تناظر میں پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی میں ہونے والی گفتگو، جو ریکارڈ پر ہے، ہمیں رلانے اور شرم دلانے کے لیے کافی ہے—مگر ایسا نہ ہو سکا۔

سینئر رکنِ قومی اسمبلی محترمہ شائستہ پرویز نے نشان دہی کی کہ سیلاب سے بڑی آفت “ٹمبر مافیا” ہے، جس نے کے پی، جی بی اور آزاد کشمیر کے جنگلات اجاڑے—اور یہی وحشت پھر پانی کے رستے روک کر تباہی بڑھاتی ہے۔

اسی اجلاس میں سینئر رکنِ قومی اسمبلی طاہرہ اورنگزیب صاحبہ نے ندی نالوں پر تجاوزات اور ایسے این او سیز جاری کرنے والوں کے لیے انتہائی سخت سزا (پھانسی) کا مطالبہ کیا، تاکہ مستقبل میں کوئی ریاستی و سماجی “کمپرومائز” جانیں نہ لے سکے۔

ہم اکثر کہتے ہیں: “دریا سڑک پر آ گیا” یا “چیتا شہر میں آ گیا”—لیکن کیا حقیقت اس کے برعکس نہیں؟ دریا تو صدیوں سے اپنی گزرگاہ پر بہہ رہا ہے، چیتا اپنی قدرتی چراگاہ میں زندہ رہتا ہے۔

اصل میں ہم نے دریا کے راستے پر سڑک بنائی اور ہم نے چیتے کے مسکن کو شہر میں بدل دیا۔

الفاظ کا یہ الٹ پھیر دراصل ہماری سوچ کا عکاس ہے: ہم قدرت کو “حملہ آور” بنا دیتے ہیں اور اپنی تجاوزات کو “ترقی” کا نام دیتے ہیں۔ اگر ہم زبان کو سیدھا کریں تو شاید حقیقت کو بھی سیدھا دیکھنے لگیں۔

تب ہمیں سمجھ آئے گا کہ سیلاب یا جنگلی حیات کا داخلہ کوئی اچانک افتاد نہیں، بلکہ ہماری اپنی بے احتیاطی اور بے ترتیبی کا نتیجہ ہے۔

3) “واٹر ایگریشن” اور معاہدوں کی موت

پاکستانی حکام نے بارہا کہا کہ بھارت کی جانب سے ڈیموں سے بڑے والیوم میں پانی چھوڑنا “واٹر ایگریشن” کے زمرے میں آتا ہے۔

دوسری طرف، نئی دہلی نے اسی برس اپریل کے بعد انڈس واٹرز ٹریٹی کو عملاً معطل رکھا اور جون میں بھارتی وزیرداخلہ نے اسے “کبھی بحال نہ کرنے” کی بات کہی۔ یہ سب ہمارے لیے سلامتی، سفارت، اور ماحولیاتی انصاف کا مشترکہ سوال ہے۔

معاہدے مرتے ہیں تو دریا بھی “غیر محفوظ” ہو جاتے ہیں۔

میں ایک بار پھر یاد دلا رہی ہوں کہ بین الاقوامی آبی تنازعات کے بیچ داخلی گورننس مضبوط نہ ہو تو دوسروں کی زیادتی ہمیں دہرا نقصان پہنچاتی ہے—ایک دفعہ سرحد کے اس پار سے، دوسری دفعہ اپنی ناقص تیاری سے۔

4) داخلی محاسبہ: ذخیرہ، پیش بندی، انصاف

ہماری آبی حکمتِ عملی میں “ذخیرہ” اور “ریسک مینجمنٹ” کی کمزوری برسوں پرانی ہے—چاہے شہری منصوبہ بندی ہو، سیلابی میدانوں میں آبادکاری، یا ابتدائی وارننگ کے باوجود دیر سے انخلا۔

اس بار بھی بڑے پیمانے پر جبری و رضاکارانہ انخلا کرنا پڑا، جو انتظامی کامیابی کے ساتھ ساتھ ہماری کمزوری کا اقرار بھی ہے: لوگوں کو بروقت، باعزت اور محفوظ راستہ ملنا چاہیے تھا۔

میری رائے میں—جسے میں “تنقید” نہیں بلکہ “ذمے دارانہ عکاسی” سمجھتی ہوں—تین فوری فیصلے ناگزیر ہیں:

زیرو ٹالرنس برائے قبضہ: دریا، نالے، برساتی راستے—سب “نعمتِ عامہ” ہیں؛ ان پر کسی کی دیوار نہیں اٹھ سکتی۔ قانون سب کے لیے یکساں، چاہے کچی آبادی کا فرد ہو یا بااثر ہاؤسنگ اسکیم۔

گرین انفراسٹرکچر: دریا کنارے “رِپیرین بفرز”، اربن واٹر اسٹریٹس، اور بڑے شہروں میں بارش کے پانی کی نکاسی کے قدرت دوست حل—تاکہ بارش دشمن نہ لگے۔

خارجہ و داخلہ ہم آہنگی: آبی سفارت کاری میں شفاف مؤقف، ڈیٹا شیئرنگ کے مطالبات، اور داخلی سطح پر ایمرجنسی سے لے کر ری ہیبیلیٹیشن تک مسلسل کمانڈ—ورنہ ہر سال نئے الفاظ میں اسی المیے کی روداد لکھنا پڑے گی۔

صنفی اور سماجی انصاف: آفت سے آگے کی تباہی

سیلاب صرف مکان، دکان، سامان، مال مویشی اور کھیت بہا کر نہیں لے جاتے، یہ ہمارے رشتوں اور سماجی توازن کو بھی ہلا دیتے ہیں۔

دنیا بھر کی اسٹڈیز، اور پاکستان کے اپنے تجربات، یہ بتاتے ہیں کہ آفات کے دوران اور بعد میں عورتوں اور بچیوں پر صنفی بنیادوں پر تشدد بڑھ جاتا ہے: عارضی اور غیر معیاری پناہ گاہوں میں عدم تحفظ، خوراک اور سہولتوں کی کمی، اور فیصلہ سازی میں عام خواتین کی غیر موجودگی انہیں سب سے زیادہ کمزور بنا دیتی ہے۔

دوسری طرف، مرد حضرات جب روزگار اور زمین کے نقصان سے گزرتے ہیں تو ان کی نفسیاتی اور اخلاقی صحت شدید متاثر ہوتی ہے۔ یہ احساسِ محرومی اور بے بسی بعض اوقات گھریلو تشدد، منشیات اور جرائم کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

یوں ایک قدرتی آفت ہماری گھریلو اور اجتماعی فضا میں نئی دراڑیں ڈال دیتی ہے۔ اگر ہم اسے “معاشرتی ماحولیاتی انصاف” کے تناظر میں نہ دیکھیں تو اگلا سیلاب صرف پانی ہی نہیں بلکہ ٹوٹے ہوئے رشتے اور پگھلی ہوئی اقدار بھی بہا لے جائے گا۔

اختتام پر پھر وہی اٹکا ہوا خیال دہراتی ہوں:

کمی ہے تو چلّو بھر پانی کی — مگر یہ “چلّو” صرف خالی ظرف نہیں؛ یہ ہماری اجتماعی نیت، نیکی اور ذمے داری بھی ہے۔

اگر ہم نے اس چلّو کو منصوبہ، شفافیت اور انصاف سے بھر لیا تو دریا بھی مہربان ہوں گے اور معاہدے بھی کم کمزور محسوس ہوں گے۔

اگر ہم نے پھر سمجھوتہ کیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی—کیونکہ یہ صرف قدرت کی آزمائش نہیں، ہمارے فیصلوں کا حساب بھی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے