Tea with Servant: ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد سازی کا ایک نیا ذریعہ

سرکاری اداروں اور عوام کے باہمی رشتے کی بنیاد اعتماد کے مقدس ستون پر استوار ہوتی ہے۔ یہ اعتماد محض ایک انتظامی تقاضا ہی نہیں، بلکہ یہ ایک نظریاتی معاشرے میں روحانی عہد ہے جو حکمرانوں اور رعایا کے درمیان ایک مضبوط ربط پیدا کرتا ہے۔ جب یہ اعتماد پروان چڑھتا ہے تو معاشرے کی رگوں میں اطمینان کی موجیں دوڑنے لگتی ہیں، اور سماج میں یقین کی عمومی فضاء قائم ہوتی ہے جس سے آگے چل کر امن، ترقی، خوشحالی اور استحکام کے پھول خودبخود کھلنے لگتے ہیں۔

اصولاً تمام سرکاری ادارے عوامی خدمت کے پابند ہوتے ہیں، اور جب تک یہ پابندی ذمہ دارانہ انداز سے پوری ہوتی ہے تو اس کا اثر خلوص، دو طرفہ احترام اور ہمہ جہت طمانیت کی صورت میں جھلکتا ہے۔ یہ باہمی اعتماد ہی تو ہے جو ریاست اور فرد کے درمیان محض ایک قانونی رشتہ ہی نہیں، بلکہ ایک بھرپور جذباتی اور اخلاقی رشتہ بھی قائم کرتا ہے جو کہ طرح طرح کی مشکلات میں بھی مضبوطی سے قائم رہتا ہے۔

ترقی پذیر ممالک بالخصوص پاکستان میں بدقسمتی سے سرکاری اداروں اور عوام کے درمیان بداعتمادی کی فضاء کافی عام ہے۔ انتظامیہ اور عوام ایک دوسرے کے لیے نامانوس اور نفسیاتی طور پر کافی دور واقع ہیں۔ یہ مسئلہ عشروں سے معاشرے کو درپیش ہے لیکن کوئی بھی اس پر سنجیدگی سے سوچنے کو تیار نہیں۔ آئیے اجتماعی زندگی کی اس سب سے بڑی علت کے چند بڑے اسباب کی نشان دہی کرتے ہیں اور پھر مذکورہ بالا دلچسپ آئیڈیا "ٹی ود سرونٹ” کو زیر بحث لاتے ہیں تاکہ سرکاری اداروں اور عوام کے درمیان مضبوط اعتماد کا رشتہ قائم ہو جائے۔ پاکستان میں گوں اس طرز کا ایک طریقہ پہلے سے رائج ہے جس کو کھلی کچہری کہا جاتا ہے لیکن یہ کامیاب طریقہ نہیں۔ کافی ود سرونٹ کا آئیڈیا اور انداز زیادہ اعلیٰ سطح پر منعقد ہونے والا سمارٹ اور موثر طریقہ ہے۔ سب سے پہلے ہم سرکاری اداروں اور عوام میں بد اعتمادی کے چند بنیادی اسبابِ پر غور کرتے اور پھر "ٹی ود سرونٹ” کا آئیڈیا ڈسکس کرتے ہیں۔

1. ادارہ جاتی کمزوریاں اور اصلاحات کا فقدان

چودہ اگست انیس سو سینتالیس کو ہمیں آزادی تو ملی لیکن ہم نے اپنی قومی ضروریات کے مطابق سرکاری اور عوامی سطح پر تعلقات کار کے لیے کوئی موثر ڈھانچہ ترتیب نہیں دیا۔ تمام ادارے انہی خطوط پر کام کرنے لگے جو سو ڈیڑھ سو سال قبل انگریز نے غلام قوموں کے ساتھ اپنے معاملات چلانے کے لیے ترتیب دیا تھا۔

ہم کیا نیا اور بہتر اختیار کیا کسی کو کچھ بھی معلوم ہے؟ مجھے تو کچھ بھی نہیں۔ سرکاری اداروں میں نوآبادیاتی ڈھانچے کی تمام تر باقیات من و عن موجود ہیں، اس کے علاؤہ موثر احتساب اور نگرانی کے نظام کی عدم موجودگی، مزید برآں ہر دور میں سیاسی مداخلت نے سرکاری اداروں کی کارکردگی کو متاثر کیا ہے۔ اداروں میں شفافیت کے فقدان، پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی کمی، اور کرپشن نے عوام کے اعتماد کو کافی حد تک کمزور کیا ہے۔

2. بدعنوانی اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم

وسائل پر سیاسی اور سرکاری اشرافیہ کے مضبوط قبضے، رشوت خوری، اور اقربا پروری کے باعث عوام کو بنیادی سہولیات (جیسا کہ صحت، تعلیم، ملازمت اور انصاف) تک رسائی میں بے انتہا مشکلات کا سامنا ہے۔ اس سے عوام میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ ادارے ان کی بجائے چند مخصوص طبقوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں عوامی فلاح و بہبود کے لیے نہیں۔

3. غیر مستحکم سیاسی نظام اور جمہوری روایات کی کمزوری

موروثی سیاست کا متواتر غلبہ، اتحادی جماعتوں کی نہایت غیر مستحکم اور ناکارہ قسم کی حکومتیں، اور جمہوری اقدار کی پاسداری نہ ہونے کے باعث عوام کو اداروں پر بھروسہ بالکل نہیں رہا۔ پارلیمانی نظام کا بظاہر ڈھانچہ تو موجود ہے لیکن روح اور مقصد بالکل نہیں یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ میں ہونے والے فیصلے عوامی ضرورتوں اور توقعات کی بجائے با اثر عناصر کی مرضی کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ فیصلہ سازی کے عمل پر شخصی اثر و رسوخ اور احساس ذمہ داری کے فقدان نے بھی بداعتمادی کو مزید بڑھایا ہے۔

4. قانون کی حکمرانی کا فقدان

امیر اور طاقتور طبقوں کے لیے عملاً الگ قوانین کا اطلاق، عدالتی نظام میں غیر معمولی تاخیر، اور ناروا سیاسی اثر و رسوخ کے باعث انصاف کی عدم دستابی نے عوام کے اعتماد کو سخت متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ، من مانی پابندیوں اور عوامی احتجاج کے دوران اداروں کے نامناسب رویے بھی عوام میں بداعتمادی پیدا کر رہے ہیں۔

5. معاشی مسائل اور عوامی سہولیات کی کمی

مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی اور بنیادی سہولیات (جیسا کہ پانی، بجلی، گیس اور صحت) کی عدم دستابی کے باوجود حکومتی اقدامات کی ناکامی اور غیر ضروری ترجیحات نے عوام میں یہ یقین پیدا کیا ہے کہ ادارے ان کی فلاح و بہبود کے بجائے اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہیں۔

6. اخلاقی اقدار کا زوال اور تعلیمی نظام کی ناکامی

تعلیمی اداروں میں اخلاقی تعلیم کے فقدان، معاشرتی اقدار کے مسلسل زوال، اور نوجوان نسل میں قومی یکجہتی کے جذبات کی واضح کمی نے بھی اداروں اور عوام کے درمیان فاصلہ بڑھایا ہے۔ اس کے نتیجے میں، نوجوان اداروں سے دور اور متنفر ہوتے چلے جا رہے ہیں نیز یہ ان لیڈروں کے پیچھے چلنے لگتے ہیں جو نفرت کی زبان بول کر جذبات کو تسکین پہنچانے کا کام کریں۔

ان مسائل کے حل کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات

مذکورہ بالا مسائل اور مشکلات کا حل اگر چہ شفافیت، قانون کی حکمرانی، انصاف کی فراہمی، تعلیمی معیار اور رجحان میں بہتری، اور عوامی مفاد پر مبنی پالیسیوں کی اشد ضرورت ہے لیکن ان اصلاحات کے لیے وسیع پیمانے پر ذہن سازی کی پہلے ضرورت ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے "ٹی ود سرونٹ” کا آئیڈیا ہم نے پسند کیا ہے۔ جب تک عوام اور سرکاری عہدے داران خوش گوار ماحول میں ایک دوسرے کے قریب نہیں آئیں گے اور باقاعدہ ایک دوسرے کو سمجھنے سمجھانے کی کوشش اور درپیش مسائل اور احوال کا ادراک نہیں کریں گے تو اصلاح احوال کی کوئی صورت پیدا نہیں ہو سکتی۔

عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد کو بحال کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے لیکن سنجیدہ اقدامات سے پہلے خوش گوار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سب مطلوبہ اصلاحات کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ دیں، ورنہ جاری بداعتمادی ملکی ترقی اور استحکام میں رکاوٹ بنتی رہے گی۔

پاکستان میں سرکاری اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد اور اشتراک کی فضا ہمیشہ سے ایک چیلنج رہی ہے۔ ایسے میں "ٹی ود سرونٹ” کا آئیڈیا ایک منفرد، موثر اور دلچسپ طریقہ کار ہے جو کہ اس خلیج کو پاٹنے میں کافی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ تصور نہ صرف رسمی تعلقات کو غیر رسمی بناتا ہے بلکہ باہمی مکالمے کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔ آئیے اس موضوع پر ایک جامع نقطہ نظر پیش کرتے ہیں تاہم یہ ایک مستقل مکالمے کا متقاضی عنوان ہے۔

"ٹی ود سرونٹ” کا تصور: ایک مختصر تعارف

” ٹی ود سرونٹ” کا بنیادی مدعا یہ ہے کہ سرکاری عہدے داروں اور عوام کے درمیان ایک غیر رسمی ملاقات کا اہتمام کیا جائے، جہاں دونوں فریق چائے کے میز پر ساتھ مل بیٹھ کر مختلف مسائل پر بات چیت کر سکیں۔ یہ تصور دنیا بھر میں مختلف شکلوں میں موجود ہے، جیسا کہ "کافی ود سی پی او” یا "کافی ود آ سی ای او” جیسے پروگرام عوامی رابطے اور شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے ترتیب دئیے جاتے ہیں۔ یہ کلچر مغربی ممالک میں زیادہ مضبوط ہے۔

عالمی ثقافتی اقدار اور چائے یا کافی سے جڑی روایات

چائے یا کافی کی تاریخ اور ثقافت ہمیں بتاتی ہے کہ یہ مشروبات صرف ذائقے، لطف اور توانائی تک محدود نہیں، بلکہ یہ سماجی رابطوں کا بھی ایک جاندار ذریعہ ہے۔ ترکی میں کافی کو باقاعدہ ایک ثقافتی ورثے کا درجہ حاصل ہے، جہاں اسے اعتماد، مضبوط تعلق اور دوستی کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ اسی طرح عرب ممالک میں بھی قہوہ کو مہمان نوازی، باہمی روابط اور احترام کی ایک علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرح ویتنام میں نمکین کافی مقامی ثقافت کی عکاسی کرتی ہے۔ اس طرح پشتون قبائل میں چائے اور قہوہ کی روایت بہت مضبوط اور پرانی ہے نیز یہ حجروں اور جرگوں کی جان ہے، بہت سارے رشتے ناطے، سماجی امور اور کاروباری فیصلے چائے کے میز پر ہوتے ہیں۔ ان روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ چائے یا کافی سماجی رابطوں کو استوار کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔

سرکاری اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد سازی

کوئی مانے یا نہ مانے لیکن سرکاری اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کی کمی ایک بہت بڑا اور دیرینہ مسئلہ ہے۔ آٹھ عشرے گزر گئے ہمارے ہاں ترقی تو دور کی بات الٹا بنیادی مسائل کا سرا ہاتھ نہیں آ رہا۔ "ٹی ود سرونٹ” کا پروگرام اسی خلا کو دور کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ آئیے اس کے چند فوائد کو ہم لطیف سے اشارے کرتے ہیں:

1. غیر رسمی ماحول: چائے کے ساتھ مل بیٹھنے کا عمل لوگوں میں رسمی تعلقات کو کم کرکے جذباتی قربت پیدا کرتا ہے۔

2. براہ راست مکالمہ: عوام اور سرکاری عہدے داران کے درمیان براہ راست بات چیت سے مسائل کے فوری حل کی راہ ہموار ہوتی ہے اور مختلف امور میں اگر کہی ابہام موجود ہے تو وہ دور ہو سکتا ہے۔

3. شفافیت: یہ پروگرام سرکاری اداروں کی کارکردگی اور فیصلہ سازی میں شفافیت لانے کا ذریعہ بن سکتا ہے کیونکہ اس طریقے میں بہت سارے معاملات کھل کر زیر غور و بحث آتے ہیں اور یوں حائل رکاوٹیں دور ہوتی ہیں۔

4. باہمی احترام: عوام اور سرکاری عہدے داران دونوں ایک دوسرے کے نقطہ ہائے نظر کو سمجھنے سمجھانے لگتے ہیں۔

"ٹی ود سرونٹ” کے عملی پہلو

اس پروگرام کو عملی شکل دینے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

مناسب وقت اور مقام کا انتخاب: ٹی ود سرونٹ کے لیے ایسے عوامی مقامات کا انتخاب کیا جائے جہاں عوام آسانی سے پہنچ سکے۔

شرکت کو فروغ دیں: ٹی ود سرونٹ میں سرکاری عہدے داروں اور عوام دونوں کی شرکت کو یقینی بنایا جائے۔

مسائل کا حل تلاش کرنا: ایسی تقریبات محض بات چیت تک محدود نہ رہا جائے بلکہ عملی اقدامات پر زور دیا جائے۔

مناسب تشہیر کرنا: اس پروگرام کی مناسب تشہیر کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہو سکیں۔

ٹی ود سرونٹ کا آئیڈیا سرکاری اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد سازی کا ایک موثر اور کم خرچ ذریعہ ہے۔ اگر اسے منظم طریقے سے نافذ کیا جائے، تو یہ نہ صرف قومی سطح پر تعلقات کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ عوامی خدمات کی فراہمی کو بھی مؤثر بنا سکتا ہے نیز اس طرح کے اقدامات سے جمہوری عمل کو بھی تقویت ملتی ہے جس سے عوامی فیصلہ سازی کا تصور پروان چڑھتا ہے۔

چائے یا کافی پر بیٹھک، جو دنیا بھر میں ثقافتی اور سماجی روایات کا ایک لازمی حصہ ہے، پاکستان جیسے ممالک میں سرکاری اداروں اور عوام کے درمیان بد اعتمادی کی دیوار کو گرانے کا ایک طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

"ٹی ود سرونٹ” جیسے پروگراموں کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ ہم ایسے پلیٹ فارمز سنجیدگی اور دیانتداری سے شروع کرنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں؟ اگر ہم تیار ہو گئے تو سمجھیں بے شمار سنگین اور حل طلب مسائل کے حل کا راستہ کھل جائے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے