پاکستان میں جمہوریت کی بقا اور معاشرتی ارتقا میں سب سے اہم کردار آزاد صحافت کا ہوتا ہے۔ صحافی وہ لوگ ہیں جو معاشرے کے آئینہ بردار ہیں، جو سچ کو سامنے لاتے ہیں، طاقتور کو سوال کے کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں اور کمزور کی آواز بنتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ آج صحافت ایک گھٹن زدہ فضا میں سانس لے رہی ہے۔
ملک میں صحافیوں پر دباؤ، سینسرشپ، ہراسانی اور مقدمات کا ایسا سلسلہ جاری ہے جس سے یوں لگتا ہے جیسے آزادیٔ اظہارِ رائے کو جرم بنا دیا گیا ہو۔ جو صحافی سوال اٹھاتا ہے، یا حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتا ہے، اسے مقدمات، دھمکیوں اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف صحافت بلکہ جمہوریت کے مستقبل کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔
صحافت دراصل معاشرے کی آنکھ اور کان ہے۔ اگر صحافی کو بولنے اور لکھنے کی آزادی نہ ہو، تو معاشرہ اندھیرے میں بھٹکنے لگتا ہے۔ جب صحافت کو دبایا جائے، جب کالم نگار، رپورٹر اور اینکر پرسن خوف کے سائے میں اپنی بات کرنے لگیں، تو پھر عوام کے سامنے اصل حقیقت کیسے آئے گی؟ اور جب عوام کو اصل صورتحال معلوم ہی نہ ہو تو وہ درست فیصلہ کیسے کریں گے؟
حکومت کو یہ سوچنا ہوگا کہ کیا صحافیوں پر مقدمات، دھمکیوں اور پابندیوں سے ایک مضبوط سیاسی نظام قائم کیا جا سکتا ہے؟ کیا اس طرح عوام کا اعتماد جیتا جا سکتا ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ جہاں صحافت کو دبایا گیا، وہاں معاشرے کی جڑیں کھوکھلی ہوئیں اور جمہوری اقدار کا جنازہ نکلا۔
پاکستان کو ضرورت ہے ایک آزاد، ذمہ دار اور محفوظ صحافت کی۔ حکومت کو یہ ماننا ہوگا کہ صحافی ریاست کے مخالف نہیں بلکہ معاشرے کے رہنما ہیں۔ اگر ان کی آواز دبائی گئی تو یہ انصاف کیلئے ہر اٹھنے والی انگلی کو کاٹ دے گی اور ظلم بڑھتا جائیگا۔