محترم سامعین کرام!
کبھی سوچا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جنگیں توپ و تفنگ سے نہیں، غصے کے ایک لمحے سے شروع ہوئیں… اور کبھی یہ بھی دیکھا کہ سب سے بڑی محبتیں، سب سے پائیدار رشتے اور سب سے مضبوط معاشرے صبر اور تحمل کی بنیاد پر قائم ہوئے؟
آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ایک لمحے کی بے صبری، ایک لفظ کی سختی اور ایک نظر کی تندی، برسوں کے تعلقات اور نسلوں کے سکون کو برباد کر دیتی ہے۔ ایسے میں ربیع الاول کا یہ مہینہ ہمیں اس ہستی ﷺ کی یاد دلاتا ہے، جنہوں نے اپنی ساری زندگی صبر، حلم، معافی اور تحمل کا عملی نمونہ پیش کیا، ایسا نمونہ جو نہ صرف ایک فرد بلکہ پوری انسانیت کے لیے روشنی کا مینار ہے۔
آئیے! آج ہم سیرت النبی ﷺ کے آئینے میں "تحمل و بردباری” کے اس حسین اور سنہری پہلو کو دیکھتے ہیں، اور سیکھتے ہیں کہ یہ صفت ہماری زندگی، ہمارے معاشرے اور ہمارے ملک کو کیسے امن و خوشحالی کا گہوارہ بنا سکتی ہے۔
تحمل و بردباری کا معنی و مفہوم
تحمل عربی لفظ "حِلم” سے جڑا ہوا ہے، جس کا مطلب ہے:
غصے کو قابو میں رکھنا
جلد بازی سے بچنا
دوسروں کی زیادتی کو برداشت کرنا
انتقام کی طاقت رکھنے کے باوجود معاف کر دینا
اسی طرح حِلم درگذر کرنے، معاف کرنے، نظر انداز کرنے اور بخش دینے کو کہتے ہیں۔
سامعین عظام:
خُلقِ تحمل و حِلم سے مراد وہ انسانی خُلق ہے جس میں کسی کی کوتاہی و غفلت پر اس سے درگذر کیا جائے اور کسی بدعملی اور سستی پر اس سے صرفِ نظر کیا جائے۔
اللہ رب العزت نے اپنی ذات عالیہ کو اپنے بندے کے سامنے اپنی شانِ حلم کے ساتھ متعارف کرایا ہے۔ جب باری تعالیٰ خود کو ’’حلیم‘‘ کہتا ہے اور بندے بھی اپنے رب کو شانِ حلم کے ساتھ دیکھتے ہیں تو اس شانِ حلم کا معنی یہ ہے کہ وہ رب جو اپنے بندوں کے گناہوں پر گرفت کرنے کی بجائے درگذر کرے، ان کی خطائوں سے صرفِ نظر کرے، غفلتوں کو معاف کردے تو بندوں کو بھی چاہئے کہ وہ آپس کے تعلقات میں اللہ تعالیٰ کی اسی صفت کی روشنی سے اپنی سیرت و کردار کو منور کریں۔
سامعین کرام:
بردباری کا مطلب ہے
معاملات میں نرمی اور سکون اختیار کرنا
کسی کے غلط رویے پر انتقام کے بجائے اصلاح کی نیت رکھنا
اپنے قول و فعل میں توازن رکھنا
گویا تحمل و بردباری وہ اخلاقی اور ایمانی صفت ہے جو انسان کو غصے، انتقام اور منفی ردعمل سے بچا کر معافی، نرمی اور اصلاح کی طرف مائل کرتی ہے۔
تحمل و بردباری کی اہمیت قرآن کی روشنی میں
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کئی مقامات پر تحمل و بردباری کو مؤمن کی شان قرار دیا۔
1. غصے کو ضبط کرنا
اللہ کا فرمان ہے:
"وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ” (آل عمران: 134)
"جو غصہ پی جاتے ہیں، لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔”
یہ آیت بتاتی ہے کہ اصل شجاعت اپنی انا کو قابو میں رکھنا اور دل کو معاف کرنے کے لیے کھلا رکھنا ہے۔
2. بدی کا جواب بھلائی سے دینا:
"ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ” (حم السجدہ: 34)
"برائی کو بھلائی سے دور کرو، تو تم دیکھو گے کہ جس کے ساتھ دشمنی تھی، وہ گہرا دوست بن جائے گا۔”
3. صبر کا انعام:
"إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ” (الزمر: 10)
"یقیناً صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔”
احادیث مبارکہ کی روشنی میں
سامعین ذی وقار
بردباری اور ایمان
"إِنَّ حِلْمَكَ مِنْ إِيمَانِكَ” (طبرانی)
"تمہاری بردباری تمہارے ایمان کا حصہ ہے۔”
ایک حدیث میں آتا ہے :
’’آدمی کی سمجھداری کی علامت اس کی دنیا داری میں نرم روش ہے‘‘۔(مسند امام احمد)
سامعین محترم
سیرت طیبہ کا مطالعہ کریں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خُلقِ تحمل و بربادی کے ایسے مظاہر ہمارے سامنے آتے ہیں کہ جس کے نقوش کی تلاش میں انسانیت آج بھی عازمِ سفر ہے۔ خُلقِ حِلم اس وقت اپنے کمال کو پہنچتا ہے جب اس کا عملی اظہار اس شخص کے ساتھ کیا جائے جو آپ کی جان کا دشمن ہو، عداوت جس کا مقصودِ حیات ہو اور جہالت جس کی علامت ہو۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں:
’’یہودیوں کی ایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی تو انہوں نے کہا: ’’السام علیکم‘‘ (تمہیں موت آئے)۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں ان کی گفتگو کا مفہوم سمجھ گئی اور میں نے ان کا جواب دیا: تمہیں موت آئے اور تم پر لعنت ہو۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ رضی اللہ عنہا! جانے دو، اللہ تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ میں عرض گزار ہوئی: یارسول اللہ! شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنا نہیں جو انہوں نے کہا؟ رسول اللہ نے فرمایا: میں نے کہہ دیا تھا کہ تم پر ہو‘‘۔(صحیح بخاری)
اب اس حدیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خُلقِ حِلم اور خُلقِ رِفق دیکھئے۔ دشمن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بد دعا دے رہا ہے، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس کے اس قول ’’السام علیکم‘‘ (آپ پر موت آئے۔) پر غصے میں آجاتی ہیں اور اسی کے کلمات دہرا دیتی ہیں اور ایک کلمے کا اضافہ کردیتی ہیں کہ علیکم السام واللعنۃ (موت تم پر آئے اور اللہ کی لعنت ہو تم پر) جواب میں ایک کلمہ اللعنۃ کے اضافے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرماتے ہیں کہ اے عائشہ اسے چھوڑ دو، اس سے صرف نظر کرو اور انہیں نظر انداز کرو، تم نرمی اور خوش گفتاری کو اختیار کرو، اس لیے کہ اللہ کی سنت اور طریق یہ ہے کہ اللہ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔
یعنی جو اس نے کہا، اس پر اتنا ہی جواب دینا کافی ہے۔ اس پر مزید کسی جملے اور کلمے کے اضافے کی ضرورت نہیں، اس لیے کہ یہ خُلقِ رِفق اور خُلقِ حِلم کے خلاف ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الغَضَبِ” (بخاری و مسلم)
"طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو گرا دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو پا لے۔”
ایک اور حدیث میں فرمایا:
"جو شخص غصہ پی جائے حالانکہ وہ اسے نکالنے پر قادر ہو، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سب مخلوق کے سامنے اسے بلائے گا اور جنت کی حوروں میں سے جسے چاہے گا، اس کا انتخاب کرے گا۔” (ترمذی)
*سیرت النبی ﷺ میں تحمل و بردباری کے عظیم واقعات*
1. طائف کا واقعہ
طائف کے سفر میں جب شہر کے سرداروں نے آپ ﷺ کا مذاق اڑایا اور اوباش لڑکوں کو پتھر مارنے پر لگا دیا، تو آپ لہولہان ہو گئے۔ جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور کہا:
"اگر آپ حکم دیں تو میں ان بستیوں کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس دوں۔”
آپ ﷺ نے فرمایا:
"نہیں، میں امید کرتا ہوں کہ ان کی نسل سے وہ لوگ پیدا ہوں جو اللہ کی عبادت کریں اور شرک نہ کریں”۔ (بخاری و مسلم)
2. فتح مکہ کا منظر
مکہ میں وہ لوگ موجود تھے جنہوں نے آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے تھے۔ مگر آپ ﷺ نے فرمایا:
"لا تثريب علیکم الیوم، اذهبوا فأنتم الطلقاء”
"آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔” (السیرۃ النبویۃ)
3. گھریلو زندگی میں حلم
حضرت انسؓ فرماتے ہیں:
"میں نے دس سال نبی کریم ﷺ کی خدمت کی، کبھی یہ نہیں فرمایا کہ یہ کیوں کیا یا کیوں نہیں کیا۔” (مسلم)
4. مسجد نبوی میں بے ادبی کرنے والا بدو
ایک دیہاتی نے مسجد نبوی میں آ کر پیشاب کر دیا۔ صحابہؓ غصے میں لپک پڑے، مگر آپ ﷺ نے فرمایا:
"اسے جانے دو، اور اس جگہ پر پانی بہا دو۔ تمہیں آسانی پیدا کرنے والا بنایا گیا ہے، سختی کرنے والا نہیں۔” (بخاری)
ایک یہودی نے سخت لہجے میں قرض مانگا، صحابہؓ ناراض ہوئے، مگر آپ ﷺ نے فرمایا:
"اسے نرمی سے بات کرنے کو کہو اور مجھے اچھے طریقے سے قرض ادا کرنے کو کہو۔”
حلم انبیاء کی صفت
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
"إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ” (التوبہ: 114)
"بیشک ابراہیم بڑے نرم دل اور بردبار تھے۔”
عصر حاضر میں تحمل و بردباری کی ضرورت*
محترم سامعین!
آج ہم عدم برداشت کے خطرناک دور میں ہیں۔ معمولی ٹریفک حادثہ خون خرابے میں بدل جاتا ہے، سوشل میڈیا پر اختلاف گالی گلوچ میں ڈھل جاتا ہے، گھروں میں معمولی بات پر رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔
اگر ہم حضور ﷺ کی سیرت کے اس پہلو کو اپنالیں تو:
گھروں میں محبت بڑھے گی۔
دفاتر میں ماحول خوشگوار ہو گا۔
سیاسی اختلافات دشمنی کی بجائے فکری مکالمے میں بدل جائیں گے۔
فرقہ وارانہ تناؤ ختم ہو گا۔
تحمل و بردباری پیدا کرنے کے عملی طریقے
1. غصے کے وقت خاموشی حدیث میں ہے: "جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو خاموش رہو۔” (مسند احمد)
2. وضو کر لینا غصہ آگ کی لپٹ ہے، اور پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔ (ابو داود)
3. معاملات کو وقت دینا فوری ردعمل کی بجائے سوچ کر فیصلہ کرنا۔
4. دوسروں کے نقطہ نظر کو سمجھنا، اختلاف کا مطلب دشمنی نہیں۔
خلاصہ کلام
محترم سامعین!
آج کے پرآشوب دور میں، جب تعصب، عدم برداشت، اور سخت کلامی نے معاشرتی فضا کو مکدر کر رکھا ہے، ہمیں سیرت النبی ﷺ کے اس روشن پہلو کی طرف پلٹنا ہوگا جہاں تحمل و بردباری ایک ایمان دار انسان کا زیور ہے۔ آپ ﷺ نے مکہ کی گلیوں میں پتھر کھانے کے باوجود بددعا نہیں کی، بلکہ خیر کی دعا دی۔ طائف کے بازاروں میں پتھراؤ سہنے کے بعد بھی اہلِ طائف کے لیے رحمت ہی مانگی۔ یہ وہ کردار ہے جو نفرت کے زہر کو محبت کی شیرینی میں بدل دیتا ہے اور دشمن کو بھی دوست بنا دیتا ہے۔
آج ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ حقیقی امن، رواداری اور معاشرتی ہم آہنگی صرف اسی وقت قائم ہوسکتی ہے جب ہم اپنی زبان اور رویے میں نرمی لائیں، اختلاف کو دشمنی میں نہ بدلیں، اور برداشت کو اپنی اجتماعی شناخت بنائیں۔ تحمل و بردباری کمزوری نہیں بلکہ وہ قوت ہے جو معاشرے کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے۔ اگر ہم نے سیرت النبی ﷺ کے اس خلق کو اپنے گھروں، اداروں اور سڑکوں پر زندہ کردیا، تو یہ معاشرہ نفرت کی آگ سے نکل کر امن کے گلزار میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ یہی آج کے حالات کا سب سے مؤثر علاج ہے۔
تحمل و بردباری محض ایک اخلاقی خوبی نہیں، یہ معاشرے کے امن کی کنجی ہے، یہ ایمان کی پختگی کی علامت ہے، اور یہ اس اُمت کی پہچان ہے جس کے نبی ﷺ نے فرمایا
"اللہ کو سب سے محبوب وہ شخص ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو۔”
آئیے! ہم آج یہ عہد کریں کہ اپنے گھروں، محلوں، دفاتر اور سڑکوں پر ہم تحمل و بردباری کے سفیر بنیں گے۔ یاد رکھئے! ایک لمحے کا تحمل سالوں کا سکون دے سکتا ہے، اور ایک لمحے کا غصہ نسلوں کی بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مقالہ ریڈیو پاکستان کی طرف سےربیع الاول 1447ہجری کے حوالے سے قومی نشریاتی رابطے کے خصوصی سیمینار سلسلہ، سیرت نبوی ﷺ اور معاشرتی اقدار میں تحمل و بردباری کے موضوع پر لکھا گیا ہے جو چار ربیع الاول بوقت 3:30 پر قومی نشریاتی رابطے پر نشر ہوگیا ہے۔ قارئین لنک پر سماعت کرسکتے ہیں۔