سید بابو جان: میرے بچپن کے دوست، قریبی عزیز اور ایک صحت مند ذہن کا انسان

معروف دانشور اشفاق احمد مرحوم و مغفور نے اپنی مشہور زمانہ کتاب "زاویہ” میں لکھا ہے کہ "روٹھنے والے مریضانہ اور کمزور ذہنیت کے مالک ہوتے ہیں جبکہ منانے والے صحتمند بھی ہوتے ہیں اور طاقتور بھی”۔ یہ بات اپنی روح اور پیغام دونوں کے اعتبار سے سو فیصد درست ہے۔ دنیا میں ننانوے فیصد خوشیاں اچھے اخلاق، اچھے مزاج، اچھے گفتار اور اچھے اطوار کے سبب ممکن ہوتی ہیں۔ سخت زبان، برے اخلاق اور تلخ مزاج سے آج تک کوئی خوشی برآمد نہیں ہو سکی ہے۔

سید بابو جان میرے بچپن کے دوست، قریبی پڑوسی اور ہردل عزیز، عزیز ہے۔ بچپن سے ہی کئی مشاغل اور صفات ہم دونوں میں مشترک تھی مثلاً مرغیاں پالنا، ٹی وی دیکھنا، لوگوں سے نرمی اور ادب کے ساتھ پیش آنا، لڑائی جھگڑوں سے مجتنب رہنا، واک کرنا اور خوشی خوشی اپنے رشتہ داروں کی خدمت بجا لانا وغیرہ تاہم میں دو اضافی دلچسپیاں بھی رکھتا تھا ایک مطالعے کی دلچسپی اور دوم جماعت اسلامی کے پروگرامات میں شرکت کی دلچسپی۔ کئی برس تک روز کھیلنا، روز گھومنا پھرنا، ٹی وی دیکھنا اور ہنسی و مزاح کرنا ہمارے مستقل معمولات میں شامل تھا۔

زندگی کے ابتدائی ماہ و سال، خود زندگی کی تشکیل و ترتیب کے ہوتے ہیں۔ انسان کے دل و دماغ پر سب سے گہرے نقوش بچپن کے ہوتے ہیں۔ امام غزالی رحمہ اللہ نے تعلیم کے حصول اور شخصیت کی تشکیل میں بچپن کے ابتدائی ماہ و سال کو نہایت اہم قرار دیئے ہیں۔ اس دور میں جو مزاج، اخلاق، رویے اور رجحان زندگی کے اندر پروان چڑھیں تو بس وہی پھر زندگی بھر اوڑھنا بچھونا بن جاتے ہیں۔

سید بابو جان کو کئی طرح کی قدرتی اور اکتسابی خوبیاں حاصل تھی اس لیے وہ نہ صرف گھر میں، پورے خاندان میں بلکہ کمبڑ گاؤں میں سب کا لاڈلا تھا۔ مثلاً وہ سدا بہار طور پہ خوبصورت اور جاذب نظر انسان ہے، وہ حیرت انگیز حد تک نرم خو، خوش مزاج، خوش لباس اور ہنس مکھ بھی واقع ہوا ہے نیز دلچسپ طرزِ گفتگو کے تمام گر نوک زبان پر رکھتا ہے اس کے علاوہ وہ ہر جگہ اور ہر حال میں ٹھنڈا میٹھا رہنے پر بھی قادر ہے۔ موجودہ دور میں بوجوہ ہر طرف ٹینشنز اور تناؤ نے انسانوں کا بری طرح احاطہ کیا ہوا ہے ایسے حالات میں خوش رہنا اور گرد و پیش کو خوش گوار بنانا کمال درجے کی ذہنی، اخلاقی اور روحانی خوبی ہے۔

اپنی انہیں صفات کی بدولت سید بابو جان والدین، بہن بھائیوں، دوست احباب اور عزیز و اقارب کو دل سے عزیز تھا۔ لڑائی جھگڑوں، گالی گلوج، شور شرابے اور ایذا رسانی سے بابو جان کا مزاج مکمل طور پر ناآشنا ہے۔ بچپن سے لے کر آج تک میں نے کبھی اس کے چہرے پر ناگواری دیکھی، زبان سے گالی سنی نہ ہی کسی کی دل آزاری کی۔ زندگی بھر مسرت سے ملا، شرافت اور نفاست سے رہا اور کمال مستقل مزاجی سے اپنے طور پر جیا۔ نہ کسی کو تنگ کیا اور نہ ہی کسی سے تنگ ہونے کو قبول کیا۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے ٹنوں کے حساب سے خوش مزاجی، خوش اخلاقی، خوش روئی، خوش گفتاری اور خوش اطواری عطا کی ہے۔

سید بابو جان وہ واحد فرد ہے (میرے علم میں) جس نے خالصتاً اپنی خوش مزاجی اور خوش اخلاقی سے ایک خوشحال زندگی کی منزل پالی ہے۔ میں یہ بالکل نہیں سوچتا کہ خدا نخواستہ وہ کوئی بے حس انسان ہے کہ دکھوں سے بھرے معاشرے میں رہ کر بھی اس کو کوئی احساس نہیں کہ ہر دم خوشی کے موڈ میں رہتا ہے۔ یقیناً اس کے زندگی میں کئی طرح کے مسائل ابھرے ہوں گے، دکھ درد کے لمحات آئیں ہوں گے اور دکھی لوگوں سے واسطہ بھی آیا ہوگا، نوع بہ نوع مسائل اور مشکلات سے اس کے احساسات میں ہل چل بھی مچی ہوگی لیکن بعض لوگوں کا امتیاز یہ ہوتا ہے کہ وہ مخلوق سے اپنے دکھوں کو چھپا کر اپنے خالق کے حضور پیش کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ مخلوق کے ساتھ ہر وقت ہنستے مسکراتے رہتے ہیں لیکن خالق کائنات کے سامنے مکمل تنہائی کے عالم میں روتے اور گڑگڑاتے بھی ہیں۔ میرے خیال میں سید بابو جان کا شمار ایسے ہی لوگوں میں ہے۔

سید بابو جان انسانوں کے اس قبیل سے ہے کہ جس نے اچھے اخلاق، اچھے مزاج، اچھی سوچ اور اچھی روش سے نہ صرف اس دنیا میں ایک اچھی زندگی اپنی مقدر کی ہوئی ہے بلکہ مجھے امید ہے کہ بروز قیامت اللہ کے فرشتے بھی اس سے اسی خوبی کی بدولت نرمی اور خوشی کا برتاو کریں گے۔ تاجدارِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ "تم مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپ کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے لوگ محفوظ نہ ہو جائیں”۔ اس نبوی پیمانے پر جب میں سید بابو جان کو پرکھتا ہوں تو بخدا اس کو بہترین انسانوں میں سے ایک پاتا ہوں۔

سید بابو جان کہتے ہے کہ میں انیس سو چھیاسی کو پیدا ہوا لیکن میں اسے انیس سو چوراسی سے کم بالکل نہیں مانتا۔ عمر میں دو چار سال کمی لانا لوگوں کی ایک عمومی کمزوری ہے اور اس کمزوری سے غالباً بابو جان بھی ماوراء نہیں لیکن خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنی اچھی صحت، خوشگوار طرزِ زندگی اور غیر صحت مندانہ رویوں سے اجتناب (منشیات وغیرہ) کی بدولت اپنی عمر سے پورا آدھا کم دکھائی دیتا ہے اور اسے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا بابو جان نے حقیقی عمر کہی چھپا کر رکھا ہے۔ میرے نزدیک یہ حالت بھی اللہ تعالیٰ کی ایک خاص عطا ہے۔

سید بابو جان کی زندگی میں عبادت کی قضاء تو ممکن ہے لیکن اس کی زندگی میں مقدور بھر خدمت کی قضاء ممکن نہیں۔ ہر ممکن حد تک مخلوق خدا سے اچھے انداز میں ملنا اور بات کرنا ایسی روش ہے جس کو اس نے کمال خوبی سے تھام رکھا ہے۔ وہ موقع و محل کے اعتبار سے چھوٹوں کے ساتھ چھوٹا، بڑوں کے ساتھ بڑا اور بزرگوں کے ساتھ بزرگ بنتا ہے اور خاص بات یہ ہے کہ اسے ایسا کرنے میں ذرا بھی مشکل پیش نہیں آرہی۔

سید بابو جان کے خوش مزاجی اور خوش اخلاقی کی جڑیں دراصل اس کی والدہ محترمہ کی تربیت اور مزاج میں پیوست ہیں۔ اس کی والدہ محترمہ بے انتہا شفیق اور مہربان خاتون ہیں۔ میں بچپن میں اس کے گھر روزانہ تین چار مرتبہ جاتا تھا اور اس کی والدہ محترمہ اور بہنیں کمال خلوص، شفقت اور محبت سے خوش آمدید کہتی اور بابو جان کو تاکید بھی کرتی کہ "خیال رکھنا! کہی عنایت ناراض نہ ہو جائے یہ بہت ہی اچھے ماں باپ کا بیٹا ہے”۔ ہم چونکہ قریب ترین پڑوسی تھے اس لیے دونوں گھرانوں کے لوگ باہم دوست تھے۔ بابو جان میرا دوست تھا اس کے والد صاحب میرے والد صاحب کے دوست تھے (حالانکہ خیالات میں بڑا فرق تھا، وہ پیپلز پارٹی کا جیالا تھا جبکہ میرے والد صاحب مرحوم جماعت اسلامی کے رکن تھے لیکن دونوں مرغیاں پالنے کا شوق یکساں پایا تھا) جبکہ اس کی بڑی بہن اور میری والدہ محترمہ آپس میں سہیلیاں تھیں بعد میں اس کی وہی بہن میری مامی بن گئی۔ بہت ہی مہربان خاتون ہیں اللہ تعالیٰ ان کو سلامت رکھیں اور خوش و خرم بھی۔

‎سید بابو جان کی خوش اخلاقی محض ایک ذاتی خوبی نہیں بلکہ یہ باقاعدہ سماجی سرمایہ ہے۔ موجودہ دور میں جہاں ہر طرف انتشار، نفسیاتی دباؤ اور تناو کی فضا ہے، وہاں بابو جان جیسے افراد سماجی زخموں پر مرہم کا کام کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی مسکراہٹ، نرم گفتاری اور دوسروں کی بات توجہ اور احترام سے سننے کی صلاحیت جھگڑوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیتی ہے۔ وہ نہ صرف خود پر سکون رہتے ہیں بلکہ اپنے گرد و پیش میں موجود ہر فرد کے لیے بھی سکون اور کا باعث بنتے ہیں، یوں وہ معاشرتی اکائیوں کی حیثیت سے سماجی ہم آہنگی میں اپنا کردار بخوبی ادا کر رہے ہیں ہیں۔

‎‎بابو جان کی خوش اخلاقی نے اس کی پیشہ ورانہ زندگی کو بھی حد درجہ خوش گوار بنائی ہوئی ہے۔ تھائی لینڈ جیسے غیر ملکی ماحول میں جہاں طرح طرح کے ثقافتی اور لسانی اختلافات اکثر و بیشتر رکاوٹ بنتے ہیں، بابو جان نے اپنے خوشگوار اور منکسر المزاج انداز سے نہ صرف اپنے لیے ایک خوشحال زندگی کے داغ بیل ڈالی ہے بلکہ دوستوں کا بھی ایک وسیع حلقہ بنایا ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے کام کا ماحول بھی اس کی ذاتی زندگی کی مانند خوش گوار ہے۔

‎آج کے اس جدید دور میں جہاں نوجوان نسل ہر قسم کے ذہنی دباؤ کا بری طرح شکار ہے، سید بابو جان کی شخصیت ایک خوبصورت مثال ہے۔ اس نے ثابت کیا کہ جدید طرز زندگی اور اعلیٰ اخلاقیات کا ایک حسین امتزاج بالکل ممکن ہے۔ وہ سوشل میڈیا کے دور میں حقیقی تعلقات کی اہمیت کو سمجھتا ہے اور صرف سمجھتا ہی نہیں بلکہ اس کو کماحقہ نبھاتا بھی ہے اور انٹرنیٹ کی مصنوعی دنیا سے زیادہ انسانوں کی حقیقی دنیا کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا یہ رویہ نئی نسل کے لیے اس بات کی ترغیب ہے کہ حقیقی کامیابی اور مسرت ٹیکنالوجی کی وقتی چمک دمک میں نہیں بلکہ انسانوں کے درمیان ہی ملتی ہے۔

سید بابو جان نے ضلعی ہیڈکوارٹر تیمرگرہ کے ڈگری کالج سے سوشل سائنسز میں گریجویشن کی ہے۔ دو ہزار چودہ کو بغرض روزگار تھائی لینڈ منتقل ہوا جو اب تک وہاں مقیم ہے۔ سات سال قبل شادی کر کے عملی زندگی کا آغاز اسی خوشگوار موڈ میں کیا جو اس کا درینہ خاصہ ہے اب خیر سے دو بچوں کا باپ بھی ہے۔

سید بابو جان جب کبھی ہمارے گھر آتا ہے تو میرے بچے بلخصوص سید حاتم جان اس کے وی آئی پی استقبال کرتا ہے کہ وہ ان کے ناز نخرے خوش دلی سے اٹھاتے اور ہر طرح کا خیال رکھتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل وہ ہمارے گھر آئے اور بچوں نے حسب دستور خوشی اور شور سے اس کا پرتپاک استقبال کیا اور یوں دو دن کافی مزے سے گزرے۔ رخصت کرتے وقت میرے بھائی کفایت اللہ جان نے مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ کی شہرہ آفاق کتاب دینیات پیش کیا جبکہ سید حاتم جان نے اس کو "خطبات” بطور تحفہ پیش کیا۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ سید بابو جان اور اس کے خاندان پر اپنی رحمت کا سایہ ہمیشہ ہمیشہ دراز رکھے اور اس کے دامن کو ہر طرح کی کامیابیوں سے بھر دیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے