خوشی کا حصول: زندگی کو بامقصد بنانے کا سفر

زندگی کو بامقصد اور بامعنیٰ بنانے کا سفر ایک ایسی روحانی تلاش ہے جہاں انسان اپنی انفرادیت، اپنے خوابوں اور اس کائنات میں اپنے مقام کو پانے کی کوشش کرتا ہے۔

پاکستانی تناظر میں یہ راستہ کہیں گنجلک تو کہیں نفیس، کہیں رکاوٹوں سے بھرا ہوا تو کہیں انتہائی دلکش ثابت ہوتا ہے، جہاں خاندانی اقدار اور جدید خواہشات کے درمیان ایک نازک توازن قائم کرنا پڑتا ہے۔ اس منفرد دائرے میں اپنی پہچان بنانا ایک ایسا فنکارانہ عمل ہے جس میں اپنے اندر کی آواز کو سننا، سماجی حدود کو سمجھنا، اور پھر بھی اپنے وجود کی اصل لہر کو زندہ رکھنا شامل ہے۔

اپنے شغف کی تلاش، چھوٹے چھوٹے مقاصد کا تعین، اور دوسروں کی بے لوث خدمت کے ذریعے ہی ہم اپنی روزمرہ کی موجودگی کو ایک وسیع تر اور پائیدار مفہوم سے ہمکنار کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی شعوری سعی ہے جہاں ہر قدم پر خود آگاہی، صبر اور لچک کی ضرورت ہوتی ہے، اور جس کا ثمر آخرکار ایک ایسی زندگی کی صورت میں نکلتا ہے جو نہ صرف خود ہمارے لیے بلکہ ہمارے اردگرد کے تمام معاشرے کے لیے بھی خوشی، سکون اور مثبت تبدیلی کا باعث بنتی ہے۔ آئیے، زندگی کے اس خوبصورت پہلو پر دلچسپ انداز میں روشنی ڈالتے ہیں۔

خوشی ہی حقیقی کامیابی ہے: ہمارے معاشرے میں اکثر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ کامیابی اور مقصد کا تعلق صرف انہی کاموں سے ہے جن میں ہم ماہر ہوں، جن سے ہماری شہرت ہو یا مالی فائدہ حاصل ہو۔ ہم بچپن سے ہی یہ سنتے آئے ہیں کہ "بڑے ہو کر کیا بنو گے؟” اور جواب میں ڈاکٹر، انجینئر یا پائلٹ، صحافی، اور وکیل بننے کی خواہش ہی قابلِ ستائش سمجھی جاتی ہے۔ لیکن کیا زندگی کا مقصد صرف ایک پیشہ یا مہارت تک ہی محدود ہے؟ ہمارے اردگرد اکثر ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو اپنے شوق پر تو بہت وقت صرف کرتے ہیں لیکن اس میں وہ مہارت حاصل نہیں کر پاتے جو معیار سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً، کوئی جانے والا جو ہمیشہ گاتا ہے مگر اس کی آواز میں وہ سریلا پن نہیں ہوتا۔ ہم سوچتے ہیں کہ آخر وہ ایسا کیوں کرتا ہے جبکہ وہ اس میں "اچھا” نہیں؟ یہاں پر ہماری سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ مقصد کا تعلق صرف ہنرمندی سے نہیں، بلکہ اس کام سے حاصل ہونے والی اندرونی خوشی اور تسکین سے ہے۔ ہمارا وہ عزیز شاید اگلا عاطف اسلم یا راحت فتح علی خان نہ بن سکے، لیکن جب وہ گاتا ہے تو اس کا دل خوشی سے بھر جاتا ہے، اور یہ احساس کسی بیرونی تعریف یا کامیابی سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ ہمارا معاشرہ ان لوگوں کو ہیرو مانتا ہے جو کسی میدان میں چمکتے ہیں، لیکن ان لوگوں کو نظرانداز کر دیتا ہے جو چھوٹے چھوٹے کاموں سے اپنی ذات میں سکون تلاش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ وہ شعبہ چن لیتے ہیں جس میں وہ ماہر تو ہوتے ہیں مگر بعد ازاں وہاں سے بیزار ہو کر نکل جاتے ہیں، کیونکہ ان کی خوشی غائب ہو چکی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر آپ کا دل کسی کام میں لگتا ہے، چاہے دنیا اسے کتنا ہی معمولی کیوں نہ سمجھے، تو وہی آپ کا مقصد ہے۔ جیسے "دادی موسیٰ” نے بڑی عمر میں مصوری شروع کی اور دنیا نے ان کے فن کو سراہا۔ ان کا مقصد شہرت نہیں بلکہ رنگوں کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار تھا۔ لہٰذا، اپنے مقصد کی تلاش کا پہلا اصول یہ ہے کہ اپنے دل کی سنیں اور وہ کام کریں جو آپ کو حقیقی خوشی دے، چاہے آپ اس میں ماہر ہوں یا نہ ہوں۔

دوسروں کی منظوری سے بالا تر ہو کر سوچیں: یہ ایک فطری انسانی جبلت ہے کہ ہم دوسروں کی نظر میں اچھے بننا چاہتے ہیں اور ان کی توجہ اور تعریف کے خواہش مند رہتے ہیں۔ پاکستانی معاشرہ خاص طور پر ایک اجتماعی سوچ رکھتا ہے جہاں خاندان، رشتے داروں اور معاشرے کی رائے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان اپنے دل کی بجائے گھر والوں کی خواہشات کے مطابق اپنے کیریئر کا انتخاب کر لیتے ہیں۔ لیکن کیا یہی زندگی کا مقصد ہے؟ کیا ہماری خوشی کا انحصار دوسروں کی منظوری پر ہونا چاہیے؟ ہرگز نہیں۔ ضروری ہے کہ ہم اپنی خود اعتمادی کو اس قدر مضبوط بنائیں کہ ہماری اپنی نظر میں اپنی قدر دوسروں کی رائے سے زیادہ اہم ہو۔ مقصد کی تلاش میں یہ نہ دیکھیں کہ دنیا والے کیا کہیں گے، بلکہ یہ دیکھیں کہ کون سا کام آپ کے اندر ایک گہرا سکون اور اطمینان پیدا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، میری ایک جاننے والی ہسپتال میں کام کرتی ہیں، جہاں وہ زندگی کے آخری لمحات گزارنے والے مریضوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ یہ کام مشکل، کم تنخواہ والا اور معاشرے میں زیادہ "معزز” نہیں سمجھا جاتا، لیکن وہ اسے ایک عظیم مقصد سمجھتی ہیں۔ انہیں اس بات سے خوشی ملتی ہے کہ وہ کسی کے مشکل وقت میں اس کا سہارا بن سکیں۔ ان کا مقصد بیرونی تعریف کمانا نہیں بلکہ اندرونی تسکین حاصل کرنا ہے۔ لہٰذا، اپنے مقصد کے انتخاب کے وقت خود سے یہ سوال کریں کہ کیا یہ کام مجھے اتنی خوشی دے گا کہ چاہے اس پر دنیا کی کوئی توجہ نہ بھی دے، میں پھر بھی اسے کرتا رہوں۔ اگر جواب ہاں میں ہے، تو آپ نے اپنا مقصد ڈھونڈ لیا ہے۔

ایسی زندگی گزاریں جس پر پیچھے مڑ کر فخر ہو: زندگی ایک سفر ہے، اور ہر سفر کا مقصد اس کے انجام کو خوبصورت بنانا ہوتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگی میں ایسے کاموں کو ترجیح دینی چاہیے جنہیں ہم اپنے آخری لمحات میں یاد کر کے مسکرا سکیں اور یہ محسوس کر سکیں کہ ہم نے ایک بامقصد زندگی گزاری ہے۔ یہ احساس ہی حقیقی کامیابی ہے۔ ہم مسلمانوں کے عقیدے اور ثقافت میں آخرت کی تیاری کو بہت اہمیت حاصل ہے، لیکن دنیا میں رہتے ہوئے بھی ہم ایسے اعمال کر سکتے ہیں جو ہمارے لیے صدقہ جاریہ بن جائیں۔ مقصد صرف اپنی خوشی تک محدود نہیں ہونا چاہیے، اس میں دوسروں کی بہتری اور معاشرے کی خدمت کا جذبہ بھی شامل ہو۔ جب آپ کوئی ایسا کام کرتے ہیں جس سے کسی کی مدد ہوتی ہے، کسی کا درد کم ہوتا ہے یا معاشرے میں مثبت تبدیلی آتی ہے، تو اس سے ملنے والی روحانی تسکین بے مثال ہوتی ہے۔ یہ وہ ورثہ ہے جسے آپ اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔ لہٰذا، اپنے مقصد کے انتخاب کے وقت خود سے پوچھیں کہ کیا میں اپنی زندگی کے انجام پر اس کام پر فخر محسوس کروں گا؟ کیا یہ کام مجھے یہ احساس دلائے گا کہ میں نے نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی زندگیوں کو بھی بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کیا؟

تجسس اور تجربے کو اپنا رہنما بنائیں: بہت سے لوگ، خاص طور پر نوجوان، اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ شاید انہیں زندگی کا مقصد ہی نہ مل سکے۔ یہ خوف اکثر اس لیے پیدا ہوتا ہے کیونکہ ہم نے دنیا کی وسعتوں کو دیکھا اور جانا ہی نہیں ہوتا۔ ہمارے اردگرد کتنی ہی دلچسپ چیزیں، مشاغل اور علم کے شعبے موجود ہیں جن سے ہم ناواقف ہیں۔ مقصد تلاش کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے اندر کے تجسس کو زندہ رکھیں اور نئی چیزیں آزمانے کے لیے ہمیشہ تیار رہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کے پاس بچپن میں یہ مواقع نہ مل سکے ہوں، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ اب کچھ نہیں کر سکتے۔ عمر صرف ایک عدد ہے، جذبہ ہر عمر میں نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ آپ کسی بھی عمر میں نیا ہنر سیکھ سکتے ہیں، رضاکارانہ کام کر سکتے ہیں، مختلف شعبوں کے ماہرین سے مل سکتے ہیں، کوئی نیا کورس جوائن کر سکتے ہیں یا کسی تفریحی مقام میں وقت گزار سکتے ہیں۔ یہ سارے تجربات آپ کی سوچ کو وسیع کرتے ہیں اور آپ کو اپنے دل کی آواز سننے میں مدد دیتے ہیں۔ ان تجربات کے دوران، یہ نوٹ کرتے رہیں کہ کون سی سرگرمی آپ کے اندر جوش و جذبہ پیدا کرتی ہے۔ کس کام کو کرتے ہوئے وقت کا احساس ہی نہیں رہتا؟ یہی وہ اشارے ہیں جو آپ کو آپ کے مقصد کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس سفر میں صبر اور عزم کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن یہ انتہائی دلچسپ اور انعام سے بھرپور سفر ہے۔

خاموشی میں اپنے اندر کی آواز سنیں: آج کی تیز رفتار اور شور سے بھری دنیا میں، سب سے مشکل کام خاموشی سے بیٹھنا اور اپنے آپ سے بات کرنا ہے۔ ہم موبائل فون، سوشل میڈیا، کام اور معاشرتی تقریبات میں اس قدر مصروف ہو گئے ہیں کہ اپنے دل کی دھڑکن سننے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ زندگی بھر اپنے مقصد سے بے بہرہ رہتے ہیں۔ اپنے مقصد کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ خود کے ساتھ وقت گزارنے کی عادت ڈالیں۔ ایسا وقت نکالیں جب آپ ہر قسم کے بیرونی شور سے دور، فطرت کے قریب، کسی پرسکون جگہ پر تنہا بیٹھ سکیں۔ یہ جگہ کوئی پارک، پہاڑی علاقہ، یا جھیل کا کنارہ ہو سکتا ہے۔ اپنے ساتھ ایک ڈائری رکھیں۔ اپنی کہانی خود لکھیں ایک ایسی کہانی جو آپ کے دل کی گہرائیوں سے نکلے اور دوسروں کے دلوں کو چھو جانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ اور اپنے خیالات کو قلم بند کریں۔ خود سے سوالات کریں کہ مجھے کون سی چیز حقیقی خوشی دیتی ہے؟ میں کس کام میں خود کو کھو سکتا ہوں؟ میرے لیے کون سا کام معنی خیز ہے؟ ایسی تنہائی میں آپ کی سوچیں واضح ہوتی ہیں اور آپ کے اندر چھپی ہوئی آواز آپ سے بات کرتی ہے۔ یہ مشق آپ کو نہ صرف خود کو جاننے میں مدد دے گی بلکہ زندگی کے حقیقی مقصد تک پہنچنے کا راستہ بھی دکھائے گی۔ یاد رکھیں، مقصد کوئی منزل نہیں ہے جسے ڈھونڈنا ہو، یہ تو ایک احساس ہے جو آپ کے اندر سے جاگتا ہے، بس اسے سننے کی دیر ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے