اگر وزیر اور بیوروکریٹ بندر ہوں۔۔۔؟

دنیا کی تاریخ ایسے عجیب و غریب واقعات سے بھری پڑی ہے جن پر یقین کرنا آسان نہیں ہوتا۔ کچھ قصے سن کر لگتا ہے جیسے یہ محض کہانیاں ہوں، مگر جب ان کی حقیقت سامنے آتی ہے تو انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ سوچئے، اگر آپ کو یہ بتایا جائے کہ ایک بیبون (بندروں کی ایک قسم) برسوں تک ریلوے کا سگنل مین رہا اور اس دوران ایک بار بھی اس سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوئی تو کیا آپ یقین کریں گے؟

یہ واقعہ انیسویں صدی کے آخری برسوں میں کیپ ٹاؤن میں اس وقت پیش جب جیمز وائڈ نامی ایک سگنل مین (ریلوے محکمہ کا ملازم) فرض کی ادائیگی کے دوران ایک حادثے میں اپنی دونوں ٹانگوں سے محروم ہوگیا۔ اب وہ لکڑی کے مصنوعی پیروں اور ایک چھوٹی ٹرالی (وھیل چیئر) کے سہارے اپنا کام کرنے لگا۔ انہیں دنوں اس نے جیک نامی بیبون کو اپنا ساتھی بنالیا اور اسے تربیت دی کہ وہ اُس کی وہیل چیئر دھکیلے اور اُس کی نگرانی میں ریلوے کے سگنل بھی چلائے۔

ابتداء میں جیک ٹرالی دھکیلنے اور چھوٹے موٹے کام کرنے تک محدود تھا۔ پھر آہستہ آہستہ اس نے سگنلز کے اشارے اور ٹریک کے سوئچ بدلنے کے طریقے سیکھ لیے۔ حیرت انگیز طور پر وہ ہر اشارے کو ٹھیک وقت پر اور بالکل درست طریقے سے بجا لانے لگا۔

جب یہ بات عام ہوئی تو لوگوں نے شکایتیں کیں اور عرضیاں ڈالیں کہ یہ خطرناک معاملہ ہے، ریلوے کے سگنل جانور کے حوالے کرنا کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ حکام نے چھان بین کی۔ لیکن جیک کی غیر معمولی قابلیت دیکھ کر انہوں نے فیصلہ کیا کہ اسے باقاعدہ ملازم رکھا جائے۔ اس کی تنخواہ روزانہ بیس سینٹ اور ہفتے میں "آدھی بوتل بیئر مقرر ہوئی”۔


اس سارے واقعے میں جو چیز قابل غور ہے وہ یہ نہیں کہ ایک بیبون ریلوے کا ملازم رہا، وہ یہ ہے کہ اس بیبون نے مسلسل نو برس میں ایک دن کے لیے بھی اپنی ذمہ داری میں کوئی لغزش نہ کی۔ نہ سگنل غلط دیا، نہ سوئچ غلط بدلا۔ یہ وہ تسلسل تھا جس نے ریلوے کے انجینئروں اور عملے کو حیران کر رکھا تھا۔ آج بھی جنوبی افریقہ کے البانی میوزیم میں جیک کی کھوپڑی محفوظ ہے۔
جب مجھے اس سارے واقعے کا پتہ چلا تو بطور ایک ذمہ دار شہری میرے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا۔

میری حکومتِ پاکستان کی خدمت میں ایک مخلصانہ اور سنجیدہ تجویز ہے کہ جو وزراء اپنی ناقص کارکردگی، نااہلی اور غفلت کے باعث قوم کو مسائل کے دلدل میں دھکیل رہے ہیں، انہیں فی الفور برطرف کیا جائے۔ جو بیوروکریٹس برسوں سے کرپشن، رشوت اور ذاتی مفاد کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں اور جن کی وجہ سے ادارے تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، ان سب کو فارغ کیا جائے۔ سرکاری محکموں کے اندر جو لوگ کند ذہن، نالائق ، سست، بے ایمان اور بدنیت ہیں، ان کی جگہ خالی کر کے نئی بھرتیاں کی جائیں۔ اور اس بار تمام آسامیوں پر بیبون اور چیمپینزی بھرتی کیے جائیں۔ اگر پاکستان میں بندر کم پڑ جائیں تو بھارت یا کسی اور ایسے ملک سے جہاں وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، درآمد کر کے انہیں پاکستانی شہریت دی جائے اور سرکاری ملازمتوں پر رکھا جائے۔

اس میں ہمیں بے شمار فوائد حاصل ہوں گے۔ بندر کم از کم ہمارے وزیروں اور افسر شاہی کی طرح نہیں ہوں گے۔ وہ دفتر کے اوقات میں چائے کی پیالیوں پر گپ شپ میں وقت ضائع نہیں کریں گے۔ وہ فائلوں کو الماریوں میں دفن کر کے برسوں کے لیے غائب نہیں کریں گے۔ وہ اپنی نوکری بچانے کے لیے سفارشیں نہیں ڈھونڈیں گے، نہ ہی ترقی کے لیے خوشامد کے پُل باندھیں گے۔ وہ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کریں گے اور نہ ہی ہر ٹھیکے میں کمیشن مانگیں گے۔ وہ سرکاری دوروں کے نام پر باہر جا کر شاپنگ اور سیر و تفریح نہیں کریں گے۔ نہ وہ پروٹوکول کی گاڑیوں کا جلوس بنائیں گے اور نہ عوام کے ٹیکسوں پر عیاشیاں کریں گے۔

اس کے برعکس بندر فطری طور پر چاق و چوبند اور مستعد ہوتے ہیں۔ وہ وقت کی پابندی کے ساتھ کام کریں گے، تھکیں گے نہیں، ایمانداری سے ذمہ داری پوری کریں گے، اور رشوت یا کمیشن جیسی لعنتوں سے کوسوں دور رہیں گے۔ سوچئے ۔ ۔ ۔ وہ بڑے بڑے ایئر کنڈیشنڈ دفتروں کی کرسیوں پر سستی کے ساتھ نیم دراز نہیں ہوں گے بلکہ درختوں کی شاخوں پر بیٹھ کر بھی فائلوں پر مہریں لگا دیں گے۔ وہ رشوت دینے والے کو کیلا واپس پکڑا دیں گے اور خوشامد کرنے والے کو منہ چڑھا کر بھگا دیں گے۔ وہ کیلے کھاتے کھاتے بھی فائلوں پر دستخط کر دیں گے، لیکن پھر بھی ہمارے وزیروں سے کہیں زیادہ سنجیدہ اور نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔ ان کے جد امجد جناب جیک صاحب اگر سگنل مین کی کرسی پر بیٹھ کر نو برس تک بغیر کسی غلطی کے فرائض انجام دے سکتے ھیں تو یہ سوچنا بعید از قیاس نہیں کہ بندر وزارتوں اور محکموں کو بھی زیادہ بہتر انداز میں چلا سکیں گے۔ یقین جانیے، اگر ہمارے ادارے بندروں کے حوالے کر دیئے جائیں تو نہ صرف کرپشن ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی بلکہ پاکستان کے سارے محکمے سیدھے ہو جائیں گے، عوام کے مسائل حل ہو جائیں گے، اور ملک کی ترقی کا پہیہ رکاوٹ کے بغیر پوری رفتار سے چلنے لگے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے