جاپان: ایک ایسی سر زمین جہاں جدت اور قدامت کا ایک خوبصورت امتزاج پایا جاتا ہے

چڑھتے سورج کی سرزمین اور بظاہر چھوٹا سا لیکن صنعتی ترقی کے اعتبار سے ایک دیو مالائی ملک جاپان جس کو سرکاری طور پر "اسٹیٹ آف جاپان” کے نام سے جانا جاتا ہے، مشرقی ایشیا کے آخری سرے پر واقع ایک جزیرہ نما ملک ہے۔ یہ بحر الکاہل میں واقع ہے اور چھ ہزار سے زائد جزائر کی ایک طویل زنجیر پر مشتمل ملک ہے۔ یاد رہے ان میں سے پانچ سو کے لگ بھگ جزائر آباد اور باقی سب غیر آباد ہیں، ان میں سے چار یعنی ہونشو، ہوکائیڈو، کیوشو اور شیکوکو بڑے جزائر ہیں باقی چھوٹے چھوٹے ہیں۔

جاپان کا دارالحکومت ٹوکیو نہ صرف دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے بلکہ متحرک ترین میٹرو پولیس نظام رکھنے والے شہروں میں سے ایک ہے۔ جاپان اپنی طویل تاریخ، صنعتی ترقی، قدیم بادشاہت سے وابستگی، منفرد ثقافت، جنگ عظیم میں حصہ اور نشانہ بننے جبکہ اب اپنے امن پسندی اور انسان دوستی کے لیے خاص شہرت رکھتا ہے۔

جاپان نے جاگیرداری سے جمہوریت، جنگ جوئی سے امن پسندی، ماہی گیری سے صنعت کاری اور مقامی رنگ و آہنگ سے بین الاقوامی رنگا رنگی تک ایک شاندار اور متاثر کن سفر طے کیا ہے۔ قوموں کو سیکھنے کے لیے جاپانی قوم کے دامن میں بہت کچھ ہے۔ جاپان عصر حاضر کی دنیا میں ایک ترقی یافتہ، چمکتا دمکتا، بااثر، مددگار، فعال اور نرم تناظر میں طاقتور ملک ہے۔ آئیے جاپان کے بارے میں کچھ نہ کچھ جاننے کی کوشش کرتے ہیں:

تین لاکھ اٹھہتر ہزار مربع کیلومیٹر پر محیط جاپان کی ایک بھرپور اور دلچسپ تاریخ ہے جو ہزاروں سال پرانی ہے۔ اس نے جاگیردارانہ حکمرانی کے مختلف ادوار، چینی اور کوریائی ثقافتوں کے اثر و رسوخ اور انیسویں ویں صدی میں میجی دور کی بحالی کے دوران جدیدیت کا شاندار تجربہ کیا ہے۔ جاپان نے دوسری جنگ عظیم میں اہم کردار ادا کیا، ساتھ ہی ایٹمی ہتھیاروں کا نشانہ بنا لیکن بعد میں اس نے جنگوں سے منہ موڑ کر نمایاں اقتصادی، صنعتی اور تجارتی ترقی کی جو رفتہ رفتہ اب عالمی اقتصادی پاور ہاؤس بن گیا۔

جاپانی ثقافت اپنی منفرد روایات، فنون اور رسم و رواج کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ روایتی فنون جیسے چائے کی تقریبات، اکیبانا (پھولوں کی ترتیب)، خطاطی، اور کابوکی تھیٹر کی جڑیں جاپانی معاشرے میں بہت گہری ہیں۔ جاپان اپنی تکنیکی ترقی اور اختراعی صنعتوں کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔ سونی، ٹویوٹا، ہونڈا اور پیناسونک جیسی کمپنیوں نے آٹوموٹیو مینوفیکچرنگ، الیکٹرانکس، روبوٹکس اور ویڈیو گیمنگ جیسے مختلف شعبوں میں اہم شراکت داری اپنے نام کی ہے۔

قدرت نے جاپان کو متنوع مناظر سے نوازا ہے، جس میں دلکش پہاڑوں سے لے کر شاندار ساحلی مقامات شامل ہیں۔ ماؤنٹ فیوجی، جاپان کی ایک مشہور علامت، ملک کی بلند ترین چوٹی اور کوہ پیماؤں کے لیے ایک مقبول منزل ہے۔ موسم بہار میں چیری کے پھول اور موسم خزاں کے متحرک پودوں کو جاپان میں قدرتی مظاہر کے طور پر مانا جاتا ہے۔جاپان کا ایک کافی پرانا اور بھرپور مذہبی ورثہ بھی ہے، جس میں شنٹو اور بدھ مت کا امتزاج غالب ہے۔ مزارات اور مندر پورے ملک میں جا بجا موجود ہیں مثلاً ٹوکیو میں مشہور میجی مزار، کیوٹو میں کیومیزو ڈیرا، اور ہیروشیما میں اِتسوکوشیما مزار۔

جاپان کا عالمی ثقافت پر نمایاں اثر پڑا ہے۔ جاپان کے اینیمی، مانگا اور ویڈیو گیمز کے دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر شائقین پائیں جاتے ہیں۔ مزید برآں، جے پاپ (جاپانی مقبول موسیقی) اور جاپانی سنیما، بشمول اکیرا کروساوا جیسے مشہور فلم سازوں نے بھی بین الاقوامی سامعین کو اپنے سحر میں جکڑ لیا ہے۔

جاپان ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے جو اس کے بھرپور ورثے، منفرد روایات اور قدرتی خوبصورتی کو دیکھنے آ رہے ہیں۔ مشہور سیاحتی مقامات میں ٹوکیو، کیوٹو، اوساکا، ہیروشیما، نارا اور ہوکائیڈو شامل ہیں۔

سیاح روایتی ریوکن رہائش کا نظارہ کر کے لطف اٹھا سکتے ہیں، قدیم مندروں اور قلعوں کا دورہ کر سکتے ہیں اور مزیدار مقامی ماکولات و مشروبات سے دل بہلا سکتے ہیں۔

ساڑھے تیرہ کروڑ نفوس پر مشتمل جاپان کی ثقافت بھرپور اور کثیر جہتی ہے، جو کہ قدیم روایات کو جدید اثرات کے ساتھ خوبصورتی سے ملاتی ہے۔ جاپان میں روایتی فنون کی ایک طویل تاریخ ہے جو اس کی ثقافت اور جمالیات سے گہرائی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ان میں چائے کی تقریبات (چانویو)، پھولوں کی ترتیب (ایکیبانہ)، خطاطی (شوڈو)، مٹی کے برتن (یاکیمونو) اور کاغذ کو تہہ کرنے کا فن (اوریگامی) شامل ہیں۔ یہ آرٹ فارم اکثر سادگی، ہم آہنگی اور تنوع کے مختلف اور بھرپور رنگ اپنے اندر رکھتا ہیں۔

جاپانی پکوان اپنی پیچیدہ تیاری اور دیدہ زیب پیشکش کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ روایتی پکوانوں میں سشی، سشیمی، ٹیمپورا، رامین، اُڈون، سوبا نوڈلز، اور سمندری غذا کی وسیع اقسام شامل ہیں، کیونکہ جاپان سمندر سے گھرا ہوا ہے۔ تازہ اور موسمی اشیاء پر زور اور ذائقوں کا توازن جاپانی کھانوں کی روایات کے اہم ترین عناصر ہیں۔

جاپان سال بھر میں متعدد تہوار مناتا ہے، جن کی جڑیں اس کی مذہبی اور ثقافتی روایات میں گہرائی کے ساتھ پیوست ہیں۔ سب سے مشہور چیری بلاسم فیسٹیول (ہانامی) ہے جو موسم بہار میں منعقد ہوتا ہے جب لوگ کھلتے ہوئے چیری کے پھولوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے جگہ جگہ جمع ہوتے ہیں۔ دیگر قابل ذکر تہواروں میں کیوٹو میں Gion Matsuri، Aomori میں Nebuta Festival، اور Tanabata فیسٹیولز ملک بھر میں منائے جاتے ہیں۔ جاپان کے روایتی لباس میں رسمی مواقع کے لیے کیمونو اور زیادہ آرام دہ ہونے کے لیے یوکاٹا شامل ہے۔ کیمونز اکثر پیچیدہ نمونوں کے ساتھ شاندار ریشم کے کپڑے سے بنے ہوتے ہیں، اور ان کا انداز اور ڈیزائن موقع و محل، عمر اور ازدواجی حیثیت کے لحاظ سے مختلف ہو سکتا ہے۔ اوبی، کیمونو کے ساتھ پہنی جانے والی چوڑی پٹی بھی روایتی لباس کا ایک لازمی حصہ ہے۔

جاپانی باغات احتیاط سے ڈیزائن کی گئی جگہیں ہیں جو ہم آہنگی، توازن اور سکون کے حصول کے اصولوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان باغات میں اکثر و بیشتر احتیاط سے رکھی چٹانیں، مینیکیور درخت، پُرسکون تالاب اور مختلف علامتی عناصر جیسا کہ پل اور لالٹین شامل ہوتے ہیں۔ یہ باغات مراقبہ، غور و فکر کرنے، پر سکون رہنے اور فطرت کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کے لیے خاص اہمیت کے حامل مقامات سمجھے جاتے ہیں۔

جاپان میں مارشل آرٹس کی ایک بھرپور روایت موجود ہے، جس میں سے بہت سے قدیم جنگی تکنیکیں پائی جاتی ہیں۔ مارشل آرٹس جیسے جوڈو، کراٹے، کینڈو اور ایکیڈو کو کھیلوں اور نظم و ضبط کے طور پر استعمال کیا جاتا ہیں اور ان کھیلوں کا خاص کا خاص بھی احترام کیا جاتا ہے۔ مارشل آرٹ کو جاپان میں نظم و ضبط، جسمانی تندرستی اور ذہنی یکسوئی کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اونسن قدرتی گرم چشمے ہوتے ہیں جو پورے جاپان میں مشہور ہیں۔ لوگ آرام کرنے، جوان اور صحت مند رہنے اور معدنیات سے بھرپور گرم پانیوں سے علاج کے فوائد سمیت لطف اندوز ہونے کے لیے اونسن ریزورٹس کے دورے کرتے رہتے ہیں۔ اونسن غسل کو ایک ثقافتی اہمیت بھی حاصل ہے اور اس غسل کو لیتے وقت مخصوص آداب کی پاسداری ہوتی ہے۔

جاپان کی پاپ کلچر مثلاً اینیمی، مانگا اور ویڈیو گیمز نے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کی ہے۔ اینیمی سے مراد اینیمیٹڈ شوز اور فلمیں ہیں جو انواع و اقسام کا احاطہ کرتی ہیں اور عالمی سطح پر ان کی بڑی تعداد میں ناظرین و شائقین پائے جاتے ہیں۔ منگا جاپانی مزاحیہ کتابوں اور گرافک ناولوں کا مجموعہ ہوتا ہے جو اپنے مخصوص آرٹ اسٹائل کے لیے مشہور ہیں۔ جاپانی ویڈیو گیمز کا گیمنگ انڈسٹری پر بھی اچھا خاصا اثر پڑا ہے، جس میں سپر ماریو، پوکیمون اور فائنل فینٹسی جیسی فرنچائزز بین الاقوامی سطح کی مارکیٹ رکھتی ہیں۔

ہزاروں سال پرانے جاپانی معاشرے نے روایتی اقدار، جدید اثرات اور منظم سماجی ڈھانچے کے امتزاج سے تشکیل پایا ہے۔ جاپان سماجی ہم آہنگی اور اجتماعی شناخت کو برقرار رکھنے پر بہت زیادہ زور دیتا ہے۔ جاپانی معاشرے کے تمام رنگوں میں ہم آہنگی کا تصور بہر صورت قائم رہتا ہے جو گروہی ہم آہنگی اور تنازعات سے بچنے کی اہمیت پر خاطر خواہ زور دیتا ہے۔ جاپانی معاشرے میں درجہ بندی، اتفاق رائے کی تعمیر اور سماجی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

جاپان میں تعلیم کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور تعلیم کا حصول انفرادی کامیابی اور سماجی ترقی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ تعلیمی نظام سخت اور مسابقتی روح سے مالا مال ہے جس میں نظم و ضبط، محنت و مہارت اور تعلیمی کامیابی پر توجہ دی جاتی ہے۔ ہائی اسکول کا درجہ، اعلی تعلیم کے لیے داخلے کے امتحانات اور مستقبل کے کیریئر کے تعین میں اہم سمجھا جاتا ہے۔

جاپان کام میں مہارت اور لگن کے لیے جانا جاتا ہے۔ "تنخواہ دار” کے تصور سے مراد وہائٹ کالر ورکرز ہیں جو اپنی کمپنی کے لیے ہر دم پرعزم رہتے ہیں اور اکثر و بیشتر طویل دورانیے تک کام کرتے رہتے ہیں۔ تنظیموں کے اندر کمپنی کی وفاداری سے بھرپور تعلقات پر زور دیا جاتا ہے اور ملازمین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے کام کو ذاتی معاملات پر ترجیح دیں۔

جاپانی معاشرے میں گروپ کی شناخت اور تعلق بہت اہم ہیں۔ یہ مختلف پہلوؤں میں دیکھا جاتا ہے جیسا کہ خاندان، برادری، اور سوشل نیٹ ورکس کی اہمیت۔ "اوچی” (گروپ کے اندر) اور "سوٹو” (گروپ سے باہر) یہ الفاظ گروپ میں شمولیت اور گروپ سے باہر کے تصورات کو بیان کرتے ہیں، جس میں گروپ کے اندر اعتماد اور تعاون پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔

روایتی صنفی کردار اب بھی جاپانی معاشرے میں کافی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ تاریخی طور پر، محنت کی تقسیم رہی ہے، جس میں مرد کمانے والے کے طور پر اور خواتین بنیادی طور پر گھریلو فرائض کی ذمہ دار سمجھی جاتی ہیں تاہم حالیہ عشروں میں صنفی مساوات کو فروغ دینے اور افرادی قوت میں خواتین کی شرکت بڑھانے کے لیے کوششیں کی گئی ہیں۔

جاپان دنیا میں سب سے زیادہ عمر رسیدہ آبادیوں میں سے ایک ہے، جس میں شرح پیدائش کم ہے اور اوسط عمر بڑھ رہی ہے۔ آبادی کا یہ رجحان ملک کے لیے چیلنجز کا باعث بنتا ہے مثلاً کم ہوتی افرادی قوت، صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر دباؤ اور خاندانی ڈھانچے میں نامطلوب تبدیلیاں لاتا ہیں۔

جاپانی معاشرہ تہذیب و شائستگی، عزت و احترام اور مناسب ادب آداب کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ جھکنا سلام کی ایک عام شکل ہے، اور بزنس کارڈ (میشی) کے تبادلے اور گھر کے اندر جوتے اتارنے کے مخصوص رواج ہیں۔ سماجی سرگرمیوں میں دوسروں کے لیے شائستگی اور غور و فکر کی توقع کی جاتی ہے۔

جاپان اپنی ثقافتی یکسانیت کے لیے جانا جاتا ہے، آبادی کی اکثریت نسلی طور پر جاپانی ہے۔ اس نے زبان، رسم و رواج اور معاشرتی اصولوں جیسے معاملات کو متاثر کیا ہیں تاہم حالیہ برسوں میں جاپان نے بین الاقوامی نقل مکانی میں بھی اضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے بعض علاقوں میں زیادہ تنوع اور کثیر الثقافتی اثرات پائے جاتے ہیں۔

جاپانی لوگوں کی مختلف عادات اور اطوار ہیں جو ان کی ثقافت، روایات اور معاشرتی اصولوں سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ جاپانی لوگ وقت کی پابندی اور وقت پر کام کرنے کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ دفتر، اسکول یا سماجی مصروفیات کے لیے جانا ہو تو وقت کی پابندی کو ایک قابل احترام خوبی اور ذمہ دارانہ رویہ سمجھا جاتا ہے۔

جاپان میں صفائی ستھرائی کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، صاف ستھرا اور منظم ماحول کو برقرار رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ نفاست عوامی مقامات، مکانات اور دفاتر سمیت ہر جگہ بالکل واضح نظر آتی ہے، جاپان میں جہاں صفائی کو خاص ترجیح دی جاتی ہے وہاں ساتھ ہی ساتھ ذاتی سطح پر صفائی اور حفظان صحت کے اصولوں کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔ پشاور یونیورسٹی سے منسلک ایک پروفیسر جنہوں نے جاپان سے ریاضی میں پی ایچ ڈی کی تھی، پانچ سال ادھر رہے تھے جاپان میں صفائی ستھرائی اور نفاست کے اہتمام سے بہت متاثر تھے۔ کہہ رہے تھے کہ "میں نے جاپان میں سب سے زیادہ صفائی ستھرائی قصاب کی دکانوں پر دیکھی ہے”۔

جاپانی لوگ اکثر اپنی روزمرہ کی بات چیت میں دوسروں کے لیے ذہانت اور احترام کا مظاہرہ ضرور کرتے ہیں۔ اس میں دوسروں کی ذاتی جگہ کا خیال رکھنا، عوامی مقامات پر نرمی سے بات کرنا اور ایسے رویوں سے پرہیز کرنا شامل ہے جو دوسروں کو تکلیف میں مبتلا یا پریشان کر سکتے ہیں۔ جھکنا جاپانی ثقافت میں سلام اور احترام ظاہر کرنے کی ایک عام شکل ہے۔ اس کو دخش کہا جاتا ہے۔ دخش کی گہرائی، خوشگواری اور دورانیہ تعلقات اور احساسات کے لحاظ سے مختلف ہو سکتا ہے۔

تحفہ دینا جاپان میں ایک اہم عمل ہے، جس میں اظہار تشکر، احترام اور باہمی تعلقات استوار کرنے کی روح اور انہیں برقرار رکھنا پیش نظر ہوتا ہے۔ تحائف کا تبادلہ اکثر مختلف مواقع کے تناظر میں کیا جاتا ہے جیسا کہ کسی کے گھر جانا، کاروباری ملاقاتوں کے دوران یا کامیابی کے وقت تعریف کے طور پر۔

جاپانی معاشرہ بزرگوں کا احترام کرنے پر بہت زیادہ زور دیتا ہے۔ اس کی واضح جھلک زبان اور بات چیت کے انداز میں نظر آتی ہے جہاں بڑے لوگوں کو مخاطب کرتے یا ان کا حوالہ دیتے وقت مخصوص اعزازی اشاروں اور لفظوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جاپانی لوگ اکثر انفرادی خواہشات پر اجتماعی فلاح و بہبود اور ہم آہنگی کو ترجیح دیتے ہیں۔ فیصلے کرتے وقت یہ طرزِ عمل لازم ظاہر ہوتا ہے اس کا مقصد اتفاق رائے تک پہنچنا، ٹیم ورک کو یقینی بنانا اور باہمی تعاون کو بہر صورت ممکن بنانا ہوتا ہے۔

جاپان کے لوگ عام طور پر اچھی صحت کو فروغ دینے کے لیے روزانہ کی صحت مندانہ عادات پر اہتمام سے عمل کرتے ہیں۔ ان میں گھر کے اندر جوتے اتارنا، ذاتی حفظان صحت کے اصولوں کو مد نظر رکھنا، باقاعدگی سے ہاتھ دھونا، تازہ آب و ہوا اور موسمی اشیاء (پھل فروٹ) پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے متوازن غذا کا استعمال شامل ہیں۔

جاپان میں ری سائیکلنگ اور ماحولیاتی شعور کی مضبوط مزاج پایا جاتا ہے۔ ری سائیکلنگ کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور لوگ کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے مختلف طریقوں کے عادی ہیں۔ فضلہ کو کم سے کم کرنے اور پائیداری کو فروغ دینے کی کوششوں کی فعال طور پر حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

صنعتی ترقی میں "رول ماڈل” کے مقام پر فائز جاپان نے حالیہ عشروں میں نمایاں اور تیز رفتار ترقی کی ہے۔ یہاں کچھ اہم مراحل اور عوامل کا تذکرہ کرتے ہیں جنہوں نے جاپان کی ترقی میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ انیسویں ویں صدی کے آخر میں میجی دور کا آغاز ہوا۔ یہ دور جو 1868 میں شروع ہوا، جاپان کی تاریخ میں ایک اہم موڑ کا نشان بن گیا۔ یہ صدیوں کی جاگیردارانہ حکمرانی کے بعد ملک میں جدیدیت کا باعث بنا۔ میجی حکومت کے تحت، جاپان نے سیاست، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، فوج اور صنعت و حرفت جیسے شعبوں میں وسیع پیمانے پر اصلاحات نافذ کیں، جس سے اس کی مستقبل کی ترقی کی منزلیں طے ہوئیں۔

میجی دور کی بحالی اور جنگ عظیم دوئم کے بعد، جاپان تیزی سے صنعت کاری اور اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن ہوا۔ حکومت نے جدید صنعتوں کے قیام کی بھرپور حوصلہ افزائی کی، مغربی ٹیکنالوجی اور طور طریقوں کو اپنایا گیا اور انفراسٹرکچر کی ترقی میں بڑی سرمایہ کاری کی گئی۔

ٹیکسٹائل، کان کنی، اسٹیل، جہاز سازی اور بعد میں آٹوموبائل اور الیکٹرانکس جیسی کلیدی صنعتوں نے جاپان کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان کو اہم چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ملک جنگ سے تباہ ہو گیا تھا تاہم حکومتی پالیسیوں، صنعتی تنظیم نو اور جاپانی عوام کی محنت کے امتزاج سے، قوم نے مثالی بحالی کی۔ توجہ برآمدات پر مبنی مینوفیکچرنگ پر مرکوز رہی، جس میں مختلف صنعتیں جیسا کہ آٹوموبائل، الیکٹرانکس اور اشیائے صرف پروان چڑھیں۔

جاپان مختلف صنعتوں میں تکنیکی ترقی اور اختراعات میں سب سے آگے رہا۔ سونی، ٹویوٹا، ہونڈا، پیناسونک اور توشیبا جیسی کمپنیوں نے الیکٹرانکس، آٹوموٹیو مینوفیکچرنگ، روبوٹکس اور اشیائے ضروریہ جیسے شعبوں میں اہم کردار ادا کیا۔ تحقیق اور ترقی کے لیے جاپان کے عزم کے نتیجے میں الیکٹرانکس، بائیو ٹیکنالوجی اور نینو ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں ترقی ہوئی۔

جاپان تعلیم پر بہت زیادہ زور دیتا ہے اور اس کی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنر مند افرادی قوت اس کی ترقی کے پیچھے ایک اہم محرک رہی ہے۔ تعلیمی نظام، تعلیمی قابلیت پر مرکوز ہے اور طلباء میں محنت اور نظم و ضبط کا کلچر درینہ طور پر موجود ہے۔ جاپان میں یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں نے بھی سائنسی تحقیق اور تکنیکی ترقی میں اہم کردار ادا کیا اس کے علاؤہ جاپان میں سماجی ہم آہنگی اور استحکام نے اس کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ مضبوط سماجی ہم آہنگی، اتھارٹی کا احترام اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس نے اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد کی ہے۔

جاپان نے اپنے انفراسٹرکچر کی ترقی میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے مثلاً ٹرانسپورٹیشن نیٹ ورک، ٹیلی کمیونیکیشن اور توانائی کے نظام وغیرہ میں۔ موثر ریلوے، جدید شاہراہیں، جدید ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس اور قابل اعتماد توانائی کی فراہمی نے اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور اس عمل نے شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنایا۔

جاپان عالمی تجارت میں ایک فعال حصہ دار رہا ہے اور اس نے دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ مضبوط اقتصادی تعلقات استوار کیے ہیں۔ اس کی برآمد پر مبنی معیشت مضبوط ہے اور یہ عالمی سپلائی چینز میں ایک بڑا کھلاڑی رہا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری اور شراکت داری نے بھی جاپان کی ترقی، نئی ٹیکنالوجیز لانے اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے میں کردار ادا کیا۔

جاپان کو ترقی کے ساتھ ساتھ چیلنجوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے مثلاً بڑھتی ہوئی آبادی کا مسئلہ، مخصوص ادوار میں معاشی جمود اور ماحولیاتی مسائل وغیرہ تاہم اپنے انسانی سرمائے کو بہتر انداز میں ڈھالنے، ایجادات کرنے اور مختلف صنعتی اور تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھانے کی اس کی ہمہ جہت صلاحیت نے ملک کو دنیا کی معروف معیشتوں اور تکنیکی پاور ہاؤسز میں سے ایک کے طور پر منوایا ہے۔

جاپان سیاست، صنعت، اقتصادیات، سلامتی اور سفارت کاری سمیت مختلف شعبوں میں ایک فعال اور اہم بین الاقوامی کردار ادا کر رہا ہے۔ جاپان دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت ہے اور عالمی تجارت اور سرمایہ کاری میں ایک اہم کھلاڑی بھی۔ جاپان اپنی جدید مینوفیکچرنگ اور تکنیکی صلاحیت کے لیے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ جاپانی کارپوریشنز کی دنیا بھر میں مضبوط اور وسیع موجودگی ہے اور یہ کہ جاپان جدت اور تحقیق کا بہت بڑا مرکز ہے۔

جاپان کو مشرقی ایشیا میں ایک علاقائی رہنما سمجھا جاتا ہے اور وہ علاقائی تنظیموں اور اقدامات میں سرگرمی سے حصہ لیتا ہے۔ یہ پڑوسی ممالک کے ساتھ مضبوط اقتصادی تعلقات کو برقرار رکھتا ہے اور علاقائی تعاون کی مختلف کوششوں میں بھی شامل رہتا ہے جیسا کہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) اور مشرقی ایشیائی سربراہی اجلاس وغیرہ۔ جاپان علاقائی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ہر دم پرعزم ہے۔

جاپان کے مختلف قریبی اور مربوط سیکورٹی اتحاد قائم ہیں خاص طور پر امریکہ کے ساتھ، امریکہ اور جاپان کے باہمی تعاون اور سلامتی کے معاہدوں کے ذریعے جاپان بین الاقوامی امن کی کوششوں میں خاطر خواہ حصہ ڈالتا ہے اور ضرورت مند ممالک کو متواتر ترقیاتی امداد فراہم کرتا ہے۔ جاپان عالمی سطح پر امن، استحکام اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے سفارتی کوششوں میں سرگرمی سے مصروف عمل ہے۔ یہ اقوام متحدہ، G7، G20، اور ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز کے ساتھ شریک ہے۔

جاپان موسمیاتی تبدیلی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ترقیاتی امداد جیسے عالمی مسائل میں بھی فعال طور پر حصہ ڈالتا ہے۔ جاپان کی ثقافتی برآمدات مثلاً anime، manga، J-pop موسیقی، مختلف پکوان اور روایتی فنون نے بین الاقوامی مقبولیت حاصل کی ہے اور یہ کہ جاپان دنیا بھر میں نمایاں نرم طاقت کا حامل ملک سمجھا جاتا ہے۔ "Cool Japan” کا تصور عالمی سطح پر جاپانی ثقافت، مصنوعات اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

جاپان سرکاری ترقیاتی امداد کے دنیا کے سب سے بڑے عطیہ دہندگان میں سے ایک ہے۔ یہ ترقی پذیر ممالک کو مالی امداد، تکنیکی مدد اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں تعاون فراہم کر رہا ہے۔ جاپان ODA یعنی آفیشل ڈویلپمنٹ اسسٹنس کے ذریعے غربت میں کمی، صحت، تعلیم، اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی جیسے شعبوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

جاپان بین الاقوامی تجارتی معاہدوں اور اقتصادی شراکت داریوں میں سرگرم عمل ہے۔ اس نے متعدد ممالک اور خطوں کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں مثلاً ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ کے لیے جامع اور ترقی پسند معاہدہ (CPTPP)۔ جاپان ایشیا بحرالکاہل کے علاقے اور اس سے باہر اقتصادی انضمام کو بھی فروغ دیتا ہے۔

جاپان ماحولیاتی اقدامات اور موسمیاتی تبدیلیوں کو کم کرنے میں بھی سرگرم عمل رہا ہے۔ اس نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے اور صاف توانائی کی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کے قابل قدر اہداف مقرر کیے ہیں۔ جاپان نے بین الاقوامی موسمیاتی تبدیلی کانفرنسوں میں شرکت کی ہے اور ماحولیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے عالمی کوششوں میں اپنا حصہ شامل کیا ہے۔

جاپان کا بین الاقوامی کردار اس کے امن پسند آئین اور مزاج سے متاثر ہے جو ملک کی فوجی سرگرمیوں کو محدود کرتا ہے اور تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی تعاون کے عزم پر زور دیتا ہے تاہم حالیہ برسوں میں جاپان کی دفاعی پالیسیوں میں ممکنہ تبدیلیوں اور اجتماعی سلامتی کی کوششوں میں اس کے کردار کے بارے میں بات چیت اور بحثیں ہوتی رہی ہیں۔

جاپان اور پاکستان کے درمیان انیس سو باون سے باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا دائرہ اقتصادی تعاون، ترقیاتی امداد، ثقافتی تبادلے اور سفارتی مصروفیات کا احاطہ کرتا ہے۔ مجھے 2006 میں ایک دو بار جاپانی سفارت خانے میں جانے کا اتفاق ہوا تھا اور میں وہاں کے نظم و ضبط، خاموشی، تعاون کے جذبے اور سہولیات کی فراہمی سے ٹھیک ٹھاک متاثر ہوا تھا۔

مجھے پاکستان میں کوئی ایسا گھر معلوم نہیں جس میں جاپانی پراڈکٹس استعمال نہ ہو اور نہ کوئی ایسی سڑک پتہ ہے جس پر جاپانی گاڑی صبح و شام نہ دوڑ رہی ہو۔ جاپان پاکستان کے لیے ایک اہم اقتصادی شراکت دار رہا ہے۔ جاپانی کمپنیوں نے پاکستان میں آٹوموبائل، مینوفیکچرنگ، توانائی اور انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ دونوں ممالک تجارت میں مصروف ہیں، جاپان پاکستان کے بڑے برآمدی مقامات میں سے ایک ہے۔ جاپان پاکستان جوائنٹ اکنامک کمیٹی جیسے فورمز کے ذریعے اقتصادی تعاون کو آسان بنایا گیا ہے۔

جاپان پاکستان کے لیے ترقیاتی امداد کا ایک بڑا ڈونر رہا ہے۔ اپنے آفیشل ڈویلپمنٹ اسسٹنس (ODA) پروگرام کے ذریعے جاپان نے پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، انسانی وسائل کی ترقی، صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم کے لیے مالی اور تکنیکی مدد فراہم کی ہے۔ اس امداد سے ملک میں مختلف شعبوں کی ترقی اور بہتری میں مدد ملی ہے۔ جاپان نے پاکستان میں انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے منصوبوں کی مدد کی ہے خاص طور پر ٹرانسپورٹیشن اور توانائی کے شعبوں میں۔ اس میں شاہراہوں، پلوں، بندرگاہوں اور پاور پلانٹس کی تعمیر شامل ہے۔ قابل ذکر منصوبوں میں کراچی سرکلر ریلوے، جامشورو پاور پلانٹ اور کراچی ناردرن بائی پاس شامل ہیں۔

ثقافتی تبادلوں نے جاپان اور پاکستان کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ثقافتی تہوار، موسیقی اور رقص کی پرفارمنسز اور تبادلے کے پروگرام ہوئے ہیں جنہوں نے ایک دوسرے کے ثقافتی ورثے کی تعریف و توصیف کی ہے۔ جاپان نے پاکستان میں تعلیمی وظائف، تربیتی پروگراموں اور فنی مہارتوں کے ذریعے انسانی وسائل کی ترقی میں بھی مدد کی ہے۔ بہت سے پاکستانی طلباء نے جاپان میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسکالرشپس حاصل کیے ہیں، خاص طور پر سائنس، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں۔ دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں نے تحقیقی منصوبوں اور علمی تبادلوں میں بھی تعاون کیا ہے۔

جاپان نے قدرتی آفات اور ہنگامی حالات میں پاکستان کو انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کی ہے۔ اس میں زلزلے اور سیلاب کے بعد امدادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ طبی امداد اور آلات کی فراہمی بھی شامل ہے۔ اعلیٰ سطح کے دوروں اور سفارتی مصروفیات نے جاپان اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کیا ہے۔ دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان ملاقاتوں میں اقتصادی تعاون، سیکورٹی تعاون اور علاقائی مسائل پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ دونوں ممالک نے اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی فورمز پر بھی اپنے موقف میں ہم آہنگی اور اتفاق رائے کو فروغ دیا ہے۔

دو ہزار چھ سات کی بات ہے میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔ ایک شام اپنے کمرے میں بیٹھا کسی کتاب کی ورق گردانی کر رہا تھا کہ اسی اثناء میں جمعیت طلبہ عربیہ کے ایک ذمہ دار عارف متین کا فون آیا سلام دعا کے بعد کہا عنایت بھائی باسٹل لان میں آجائیں بات کرنی ہے آپ سے۔ میں فوری چلا آیا کیا دیکھتا ہوں کہ کئی ذمہ داران کھڑے باہم محو گفتگو ہیں اور ساتھ میں ایک جاپانی نوجوان بھی موجود ہے قریب گیا خیر خیریت دریافت کی اور چند رسمی جملوں کا تبادلہ ہوا۔

اس کے بعد عارف متین بھائی نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا عنایت یہ ایک جاپانی نومسلم ہے کچھ عرصہ قبل مسلمان ہوا، سعید نام ہے اور اب یہاں پڑھنے کے لیے وہاں سے بھیجا گیا ہے۔ میں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سعید کو مبارکباد اور استقامت کی دعا دی۔ عارف متین نے مزید کہا عنایت جان نظم نے فیصلہ کیا ہے کہ سعید جتنا عرصہ یونیورسٹی میں رہیں گے اس کی میزبانی آپ کے ذمہ ہوگی آپ نے ان کے آرام اور سہولت کا بھرپور خیال رکھنا ہے۔ میں نے کہا جی محترم بالکل ٹھیک ہے جیسا آپ کا حکم اور یوں سعید میری میزبانی میں داخل ہوا۔

اگلے اٹھارہ ماہ تک وہ پھر یونیورسٹی، جمعیت طلبہ عربیہ اور عنایت جان کا مشترکہ مہمان کے طور پر رہا۔ ہم دونوں بہت جلدی مانوس ہوئے اور یوں رفاقت اور تعلیم کا سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ سعید میرے ساتھ جاپان کے حوالے سے وقت بہ وقت دلچسپ باتیں شیئر کرتا رہتا۔ ایک بار مجھے کہا عنایت جان "جاپان میں سیکنڈ ہینڈ گاڑیوں کا کاروبار اسی نوے فیصد تک پاکستانیوں کے ہاتھ میں ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستانی کاروباری معاملات میں بہت زیادہ جھوٹ بولتے ہیں۔ جاپان کے لوگ کاروبار میں جھوٹ کے تصور سے ناآشنا تھے اس علت سے وہ پاکستانیوں کے ذریعے آشنا ہوئے۔

جھوٹ اور غلط بیانیوں کے سبب جاپان میں پاکستانی کمیونٹی کافی بدنام ہے”۔ یہ باتیں سن کر مجھے سخت افسوس ہوا کہ ایسے طرزِ عمل سے مسلمانوں اور پاکستان دونوں کی بدنامی ہو رہی ہے۔ ہم اگر چاہتے ہیں کہ عالمی سطح پر تجارتی معاملات میں ملک و ملت کا امیج بہتر ہو اور دنیا ہم سے بہتر انداز میں متاثر ہو، ہمارا اخلاقی اور تجارتی پوزیشن قابلِ اعتماد ہو تو ہمیں جھوٹ اور غلط بیانیوں سے دامن چھڑا کر ایمان داری اور شفافیت کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں رواج دینا ہوگا تاکہ ہمارا کردار اور خدمات دونوں دنیا کے لیے باعتبار ٹھہریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تمام انسانوں کو ایک دوسرے کے سچے خیر خواہ اور مددگار و شراکت دار بننے کی توفیق اور صلاحیت عطا فرمائے اور یوں پوری دنیا امن ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بن جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے