میں لکھنا چاہتا ہوں پر کیا لکھوں۔ جن مسائل کا ہمیں سامنا ہے وہ مسائل زمینی ہیں اور زمینی حقائق کے مطابق ان کے ذمہ دار لوگ/گروہ کا تعلق اسی زمین سے ہے۔ اب جب مسائل کے حل کے واسطے ان کے اسباب کا ذکر کیا جاتا ہے تو کوئی نہ کوئی گروہ تو تنقید کی زد میں آتا ہے جبکہ ہمارے ہاں ایک ٹرینڈ سیٹ ہوا ہے کہ اپنے گروہ کے حوالے سے مدلل تو کیا، مبنی بر وحی بات کو بھی گوارا نہیں کیا جاتا۔ ہماری کم فہمی کی انتہا تو دیکھو کہ جن مسائل کو زیرِ غور لاتے وقت کسی گروہ پر تنقید آتی ہے، وہ دراصل ہم سب کے فیور میں ہوتی ہے مگر ہم اتنے نادان واقع ہوئے ہیں کہ ہم اپنے فائدے کو بھی سمجھنے سے قاصر ہو چکے ہیں۔ ٹھیک ہے بعض ناقدین کی تنقید تعصب، لاعلمی، تنگ نظری، ضد و عناد، بیوقوفی اور جہالت وغیرہ کی بنا پر ہوگی مگر ہر کسی کی تنقید کو اس تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ بعض ناقد ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو ہمارے ہی گروہ پر تنقید کرتے ہوں مگر ان کی تنقید مدلل اور منطقی ہوگی، ہمارے لیے، ہمارے بچوں کے لیے اور اجتماع کے لیے مفید ہوگی۔
اب اگر ہم میں سے کوئی اٹھے اور اپنے بچوں، ذات اور قوم و ملت کے لیے مفید بات کرنے والے کو گھسیٹنا شروع کرے تو اسے بے وقوف نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے گا؟
اگر غور کیا جائے تو مثبت تنقید انسانی معاشرے اور تہذیب کی جان ہوتی ہے۔ جس معاشرے میں مثبت تنقید کی جارحانہ مخالفت کی جاتی ہو وہ معاشرہ بطورِ انسانی معاشرہ زندہ نہیں رہتا کیونکہ مثبت تنقید جو انسانی معاشرے کی جان ہوتی ہے، وہ اس میں باقی نہیں رہتی۔ اور جس چیز میں جان نہیں رہتی اسے مردہ کہا جاتا ہے۔ اس لیے ایسا معاشرہ جس کی جان نکل جاتی ہے وہ بھی بے جان ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر احساس نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی کیونکہ احساس تو زندگی کی علامت ہے اور معاشرہ تو اس وقت زندگی سے محروم ہوچکا ہوتا ہے جس وقت اس نے مثبت تنقید کو اپنے رویے سے حرام ٹھہرایا ہو۔
اور بے حس معاشرے کی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس میں بڑے بڑے واقعات رونما ہوتے ہیں مگر کوئی ان واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔
معاشرے میں جو بڑے بڑے واقعات رونما ہوتے ہیں ان کے حوالے سے صرف یہ نہیں کہ صاحبِ اختیار لوگ غیر ذمہ دارانہ رویے کا اظہار کرتے ہیں بلکہ عام عوام پر ان کے بس کے مطابق جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ بھی اس ضمن میں ٹھیک ٹھاک غیر ذمہ داری کا رویہ اپناتے ہیں۔
یہ جو آئے روز ہمارے ہاں دل سوز قسم کے واقعات رونما ہوتے ہیں اور حکمران طبقہ محض ان کے لیے مذمت کے الفاظ استعمال کرتا ہے، وہ بھی اس لیے کہ کوئی یہ نہ کہے کہ حکومت نے مذمت نہیں کی۔ یعنی دل سوز قسم کے واقعات کی مذمت کرنا بھی ذمہ داری کے احساس کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے آپ کو بری الذمہ ٹھہرانے کے لیے بطورِ ایک فارمیلیٹی کیا جاتا ہے۔ اسی طرح عوام کو بھی ان دل سوز واقعات کے رونما ہونے کی کوئی خاص پرواہ نہیں ہوتی۔ زیادہ سے زیادہ عوامی ردِعمل اس سینس میں سامنے آتا ہے کہ اگر ان واقعات کی ذمہ داری کسی مخالف گروہ پر براہِ راست پڑتی ہو تو انہیں ان پر کیچڑ اچھالنے کا موقع ہاتھ آتا ہے اور اس دوران وہ خوب اپنے دلوں کا بوجھ نکالتے ہیں۔ اور بالفرض اگر کسی دل سوز واقعے کی ذمہ داری کسی کے اپنے گروہ پر براہِ راست پڑ رہی ہو تو دیگر لوگوں کی تنقید آنے سے پہلے وہ اپنے گروہ کے لیے جواز تیار کر چکے ہوتے ہیں۔
اس قسم کے حکمران طبقے اور بے حس عوام کے معاشرے کو اوپر بے جان انسانی معاشرے سے تعبیر کیا گیا تھا۔ اور یہ معاشرہ بے جان بنتا ہی اس وجہ سے ہے کہ اس میں مثبت تنقید کو گوارا نہیں کیا جاتا۔ اور جس معاشرے میں مثبت تنقید پر ناقدین کو گالیاں سننی پڑیں، اس معاشرے میں مثبت ناقدین کی تعداد میں بدیہی طور پر کمی آتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب کسی سے کہا جائے کہ اپنی ذات یا گروہ کے بارے میں تنقید کو سنا کرے تو اس کا جواب یہی ہوتا ہے کہ مثبت ناقد اس دور میں ہے کہاں کہ اس کی تنقید کو قابلِ اعتماد اور قابلِ غور قرار دیا جائے۔ بھائی! قابلِ اعتماد ناقدین کو ہم نے چھوڑا ہی کہاں ہے؟ ان کی زبانوں کو تو ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے بند کیا ہوا ہے۔ ان کا خاتمہ تو ہم خود کر چکے ہیں۔
اب اگر کسی کو یہ شکوہ ہو کہ ہمارے مسائل دن بدن مزید بگڑتے چلے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے کسی کو احساس تک نہیں تو اس قسم کے شکوے کرنے کا حق نہیں، کیونکہ احساس تو شعور سے جنم لیتا ہے اور شعور نقد سے آتا ہے۔ جب آپ نے خود ہر قسم کے نقد پر برائی کا ٹھپہ لگایا تو اس سے خود بخود شعور کے پیدا ہونے کا امکان بھی ختم ہوا اور بغیر شعور کے عوام سے کسی مسئلہ کے بارے میں احساس کی توقع کرنا مرد بیل سے بچھڑا پیدا ہونے کے مترادف ہے، جو کہ صریح جہالت ہے۔
یہ جہالت کی وہ قسم ہے جس میں جہل میں مبتلا شخص جہل کے علاج کے لیے جہل ہی کی کوئی دوسری قسم استعمال کرنا شروع کرے۔
ایسا جاندار شعور جو ہمارے مسائل کے حل کے لیے مطلوبہ احساس کا ذریعہ بنے، اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہر قسم کی تنقید کو رد نہ کریں بلکہ مثبت تنقید کو سنیں بھی اور اس سے اتفاق بھی کریں۔
جب ہم تنقید کو سننے کے عادی ہوں گے تو ہمیں یہ معلوم کرنے میں کوئی دشواری محسوس نہیں ہوگی کہ کون اصلاح کی خاطر اصولی ناقد ہے اور کس کی تنقید تعصب، ضد، مخالفت اور جہالت پر مبنی ہے۔