قوم، تعلیم اور مشنری جذبہ

1835ء میں لارڈ مکالے نے برصغیر کے لیے ایسا تعلیمی نظام ترتیب دیا جس کا مقصد محض کلرک، نوکر اور دفتری اہلکار پیدا کرنا تھا۔ انگریزی زبان کو ذریعۂ تعلیم بنایا گیا جبکہ مقامی زبانوں اور دینی علوم کو کمتر درجے پر رکھا گیا۔ بعد میں برطانوی دور میں کئی کمیشن (ہنٹر، کیوری، ساڈلر وغیرہ) قائم ہوئے۔ مگر ان کا مقصد بھی صرف نوآبادیاتی حکومت کی ضروریات پوری کرنا رہا۔

1947ء میں پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔ تو ہمارے تعلیمی نظام کی نظریاتی بنیاد اسلامی تعلیمات اور جدید سائنسی ترقی کو قرار دیا گیا۔ مگر افسوس کہ عملی طور پر ہم نوآبادیاتی ورثے کے اسیر ہی رہے۔ مختلف ادوار میں اصلاحات ہوئیں، ایوب خان کے دور میں سائنس و فنی تعلیم پر زور دیا گیا۔ بھٹو کے دور میں ادارے قومیائے گئے مگر معیار گر گیا۔ ضیاء الحق نے اسلامائزیشن کی پالیسی اپنائی اور بعد کے ادوار میں نجی شعبے کا پھیلاؤ ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج بھی تین دھارے متوازی طور پر چل رہے ہیں۔

سرکاری ادارے (ٹاٹ سکول، ریزیڈنشل، کیڈٹ وغیرہ)
نجی تعلیمی ادارے (پرائیویٹ سکول، کیمرج، اے پی ایس وغیرہ)
مدارس (مختلف بورڈز کے ساتھ)
یکساں نصاب کی بات ضرور ہوئی مگر عملاً نہیں جب مختلف نظاموں کے تحت بچے تیار ہوتے ہیں، تو قومی یکجہتی کے بجائے فکری انتشار جنم لیتا ہے۔ جو ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے۔ ہالانکہ تعلیم اُس وقت سے شروع ہوتی ہے، جب بچہ ذہنی و جذباتی نشوونما پاتا ہے؛ نہ کہ صرف اسکول جانے سے۔ تحقیق کے مطابق پانچ سال سے پہلے بچوں کو اسکول بھیجنا اُن کی فطری نشوونما اور تخلیقی صلاحیت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس عمر میں اُنہیں محبت، تحفظ اور پرورش کے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔

جاپان کی مثال واضح ہے، جہاں سات سال تک بچوں پر تعلیمی دباؤ نہیں ڈالا جاتا بلکہ کردار سازی، اخلاقیات، سماجی رویے، صفائی، خود انحصاری اور ثقافتی اقدار سکھائی جاتی ہیں۔ وہاں اسکول تخلیقی سوچ، ٹیم ورک، ایمانداری اور نظم و ضبط کو فروغ دیتے ہیں، جو ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہے۔

لہٰذا والدین، اساتذہ اور پالیسی سازوں کو سمجھنا ہوگا کہ تعلیم نصاب تک محدود نہیں، بلکہ اچھے انسان اور بامقصد شہری بنانے کا عمل ہے۔ اگر ہم جاپان کے تجربات سے سیکھ کر اپنے نظام کو قومی نظریات اور ضروریات کے مطابق ڈھالیں تو ایک متحد اور خودمختار قوم تشکیل دے سکتے ہیں۔

ایک قوم، ایک نصاب۔

آزاد قوم کا پہلا فریضہ یہ ہوتا ہے، کہ وہ اپنی تعلیم کو اپنی قومی ضروریات اور مستقبل کے اہداف کے مطابق ترتیب دے، لیکن ہم نے ایسا نہ کیا۔ اسی لیے آج بھی ہمارا تعلیمی ڈھانچہ ایک غلامانہ سوچ کی پیداوار ہے۔

اور ہماری نئی نسل علم کو محض روزگار کا ذریعہ سمجھتی ہے، نہ کہ قوم سازی اور فکری آزادی کا ہتھیار۔

یہاں اساتذہ کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ استاد اگر صرف نوکری ، تنخواہ کو مقصد سمجھے تو وہ محض ایک ملازم ہے۔ لیکن اگر وہ مشنری جذبے سے نئی نسل کی کردار سازی کرے تو وہ قوم کا حقیقی معمار اور محسن ہے۔

ہمارے تعلیمی اداروں کو ملازمت اور گریڈز کے نظام سے ہٹ کر قومی مشن کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، اور مدارس کی رجسٹریشن صرف تربیت یافتہ اور تعلیمی پس منظر رکھنے والے اساتذہ کے ساتھ ہونی چاہیے۔ استاد کی کلاس روم صرف نصاب پڑھانے کی جگہ نہیں، بلکہ ایک تربیتی مرکز ہونی چاہیے۔ جہاں بچوں کے ذہنوں میں اسلام تعلیمات، قومی وحدت اور سائنسی ترقی کا بیج بویا جائے۔

اسی تناظر میں نظریاتی اداروں (Ideological State Apparatus) کی اہمیت بھی سامنے آتی ہے۔ یہ ادارے محض علم بانٹنے کے مراکز نہیں ہوتے بلکہ ایک قوم کے فکری و نظریاتی ڈھانچے کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں وہ مقامات ہیں؛ جہاں نئی نسل کو بتایا جاتا ہے، کہ وہ کون ہیں، ان کی پہچان کیا ہے۔ اور ان کا مستقبل کس سمت جانا چاہیے۔ اگر یہ ادارے اپنی اصل نظریاتی بنیادوں پر قائم ہوں تو قوم مضبوط اور متحد رہتی ہے۔ اگر یہ ادارے کمزور یا نوآبادیاتی ورثے کے تابع ہوں، تو قوم فکری انتشار اور غلامانہ ذہنیت میں جکڑ جاتی ہے۔

آج ہمیں اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا، کہ قومیں تعلیم سے بنتی، اور بگڑتی ہیں۔ اگر ہم نے اپنی تعلیمی سمت کو درست نہ کیا، اور نظریاتی اداروں کو قومی مشن کے مطابق نہ ڈھالا، تو آنے والی نسلیں مزید تقسیم اور غلامانہ سوچ میں مبتلا رہیں گی۔ ہمیں تعلیم کو محض نوکری کا ذریعہ نہیں، بلکہ قوم سازی اور نظریاتی یکجہتی کا ہتھیار سمجھنا ہوگا۔ یہی وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے