حالیہ سیلاب نے بونیر کی خواتین کی زندگیوں کے ہر پہلو کو گہرائی سے متاثر کیا ہے۔ یہ محض ایک قدرتی آفت نہیں، بلکہ ایک ایسا بحران ہے جس نے معاشرے کے سب سے زیادہ کمزور طبقے کی روزمرہ زندگی، صحت، عزت اور امیدوں کو بری طرح مجروح کیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک بشونئی سرسبز پہاڑوں میں گھرا، خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر کا ایک دلکش گاؤں تھا، جس کے بیچوں بیچ ایک دیدہ زیب ندی رواں دواں تھی۔ اس ندی کے کنارے آباد مکان فطرت کے حسن کا ایک ناقابل فراموش منظر پیش کرتے تھے۔ 15 اگست کی صبح، بشونئی کے لوگ روزمرہ کی طرح اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے۔ مرد کام پر نکل گئے، بچے خوشی خوشی سکول روانہ ہوئے، اور خواتین پرسکون ماحول میں گھریلو معاملات میں جت گئیں۔ وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھے کہ آنے والے لمحات میں ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔
اس صبح ہونے والی شدید بارش نے نہ صرف اچانک ایک خونخوار سیلاب کی شکل اختیار کر لی بلکہ اپنے ساتھ بڑے بڑے پتھر لے آیا اور راستے میں آنے والی ہر عمارت کو ملیا میٹ کرتا ہوا پورے گاؤں کو تباہ کر گیا۔ ہر طرف قیامت کا منظر تھا۔ خواتین، بچے، بزرگ اور جوان سب اس سیلاب کی نذر ہو گئے۔ جو بچ گئے، وہ آج انتہائی مشکلات کا شکار ہیں، اور ان میں سب سے زیادہ متاثر خواتین ہیں۔ آئیے، ان متاثرہ خواتین کی حالتِ زار کا جائزہ لیتے ہیں۔
سیلاب زدہ علاقوں میں خواتین کی صحت پر سب سے گہرا اور فوری اثر مرتب ہوا ہے۔ یہاں محض پانی کا کھڑا ہونا ہی مسئلہ نہیں، بلکہ وہ تمام بیماریاں ہیں جو گندے پانی کے طویل رابطے سے جنم لے رہی ہیں۔ خواتین اور بچیاں، جو گھریلو کاموں کے سلسلے میں اس پانی سے سب سے زیادہ متعارف ہیں، ان میں جلد کے امراض، امراض چشم، خارش، الرجیز، اور پھوڑے پھنسیوں کا بکثرت ظہور ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت اور بھی سنگین ہو جاتی ہے جب انہیں صاف پانی میسر نہ ہو، جس کے نتیجے میں ہیضہ، دست، ٹائیفائیڈ اور ہیپاٹائٹس جیسے موذی امراض وبائی صورت اختیار کر رہے ہیں۔
حاملہ خواتین کی حالت انتہائی دگرگوں ہے۔ صحت کی بنیادی سہولیات، جو پہلے ہی محدود تھیں، یا تو سیلاب کی نذر ہو چکی ہیں یا پھر ان تک حصول ناممکن ہے۔ ایمرجنسی صورتحال میں لیبر پین، قبل از وقت پیدائش، یا دیگر پیچیدگیوں کا سامنا کرنے والی خواتین کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا۔ دور دراز کے علاقوں میں تو طبی امداد کا پہنچنا تقریباً ناممکن ہے، جس کے نتیجے میں شرح اموات میں خطرناک اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اسی طرح ماہواری کے بحران کو اس سارے المیے کا سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا مسئلہ کہا جا سکتا ہے۔ سیلاب زدہ خواتین اور لڑکیوں کے پاس نہ ضروری اشیاء خریدنے کے مالی وسائل ہیں اور نہ ہی ان تک رسائی ممکن ہے۔ کھلے عام عارضی کیمپوں میں رہنے کی مجبوری نے ان کی نجی زندگی ختم کر دی ہے۔ بیت الخلاء یا غسل خانے جیسی بنیادی سہولت کے فقدان نے انہیں اپنی ذات کی صفائی تک سے محروم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں مہلک نسوانی انفیکشنز پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ یہ ایک ایسا خاموش قاتل ہے جو خواتین کی صحت کو مستقل طور پر تباہ کر سکتا ہے۔
تباہ کن سیلاب کی وجہ سے لاکھوں افراد اپنے گھر بار چھوڑ کر عارضی پناہ گاہوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔ ان کیمپوں میں خواتین کے لیے سب سے بڑا چیلنج نجی زندگی کا مکمل فقدان ہے۔ ایک کپڑے کے ٹاٹ یا خیمے کے نیچے پوری فیملی کے ساتھ رہنے کی مجبوری نے ان کی شرافت اور حیا کو مجروح کیا ہے۔ کھلے عارضی غسل خانوں میں نہانے، باتھ روم جانے یا کپڑے بدلنے جیسے معمولی کام بھی اب انتہائی تکلیف دہ اور خطرناک عمل بن گئے ہیں۔
ان کیمپوں میں روشنی کی کمی، حفاظتی انتظامات کے فقدان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی محدود موجودگی نے انہیں بالکل غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ اسی طرح معاشی مجبوریوں کے باعث مردوں کا گھر سے دور ہو کر روزگار کی تلاش میں نکل جانا ایک اور مصیبت ثابت ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں بچوں، بیماروں اور بزرگوں کی دیکھ بھال کی تمام تر ذمہ داریاں خواتین کے کندھوں پر آ گئی ہیں۔ یہ ذمہ داریاں اس وقت اور بھی کٹھن ہو گئی ہیں جب خود ان کے پاس کھانے پینے، ادویات اور دیگر ضروریات کے وسائل نہ ہوں۔ وہ اپنے بچوں کی بھوک اور بیماریوں کو دیکھ کر بے بس ہو چکی ہیں۔
سیلاب نے خواتین کے معاشی ستونوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دیہی علاقوں میں رہنے والی اکثر خواتین کھیتی باڑی، مویشی پالنے یا گھریلو دستکاری کے ذریعے خاندان کی آمدن میں اہم کردار ادا کرتی تھیں۔ سیلاب نے ان کے کھیت، مویشی اور کاروبار کو تباہ کر دیا ہے، جس سے ان کی معاشی خودمختاری ختم ہو گئی ہے۔
اس بحران نے انہیں قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔ گھر چلانے کے لیے خواتین ساہوکاروں سے قرض لے رہی ہیں یا پھر اپنا وہ زیور بیچنے پر مجبور ہیں جو ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی اور سماجی تحفظ کا واحد ذریعہ تھا۔ یہ اقدام انہیں مستقبل میں غربت کے ایک گہرے دلدل میں دھکیل سکتا ہے، جس سے نکلنا انتہائی مشکل ہو گا۔
سیلاب نے خواتین کے ذہنی سکون کو بری طرح تباہ کیا ہے۔ خاوند، باپ، بھائی اور بچے کے علاوہ اپنا گھر، اپنی زمین، اپنے مویشی اور اپنا سارا سامان کھو دینے کا صدمہ ان کے دل و دماغ پر گہرا سایہ بن گیا ہے۔ وہ ماضی کے المناک مناظر کو بار بار یاد کر کے ذہنی طور پر مفلوج ہو چکی ہیں۔
مستقبل کے غیر یقینی حالات اور بچوں کے روشن مستقبل کے خوابوں کے چکنا چور ہو جانے کا غم انہیں کھائے جا رہا ہے۔ بچوں کی صحت، تعلیم اور خوراک کے حوالے سے پیدا ہونے والی بے چینی اور تشویش نے ان کی نیند اور آرام غارت کر دیا ہے۔ وہ مسلسل ایک ایسے خوف میں مبتلا ہیں جس کا کوئی نام نہیں، کوئی حل نہیں۔ بغیر کسی نفسیاتی مدد کے، یہ صدمہ (ٹراما) طویل المدت ذہنی بیماریوں کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
سیلاب نے لڑکیوں کی تعلیم کے راستے تقریباً بند کر دیے ہیں۔ اسکول یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں یا انہیں عارضی پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ لڑکیوں کے لیے سکول جانا نہ صرف مشکل ہے بلکہ عدم تحفظ کے باعث انتہائی خطرناک بھی ہو گیا ہے۔
غربت کے باعث خاندان لڑکیوں کی بجائے لڑکوں کی تعلیم کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس تعلیمی تعطل کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ لڑکیوں کے مستقبل کے خواب چکنا چور ہو رہے ہیں۔ تعلیم سے محرومی انہیں معاشی طور پر مردوں کا محتاج بنا دے گی، جس سے نہ صرف ان کی شخصی آزادی سلب ہوگی بلکہ معاشرے میں ان کا کردار بھی محدود ہو کر رہ جائے گا۔ یہ پوری قوم کے لیے ایک بہت بڑا علمی اور معاشی نقصان ہے۔
اگرچہ امدادی کارکن بے حد محنت اور خلوص سے کام کر رہے ہیں، لیکن خواتین تک مؤثر انداز میں امداد پہنچانے میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں۔ سب سے بڑی رکاوٹ ثقافتی و سماجی ہے۔ پختون ثقافت میں خواتین کا غیر مردوں سے براہ راست بات چیت کرنا یا ان سے سامان لینا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اس روایت کی وجہ سے بہت سی خواتین ضرورت کے باوجود امداد لینے سے انکار کر دیتی ہیں یا پھر ان تک امداد پہنچ ہی نہیں پاتی۔
دوسرا اہم مسئلہ امدادی سامان میں خواتین کی مخصوص ضروریات کو یکسر نظر انداز کرنا ہے۔ زیادہ تر امداد میں خوراک، پانی اور بنیادی ادویات پر تو توجہ دی جاتی ہے، لیکن سینیٹری پیڈز، صاف انڈرگیریارمنٹس، صابن، بچوں کے ڈائپرز اور دودھ جیسی اشیا اکثر فراموش کر دی جاتی ہیں۔ یہ اشیا خواتین کی صحت اور عزت نفس کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
حل کی طرف: ایک جامع حکمت عملی
اس بحران کا تقاضا ہے کہ امدادی کارروائیوں میں خواتین کے مسائل کو خصوصی ترجیح دی جائے۔ صرف خوراک اور خیمے فراہم کر دینا کافی نہیں ہے۔ ایک ہمدردانہ، منظم اور صنفی بنیادوں پر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
سب سے پہلے، خواتین کے لیے مخصوص امدادی پیکیجز تیار کیے جائیں، جن میں سینیٹری پیڈز، صابن، انڈرویئر، ٹوتھ برش، لوشن، تیل وغیرہ وغیرہ اور بچوں کے دودھ کا فارمولا لازمی شامل ہو۔ یہ پیکیجز خواتین ہیڈڈ ایجنسیز کے ذریعے تقسیم کیے جائیں تاکہ ثقافتی حساسیت کا خیال رکھا جا سکے۔ الخدمت فاؤنڈیشن کی رضاکار خواتین کا کردار اس سلسلے میں بہت منظم اور موثر ہے تاہم اس کو توسیع دینے کی ضرورت ہے۔
دوسری اہم سفارش محفوظ اور نجی پناہ گاہیں قائم کرنا ہے۔ خواتین اور بچوں کے لیے علیحدہ خیموں، محفوظ باتھ رومز اور غسل خانوں کا انتظام انتہائی ضروری ہے۔ کیمپس میں خواتین کی حفاظت کے لیے سیکورٹی گارڈز کی تعیناتی اور مناسب روشنی کا بندوبست بھی لازمی ہے۔
تیسری بات، صحت کی سہولیات تک خواتین کی رسائی بہتر بنانے کے لیے خواتین ہیلتھ ورکرز کی فوری طور پر تعیناتی ضروری ہے۔ یہ ورکرز ہی حاملہ خواتین کا معائنہ کر سکتی ہیں، بچوں کو ویکسین لگا سکتی ہیں اور خواتین کو درپیش صحت کے مسائل کو سمجھ سکتی ہیں۔
چوتھا نکتہ نفسیاتی معاونت کا ہے۔ خواتین ماہرین نفسیات اور کاؤنسلرز کی ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو متاثرہ خواتین اور بچوں سے بات کر کے ان کے دلوں کے بوجھ ہلکا کر سکیں اور انہیں ماضی کے صدمے سے باہر نکلنے میں مدد فراہم کریں۔
اسی طرح معاشی بحالی کے پروگراموں میں خواتین کو مرکزی حیثیت دی جائیں۔ انہیں مائیکرو فنانس کے ذریعے چھوٹے کاروبار دوبارہ شروع کرنے کے مواقع دیے جائیں۔ سلائی مشینیں، مویشی، بیج اور زرعی آلات فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکیں اور اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ متاثرہ عوام کو اس مصیبت سے نکلنے کی طاقت عطا فرمائے، ان کے صبر میں اضافہ فرمائے اور ہم سب کو ان کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔