کابل: مشرقی افغانستان میں زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 800 تک پہنچ گئی ہے۔
ترجمان افغان حکومت کے مطابق افغانستان میں گزشتہ رات آنے والے زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر اب 800 تک پہنچ گئی ہے جب کہ 2800 سے زائد افراد زخمی ہیں۔
زلزلےکے باعث درجنوں مکانات کو شدید نقصان پہنچا، صوبے ننگرہار اور کنڑ میں درجنوں مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلےکا مرکز صوبے ننگرہار کے شہر جلال آباد کے قریب تھا اور اس کی گہرائی 8 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق رات 11 بجکر 47 منٹ پر آیا اور تقریبا 20 منٹ بعد ہی اسی صوبے میں 4.5 شدت کا ایک اور جھٹکا محسوس کیا گیا جس کی گہرائی 10 کلو میٹر تھی۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے افغان حکام کاحوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ زلزلےکے باعث مختلف حادثات میں 20 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں جبکہ طالبان حکام نے جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کردیا۔
افغان حکومت نے امدادی تنظیموں سے فوری طور پر ریسکیو آپریشن میں مدد کی اپیل کی ہے، افغان حکام نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زلزلے کے آفٹر شاکس او ر لینڈسلائیڈنگ کے باعث زلزلے سے متاثرہ علاقوں کو جانے والی سڑکیں تباہ ہوگئی ہیں اور سیلاب سے متاثرہ پہاڑی علاقوں میں صرف فضائی ریسکیو آپریشن ہی ممکن ہے۔
ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ آج رات آنے والے زلزلے کے باعث جانی و مالی نقصان ہوا، مقامی حکام اور علاقہ مکین متاثرہ افراد کے ساتھ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں
اسلام آباد پشاور اور مردان سمیت مختلف اضلاع میں بھی زلزلے کے جھٹکے آئے، اسی کے ساتھ ساتھ چکوال، ٹیکسلا اور واہ کینٹ میں بھی زلزلے کی شدت محسوس کی گئی۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلےکی شدت 6 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کی گہرائی 15 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ زلزلے کا مرکز جنوب مشرقی افغانستان میں تھا۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق 12 بج کر 38 منٹ پر ہنگو، مالاکنڈ، سوات، مانسہرہ، ایبٹ آباد ، اسلام آباد، راولپنڈی، چترال اور پشاور میں 4.6 شدت کے آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے۔
زلزلے کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے