نند کی پناہ گاہ: والدین کا گھر یا بھابھی کی نظر؟

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ اگر آپ کی بہن جو کل تک اپنے سسرال کی رونق تھی آج طلاق یافتہ یا بیوہ ہو کر واپس آجائے، تو اس کا پہلا قدم کس دہلیز پر پڑے گا؟ کیا وہ ماں باپ کے آنگن میں پناہ لے سکے گی؟ یا کیا یہ آنگن اب صرف بھائی اور اس کی بیوی کی ملکیت سمجھا جاتا ہے؟ یہ سوال محض کسی ایک گھرانے تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہمارے معاشرے، ہمارے خاندانی نظام اور ہماری اجتماعی نفسیات کے آئینے میں ایک واضح عکس ہے ایسا عکس جس سے ہم اکثر نظریں چراتے ہیں۔

حال ہی میں اداکارہ نتاشا علی نے ایک ٹی وی شو میں ایک اہم نکتہ اٹھایا کہ "بیوہ، طلاق یافتہ یا غیر شادی شدہ نند کے پاس ماں باپ کے گھر کے سوا کوئی پناہ گاہ نہیں ہوتی، بھابھیوں کو سمجھنا چاہیے کہ غیر شادی شدہ یا طلاق یافتہ نندیں والدین کے علاؤہ کہاں جائیں؟”۔ یہ بات کروڑوں دلوں میں اتر گئی، مگر زبانوں پر سکوت طاری رہا۔ یہی ہماری معاشرتی ریاکاری ہے باتیں تو بڑی بڑی کرتے ہیں، لیکن جب عمل کی باری آتی ہے تو ہماری اجتماعی آواز آہستہ پڑ جاتی ہے۔

ہمارا معاشرہ خاندانی اقدار اور رشتوں کی پاسداری پر فخر کرتا ہے، لیکن جب بات بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کی آتی ہے، تو یہی اقدار دھندلا جاتی ہیں۔ عورت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ شادی کے بعد اپنی پہچان سسرال سے وابستہ کر لے۔ اس کا ماضی کا گھر اب صرف میکہ بن کر رہ جاتا ہے ایک ایسی جگہ جہاں وہ تہواروں یا تقریبوں پر آئے، مستقل قیام کے لیے نہیں۔ جب وہ مجبوراً واپس لوٹتی ہے، تو معاشرہ اسے ناکامی کا ٹیگ لگا دیتا ہے خواہ اس ناکامی میں اس کا کوئی قصور ہو یا نہ ہو۔ یہ دباؤ نہ صرف عورت پر ہوتا ہے، بلکہ اس کے والدین اور بھائی پر بھی ہوتا ہے کہ وہ معیاری اصولوں کے مطابق چلیں۔ بھابھی کی ناراضی محض ذاتی نہیں ہوتی بلکہ اکثر یہ معاشرتی سوچ کی عکاسی ہوتی ہے، جہاں نند کو ایک اضافی بوجھ سمجھا جاتا ہے جسے جلد از جلد کسی کے حوالے کر دینا ہی بہترین حل ہے۔

ایک طلاق یافتہ یا بیوہ عورت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج معاشی خودمختاری کا ہوتا ہے۔ اگر وہ تعلیم یافتہ ہے اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں رکھتی ہے، تو شاید وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکے۔ لیکن افسوس، ہمارے ہاں اکثر خواتین کو شادی کے بعد گھر کی دہلیز تک محدود کر دیا جاتا ہے — ان کی تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے، اور روزگار کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں، والدین کے گھر واپسی اسے معاشی طور پر دوسروں کا محتاج بنا دیتی ہے۔ یہی معاشی عدم تحفظ اس کے اندر احساس کمتری کو جنم دیتا ہے۔ بھابھی کے لیے بھی یہ صورت حال پریشانی کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر اگر خاندان کے وسائل پہلے ہی محدود ہوں۔ وہ محسوس کر سکتی ہے کہ نند اور اس کے ممکنہ بچوں کے اخراجات اس کے اپنے بچوں کے مستقبل پر اثر انداز ہوں گے۔ لہٰذا، عورت کا معاشی طور پر خود کفیل ہونا نہ صرف اس کے خود اعتمادی کے لیے ضروری ہے، بلکہ خاندانی تنازعات کو کم کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

اس مسئلے کے دونوں اطراف کی اپنی نفسیاتی پیچیدگیاں ہیں۔ بھابھی ایک نئے گھر میں آتی ہے اور اپنا تشخص اور دائرہ اختیار قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اسے خدشہ ہوتا ہے کہ نند جو اس گھر کی پرانی رہنے والی ہے اس کے فیصلوں میں دخل دے گی، شوہر کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائے گی، یا سسرال میں اس کے خلاف محاذ کھولے گی۔ یہ خدشات فطری ہیں۔ دوسری طرف، نند جو ایک گہرے جذباتی صدمے سے گزر کر آئی ہے چاہے وہ طلاق ہو یا بیوگی اسے جذباتی سہارے اور قبولیت کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اپنے ہی گھر میں خود کو غیر متعلق اور بوجھ سمجھنے لگتی ہے۔ اگر اس کے ساتھ اس کے بچے ہیں، تو وہ چاہتی ہے کہ انہیں بھی محبت اور تحفظ ملے۔ دونوں صورتوں میں جذباتی تصادم پیدا ہوتا ہے، اور اگر اسے سمجھداری سے سنبھالا نہ گیا، تو یہ گھر کے ماحول کو زہریلا بنا سکتا ہے۔

اسلامی تعلیمات اس سلسلے میں نہایت واضح ہیں۔ والدین کا گھر بیٹی کا پیدائشی حق ہے، اور مشکل کے وقت میں اس کی مدد کرنا خاندان کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ والدین کے بعد بہترین انسان وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ اچھا ہو” جس میں بہنیں اور دیگر رشتہ دار شامل ہیں۔ اس طرح بیٹی کی پرورش پر ثواب کی بشارت دی گئی ہے، پھر جب وہ مصیبت میں ہو تو اسے نظر انداز کرنا دینی و اخلاقی دونوں اعتبار سے غفلت ہے۔ یہ ہمارا امتحان ہے۔ مگر افسوس، عملی زندگی میں ہم مذہبی اصولوں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور معاشرتی دباؤ یا ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ بھائی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی بیوی کو نہ صرف یہ اسلامی اصول سمجھائے، بلکہ اپنے عمل سے بھی یہ ثابت کرے کہ اس کی بہن اس کا ایک اہم رشتہ ہے اور اس کا گھر میں حق ہے۔

حل کی جانب ایک مشترکہ کوشش:

اس پیچیدہ مسئلے کا کوئی یک طرفہ حل نہیں۔ اس کے لیے تمام فریقین میں احساس، پختہ عقل اور انسانیت کا جذبہ ہونا ضروری ہے۔

بھائی کا کردار: بھائی ایک کلیدی کڑی ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کے جذبات کا احترام کرے، اس کے خدشات سُنے، لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی واضح کرے کہ اس کی بہن خاندان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ اسے دونوں کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا نہ کہ ایک کو دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا۔

بھابھی کا رویہ: بھابھی کو چاہیے کہ وہ نند کو ایک مشکل وقت سے گزرنے والی سہیلی یا چھوٹی بہن سمجھے۔ ہمدردی اور تعاون کا رویہ نہ صرف تعلقات کو بہتر بنائے گا، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال قائم کرے گا۔

نند کی ذمہ داری: نند کو بھی نئے ماحول میں خود کو ڈھالنا چاہیے۔ وہ بھابھی کے ذاتی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے، گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹائے، اور مثبت رویہ اپنائے یہ سب باتین اس کے تئیں محبت پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔

والدین کی رہنمائی: والدین غیر جانبدار رہیں دونوں بیٹے اور بیٹی کے درمیان انصاف کریں۔ بیٹی کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ معاشی طور پر خود کفیل بنے، اور بہو کے ساتھ بھی محبت کا رشتہ قائم رکھیں تاکہ وہ خود کو محفوظ محسوس کرے۔

یہ بات ذہن نشین رہے کہ ایک مہذب اور صحتمند معاشرہ وہی ہوتا ہے جو اپنے کمزور ترین اراکین کے لیے بھی عزت اور تحفظ کا گہوارہ ہو۔ ایک عورت جو اپنے ہی گھر میں پر سکون ہو، وہ نہ صرف اپنی زندگی سنوار سکتی ہے، بلکہ اپنی اولاد کو بھی پر اعتماد اور بہتر شہری کے طور پر پروان چڑھا سکتی ہے۔ ہمیں اپنے گھروں کو اینٹ اور پتھر سے آگے بڑھ کر ان میں محبت، ہمدردی اور باہمی احترام کی روح پھونکنی ہوگی۔ اگر آج ہم اپنی نند کو عزت اور پناہ دیں گے، تو یہی رویہ کل ہماری بیٹیوں کے لیے ایک محفوظ مستقبل کی ضمانت بنے گا۔ یہ کوئی جنگ نہیں، بلکہ باہمی افہام و تفہیم اور انسانی ہمدردی کا امتحان ہے جس میں سب مل کر کامیاب ہو سکتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے