یکم ستمبر 2025 اتوار اور پیر کی درمیانی رات افغانستان ایک عظیم سانحے سے دوچار ہوا۔ صوبہ ننگرہار اور کنڑ میں آنے والے خوفناک زلزلے نے ہزاروں زندگیاں اجاڑ دیں۔ ریکٹر اسکیل پر 6 شدت کے اس زلزلے نے درجنوں دیہات زمین بوس کر دیے، جبکہ درجنوں آفٹر شاکس نے مزید خوف و ہراس کو جنم دیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اب تک ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور دو ہزار سے زائد شدید زخمی ہو چکے ہیں۔ نورگل، سواکئی، واٹاپور، منوگی اور چپہ درہ جیسے اضلاع میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ کئی مقامات، جن میں مزار درہ، دیوہ گرہ درہ، اور دریائے نور کے کنارے واقع بستیاں شامل ہیں، مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں۔ سینکڑوں افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
زلزلے کے جھٹکے نہ صرف ننگرہار، لغمان اور کابل بلکہ پاکستان کے خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے، جس سے وسیع پیمانے پر اضطراب پھیل گیا۔
اس المناک موقع پر نوے ژوند تنظیم اسلام آباد اپنے افغان بھائیوں کے غم میں شریک ہے۔ تنظیم کے چیئرمین نسیم مندوخیل، سینیئر وائس چیئرمین راج خان مروت، جنرل سیکرٹری خان زیب محسود اور تمام اراکین نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے:
"ہم اس کرب ناک گھڑی میں اپنے افغان بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ متاثرہ خاندانوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔”
نوے ژوند تنظیم نے امدادی اداروں، خصوصاً امت مسلمہ اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر افغانستان کے زلزلہ زدہ علاقوں میں ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
افغان حکومت کی جانب سے امدادی ٹیمیں، ہیلی کاپٹر اور میڈیکل سہولیات متحرک کر دی گئی ہیں، تاہم زمینی حقائق کے مطابق متاثرہ علاقوں کو فوری اور وسیع پیمانے پر تعاون کی ضرورت ہے۔
نوے ژوند تنظیم اسلام آباد ایک بار پھر اس عظیم سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتی ہے اور ہر ممکن انسانی، اخلاقی اور تنظیمی تعاون کی یقین دہانی کراتی ہے۔ ہم سب کا فرض ہے کہ ان آزمائش کے لمحوں میں اپنے بھائیوں کی امداد کے لیے متحد ہو جائیں۔
آخر میں تنظیم کے ذمہ داران نے تمام مرحومین اور متاثرین کے لیے دعا کی کہ "اے پروردگار! افغانستان، پاکستان اور پوری امت مسلمہ کو زلزلوں، سیلابوں، وباؤں اور دیگر آفات سے محفوظ فرما۔ ہمیں اپنی پناہ اور رحمت میں لے لے، آمین یا رب العالمین!”