پاکستان ایک بار پھر ایک تباہ کن سیلاب کے کٹہرے میں کھڑا ہے۔ یہ صرف بارش اور دریاؤں کے بہاؤ کی کہانی نہیں بلکہ ہماری اجتماعی کوتاہیوں، ماحولیاتی تبدیلیوں اور ناقص انفراسٹرکچر کی عکاسی کرتا ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بعد اب سندھ بھی شدید خطرے کی لپیٹ میں ہے۔ یہ المیہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا یہ سب محض قدرتی آفات کا نتیجہ ہے یا ہماری اپنی پالیسیوں اور فیصلوں کی ناکامی بھی اس میں برابر شریک ہے۔ پنجاب اس وقت سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق دو ہزار سے زائد دیہات ڈوب چکے ہیں اور 760,000 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ کھڑی فصلوں کا صفایا ہو گیا اور 516,000 مویشی سیلاب کی نذر ہو گئے۔ NDMA کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں اب تک 216 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
چنیوٹ اور جھنگ کے کسانوں کی زندگیاں برباد ہو چکی ہیں۔ محمد امجد نامی ایک کسان نے بتایا کہ اس کی پندرہ ایکڑ زمین میں سے تیرہ ایکڑ ڈوب گئی اور چاول کی ساری فصل ختم ہو گئی۔ یہ کہانی صرف ایک شخص کی نہیں، لاکھوں کسانوں کی ہے جو اپنی روزی روٹی کے بنیادی ذریعہ سے محروم ہو گئے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں صورتحال مزید بھیانک ہے۔ سوات، چارسدہ، نوشہرہ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے قیامت ڈھا دی۔ صرف بُنر میں ایک دن کے دوران 200 سے زائد ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں اور مجموعی طور پر صوبے میں NDMA کے مطابق 484 افراد جاں بحق ہوئے۔ پلوں اور سڑکوں کی تباہی نے امدادی کارروائیوں کو مشکل بنا دیا ہے۔ گارڈین کی رپورٹ کے مطابق پورے ملک میں 9,000 سے زیادہ مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور ہزاروں لوگ ریلیف کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ سندھ کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔ ڈان نیوز اور عرب نیوز نے خبردار کیا ہے کہ دریائے سندھ کی سطح بڑھنے سے گھوٹکی، شکارپور، دادو اور سکھر میں بڑے پیمانے پر آبادی متاثر ہو سکتی ہے۔ اندازہ ہے کہ صرف سندھ میں 1.65 ملین افراد خطرے کی زد میں ہیں۔ NDMA کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں اب تک 58 ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں لیکن اگر پانی کی سطح مزید بڑھی تو نقصان کہیں زیادہ ہو گا۔
ان وجوہات پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ ماہرین اسے موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ World Weather Attribution کی رپورٹ کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے نے مون سون بارشوں کو کم از کم 15 فیصد تک زیادہ شدید کر دیا ہے۔ دوسری طرف، بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ انفراسٹرکچر کی ناقص منصوبہ بندی نے قدرتی پانی کے راستے بند کر دیے، جس سے سیلاب زیادہ تباہ کن ثابت ہوا۔ Al Jazeera نے ہیرشیما یونیورسٹی کے ماہر Ayyoob Sharifi کا حوالہ دیا ہے کہ بے ہنگم اربنائزیشن، deforestation اور inadequate river planning بارش کو تباہی میں بدل دیتے ہیں۔ اسی طرح، SpringerOpen میں شائع ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ hard engineering اقدامات، جیسے بند اور flood channels کی مضبوطی، اس تباہی کو روکنے میں سب سے مؤثر حکمت عملی ہیں۔ یہ آفات صرف قدرت کی آزمائش نہیں بلکہ ہماری اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ 2022 کے سیلاب پر ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ صرف زراعت کو $40 بلین سے زائد کا نقصان ہوا تھا، اور اب بھی صورتحال اسی سمت بڑھ رہی ہے۔
blocked sewers اور ناکافی drainage نے شہروں کو ڈبو دیا جبکہ تجاوزات نے دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو روک دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جو بارش کبھی زمین کے لیے رحمت تھی وہ آج ہماری بربادی کا ذریعہ بن گئی۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم اس صورتحال کا سامنا کیسے کریں۔ سب سے پہلے فوری ریلیف ناگزیر ہے تاکہ متاثرین کو خوراک، پناہ اور ادویات فراہم کی جا سکیں۔
کسانوں کو بیج اور کھاد دی جائے اور ان کے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ river channels کو تجاوزات سے پاک کرنا اور نئے انفراسٹرکچر کو قدرتی flood paths کے مطابق ڈیزائن کرنا ناگزیر ہے۔ ساتھ ہی ماحول دوست اقدامات، شجرکاری اور climate resilient planning کو پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔ یہ کالم اسی سوال پر ختم ہوتا ہے: کیا یہ سیلاب صرف قدرتی آفت ہے یا ہماری اجتماعی ناکامی کا نتیجہ؟
حقیقت یہ ہے کہ دونوں عناصر اپنی جگہ موجود ہیں۔ اگر ہم نے اپنی پالیسیوں اور فیصلوں کو درست نہ کیا تو یہ آفات بار بار ہمارے دروازے پر دستک دیتی رہیں گی۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم قدرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر ایک محفوظ اور پائیدار پاکستان کی بنیاد رکھیں۔