15 اگست صبح 10 بجے کا وقت بونیر کی تاریخ کا سیاح ترین دن گزرا۔ کئی سو سالہ بزرگوں سے پوچھا گیا کہ آپ کی زندگی میں کبھی ایسا واقعہ آیا ہے۔ تو وہ کہہ رہے تھے کہ ہم نے بنیر کی دیہی آبادی کو آباد ہوتے ہوئے بازار بننے تک سب دیکھا ہے۔ لیکن کبھی ایسا واقعہ اور اتنا زیادہ پانی کا سیلاب نہیں دیکھا۔
صبح 10 بجے کے قریب جب ٹانٹا اور بیشونی کے پہاڑی چوٹیوں پر 50 کے قریب کلاؤڈ برسٹ آ گرے۔تو دو مشہور گاؤں بشونی اور قدر نگر کو اپنے ساتھ بہا لے گئے۔ جن میں سے 438 کے قریب اموات، ہزاروں زخمی، پانچ ہزار کے قریب آبادی متاثر، ہزاروں کی تعداد میں مال مویشی تباہ اور ہزاروں ایکڑ زمین زیر آب آکر فصل مکمل تباہ ہو گئیں۔
اس واقعے کے بعد عام عوام نے جو کیا، ہر ادارہ، ہر انسان اور حکومتی مشینری جو حرکت میں آئی۔ وہ الگ الگ داستانیں ہیں۔ لیکن سب سے جو موثر آواز خدمت کی پیکر اور متاثرین سیلاب کی خدمت میں پیش پیش ناموں میں جن کا نام آگے رہا۔ وہ نام ہے، مولانا مفتی فضل غفور صاحب۔۔۔
مولانا صاحب روز اول سے دن، رات ہسپتال میں میتوں کو سنبھالنے سے، 50، 50 میتوں کا جنازہ ادا کرنے سے، سیلاب زدگان کی آباد کاری تک محو خدمت میں پیش پیش ہے۔ مولانا صاحب کی خدمت تب انوکھی بنی جب آپ نے پیر بابا کے بازار اور گھروں سے گندگی اور ملبے کو نکالنے کا اعلان کیا۔ جب آپ نے ہزار طلبہ کو صفائی مہم کو بلانے اور گھروں سے گندگی کے ڈھیروں کو نکالنے کا اعلان کیا۔ اور صبح ایک ہزار کے بجائے 3 ہزار رضاکار اپنے ہتھگاڑی، بیلچی اور بالٹی کے ساتھ پہنچی۔ میتوں کو سنبھالنے کے بعد سب سے بڑے مسائل میں سے ایک بہت بڑا مسئلہ صفائی کا تھا۔
چونکہ گھر کا ہر کمرہ پانچ سے چھ فٹ ریت اور گندگی سے بھرا پڑا تھا۔ اس گندگی اور صفائی پر تقریبا مہینے لگ جاتے۔ کیونکہ مزدور نے تو وہ کام کرنا ہی نہیں تھا۔ایک عجیب سی بدبو تھی اس گندگی میں۔ اوپر سے یہ کام بھی بہت زیادہ تھا۔ کہتے ہیں کہ پیر بابا کی مسجد سے ہزار سے زیادہ ٹرالی ملبہ نکالا گیا۔ مولانا صاحب کے رضاکاروں نے یہ کام صرف اور صرف ایمان کے جذبے سے کیا ہے۔ ورنہ بلکل ناممکن کام تھا۔ اس کے علاوہ مولانا صاحب نے ہدایات دی ہوئی تھی۔ کہ جس گھر میں مالک نہ ہو، وہاں کام نہیں کرنا ہے۔
ایک واقعہ تب آیا، جب ایک رضاکار کے ہاتھ چار تولہ سونا لگا۔ اس رضاکار نے وہ سونا اس کے مالک کے حوالہ کیا۔ مالک نے رضاکار کو 10 ہزار نقد انعام دیا۔ اس رضاکار نے وہی انعام متاثرین کی آباد کاری کے عطیات فنڈ جمع کر لی۔ یہ صفائی کا مہم تین دن تک جوش و خروش سے چلا۔ اور دوسرے دن پانچ ہزار رضاکار شریک ہوئے۔ اسی طرح تیسرے دن بھی، اور یہ سلسلہ کئی دن تک چلا۔ ہم نے کئی رضاکاروں کو دیکھا جن کے پاس اپنا چولہا اور کولر تھا۔ تبلیغی جماعت کی طرح وہ اپنا کھانا خود تیار کرتے تھے۔ اور یہاں تک کہ جن کے گھروں کی صفائی کرتے تھے ان سے پانی بھی نہیں مانگتے تھے۔
سپاہی مہم کے بعد بحالی روزگار کا مہم شروع کیا۔ درزی حضرات کے لیے مکینک منگوائے اور جن درزیوں کی مشینیں خراب تھی۔ ان کی مشینیں ٹھیک کی گئی۔ بہت سارے درزیوں کو مشینیں مہیا بھی کیے گئے۔
اس کے ساتھ ساتھ تنظیم لوہاران کے سینکڑوں کاریگر آئے۔ جن دکانوں کے دروازے وغیرہ ٹوٹ گئے تھے وہی ٹھیک کرائے گئے۔۔ صفایی، درزیوں اور لوہاران کے کام سے جب فراغت ملی۔ تو مولانا صاحب نے چھوٹے کاروبار کے لوگوں کی طرف متوجہ ہوا۔ اور 100 کے قریب ہتھ گاڑیاں مہیا کی گئی۔ جن سے غریبوں کا چولہا دوبارہ شروع ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کی مد میں مولانا صاحب نے کئی لوگوں کو رکشے دیے۔ تاکہ یہی لوگ راشن کے پیچھے پھرنے کے بجائے اپنا خود کا کاروبار شروع کرے۔
سو ہتھگاڑیوں کے مالکان کو نقد بیس ہزار روپے دیے گئے۔ تاکہ گاڑی میں سبزی پھل وغیرہ خرید کر باقاعدہ کام شروع کیا جائے۔ اور پھر بازار میں 100 سیلاب زدگان کا کاروبار بحال کیا گیا۔ اس کے علاوہ آپ نے مزید فرمایا کہ کچھ دن بعد ہم کچھ اور ہتھ گاڑیاں بھی دیں گے۔
مولانا صاحب کا سب سے بڑا اقدام یہ تھا۔ کہ جب آپ نے "اپنا گھر” پروگرام کا انعقاد کیا۔ آپ نے ایمرجنسی بنیاد پر تین بیواؤں اور یتیموں کا اپنا گھر پروگرام کا افتتاح کیا۔ ایک کمپنی کو ہائر کیا۔ جس نے اپنے گھر کے لیے 21 لاکھ روپے مختص کیے۔ اس کنسٹرکشن کمپنی کے مالک نے فرمایا۔ کہ مزدوری ہم نے بہت کی ہے۔
یہ اپنا گھر منصوبہ میں للہ فی اللہ کی نیت سے سب سے کم ریٹ پر کر رہا ہوں۔ مولانا صاحب نے 50 گھروں کا اعلان بشونی اور قدر نگر میں بنانے کا اعلان، بلکہ تین گھروں کا افتتاح بھی کر چکا ہے۔ اسی طرح چغرزی میں بھی 20 گھروں کا افتتاع کر چکا ہے۔۔
کالج کے زمانے سے مولانا ناصر علی منصوری صاحب اور اسرار احمد کو ہم نے مولانا صاحب کے ساتھ شانہ بشانہ دیکھا۔ جس طرح مولانا صاحب پیر بابا میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا تھا۔ تو چغرزی کی ذمہ داری مولانا ناصر علی منصوری اور اسرار احمد کی سپرد کی۔ اور چغرزی کے 20 گھروں کے ڈونرز بھی ان دونوں جوانوں نے مہیا کیے۔
جن گھروں کا افتتاح بھی مولانا صاحب کے ہاتھوں ہوا۔
مولانا صاحب نے جس طرح سیلاب زدگان کی مدد میں اپنا حصہ ڈالا۔ تاریخ میں سنہرے حروف میں پرو دیا گیا ہے۔ کیونکہ جس کو جو مسئلہ ہے۔ مولانا صاحب کے پاس آتے ہیں۔ اور مولانا اس کے حل کے لیے اقدامات کرتا آرہا ہے۔ ابھی ابھی ایک گاڑی کو ہیئر ڈریسر کے کرسیوں سے لدا ہوا دیکھا۔ پوچھا گیا کہ یہ کیا ہے؟ تو جواب ملا کہ یہ 25 ہییر ڈریسرز کی مکمل دکان کا سامان ہے۔ اور آج 25 لوگ اپنے پاؤں پر کڑا ہو کر اپنا روزگار شروع کر دیں گے۔ اللہ تعالی سے بدست دعا ہے کہ مولانا صاحب کی ہمت کو اور زیادہ بڑھائے۔ تاکہ بنیر میں اتنے بڑے سانحے سے لوگ جلد از جلد نکل آئے۔ آمین یا رب العالمین