اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو جج صاحبان کے حالیہ خطوط نے ملک کی عدلیہ کے اندرونی بحران کو نہ صرف بے نقاب کر دیا ہے بلکہ ایسے سوالات کو جنم دیا ہے جن کا جواب محض عدالتی چار دیواری میں نہیں بلکہ پوری قوم کے سامنے دینا ہوگا۔ کل جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے نام ایک خط لکھ کر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور آج جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ایک اور خط میں اسی بحران کو مزید کھول کر رکھ دیا۔ ان دونوں خطوط نے عدالتی معاملات پر عوامی خدشات کو سند بخش دی ہے۔
جسٹس بابر ستار نے اپنے خط میں عدلیہ کی اصل روح پر انگلی رکھی کہ عوام اب عدالت کو بنیادی حقوق کے محافظ کے طور پر نہیں دیکھ رہے۔ ان کے مطابق ذیلی عدلیہ تبادلوں اور ڈیپوٹیشنز کے باعث "میوزیکل چیئرز” کا منظر پیش کر رہی ہے، اور یہ ہائی کورٹ کا فرض ہے کہ اسے ایک آزاد اور باوقار ادارہ بنایا جائے۔ انہوں نے شفافیت کی کمی پر بھی کڑی تنقید کی، یہ کہتے ہوئے کہ چیف جسٹس نے جان بوجھ کر سینئر ججز کو ڈویژنل بنچز سے الگ رکھا جبکہ زیادہ تر مقدمات ٹرانسفر شدہ یا ایڈیشنل ججوں کو دیے جا رہے ہیں۔ انتظامی اختیارات کے غلط استعمال پر بھی سوال اٹھایا کہ بعض ججز کو جان بوجھ کر غیر فعال بنانے کے لیے ان کے dockets ہی چھین لیے گئے۔
کمیٹیوں کی تشکیل میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سینئر ججوں کو نظرانداز کر کے اضافی اور من پسند ججوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ ججز کو بیرون ملک سفر کے لیے این او سی لینے کا پابند بنانا اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے۔ ان کا شکوہ یہ بھی تھا کہ کارکردگی کے اعداد و شمار کو مسخ کر کے چند ججز کو "زیادہ محنتی” اور دوسروں کو "غیر فعال” بنا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ عدلیہ کے اندرونی توازن کو متاثر کیا جا سکے۔
آج سامنے آنے والے خط میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے بھی اسی بگاڑ پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ فل کورٹ کی منظوری کے بغیر نئے رولز کا نفاذ آئین اور روایات کی توہین ہے اور اس کے ذریعے عدلیہ کو چند مخصوص ججوں کے ہاتھ میں دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی بنیادوں پر مقدمات ایک جج سے دوسرے جج کو منتقل کرنا عدلیہ کی غیر جانبداری کو تباہ کر رہا ہے۔ ججز کے سفر کے لیے این او سی کی شرط عائد کرنا دراصل انہیں بالواسطہ طور پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈالنے کے مترادف ہے، اور یہ ججوں کی ذاتی آزادی پر حملہ ہے جو عدلیہ کی آزادی کو جڑ سے کاٹ دیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی خاموشی دراصل اس زوال میں شراکت داری ہے اور تاریخ ایسے کرداروں کو کبھی معاف نہیں کرتی۔
یہ دونوں خطوط اس حقیقت کو مزید واضح کرتے ہیں کہ عدلیہ کے اندر سینیارٹی، میرٹ اور شفافیت کو یکسر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس کے اختیارات کو مطلق العنان بنایا جا رہا ہے اور ججز پر دباؤ ڈال کر ادارے کی آزادی کو سلب کیا جا رہا ہے۔ مقدمات کی تقسیم میں شفافیت کا فقدان اور انتظامی کمیٹیوں میں بے ضابطگیاں اس زوال کو اور گہرا کر رہی ہیں۔
اس ساری صورتحال کا سب سے بڑا نقصان عوام کو ہے۔ اگر جج صاحبان خود آزاد نہیں تو عام شہری کو انصاف کہاں سے ملے گا؟ عوام عدالتوں کو بنیادی حقوق کا محافظ سمجھنے سے محروم ہو چکے ہیں اور یہی وہ خلا ہے جسے پر کرنے کے لیے سیاسی جماعتیں بار بار عدلیہ کی آزادی کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ آج یہ خطوط اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں کہ انصاف کو دباؤ اور مصلحت کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔
ادارے بنانے میں دہائیاں لگتی ہیں مگر تباہ ہونے میں چند سال ہی کافی ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا عدلیہ تاریخ کے سامنے سرخرو ہوگی یا کل کا مورخ یہ لکھے گا کہ جس وقت انصاف کی بنیادیں ہل رہی تھیں، سب خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔ عدلیہ کی بقا محض ججوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بقا سے جڑا ہوا ہے۔ اور اگر ادارہ انصاف اپنی ساکھ کھو بیٹھا تو ریاست کے لیے اپنی بقا کو برقرار رکھنا بھی ناممکن ہو جائے گا۔.