دنیا کے نقشے پر کیا ایک نئی صبح طلوع ہو رہی ہے۔ جو صبح مشرق کی ہوگی، جہاں سے سورج ہمیشہ سے روشنی بانٹتا آیا ہے لیکن صدیوں تک مغرب نے اس روشنی کو دھندلا کر اپنے اقتدار کی روشنی دکھانے کی کوشش کی۔ آج وہی مغرب تھک چکا ہے، اور مشرق اپنی نئی توانائی کے ساتھ اٹھ کھڑا ہونے کی کوشش کر رہا ہے؟
شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا 2025 کا اجلاس، جو چین کے شہر تیانجن میں 31 اگست سے یکم ستمبر تک منعقد ہوا، ۔ یہ اجلاس نہ صرف SCO کی 25 سالہ تاریخ کا جائزہ لینے کا موقع تھا بلکہ عالمی سطح پر تبدیل ہوتی جیو پولیٹیکل صورتحال میں ایک نئی امید اور متبادل کی علامت بھی بنا۔ اجلاس میں 10 رکن ممالک کے رہنماؤں سمیت 20 سے زائد ممالک اور 10 بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی، جو SCO کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس اجلاس کا مرکزی موضوع علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون اور عالمی حکمرانی کی اصلاح تھا ۔
شنگھائی تعاون تنظیم کی بنیاد 2001 میں رکھی گئی تھی، اور اس کا مقصد علاقائی سلامتی، دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف تعاون کو فروغ دینا ہے۔ آج یہ تنظیم دنیا کی 42 فیصد آبادی اور وسیع جغرافیائی علاقے کی نمائندگی کرتی ہے۔ رکن ممالک میں چین، روس، بھارت، پاکستان، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور بیلاروس شامل ہیں۔
اس کے علاوہ مبصر اور ڈائیلاگ پارٹنر ممالک جیسے افغانستان، منگولیا، ترکی، سعودی عرب، قطر اور مصر بھی اجلاس میں شریک تھے۔ ۔ اجلاس میں تیانجن ڈیکلریشن اپنایا گیا، جو SCO کی 2025-2035 کی ترقیاتی حکمت عملی اور عالمی حکمرانی میں اصلاحات پر زور دیتا ہے۔
اجلاس میں شرکت کرنے والے ممالک کو تین گروپوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلے وہ جو مغربی استحصال سے تنگ آ کر چین کو نئی امید کے طور پر دیکھتے ہیں، جیسے ایران اور بیلاروس؛ دوسرے وہ جو عالمی سطح پر اپنی حیثیت کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں لیکن امریکی پالیسیوں سے ناخوش ہیں، جیسے روس اور پاکستان؛ اور تیسرے وہ جو اقتصادی ماڈل کے طور پر چین کو اپنانا چاہتے ہیں، جیسے وسطی ایشیائی ممالک۔ یہ تقسیم اجلاس کی مرکزی بحثوں میں واضح تھی، ۔
اجلاس کا ایک اہم پہلو پاک بھارت کی حالیہ جنگ کے بعد چین، روس پاکستان اور بھارت کے سربرابان مملکت کا ایک چھت نیچے اور ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوکر مباحثوں میں حصہ لیا۔ ان ممالک کے باہمی تعلقات میں تنازعات اور اختلافات موجود ہیں، جیسے چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعہ یا پاکستان اور بھارت کے مابین جنگی کشیدگی۔لیکن SCO کا فریم ورک ان اختلافات کے باوجود باہمی مفادات پر مشترکہ کام کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک جغرافیائی سیاسی طوفان کے مترادف ہے۔ دنیا کی آبادی کا یہ بڑا حصہ اگر مشترکہ معاشی، سلامتی اور strategic مفادات کے تحت ایک صفحے پر آ جائے تو یہ عالمی طاقت کے توازن کو یکسر بدل کر رکھ سکتا ہے۔
بلاشبہ مغرب اس منظرنامے کو ایک دھند کی طرح دیکھ رہا ہے جس میں اس عالمی سطح پر گرفت کمزور پڑ رہی ہے۔ بھارت، جو کبھی امریکہ کی آنکھ کا تارا تھا، اب بیجنگ اور ماسکو کے ساتھ اپنے نئے راستے تلاش کر رہا ہے۔ یہ تبدیلی امریکی مفادات کے لیے کسی طوفان سے کم نہیں۔
پاکستان کے لیے یہ اجلاس عزت کا استعارہ تھا۔ ’’معرکہ حق‘‘ میں کامیابی کے بعد پاکستان کو جو عالمی وقار ملا، اس کی جھلک اس اجلاس میں بھی دیکھی گئی۔ پاکستان آج صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک دروازہ ہے، جو وسطی ایشیا، چین اور مشرق وسطیٰ کو جوڑتا ہے۔
حالیہ پاک بھارت جنگ میں بھارتی کی شکست کے بعد سے امریکہ کی خارجہ پالیسی میں ہونے والے shifts، خاص طور پر unreliable partnerships اور unpredictable policies نے بھارت جیسے اہم regional partners کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کے موجودہ دور سے غیر مطمئن ہو کر،جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر 25 فیصد اور پھر 50 فیصد ٹیرف لگائے، جو تجارتی معاہدے کی ناکامی کی وجہ سے تھے۔ یہ ٹیرف بھارت کی معیشت کو متاثر کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے بھارت چین اور روس کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے
بھارت اپنے strategic مفادات کے تحفظ کے لیے ایک multilateral approach اپنائے۔ وہ چین اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسیع کرنے کی کوشش کر رہا ہے، نہ صرف معاشی فوائد کے حصول کے لیے بلکہ اپنی عالمی حیثیت کو مضبوط بنانے اور اپنے آپ کو "خود ساختہ خود مختار actor” ثابت کرنے کے لیے۔ یہ کوشش بالواسطہ طور پر امریکہ کی یک قطبی dominance کو چیلنج کرتی ہے اور اس کے strategic مفادات کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتی ہے۔
بھارت چین تجارتی اعداد و شمار مزید واضح کرتے ہیں۔ کہ چین اور بھارت کے درمیان دو طرفہ تجارت 2024-25 میں تقریباً 130 ارب ڈالر تک ہیں، جہاں بھارت کا تجارتی خسارہ 99.2 ارب ڈالر ہے۔ دوسری جانب، چین پاکستان دونوں ممالک کے درمیان تجارت 23 ارب ڈالر ہے (جو کہ بڑھنے کا متقاضی ہے)، لیکن یہ تعلقات ایک گہرے strategic اور دفاعی اتحاد پر مبنی ہیں۔ یہ تعلق "آئرن برادر” کی اصطلاح سے بیان کیا جاتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جو دفاعی تعاون ہے، وہ پاک بھارت جنگ کے دوران بھی واضح طور پر نظر آیا، جب چین نے پاکستان کے موقف کی diplomatic اور military equipment کی مدد سے تائید کی۔
CPEC بھی اس strategic partnership کا ایک اہم معاشی اور logistically پہلو ہے۔ پاکستان اور چین کے عسکری تعلقات بھارت اور چین کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہیں، کیونکہ بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعات (جیسے لداخ) اب بھی موجود ہیں۔ پاک بھارت تنازعات کے دوران، جیسے حالیہ 2025 کے تنازع میں، چین نے پاکستان کو دفاعی مدد فراہم کی، جو دونوں ممالک کے "آہنی بھائیوں” والے رشتے کو ظاہر کرتی ہے۔ اجلاس میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے پوٹن سے ملاقات کی اور تجارت، توانائی اور علاقائی رابطوں پر بات کی، جبکہ پوٹن نے پاکستان کو "روایتی پارٹنر” قرار دیا۔ یہ سب مغربی استحصال سے متاثرہ وہ قومیں ہیں جنہیں استعماری policies، غیر منصفانہ معاشی شرائط اور ثقافتی بالادستی کا سامنا رہا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ صدیوں تک دنیا مغرب کے اشاروں پر چلتی رہی۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی طاقت کا توازن بگڑا، نئے مرکز ابھرے۔ آج وہ مرکز مشرق ہے، کیا اس کا محور شنگھائی تعاون تنظیم ہے۔؟
یہ اجلاس دراصل اعلان ہے کہ صدیِ نو کی سیاست کا محور اب مشرق ہوگا۔ آنے والے برسوں میں جب تاریخ لکھی جائے گی تو یہ اجلاس ایک سنگِ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا — جہاں سے دنیا نے اپنی سمت بدلی، اور مشرق نے دنیا کو نئی صبح دی۔
شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس محض ایک annual event نہیں تھا۔ یہ ایک واضح اشارہ تھا کہ عالمی طاقت کا محور مشرق کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ ایسے ممالک جو مشترکہ چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، وہ اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک نئے global order کی تشکیل کے لیے پرعزم ہیں۔ چین اس نئے order کے مرکز میں ہے، جو نہ صرف ایک معاشی ماڈل پیش کر رہا ہے بلکہ ایک ایسی diplomatic قیادت بھی فراہم کر رہا ہے جو عدم مداخلت، باہمی احترام اور مشترکہ مفاد پر مبنی ہے۔ SCO کا یہ اجلاس اس نئی حقیقت کا اعلان تھا: "The East is Rising,” اور دنیا کو اس نئے توازن کو تسلیم کرنا ہوگا۔