برصغیر کی روحانی سرزمین صدیوں تک صوفیائے کرام کی تعلیمات سے منور رہی۔ ان ہستیوں نے دلوں کو فتح کیا، نہ کہ جسموں یا زمینوں کو۔ حضرت علی ہجویری، بابا فرید گنج شکر، خواجہ معین الدین چشتی جیسے بزرگوں کی تعلیمات میں محبت، رواداری، عاجزی اور خدمت خلق کا پیغام چھپا ہوا تھا۔ ان کے ہاں پیری مریدی کا رشتہ ایک روحانی تربیت کا ذریعہ تھا، جس کا مقصد انسان کو اس کے رب سے جوڑنا تھا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ مقدس رشتہ طاقت، دولت اور تسلط کا ہتھیار بن گیا۔
عقیدت کا جو رشتہ دلوں کو پاک کرتا تھا، وہ اب اندھی اطاعت میں ڈھل چکا ہے۔ خانقاہیں جو کبھی عبادت، ذکر و اذکار اور معرفت کی علامت تھیں، اب بعض جگہوں پر کاروبار، سیاست اور ذاتی مفادات کے گڑھ بن چکی ہیں۔ کچھ مفاد پرست افراد نے اس عقیدت کو اس قدر مسخ کیا کہ اب اس کے پردے میں جنسی استحصال، مالی دھوکہ دہی، اور روحانی غلامی پنپ رہی ہے۔ روحانیت جو کبھی سکون کا ذریعہ تھی، اب خوف اور استحصال کا نشان بنتی جا رہی ہے۔ سچ کہنے والے کو گستاخ اور منکر کہا جاتا ہے، اور جھوٹ بولنے والے کو پیر و مرشد کا درجہ دیا جاتا ہے۔
یہ عقیدت جب عقل پر غالب آ جائے تو معاشرہ سچائی کو جھوٹ اور جھوٹ کو حق ماننے لگتا ہے، اور یہی اس وقت ہمارا بہت بڑا المیہ ہے۔
مذہب، جو انسان کی فکری اور اخلاقی اصلاح کا ذریعہ ہے، جب استحصال کا ہتھیار بن جائے تو معاشرے کی روح مر جاتی ہے۔ مذہبی استحصال صرف جسمانی زیادتی نہیں، بلکہ یہ شعور، خودداری اور آزادی پر بھی حملہ ہے۔
جعلی پیر اپنے مریدوں کو اس یقین میں مبتلا کر دیتے ہیں کہ ان کے مسائل کا واحد حل صرف ان کے دم درود اور روحانی علاج میں ہے۔ وہ انسان کی کمزوریوں کو اپنی طاقت بنا لیتے ہیں۔ بندش، جادو، جنات اور قسمت کے بہانوں سے لوگوں کو قائل کیا جاتا ہے کہ وہ کسی اور کے رحم و کرم پر ہیں۔ بدترین مثال وہ ہوتی ہے جب کسی عورت کو کہا جاتا ہے کہ اس کا نکاح کسی جن سے ہو چکا ہے، اور اس نکاح کو ختم کرنے کے لیے اسے قربانی دینی ہوگی۔ یہ قربانی جسم کی صورت میں طلب کی جاتی ہے۔ بعض اوقات نشہ آور اشیاء دے کر عورت کو بے ہوش کیا جاتا ہے، ویڈیو بنائی جاتی ہے اور پھر ساری زندگی اسے بلیک میل کر کے خاموشی کی زنجیر میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف انسانیت کی توہین ہے بلکہ دین کی روح کے بھی خلاف ہے۔ اس پر آواز اٹھانے والوں کو بدعقیدہ یا گستاخ کہہ کر چپ کروا دیا جاتا ہے، اور یوں ظلم کو تقدس کا لباس پہنا دیا جاتا ہے۔
جعلی پیروں کی اصل طاقت ان کا علمی یا روحانی مرتبہ نہیں بلکہ وہ خوف ہے جو وہ لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں۔ اگر پیر ناراض ہو گیا تو سب کچھ چھن جائے گا، جنات نے تیری زندگی کو جکڑ رکھا ہے، یا ہماری روحانی ڈھال ہٹ گئی تو تباہی آ جائے گی جیسے جملے مریدوں کی عقل کو مفلوج کر دیتے ہیں۔ ان باتوں عام لوگ اس قدر مرعوب ہو جاتے ہیں کہ ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ جب کوئی شخص یہ کہے کہ وہ اللہ سے براہِ راست رابطے میں ہے، یا اس کے پاس ایسے روحانی علوم ہیں جو عام انسانوں کے لیے ناقابل فہم ہیں، تو سادہ لوح لوگ اس کو مجازی خدا سمجھنے لگتے ہیں۔ یوں وہ اپنے ضمیر، جسم اور حتیٰ کہ اپنی عزت و ناموس بھی اس کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی عورت اس نظام کے خلاف بولے تو اس پر الزام لگتا ہے کہ اس نے پیر کی آزمائش میں ناکامی دکھائی، اور اس کی بات کو جھوٹ سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ ایسا خوفناک گٹھ جوڑ ہے جس میں عقیدت، خوف اور سماجی دباؤ سب مل کر ایک ایسا جال بنتے ہیں جس سے نکلنا نہایت مشکل ہو جاتا ہے۔
ایک عورت جب اس گھناؤنے نظام کا شکار ہوتی ہے تو اس کی تکلیف صرف جسمانی نہیں ہوتی۔ پہلا زخم تو اس کے جسم پر لگتا ہے، مگر اصل چوٹ اس کی روح پر آتی ہے۔ پھر جب وہ مدد مانگتی ہے تو سب سے پہلے اس کی نیت پر شک کیا جاتا ہے۔ اسے مجرم بنا دیا جاتا ہے۔ اس سے سوال کیا جاتا ہے کہ وہ پیر کے پاس اکیلی کیوں گئی؟ کیا اس نے کوئی غلط ارادہ رکھا تھا؟ کیا اس کا لباس مناسب تھا؟ گویا معاشرہ ہر حال میں قصور وار صرف عورت کو ہی ٹھہراتا ہے۔ برادری کی بدنامی، شوہر کی بے رخی، بچوں کا مستقبل، یہ سب اسے خاموش رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔ وہ جانتی ہے کہ اگر زبان کھولی تو نہ صرف عزت جائے گی بلکہ ممکن ہے کہ وہ اپنی زندگی بھی گنوا دے۔ نتیجتاً وہ اندر ہی اندر گھٹتی رہتی ہے، یا پھر خودکشی جیسے انتہائی قدم اٹھاتی ہے۔ اس کی کہانی کبھی پولیس کے فائلوں میں جگہ نہیں پاتی، نہ ہی میڈیا کی سرخیوں میں۔ وہ ایک زندہ لاش بن کر جیتی ہے، جس کی چیخیں صرف وہ خود سنتی ہے۔
پاکستان میں میڈیا وقتاً فوقتاً ایسے کیسز سامنے لاتا رہا ہے جنہوں نے معاشرے کو چونکا دیا، لیکن نظام کو نہیں۔ ایک جعلی پیر نے کراچی میں خواتین کو دم درود کے بہانے بے ہوش کر کے ان کی ویڈیوز بنائیں اور پھر انہیں بلیک میل کرتا رہا۔ سوشل میڈیا پر شور اٹھا، عوام نے آواز بلند کی، لیکن آخر میں راضی نامہ ہوگیا اور یوں معاملہ دب گیا۔ لاہور میں ایک اور واقعے میں ایک لڑکی کو جن نکالنے کے نام پر کئی دن تک قید رکھا گیا اور مسلسل زیادتی کی جاتی رہی۔ میڈیا نے اسے اٹھایا، لیکن عدالتی نظام کی سست روی کے باعث لڑکی ہی الزامات کا نشانہ بن گئی۔ اس جیسے درجنوں کیسز یا تو فائلوں میں دفن ہیں یا علاقائی جرگوں کے دباؤ میں ختم کر دیے گئے۔ میڈیا کی کوششیں اپنی جگہ قابلِ ستائش ہیں، مگر جب تک عدالتی نظام مظلوم کے حق میں حرکت میں نہیں آتا، سچ صرف ایک وقتی جذباتی لہر بن کر رہ جاتا ہے جو جلد مدھم ہو جاتی ہے۔
قانونی طور پر ملک میں ہر جرم کے لیے سزائیں موجود ہیں، مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب کوئی عورت زیادتی کا شکار ہوتی ہے، خاص طور پر اگر اس کا مجرم کوئی مذہبی پیشوا ہو، تو وہ تھانے میں داخل ہوتے ہی مجرم کے بجائے خود ملزم بن جاتی ہے۔ اس سے ایسے ایسے سوالات کیے جاتے ہیں جو اس کے زخموں کو اور گہرا کر دیتے ہیں۔ اکثر اوقات ایف آئی آر درج نہیں ہوتی، اور اگر ہو بھی جائے تو پیر کا کوئی سیاسی یا مذہبی رابطہ نکل آتا ہے جس سے پورا نظام اس کے حق میں جھک جاتا ہے۔ عدالتوں میں کیس سالوں چلتا ہے، اور جب فیصلہ آتا ہے تو شواہد ضائع ہو چکے ہوتے ہیں، گواہ منحرف ہو چکے ہوتے ہیں، اور متاثرہ عورت کو ذہنی توازن سے محروم قرار دے کر کیس بند کر دیا جاتا ہے۔ یوں عدل کا ترازو جھک جاتا ہے، اور ظالم نئی شکار کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے، مزید طاقتور ہو کر۔
علمائے دین ہمیشہ امت کی رہنمائی کے دعوے دار رہے ہیں، اور ان کا کردار اصلاحی ہونا چاہیے۔ مگر جب بات جعلی پیروں کے استحصال کی ہو، تو بیشتر علما خاموش نظر آتے ہیں۔ اس لیے کہ عوامی جذبات بھڑک سکتے ہیں، کچھ اس لیے کہ ان کے مدارس اور ادارے انہی پیروں کی مالی امداد سے چلتے ہیں۔ یہ خاموشی گونج بن کر ظلم کو تقویت دیتی ہے۔ اگر علما کرام منبر پر کھڑے ہو کر واضح اعلان کریں کہ ایسے افراد دین کے لبادے میں چھپے ہوئے مجرم ہیں، اور ان سے تعلق رکھنا گناہ ہے، تو عوام کے لیے راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔ دین ہمیں عدل، حرمت اور عزت نفس کا سبق دیتا ہے، اور علمائے حق کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان تعلیمات کو بیان کریں، صرف عبادات اور رسومات کی حد تک محدود نہ رہیں۔ یہ وقت ہے کہ وہ اپنے الفاظ سے نہیں، عمل سے دین کی عزت کا دفاع کریں۔
اسی طرح، پاکستانی معاشرے میں روحانی استحصال کے خلاف سب سے بڑی رکاوٹ وہ تعلیمی خلا ہے، جس نے ایک پوری نسل کو فکری طور پر غیر مسلح کر دیا ہے۔ مذہب یہاں دلوں کی زبان تو بن گیا، مگر دماغ کی تربیت کا ذریعہ نہ بن سکا۔ ہمارے نصاب میں عقائد کو سوال سے بالاتر رکھا گیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک عام فرد مذہبی شناخت تو رکھتا ہے، مگر مذہبی فہم سے محروم ہے۔ مدارس میں منطق اور عقلیت پسندی کو بدعت قرار دیا جاتا ہے، جبکہ اسکولوں میں دین کو صرف رسمی مضامین کی حد تک پڑھایا جاتا ہے، جس سے ایک ایسا ذہنی خلا پیدا ہوتا ہے جو جعلی روحانی پیشواؤں کے لیے سازگار ماحول مہیا کرتا ہے۔ سائنسی حقائق، نفسیاتی عوارض، اور سماجی رویوں کو مذہبی رنگ دے کر اس معاشرے میں نہ صرف گمراہی کو فروغ ملا، بلکہ اسے تقدس کا لبادہ بھی پہنا دیا گیا۔ نتیجہ یہ کہ بیماری کا اصل علاج تلاش کرنے کے بجائے، لوگ ان ہاتھوں میں پناہ لیتے ہیں جو زخموں کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔ تعلیم کا بنیادی مقصد شعور کی بیداری اور سوال اٹھانے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے نظام میں ان دونوں صفات کو دبانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جب فرد سوال کرنا چھوڑ دے اور ہر بات کو تسلیم کرنا سیکھ جائے، تو وہ علم کا نہیں، عقیدت کا غلام بن جاتا ہے اور یہی وہ خلا ہے جسے پُر کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔
حل کا آغاز صرف قانون سازی سے نہیں، بلکہ ایک فکری بیداری سے ہوتا ہے۔ ہمیں ایسے تعلیمی، سماجی اور اخلاقی انقلاب کی ضرورت ہے جو افراد کو اندھی عقیدت سے نکال کر باشعور فہم کی طرف لے جائے۔ تعلیم کو صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ کردار سازی کا ہتھیار بنایا جائے، جہاں طالب علم نہ صرف سچ کو پہچاننا سیکھے بلکہ باطل کو للکارنے کا حوصلہ بھی رکھے۔ اسکولوں، مدارس، اور جامعات میں ایسے مضامین شامل کیے جائیں جو دماغی صحت، مذہبی توازن، اور سائنسی حقیقتوں کے ساتھ ساتھ روحانی الجھنوں کے فہم میں مدد دیں۔
میڈیا کو محض خبر کا ذریعہ نہیں، ضمیر جگانے والے آئینے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ڈاکیومنٹریز، ٹاک شوز، اور سوشل میڈیا کیمپینز کے ذریعے وہ چہرے بے نقاب کیے جائیں جو دین کی آڑ میں انسانیت کی تذلیل کرتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم دل دہلا دینے والی کہانیوں کو دبا دیں، نہیں، بلکہ سنائیں، اس لیے کہ خاموشی مجرم کو تحفظ دیتی ہے اور سچائی کو قبر میں دفن کرتی ہے۔
عدالتی نظام میں بھی خصوصی اقدامات ناگزیر ہیں۔ روحانی استحصال کو بطور ایک منفرد جرم تسلیم کیا جائے، جس کے لیے تفتیش کار، وکلاء اور ججز کو خصوصی تربیت دی جائے۔ متاثرہ افراد کے لیے ایسا محفوظ اور باوقار ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ بنا خوف کے اپنی بات کہہ سکیں، اور انہیں انصاف، ہمدردی اور وقار کے ساتھ سنا جائے۔
علمائے کرام کے لیے اب خاموشی گناہ بن چکی ہے۔ ان کی ذمہ داری محض فقہی مباحث کرنا اور فتوے دینا نہیں بلکہ سماج کی اصلاح کرنا ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ منبر کو زبانِ حق بنا کر کھڑے ہوں، اور ان قوتوں کے خلاف اعلانِ بغاوت کریں جو دین کے نام پر ظلم کا کاروبار چلا رہی ہیں۔
سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے ادارے اور سماجی کارکن صرف مظلوموں کے آنسو پونچھنے پر اکتفا نہ کریں، بلکہ ان کے زخم بھرنے کے لیے قانونی، نفسیاتی اور مالی مدد فراہم کریں۔ خصوصاً دیہی علاقوں کی خواتین کے لیے خصوصی تعلیمی و تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں تاکہ وہ اپنی تقدیر خود لکھ سکیں۔
یہ مسئلہ کسی ایک ادارے یا طبقے کا نہیں، یہ پورے معاشرے کی اجتماعی آزمائش ہے۔ جب تک ہم ایک قومی مکالمہ شروع نہیں کریں گے، جس میں عقل، عقیدہ، قانون اور اخلاقیات مل کر سماجی بصیرت کو جنم دیں، تب تک ہر نسل انہی زنجیروں میں جکڑی رہے گی۔ یہ جنگ صرف زبان سے نہیں، ذہن سے لڑی جائے گی، اور جیتی تبھی جائے گی جب ہم اپنے اندھیرے کو تسلیم کریں اور اسے علم، انصاف اور جرات کی روشنی سے چیر ڈالیں۔ اب وقت ہے کہ ہم صرف مظلوم کے لیے رونا بند کریں، اور ظالم کے خلاف کھڑا ہونا سیکھیں کیونکہ حقیقی روحانیت خاموش تماشائی نہیں، زندہ اور بیدار ضمیر کا نام ہے۔