میں نے جب بھی بہاری بربادی اور اکہتر کے المیے کے حوالے سے لکھا تو صرف اپنی کمیونٹی کی بات نہیں کی بلکہ مشرقی پاکستان کی ہر اُس برادری اور ادارے کی بات کی جو پاکستان کے لیے جیے اور پاکستان کے نام پر مر مٹے۔ اس حوالے سے میں نے بہادر پاکستانی افواج کا بھی ذکر کیا جو سیاست کا شکار ہوئیں اور دنیا بھر میں ان کے خلاف منظم پروپیگنڈا بھی ہوا۔
غیروں سے کیا شکوہ اور دشمنوں سے کون سی رعایت کی توقع؟ جب ڈھیروں پاکستانی — نام نہاد لبرلز اور پروگریسو آوازیں بھی اس جتھے میں شامل ہوں — خود اپنی ہی فوج اور بہاریوں کے خلاف نفرت پھیلائیں۔ میں نے تو ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو نہایت نستعلیق لگتے ہیں مگر انہوں نے اپنے بچوں کے دل و دماغ میں بہاریوں اور پاکستانی فوج کے خلاف نفرت اور زہر آلود باتیں بھر دی ہیں۔ ایسے میں وطن عزیز پر جان نچھاور کرنے والے منظر نامے سے دھندلا جاتے ہیں، چاہے وہ نشانِ حیدر کے مالک ہی کیوں نہ ہوں۔ ایسا ہی ایک نام میجر محمد اکرم شہید کا ہے۔ شاید پی ٹی وی کی نشانِ حیدر سیریز میں ان پر ڈرامہ نہ بنا۔
انٹرنیٹ پر موجود معلومات کے مطابق میجر محمد اکرم شہید 4 اپریل 1938 کو ضلع گجرات کے گاؤں دُنگہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، مالک ایس محمد، برطانوی ہندوستانی فوج میں حوالدار کے طور پر خدمات انجام دیتے تھے اور بعد ازاں پاکستان آرمی میں بھی شامل ہوئے۔ اکرم شہید کا تعلق پنجابی اعوان خاندان سے تھا۔ ابتدائی تعلیم مقامی اسکول سے حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ملٹری کالج جہلم میں داخلہ لیا، جہاں سے ان کی فوجی تربیت کا آغاز ہوا۔
میجر اکرم نے 1956 میں پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی اور 1963 میں فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ وہ 4 فرنٹیئر فورس رجمنٹ کے دوسرے کمانڈر کے طور پر 1971 کی جنگ میں شریک ہوئے۔ ہلی کے محاذ پر، جہاں بھارتی فوج کی تعداد اور اسلحہ کہیں زیادہ تھا، میجر اکرم اور ان کے جوانوں نے بے مثال بہادری دکھائی۔ انہوں نے دشمن کے تین ٹینک تباہ کیے اور ایک چوتھے ٹینک کو راکٹ لانچر سے نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے 5 دسمبر 1971 کو جامِ شہادت نوش کیا۔ انہیں بعد از شہادت نشانِ حیدر سے نوازا گیا، جو پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز ہے۔
پاکستان میں ان کی یاد میں جہلم شہر میں "میجر اکرم شہید یادگار” قائم کی گئی ہے۔ کبھی کبھار ان کے یومِ شہادت پر ٹیلی ویژن یا ریڈیو پر رپورٹ آجاتی ہے، مگر یہ تلخ حقیقت ہے کہ میجر اکرم شہید کی تدفین بنگلہ دیش کے ضلع دیناج پور کے گاؤں بولڈار میں ہوئی۔ پاکستان نے ان کی باقیات کو وطن واپس لانے کی کوشش کی، لیکن سیاسی اور سفارتی پیچیدگیوں کے باعث یہ عمل مکمل نہ ہو سکا۔ عوامی یادداشت میں یہ حقیقت بہت کم موجود ہے۔
میں نے اپنے انگریزی اور اردو کالمز میں اس المناک کوتاہی کا ذکر کیا، لیکن شاید یہ کسی ادارے کی ترجیح نہیں ہے یا ان کی جاب ڈسکرپشن کا حصہ نہیں۔ یاد رہے کہ غدار پاکستان فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمٰن کی لاش بنگلہ دیش نے لے لی اور اس کو سب سے بڑا فوجی اعزاز "بیر اُتم” دیا۔ ادھر ہم نے ٹرینی پائلٹ راشد منہاس کو سراہا اور کمسن شہید کو نشانِ حیدر سے نوازا۔
یہ ساری باتیں ایک بار پھر ذہن کو کچوکے لگاتی ہیں جب اسحاق ڈار صاحب اگست 2025 میں بنگلہ دیش کا دورہ کرتے ہیں اور علیل بیگم خالدہ ضیاء کو پھول بھی بھجوا دیتے ہیں۔ بیگم خالدہ ضیاء (پیدائش 1945) بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِاعظم تھیں۔ وہ دو مرتبہ (1991–1996 اور 2001–2006) اس عہدے پر فائز رہیں۔ وہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کی سربراہ ہیں اور طویل عرصے تک حسینہ واجد (عوامی لیگ) کی سب سے بڑی سیاسی حریف سمجھی جاتی رہیں۔ ان کی سیاست عمومی طور پر بھارت کے بجائے پاکستان اور چین کے قریب تر دیکھی جاتی ہے۔ بیگم صاحبہ پاکستان کی حامی جانی جاتی ہیں اور جنرل ضیاء الرحمان کی بیوہ ہیں۔
جنرل ضیاء الرحمان پہلے پاکستانی فوجی افسر تھے، لیکن 1971 کی جنگ کے دوران انہوں نے پاکستانی فوج سے غداری کی اور "بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک” میں شامل ہوئے۔ بھارتی فوج کے ساتھ مل کر انہوں نے "زی فورس” تشکیل دی، جو مکتی باہنی کی تین بڑی فورسز (Z Force، K Force، S Force) میں سے ایک تھی۔ یہ فورس 7 جولائی 1971 کو ان کی قیادت میں قائم ہوئی اور مختلف محاذوں پر بھارتی فوج کے تعاون سے پاکستانی افواج کے خلاف لڑائی میں شریک ہوئی۔
میجر ضیاء الرحمان نے چٹاگانگ سے 27 مارچ 1971 کو ریڈیو پر شیخ مجیب الرحمان کی جانب سے آزادی کا اعلان بھی کیا تاکہ یہ اعلان عوام تک سیاسی رہنما کے نام سے پہنچے۔ یہی ضیاء الرحمان بعد ازاں جنرل اور پھر بنگلہ دیش کے صدر بنے۔ 1977 میں صدر بننے کے بعد انہوں نے اپنی خارجہ پالیسی کا رخ بدل دیا اور بھارت پر انحصار کم کرتے ہوئے "pro-Pakistan” رویہ اپنایا۔ ان کے دور میں پاکستان کے ساتھ تعلقات بحال ہوئے، اقتصادی تعاون پر بات ہوئی اور اسلامی دنیا کے ساتھ روابط بھی مضبوط ہوئے۔ اسی دور میں بنگلہ دیش نے او آئی سی (OIC) میں فعال کردار ادا کیا اور سعودی عرب سمیت کئی مسلم ممالک سے قریبی تعلقات قائم کیے۔
مجھے یاد نہیں پڑتا کہ پاکستان نے اس دور میں بنگلہ دیش کے صدر کو ان کے ماضی کی یاد دہانی کرائی ہو یا معافی کا مطالبہ کیا ہو۔ سینیٹر اسحاق ڈار صاحب اور پاکستانی وفود کے اراکین شاید ان حقائق سے باخبر بھی نہ ہوں۔ معلوم نہیں فارن آفس کے پاس بھی یہ تمام ریکارڈ موجود ہے یا نہیں۔
بات ہو رہی تھی ہلی کے ہیرو کی۔ میجر اکرم شہید کی قربانی پاکستان کی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔ ان کی بہادری اور حب الوطنی نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہونی چاہیے۔ ان کی یاد اور قربانی کو زندہ رکھنا ہماری قومی ذمہ داری ہے، لیکن یہ تب ہی ممکن ہوگا جب میڈیا ایسی باتیں عام کرے۔
ہم سب پورا سچ جاننا چاہتے ہیں۔ پاکستان کا مشرقی صوبہ اب الگ ملک ہے۔ تلخ ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنا ضروری ہے، لیکن ان تجربات کے اسباق کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کے اصل ہیرو وہ بہادر فوجی اور عام لوگ ہیں جنہوں نے وطن کے لیے جانیں قربان کیں، اور وہ بے سہارا بہاری اور دیگر اردو بولنے والی برادریاں ہیں جو آج بھی بنگلہ دیش کے کیمپوں میں کرب جھیل رہی ہیں۔ ان کو بھلا دینا ہماری اجتماعی بے حسی ہوگی۔
غداری اور وفاداری، دونوں کو تاریخ کے دو رُخ کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔ لیکن آگے بڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے ہیروز کی قربانیوں کو عزت دیں اور مظلوموں کی داد رسی کریں۔ اچھا ہوتا کہ جب ازسرِنو دوستی کی بات ہو رہی ہے تو سب سے پہلے "پھنسے ہوئے پاکستانیوں” کو وطن واپس لانے کی عملی کوشش کی جاتی۔
اور سب سے بڑھ کر، یہ ہماری قومی ذمہ داری ہے کہ ہلی کے ہیرو، نشانِ حیدر میجر محمد اکرم شہید کی میت کو پورے احترام کے ساتھ ان کے آبائی علاقے جہلم منتقل کیا جائے۔ وہ اس مٹی کے بیٹے ہیں، مہاجر نہیں۔ ان کی واپسی پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ اگر یہ عمل ان کے یومِ شہادت / برسی، 5 دسمبر 2025 سے پہلے مکمل ہو جائے تو یہ پوری قوم کے لیے ایک تاریخی اور شایانِ شان خراجِ عقیدت ہوگا۔
یہ قدم پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کو ایک نئی بنیاد پر استوار کر سکتا ہے۔