گاؤں کا سفر اور زندگی

کل میرا سفر چلاس سے گوہرآباد کا ہوا۔ ارادہ تھا کہ قریبی رشتہ داروں میں حالیہ دنوں ہونے والی دو تین فوتگیوں پر سب کے گھروں میں حاضر ہوکر تعزیت کروں، مگر سب کچھ ارادے کے مطابق نہ ہوسکا۔ یہ بھی اللہ کی منشاء ہے جو انسان کی منشاء کے الٹ ہوتا۔ ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہو۔ انسان اپنی ذات میں کچھ نہیں کرسکتا سوائے کوشش کے۔

چلاس اڈہ سے دوپہر ساڑھے بارہ بجے گوہرآباد جانے والی ایک ہائیس میں بیٹھا۔ سفر شروع ہوا تو دل میں امید تھی کہ دو تین گھنٹے میں آرام سے منزل پر پہنچ جاؤں گا، مگر یہ امید جلد ہی ٹوٹ گئی۔ پسنجر ہائیس نے جگہ جگہ رک رک کر سفر کو اتنا کھینچ دیا کہ تین گھنٹے کا فاصلہ چھے گھنٹوں میں طے ہوا۔ اس دوران اوورلوڈنگ کی وجہ سے درمیان راستہ میں گاڑی کی کمانی ٹوٹ گئی، اور اس مسئلے نے مزید ایک گھنٹہ ضائع کر دیا۔ سخت قسم کی کوفت ہوئی مگر صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

اس سارے تجربے نے مجھے شدت سے یہ احساس دلایا کہ سفر کے معاملے میں ہم لوگ بہت عیش پرست ہوگئے ہیں۔ اپنی سواری نہ ہونے کی وجہ سے انسان دوسروں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ اگر اپنی گاڑی ہوتی تو یہی سفر دو گھنٹوں میں مکمل کرکے سکون سے گوہرآباد پہنچتا اور تمام لواحقین کے پاس جا کر تعزیت کرسکتا تھا۔ اس بے ترتیبی نے یہ حقیقت اجاگر کر دی کہ جیسے اپنی مسجد، اپنا ادارہ اور اپنا گھر ضروری ہیں، اسی طرح ایک ذاتی سواری بھی ہونی چاہیے، ورنہ انسان کو بار بار ایسی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور وقت بھی برباد ہوگا۔

گاؤں کی زندگی کا اپنا ایک الگ ہی لطف ہے۔ میری زندگی شہروں اور دیہات دونوں میں گزری ہے، اس لیے دونوں کے رنگ دیکھے ہیں۔ جب میری طرح شہروں کی بھاگ دوڑ میں زندگی گزارنے والا شخص گاؤں جاتا ہے تو ایک الگ ہی سکون اور خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ گاؤں پہنچ کر درختوں پر چڑھنا، انگور، انار، انجیر اور اخروٹ توڑ کر وہیں بیٹھ کر کھانا بچپن کی یادوں کو تازہ کر دیتا ہے۔ مکئی کاٹنے، اس کے بوٹے الگ کرنے، پھر انہی بوٹوں کو انگاروں پر پکاکر کھانے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ گاؤں کی یہ سادہ سی خوشیاں شہری زندگی میں خواب و خیال معلوم ہوتی ہیں۔

اسی لیے میں اپنے بچوں کو سال میں کم از کم ایک دو بار گاؤں ضرور بھیجتا ہوں تاکہ وہ بھی زندگی کے ان قدرتی رنگوں کو محسوس کریں اور صرف شہری زندگی کے محدود دائرے میں نہ رہیں۔ شہری زندگی بلاشبہ منظم اور سہولیات سے بھرپور ہے، مگر گاؤں کی زندگی انسان کو فطرت کے قریب کر دیتی ہے، اور اس کا اپنا الگ لطف ہے۔

یوں لگتا ہے جیسے شہر انسان کو مشین بناتا ہے، یعنی وہ مشینوں کی طرح ترتیب کیساتھ چل رہا ہوتا ہے، ہر کام مشینی انداز میں مکمل ہوجاتا ہے جبکہ گاؤں اسے اصل انسان ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ یعنی فطرت کے قریب کر دیتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے