بے قابو سی سی ڈی اور پولیس : ججز کا کردار

کوئی بھی معاشرہ اپنی بنیادوں میں عدل و انصاف یا انصاف ملنے کی امید پر کھڑا ہوتا ہے۔ اگر کسی فرد، گروہ، یا ادارے کی طرف سے ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے، تو متاثرہ شخص کی امید اس بات پر ٹکی ہوتی ہے کہ عدلیہ، جو ریاست کا سب سے مضبوط ستون ہے، اسے انصاف فراہم کرے گی۔ عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ افراد، گروہ، اور اداروں کی حدود و قیود کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک متوازن اور منصفانہ فیصلہ دے، لیکن پاکستان کا عدالتی نظام، جو سرمایہ دارانہ استعماری نظام کی باقیات ہے، اس امید کو مسلسل خاک میں ملا رہا ہے۔ یہ نظام پیچیدہ پروسیجرل قوانین سے بھرا ہوا ہے، جو سائل کو سوالی بنا کر اس کی ہمت توڑ دیتے ہیں اور اسے تائب کرنے کا پورا انتظام کرتے ہیں۔

میں، بطور وکیل ، اپنی دس سالہ وکالت کے دوران اس حقیقت کا مشاہدہ کر چکا ہوں کہ کوئی بھی مہذب اور شریف النفس شخص، جو ایک کیس کے بعد عدالتی عمل سے گزرتا ہے، کبھی دوبارہ اس نظام سے رجوع نہیں کرتا—بھلے ہی اسے پہلے کیس میں فتح کیوں نہ مل جائے۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ جو شخص اس نظام سے گزر جاتا ہے، اس کی امید اس نظام سے مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔ بطور وکیل، ہم نئے سائل کو ہمیشہ اس نظام سے امید لگانے کی ترغیب دیتے ہیں، لیکن دل کے اندر کہیں یہ یقین دھندلا جاتا ہے کہ کیا واقعی یہ نظام انصاف فراہم کر سکتا ہے؟

اس نظام کی ناکامی کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر ادارہ اپنا کام کرنے کی بجائے شارٹ کٹ کے راستے ڈھونڈ رہا ہے۔ عدلیہ زور و شور سے متبادل تنازعہ کے حل (اے ڈی آر) کی ترویج کر رہی ہے، جو شاید ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے، لیکن اس کا مقصد بنیادی طور پر پروسیجرل بوجھ کو کم کرنا ہے، نہ کہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا۔ دوسری طرف، پولیس نے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کی بجائے، سی سی ڈی (کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ) کے نام سے ایک نیا باب کھول دیا ہے، جو آئین، قانون، اور شریعت کے صریح خلاف فوری انصاف کے نام پر قتل و غارت کا باعث بن رہا ہے۔مختلف رپورٹس کے مظابق اپریل 2025 میں قائم ہونے والے اس ادارے نے چند ماہ میں 800 سے زائد پولیس مقابلے کئے ، جن میں 480 سے زائد ملزمان مارے گئے اور 300 زخمی ہوئے۔ یاد رہے کہ ان مقتولین یا زخمی میں سے کسی کا جرم عدالت میں ثابت نہیں ہوا۔

عوام میں ان وقعات پر مختلف ردعمل پایا جا رہا ہے۔ کچھ حلقے ان خلاف شریعت اور آئیں اقدامات کی تحسین کر رہے ہیں۔ دراصل، عوام میں سے کچھ حلقوں کی طرف سے اس طرح کے ماورائے آئین اور قانون کے اقدامات کو سپورٹ کرنا اس نظام کے تباہ ہونے اور عوام کے اس نظام پر اعتماد کے خاتمے کی ایک واضح نشانی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ عدلیہ اور پولیس کی تاخیر اور کرپشن کی وجہ سے انہیں فوری انصاف چاہیے، لیکن یہ سوچ خود نظام کی تباہی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس تباہی کا سب سے بڑا ذمہ دار ان کا استعماری بنیادوں پر استوار ہونا اور خود یہ ادارے اور عدلیہ ہیں، جو برسوں سے رشوت، تاخیر، اور ناانصافی کی دلدل میں دھنسی ہوئی ہیں۔ عدالتیں کیسز کو سالوں تک حل کرنے میں ناکام رہیں، پولیس رشوت کے دھندوں میں مصروف رہی، اور نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ ماورائے قانون عمل کو جائز سمجھنے لگے۔

پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، خاص طور پر پولیس، کا حال دن بدن بدتر ہوتا جا رہا ہے۔ سی سی ڈی (کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ) کے علاوہ بھی پولیس تھانے بدترین کرپشن اور ظلم کا استعارہ بنتے جا رہے ہیں۔ اکثر تھانوں میں جھوٹی ایف آئی آرز اور جھوٹی ریکوریز کے ریٹس طے ہو چکے ہیں، جو تفتیشی اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے اپنے ہی ساتھیوں سے "خرید” کر بے گناہ لوگوں کو پھنساتے ہیں۔ زمانہ گزرا جب کرپٹ اہلکاروں کے خلاف کچھ نہ کچھ محکمانہ کارروائی ہوتی تھی اور مظلوموں کو داد رسی مل جاتی تھی، لیکن اب یہ تکلف بھی ختم ہو چکا ہے۔ اس کا ثبوت حالیہ دو کیسز ہیں جو اسلام آباد پولیس کے زوال کی داستان سناتے ہیں۔

یہ واقعات تھانہ سکریٹری ایٹ سے تعلق رکھتے ہیں ،جو کہ ریڈ زون میں واقع ہے، جہاں جنوری-فروری 2025 میں ایک سب انسپکٹر نے دو بزرگ افراد، جن کی عمر 60 سال سے زائد تھی، کو مختلف جگہوں سے اغواء کر کے غیر قانونی حراست میں رکھا۔ ان سے بھتہ وصول کیا گیا اور دو جھوٹےC9(منشیات)کے پرچے تھما دیے گئے۔ ایک بزرگ کو کوسٹر چلاتے ہوئے گرفتار کیا گیا، کوسٹر کو تھانے میں بند کر دیا گیا، اور بعد ازاں ڈیڑھ لاکھ روپے لے کرچھوڑ دیا گیا۔ سب انسپکٹر کی کہانی تھی کہ "مخبر کی اطلاع پر فلاں جگہ کھڑے شخص کو گرفتار کیا گیا(جبکہ کوسٹر کا ذکر ہی غائب)”، لیکن سچائی کچھ اور ہی تھی۔ متاثرین نےانکوائری کی درخواستیں دی اور موقف اختیار کیا کہ سیف سٹی کیمرہ فوٹیجز چیک کی جائیں، اگر وہ جھوٹے ہیں تو مزید پرچہ دیا جائے، اور اگر سچے ہیں تو ایف آئی آرز ختم کی جائیں اور سب انسپکٹر کے خلاف کارروائی ہو۔ کیمرہ فوٹیج نے سب انسپکٹر کے جھوٹ کو بے نقاب کر دیا، لیکن چھ مہینے تک سائلین کو ٹالا گیا۔ آخر میں بتایا گیا کہ سب انسپکٹر کے خلاف کارروائی کی بجائے اسے "ٹرانسفر” کر دیا گیا۔ جب 22 اے کے تحت سب انسپکٹر کے خلاف FIR کے لیے پٹیشن فائل کی گئی، تو مکمل جھوٹ پر مبنی رپورٹس پیش کی گئیں اور سائلین کو عادی مجرم قرار دے دیا گیا۔ ان شاء اللہ ہم ان کیسز کو انجام تک پہنچائیں گے لیکن یہ حالات دارالحکومت اسلام آباد پولیس کے ہیں، جوریڈ زون میں جھوٹے پرچے کاٹ رہی ہے، چھوٹے شہروں کا حال کیا ہو گا!

کیا انہیں اداروں کو مدعی ، مفصف اور جلاد کی ذمہ داری دی جا سکتی ہے؟‼

یہ سب کچھ دیکھ کر یاد آتا ہے کہ کبھی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر "فوری انصاف” اور شریعت کا نفاذ شروع کیا تھا۔ سوات اور وزیرستان میں 2009 میں انہوں نے عوامی عدالتوں کانظام بنایا، جہاں لوگوں کو کوڑوں سے مارا گیا، ہاتھ کاٹے گئے، اور سر عام پھانسیاں دی گئیں۔ اس وقت پورے پاکستان نے اسے دہشت گردی اور قانون کی توہین قرار دیا، لیکن آج ایک سرکاری ادارہ سی سی ڈی اسی طریقہ کار کو اپنا چکا ہے۔ سی سی ڈی کے خلاف شریعت اور ماورائے آئین ا قدامات ، ٹی ٹی پی کی دہشتگردی سےبڑے عفریت اور انتہائی بھیانک المیہ کو جنم دے سکتے ہیں ۔ ٹی ٹی پی کو روکنے کے لیے ریاست تھی، یہاں جب نام نہاد ریاستی ادارے نے ہی قانون ہاتھ میں لے لیا توعوام کا تحفظ اور انصاف کون کرے گا؟!

کیا یہ سب اقدامات معاشرے میں بہتری لائیں گے؟ جواب نفی میں ہے۔ سی سی ڈی جیسے اداروں سے عارضی طور پر جرائم کی شرح کم ہو سکتی ہے، لیکن یہ قانون کی حکمرانی کو ختم کر دے گا۔ جب ادارے خود آئین اور شریعت سے ہٹ کر کام کریں گے، تو یہ دہشت گردی اور بدامنی کا نیا دور شروع ہو جائے گا۔

جبکہ چوری ڈکیتی ، بد امنی اور کسی کی ماں بہن کی عزت محفوظ نہ ہونا اس پورے سڑتے ہوئے نظام کی وجہ سے ہے جسے یہی ادارے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔جب تک اس استعماری نظام کی باقیات پر مبنی نظام تبدیل نہیں ہوتا ، پولیس کو احتساب کے دائرے میں لایا جائے، اور قانون کی حکمرانی کو بحال کیا جائے۔ ورنہ، یہ سارا عمل ایک ایسی آگ بن جائے گا جو ہمارے معاشرے کو اپنی بنیادوں سے ہلا دے گی۔

المیہ یہ ہے کہ بہت سے ججزاپنی اہمیت کسی تھانے کے اسی ایچ او جتنی سمجھتے ہیں جوانہی پولیس کی رپورٹس کو،بغیر کسی تنقیدی جائزے کے، کسی مقدس صحیفہ کی طرح تسلیم کرتے ہیں۔ججز کو اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ جج اور ایس ایچ او کے فرق کو سمجھنا ہو گا۔جج کی ذمہ داری ہر ادارے پر چیک رکھتے ہوے انصاف فراہم کرنا ہے نہ کہ کسی ادارے کے غیر قانونی کاموں کو تحفظ فراہم کرنا۔

یاد رہے کہ یہ ادارے اپنے جرائم کا ذمہ دار کلی طور پر عدلیہ کو ٹھہراتے ہیں، یعنی "چونکہ عدلیہ انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہی، اس لیے سی سی ڈی اور پولیس کو "فوری انصاف” کی ذمہ داری اٹھانی پڑی”۔ ایسے میں عدلیہ کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے، اسے نہ صرف اپنی ناکامیوں کا ازالہ کرنا ہوگا بلکہ معاشرے میں اعتماد بحال کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا عدلیہ پولیس کے ان کارروائیوں، جو آئین، قانون اور شریعت کے خلاف ہیں، کو قانونی چھتری فراہم کرے گی، یا اپنی بنیادی ذمہ داری نبھائے گی اور ان غیر قانونی اقدامات کے خلاف کھڑی ہوگی؟

یہ فیصلہ عدلیہ کے کردار کو متعین کرے گا اور اس بات کا تعین کرے گا کہ کیا پاکستان میں قانون کی حکمرانی باقی رہ سکتی ہے یا یہ اداروں کا خود ساختہ انصاف معاشرے کو مزید تباہی کی طرف لے جائے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے