6 ستمبر 1965 وہ دن ہے جب پوری قوم نے دشمن کے مقابلے میں اپنے سرحدی دفاع کا اتحاد کر کے ثابت کیا کہ پاکستان ایک زندہ، باشعور اور بے خوف قوم ہے۔ اس دن بھارت نے اچانک پنجاب کی سرزمین پر حملہ کیا، لیکن پاکستانی جوانوں نے نہ صرف اس جارحیت کو پسپا کیا بلکہ دشمن کو یہ باور کروایا کہ قوم کی حفاظت ہر مسلمان کے دل میں سر فہرست ہے ۔ اس یادگار دن نے ہمیں یہ سبق دیا کہ دفاعِ وطن صرف فوج کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پوری قوم کا فرض ہے۔
چالیس سال گزرنے کے بعد، یومِ دفاع کے چہلم پر نکلنے والی میراث آج تک ہماری ثقافت کا اہم جزو ہے—پرچم کشائی، سول و فوجی تقاریب، اور شہداء کو خراجِ عقیدت کی جاتی ہے۔ 1965 کی اس جنگ نے ہمیں ایک غیر متزلزل قوم کی پہچان دی، جس میں افواج اور عوام کا اتحاد ناقابل شکست تھا۔
آج، یعنی 6 ستمبر 2025 کو یہ دن اپنے 60ویں ورژن میں منا یا جا رہا ہے، اور اس بار حکومتی سطح پر قومی دفاع اور استحکام کو نئی جہت دی گئی ہے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے مشترکہ پیغامات میں اس دن کو "جرات، وحدت اور عزم” کا دن قرار دیا ہے، اور ماضی کی قربانیوں کے ساتھ حالیہ دفاعی کارروائیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا ہے ۔
گذشتہ ماہ مئی 2025 میں پاکستان نے بھارت کے خلاف "آپریشن بنیاں-اُم-مرصُوص” کو کامیابی سے انجام دیا، جس پر مسلح افواج کی پیشہ ورانہ تیاری اور عزم کو سراہا گیا۔ اسی تناظر میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایک نیا قدیمی قدم اٹھاتے ہوئے "آرمی راکٹ فورس کمانڈ” کے قیام کا اعلان کیا، جو مستقبل میں میزائل صلاحیتوں کی نگرانی اور حکمت عملی کو مزید مضبوط کرے گا ۔
اسی کے ساتھ، پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی، جو اس عہد کی اہمیت اور افواج کی کامیابیوں کا آئینہ دار ہے۔ انہیں میڈیا کے مطابق، "Operation Bunyan-um-Marsoos” میں شاندار قیادت پر یہ اعزاز دیا گیا، جبکہ 16 مئی کو پہلی بار "یومِ تشکر” کے طور پر منایا گیا، تاکہ قوم اپنی مسلح افواج کے شجاعتی کردار پر شکرانہ ادا کر سکے ۔
نتیجہ یہ ہے کہ 6 ستمبر 1965 سے لے کر آج 2025 تک، یومِ دفاع نے ایک قومی فعل سے بڑھ کر ایک تحریک کی شکل اختیار کی ہے—جو یاد، قربانی، اور ہر دور میں نئے چیلنجوں کے سامنے قوم کے عزم کا مظہر ہے۔ آج کے دور میں، جب ہم نے مسلح افواج کو جدید خطوط پر استوار کیا ہے، نوجوانوں میں قومی اتحاد کا جذبہ پھل پھول رہا ہے، اور دفاعی اداروں کی مضبوطی نئے عہد کی بنیاد ہے—تو ہمیں وہی سبق یاد رکھنا چاہئے جو 60 برس پہلے سیکھا گیا، یعنی کہ "پاکستان زندہ باد” کی صدا ہمیشہ بلند رہے گی۔