گزشتہ چند برسوں سے گلگت بلتستان میں سرکاری سطح پر عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے کا باضابطہ آغاز ہوچکا ہے۔ اس کی ابتدا سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید کے دورِ حکومت میں ہوئی، جب پہلی مرتبہ گلگت بلتستان اسمبلی میں میلاد النبی ﷺ کے سلسلے کا آغاز کیا گیا۔
پھر یہ روایت دیکھتے ہی دیکھتے پورے خطے میں پھیلتی گئی، یہاں تک کہ اس سال ربیع الاول میں تمام سرکاری اداروں کو باقاعدہ احکامات جاری کیے گئے کہ وہ میلاد کی محفلیں منعقد کریں۔ اس کے بعد مختلف محکموں نے سرکاری سرپرستی میں محافل کا سلسلہ شروع کیا اور محکمہ اطلاعات گلگت بلتستان کی آفیشل ویب سائٹ سے ان تقریبات کی بھرپور تشہیر بھی کی جارہی ہے۔
قرائن یہ بتاتے ہیں کہ آنے والے چند سالوں میں ان میلاد محفلوں کے حوالے سے علاقے میں تنازعات جنم لیں گے اور پھر حالات کو قابو میں لانے کے لیے امن معاہدات تک لکھنے پڑیں گے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں اہل سنت والجماعت کی اکثریت دیوبندی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتی ہے، اور ان میں بھی بالخصوص اشاعتِ توحید و سنت کے ماننے والے غالب ہیں۔ ایسے ماحول میں سرکاری سطح پر میلاد النبی ﷺ کی محفلیں سجانا خطے کو مذہبی اختلافات اور تفرقہ بازی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہوگا۔ میں سماجی علوم کا طالب علم. ہوں، گلگت بلتستان میں قیام امن اور سماجی ہم آہنگی کے لیے تحقیقی کام کیا ہے، جی بی کے سماج میں اکثر و بیشتر مختلف مکاتب فکر کے اس طرح کے اجتماعات و تقاریر کی وجہ سے تنازعات پیدا ہوئے اور بڑے نقصانات ہوئے اور امن معاہدات بھی ہوئے۔
اہل سنت کے معتدل اور بصیرت والے عالمِ دین مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ نے میلاد النبی ﷺ کے موضوع پر نہایت جامع اور مدلل تحریر قلم بند کی ہے، جو ان کی مشہور کتاب اختلافِ امت اور صراطِ مستقیم میں بھی شامل ہے اور جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔ اہلِ علم، محققین اور عامۃ الناس کی آگاہی کے لیے ہم اس مضمون کا خلاصہ یہاں پیش کر رہے ہیں، تاکہ گلگت بلتستان کے عوام کو میلاد النبی ﷺ کے حوالے سے مکمل اور مستند رہنمائی حاصل ہو سکے۔
خلاصہ ملاحظہ فرمائیے۔ اور کمنٹس میں ویب سائٹ کی لنک بھی دی جارہی ہے۔ جو احباب مفصل مضمون پڑھنا چاہتے ہیں وہ لنک پر کلک کر کے پڑھیں۔
عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم”
بارہ(١٢) ربیع الاول کو حضور ﷺ کا ’’جشن عید‘‘ منایا جاتا ہے حالانکہ یہ اہلِ سنت کا شعار نہیں تھا۔
1. ذکرِ رسول ﷺ
حضور ﷺ کا ذکرِ خیر اعلیٰ ترین عبادت اور روحِ ایمان ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو امت کے لیے اسوۂ حسنہ ہے۔ آپ کے احباب، ازواج، اولاد اور آپ سے منسوب ہر چیز کا تذکرہ بھی عبادت ہے۔
2. حیاتِ طیبہ کے دو حصے
پہلا حصہ ولادت سے قبلِ نبوت تک اور دوسرا بعثت سے وصال تک۔ دوسرا حصہ مکمل طور پر حدیث و سیرت کی شکل میں محفوظ ہے، جو اسلام کا عظیم اعجاز ہے۔ سیرت بیان کرنے کے دو طریقے ہیں۔
زندگی کو سیرتِ طیبہ کا عملی نمونہ بنانا۔
ہر موقع پر سیرت کا تذکرہ کرنا۔
صحابہ و تابعین دونوں طریقوں پر عمل کرتے تھے۔
3. سلف صالحین کا طرزِ عمل
ان کے ہاں الگ سے ’’سیرت‘‘ یا ’’میلاد‘‘ کے جلسوں کی ضرورت نہ تھی، کیونکہ ان کی پوری زندگی سیرت کے سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی۔ لیکن بعد کے زمانوں میں عمل کے بجائے محض گفتار باقی رہ گئی۔ آج زیادہ تر لوگ سال میں ایک دو مرتبہ نعرے لگا کر سمجھتے ہیں کہ حق ادا ہوگیا، حالانکہ ان کی زندگیوں میں سیرت کی جھلک تک نہیں۔
4. میلاد کی ابتدا
چھ صدیوں تک امت میں ’’محفل میلاد‘‘ کا وجود نہیں تھا۔ سب سے پہلے ۶۰۴ھ میں سلطان ابو سعید مظفر اور ابن دحیہ نے اس کا آغاز کیا۔ ابتدا میں اس میں تین امور تھے:
بارہ ربیع الاول کی تاریخ کا تعین۔
علماء و صلحاء کا اجتماع۔
ختم پر ایصالِ ثواب کے لیے طعام۔
بعد میں عوامی رسم بن کر اس میں نئی نئی خرافات شامل ہو گئیں۔
5. بدعت کا پہلو
صحابہ و تابعین کے دور میں یہ عمل نہیں تھا، مگر آج اسے ’’اسلام کا شعار‘‘ سمجھا جاتا ہے اور نہ کرنے والوں کو دشمنانِ رسول کہا جاتا ہے۔ حالانکہ اسلام مکمل ہوچکا تھا، اس میں اپنی طرف سے اضافہ نہیں ہوسکتا۔
یہ رسم عیسائیوں کی تقلید میں شروع ہوئی، کیونکہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یومِ ولادت مناتے تھے۔ اسلام نے سالگرہ منانے کی رسم ختم کی تھی کیونکہ
اسلام نمود و نمائش کا قائل نہیں بلکہ دلوں کی اصلاح اور انسان سازی چاہتا ہے۔
اسلام سدا بہار پیغام ہے، کسی خاص دن کا مرہونِ منت نہیں۔
6. عید میلاد کہنا کیوں غلط؟
دنیا بھر کے مسلمانوں کو معلوم ہے کہ حضور ﷺ نے دو عیدیں مقرر کیں: عیدالفطر اور عیدالاضحی۔
اگر یومِ ولادت کو عید کہنا درست ہوتا تو حضور ﷺ یا خلفائے راشدین ایسا کرتے۔
بارہ ربیع الاول کو حضور ﷺ کا وصال بھی ہوا، اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ جشن ولادت کے لیے یہی دن کیوں چنا گیا؟
اسلامی اصطلاح ’’عید‘‘ کا غلط استعمال دین میں تحریف ہے۔
7. محفلوں کی موجودہ حالت
آج ان محفلوں میں موضوع قصے، غلط نعتیں، شور شرابہ، نمازوں کی بربادی، اور طرح طرح کی خرافات شامل ہیں، حتیٰ کہ یہ عقیدہ بھی رائج ہے کہ حضور ﷺ بنفس نفیس محفل میں تشریف لاتے ہیں، جو شدید گمراہی ہے۔
خلاصہ کلام
میلاد کی محفلیں ابتدائی چھ صدیوں میں نہیں تھیں۔ یہ رسم عیسائیوں کی تقلید اور مسلمانوں کی کمزوری کے نتیجے میں آئی۔ اسے ’’عید‘‘ کہنا تحریف ہے اور موجودہ محافل کا حال حضور ﷺ کی شان کے خلاف اور اسلام کے مزاج سے متصادم ہے۔
فیا غربۃ الإسلام! ہائے اسلام کی بیچارگی! ”
(کتاب: اختلاف امت اور صراط مستقیم)