رات کا وقت، کھلا آسمان اور میرا دیرینہ معمول: سکون کے تلاش اور حقیقت سے قربت کا سفر

مجھے رات کے وقت آسمان کی طرف دیکھنا بے انتہا سکون دیتا ہے۔ یہ وہ موقع ہوتا ہے کہ کچھ دیر کے لیے ہی سہی لیکن میں زمین کے بوجھ اور ناگواری کو بھول کر آسمان کی پر سکون لطافت میں کھو جاتا ہوں۔ اس اہتمام سے میرے دل، ذہن اور روح پر نہایت خوش گوار اثرات مرتب ہوتے ہیں اور کیا بعید کہ ایسی تاثیر صحت پر بھی ہوں۔

ہم انسانوں نے بدقسمتی سے خود غرضی، بے حسی، ہوس پرستی، حق تلفی اور ستم ظریفی جیسی علتوں کو عمل میں لا کر اس دنیا کے ماحول کو ٹھیک ٹھاک کبیدہ اور حالات کو رہنے کے لیے سخت ناموزوں بنائے ہیں۔ ہمیں احساس نہیں کہ ایک ایک ظلم، ایک ایک جھوٹ، ایک ایک بے عزتی اور ایک ایک ناروا سلوک سے اس زمین کے اوپر کس قدر تباہی اور بربادی میں اضافہ ہوتا ہے اور پھر نتیجتاً انسانوں کی زندگی کن کن شکلوں میں جا بجا متاثر ہوتی ہے۔

میرے خیال میں اس بحران کا فوری اور دیر پا حل یہ ہے کہ ہم توجہ اور یکسوئی سے کچھ دیر کے لیے آسمان اور آسمان والے کی طرف دیکھ لیں اور کچھ زمینی حال احوال اور آسمانی قال و مقال پر غور کریں اور اپنے خالق و مالک سے کچھ دیر کے لیے سمٹ کر ہم کلام ہو۔ اپنے آخری انجام کو بھول کر ہم انسانوں نے اس دنیا کو محض شغل مشغلے اور عیش و عشرت کا میدان سمجھا ہوا ہے اور یہ حقیقت نظر انداز کر دیا ہے کہ آگے ہم نے جانا کہاں ہیں اور پیش ہونا کس کے سامنے ہیں۔

عیش و عشرت اور مفاد و لذات میں ڈوب کر بھی ہر طرف پھیلے لڑائی جھگڑوں، شور و غوغا اور نفرت و حقارت کے ارتکاب سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ انسان حقیقی سکون و اطمینان کی دولت سے محروم ہے اور اسے سمجھ نہیں آرہا کہ کہاں سے قرار پائے۔ میرے خیال میں زمین و آسمان کے درمیان ضروری ہم آہنگی کا فقدان پیدا ہوا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم یہ ہم آہنگی بڑھائے اور اس کی نقد صورت یہ کہ رات کے اندھیرے میں کھلے آسمان کو گھڑی بھر، نظر بھر کر دیکھ لیں۔

‎رات کا آسمان محض ستاروں کی چھت نہیں، یہ تو انسان کی تنہائی کا رفیق و حمیم ہے جو اسے کائناتی تنہائی اور بلندی سے ملاتا ہے۔ جب ہم زمین کی مصنوعی روشنیوں اور بے ہنگم شور شرابے سے دور ہو کر اس لا محدود نیلگوں وسعت کی طرف دیکھتے ہیں، اور اس میں چھپی راحت کو محسوس کرتے ہیں تو درحقیقت ہم اپنے اندر کی گہرائیوں میں اتر کر پھیل جاتے ہیں اس تجربے میں ہمیں اپنے دل و اور روح و وجدان کا پتہ چلتا ہے۔ یہ عمل محض نظروں کی سیر نہیں، بلکہ روح کا ایک پراسرار آسمانی سفر ہے۔

‎ادب کی تاریخ آسمان کے ساتھ انسانی رشتے کی طویل ترین داستان ہے۔ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ زمین پر اتارنے کے بعد پہلی نظر جو بابائے آدم کی پڑی تھی وہ آسمان پر پڑی تھی۔ اقبال نے جب کہا "ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں”، تو وہ محض فلکیاتی حقیقت بیان نہیں کر رہے تھے، بلکہ انسانی روح کی لامتناہی خواہشات کی عکاسی کر رہے تھے۔ میر تقی میر نے آسمان کو اپنے غم کی وسعت کا پیمانہ بنایا۔ مغربی ادب میں ورڈزورتھ نے چاندنی راتوں میں روح سے اتحاد کا ذکر کیا۔ یہ سب اس بات کی شہادت ہے کہ آسمان انسان کے لیے محض ایک طبیعیاتی وجود نہیں، بلکہ ایک علامتی حقیقت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے وجود کے عمیق ترین جذبات کے ساتھ وابستہ ہے۔

‎نفسیاتی نقطہ نظر سے آسمان کی طرف دیکھنا درحقیقت خودی کی وسعت کا عمل ہے۔ کارل گستاؤ جنگ (سویٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے معروف ماہر نفسیات) کے مطابق انسان لا شعوری طور پر کائنات سے یکجہتی کی تلاش میں ہے۔ رات کے سامنے ہماری یہ خاموش گفتگو درحقیقت ہمارے شعور اور لا شعور کے درمیان ایک پل تعمیر کرتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب ہماری انا کی حدیں مٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں اور ہم ایک وسیع تر کائناتی وجود کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ عمل ہمارے داخلی تناؤ کو کم کرتا ہے اور ہمیں وجودی تنہائی کے احساس سے نجات دلاتا ہے۔

‎کائناتی جمالیات کے تناظر میں رات کا آسمان فن کی اعلی ترین شکل ہے۔ اس میں رنگوں کی ہم آہنگی، روشنی اور تاریکی کا توازن، اور ایک غیر مرئی ترتیب کا احساس موجود ہے۔ یہ وہ شاہکار ہے جسے دیکھنے کے لیے نہ تو ٹکٹ کی ضرورت ہوتی ہے نہ ہی کسی میوزیم میں جانے کی۔ یہ ہر انسان کو یکساں طور پر میسر ہے، بشرطیکہ وہ گہرائی کے ساتھ دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اس منظر کے سامنے انسان میں جس لطیف حیرت اور خوشگوار کیفیت کا احساس پیدا ہوتا ہے، وہی درحقیقت حقیقی جمالیاتی تجربے کی واضح علامت ہے۔

‎روحانی سطح پر آسمان کی طرف دیکھنا ایک طرح کی مراقبے کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ صوفیائے کرام نے ہمیشہ خلوت اور تنہائی میں آسمانوں کی طرف دیکھنے پر زور دیا ہے۔ یہ عمل ہمیں مادی دنیا کی محدودیت سے نکال کر روحانی وسعت عطا کرتا ہے۔ رومی نے اسے "عشق کی پرواز” قرار دیا ہے جہاں انسان اپنے جسم کے قفس سے نکل کر لا محدود امکانات کی طرف پرواز کرتا ہے۔ ہمارا وجود جن دو بنیادی عناصر کا مرکب ہے ان میں سے ایک یعنی مٹی زمین سے لی گئی ہے اور دوسرا یعنی روح آسمان سے۔ روح زمین کی نسبت آسمان سے سے زیادہ مانوسیت رکھتی ہے۔

‎سائنسی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ فطری مناظر دیکھنا، خاص طور پر آسمان، ہمارے تناؤ کے ہارمونز کی سطح کو کم کرتا ہے۔ یہ عمل دل کی دھڑکن کو معمول پر لاتا ہے، بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے، اور مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔ رات کے وقت آسمان کو دیکھنا ایک طرح کی طبیعیاتی مراقبے کی کیفیت پیدا کرتا ہے جو ہمارے اعصابی نظام کو کافی سکون اور ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔

‎آج کی تیز رفتار، شور بھری اور مصنوعی روشنیوں سے چکا چوند دنیا میں جہاں ہماری توجہ ہر لمحہ مختلف سمتوں میں بکھری جاتی ہے، آسمان کی طرف دیکھنا باقاعدہ ایک علاج بن گیا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اس سے کہیں زیادہ اہم، وسیع اور بڑے ہیں جو ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں خود کو دیکھتے ہیں۔ یہ ہمیں تواضع سکھاتا ہے اور یہ حقیقت بھی کہ ہماری تمام تر مصروفیات، خواہشیں اور پریشانیاں اس وسیع کائنات میں ایک چھوٹے سے ذرے کے برابر بھی نہیں۔

‎آسمان کی طرف دیکھنا محض ایک مشغلہ نہیں، بلکہ ہماری فطری ضرورت ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جو ہمیں ہمارے اصل مرکز سے جوڑتا ہے۔ جب ہم ستاروں کی طرف دیکھتے ہیں، تو درحقیقت ہم اپنی اصل کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں کیونکہ ہمارے جسم کے تمام تر کیمیائی عناصر کسی نہ کسی ستارے کے دھماکے سے وجود میں آئے ہیں۔ ہم واقعی ستاروں کے بچے ہیں، اور رات کے آسمان کی طرف دیکھنا درحقیقت اپنے اصلی گھر واپسی کی تمنا ہے۔

‎یہ وہ سکون ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم کیا ہیں، اور کیا ہو سکتے ہیں۔ یہ وہ موقع ہے جب ہم اپنی محدودیتوں کو عبور کر کے لامتناہی امکانات سے روبرو ہوتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آسمان کی طرف دیکھنا ہمیں اتنا زیادہ سکون دیتا ہے۔ رات کی پر سکون گھڑیوں میں آسمان کی جانب دیکھنا، ہمیں خود سے، خدا سے اور کائناتی ممکنات سے ملانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے