آفت زدہ وادیوں کی خاموش صدائیں

سفر میں جانے سے پہلے اور سفر سے آنے کے بعد آپ پہلے جیسے نہیں رہتے آپ سٹوری ٹیلر بن جاتے ہوں لوگ آپ کے پاس جمع ہوتے ہیں اور آپ سے آپ کے سفر نامے سننے کے لیے بے تاب ہوتے ہیں۔

سالوں پہلے میں شانگلہ آئی تھی اس کے پہاڑ ان پہاڑوں میں موجود گھر اور ان گھروں میں بسنے والے پیارے لوگوں سے میں جب دوبارہ ملنے انہیں راستوں سے گزری تو وہی سبز اور خوش آمدید کہنے والے پہاڑ آب خاموش تھے وہاں کی ہوائیں مرثیہ سنا رہی تھی ۔

مجھے ہسپتالوں کی، فیملی ہوم کی، اور پھر قدرتی آفات میں تباہ ہونے والی گھروں کی اداسیاں اپنی طرف کھینچتی ہے اور میری آنکھوں کو خاموش اور روح کو عجیب سا کر دیتی ہے۔

مجھے بہت ساری چیزوں کی سمجھ نہیں آتی یا میں کچھ زیادہ سوچنے لگی ہوں کہ لوگ کیسے اپنی تصویریں مزے سے لیتے ہیں حالانکہ اس علاقے پہ قیامت گزر چکی ہوتی ہے اور آپ تصویریں اور ویڈیوز بنا کر یہ دیکھانے کی کوشیش کرتے ہوں کہ آپ سیر سپاٹے پہ گئے ہو تو سمجھ لے آپ گھر سے نیت کرکے ہی نہیں نکلے آپ ان کی بےبسی کو اپنی سیلفیز کی صورت میں آڑا دیتے ہوں۔

لوگ کیسے اس مال کو پیٹ میں لقمے کی صورت میں کھا لیتے ہیں جو ہوتی امداد ہیں۔ بڑی حیرت ہوتی ہے ۔

مجھے،اس امداد میں دکھاوا اس صورت میں بھی ہوتا ہے کہ آپ جان لیے جاتے ہوں آپ کی آنکھوں کی بھوک پروموشن کی صورت میں ایسے ظاہر ہوتی ہے کہ ان غرباء کے داستاں زدہ چہرے آپ پہ قہقہے لگا رہی ہوتی ہے۔
خدارا نہ کرے ایسا ۔۔۔
اپنی نیت کو جائے نماز پہ ہی ٹھیک کر کے نکلے ۔۔۔۔
نہ بنائے اپنی مسکراتی ہوئی تصویریں ان جگہوں پر۔۔۔۔۔

یہ آفت زدہ جگہیں ہے ہیں کہیں یہ ٹوٹے پھوٹے گھر آپ کو بددعا نہ دے دیں اور آپ سالوں یہ سوچتے سوچتے گزار دے کہ یہ کسی بے چینی ہے جو دل کو تنگ اور روح کو بوجھل کرتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے