عورت، جرم اور جیل کا جبر

پاکستان جیسے روایتی اور پدرشاہی معاشرے میں عورت ہمیشہ سے ایک نازک، باوقار اور خاندانی نظام کی بنیاد کے طور پر دیکھی جاتی رہی ہے۔ معاشرہ اسے ایک ایسی ہستی کے طور پر دیکھتا ہے جس کی عزت، کردار اور وفاداری سے خاندان کا وقار جڑا ہوتا ہے۔ لیکن یہی سماج، جب کوئی عورت کسی بھی وجہ سے جیل کی چار دیواری میں قید ہوتی ہے، تو اس کے ساتھ انتہائی سفاک اور سنگ دلانہ رویہ اختیار کر لیتا ہے۔ جرم ثابت ہو یا نہ ہو، عورت کو محض قیدی ہونے کی بنیاد پر ’گناہ گار‘ سمجھا جاتا ہے۔ اسے معاشرتی بدنامی، طعن و تشنیع، اور تنہائی کا شکار بنایا جاتا ہے۔ اس کی نسوانیت، اس کی ذات، اس کی شناخت سب کچھ ایک لمحے میں مٹا دیا جاتا ہے۔ دیہی اور غریب پس منظر سے آنے والی یہ خواتین، جو پہلے ہی تعلیمی و مالی محرومی کا شکار ہوتی ہیں، قانونی پیچیدگیوں کو سمجھنے سے قاصر ہوتی ہیں، اور ان کے پاس نہ کوئی وکیل ہوتا ہے، نہ کوئی مشیر، نہ ہی کوئی سہارا۔

ان کا اپنا خاندان بھی اکثر ان سے منہ موڑ لیتا ہے۔ بچوں سے بچھڑنے کا کرب، ازدواجی رشتوں کا ٹوٹ جانا، اور معاشرے کی بے حسی ان کی زندگی کو ناقابلِ برداشت بنا دیتی ہے۔ یوں، جیل کی سزا ایک پہلو ہوتی ہے، جبکہ معاشرتی اور نفسیاتی سزائیں کئی گنا زیادہ اذیت ناک ثابت ہوتی ہیں۔ اس پس منظر میں ان خواتین کی بحالی اور واپسی کا عمل ایک نہایت دشوار بلکہ تقریباً ناممکن مرحلہ بن جاتا ہے۔

قانونی نظام کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ یہاں صنفی حساسیت کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔ عدالتی نظام میں مردوں کی اجارہ داری اور خواتین کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ عدالتیں، تھانے، پراسیکیوشن آفس سب وہ مقامات ہیں جہاں خواتین اکثر غیرمحفوظ، غیرمحفوظ تر اور آخر کار بے یار و مددگار نظر آتی ہیں۔ تفتیش کے دوران مرد افسران کے ہاتھوں ذہنی اور جسمانی استحصال کی خبریں عام ہیں، مگر شکایت کا کوئی مؤثر اور محفوظ ذریعہ موجود نہیں۔ منشیات جیسے جرائم میں، خواتین کو نادانستہ طور پر استعمال کر لیا جاتا ہے، لیکن سزا کے وقت انہیں کسی نرمی یا رعایت کا مستحق نہیں سمجھا جاتا۔

حالانکہ قانون میں خواتین کے لیے خصوصی شقیں موجود ہیں، مثلاً ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497، مگر اکثر ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ عدالتیں، جنہیں انصاف کی علامت سمجھا جاتا ہے، خود اکثر غیرلچکدار رویہ اپناتی ہیں۔ گویا قانون، جسے کمزور کی ڈھال ہونا چاہیے تھا، خواتین قیدیوں کے لیے ایک اور دیوارِ ظلم بن جاتا ہے۔

معاشی ناہمواری بھی ایک اہم عنصر ہے جو ان خواتین کے مسائل کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ ان میں سے اکثر غریب گھروں سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے پاس وکیل کی فیس ادا کرنے کی سکت نہیں ہوتی، اور نہ ہی وہ قانونی زبان یا عدالتی کارروائیوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ریاستی سطح پر جو قانونی امداد فراہم کرنے کے لیے ادارے قائم کیے گئے ہیں، جیسے ویمن ان ڈسٹریس اینڈ ڈیٹینشن فنڈ اور لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی ایکٹ، وہ بھی ناکافی وسائل، غیر تربیت یافتہ عملے اور محدود دائرہ کار کے باعث تقریباً غیر مؤثر ہو چکے ہیں۔ ان اداروں کی نااہلی کا خمیازہ وہ عورتیں بھگتتی ہیں جو ضمانت جیسے ابتدائی قانونی حقوق سے بھی محروم رہ جاتی ہیں۔

مذہبی اور ثقافتی اقدار جو معاشرتی تربیت کا اہم ستون سمجھی جاتی ہیں، قیدی خواتین کے لیے الٹا ایک نفسیاتی بوجھ بن جاتی ہیں۔ عورت کی عزت کو مذہبی شعائر کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے، اور جب کوئی عورت جیل جاتی ہے تو یہ تصور پختہ کر دیا جاتا ہے کہ اس نے نہ صرف قانون بلکہ مذہب کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مذہبی ادارے، جو اصلاح اور بحالی کا مرکز بن سکتے تھے، ان خواتین سے لاتعلقی برتتے ہیں۔ حالانکہ اسلام ایک دینِ رحمت ہے، جو توبہ، معافی اور اصلاح کا درس دیتا ہے، لیکن عملی سطح پر عورت کو کوئی راستہ نہیں دیا جاتا۔ وہ چاہے بے گناہ ہو یا محض زیرِ سماعت مقدمے میں ہو، اسے معاشرے میں دوبارہ جگہ نہیں دی جاتی۔

عالمی سطح پر اگر دیکھا جائے تو خواتین قیدیوں کے لیے جو رہنما اصول مرتب کیے گئے، جیسے اقوامِ متحدہ کے 2010ء کے ’بنکاک رولز‘، وہ نہایت مفصل اور انسانی بنیادوں پر مبنی ہیں۔ ان میں خواتین کی صحت، نفسیاتی معاونت، بچوں کے ساتھ رہائش کی سہولت، اور بحالی پروگرامز جیسے اقدامات شامل ہیں۔ پاکستان نے ان قواعد پر دستخط تو کر رکھے ہیں، مگر ان کا عملی نفاذ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ جیلوں میں نہ تو خواتین کے لیے علیحدہ اور معیاری وارڈز ہیں، نہ صحت کی سہولیات، اور نہ ہی ماہر نفسیات کی خدمات میسر ہیں۔ حاملہ خواتین، مائیں اور بچوں کے ساتھ قید عورتیں سب کی سب ایک جیسی کسمپرسی اور توجہ کی کمی کا شکار ہیں۔ بنکاک رولز کا اطلاق اگر مؤثر انداز میں کیا جائے تو خواتین قیدیوں کی زندگی میں ایک حقیقی اور مثبت تبدیلی ممکن ہے۔

قیدی خواتین کی رہائی کے بعد کا مرحلہ بھی کسی آزمائش سے کم نہیں۔ بحالی کے نام پر کوئی مربوط یا مؤثر پروگرام موجود نہیں، جو انہیں ایک بار پھر معاشرے کا فعال حصہ بنا سکے۔ نہ روزگار کی تربیت، نہ تعلیمی سہولت، نہ ہی کوئی نفسیاتی بحالی۔ رہائی کے بعد وہ اسی پسماندگی، غربت اور بے کسی کی طرف لوٹتی ہیں، جو انہیں پہلے جرم کے دہانے تک لے آئی تھی۔ یہ ایک ایسا دائرہ ہے جس سے نکلنا ممکن نہیں جب تک ریاست، سول سوسائٹی اور نجی شعبہ مل کر بحالی پروگرامز کو فعال نہ بنائیں۔

خاندان، جو کسی بھی عورت کا پہلا اور سب سے مضبوط سہارا ہوتا ہے، قید کی صورت میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ پیچھے ہٹتا ہے۔ ایک مرد قیدی کے لیے اس کی بیوی، بہن یا ماں ہمیشہ ڈھال بن کر کھڑی رہتی ہے، مگر جب عورت قیدی ہو تو اس کا شوہر، سسرال، حتیٰ کہ والدین بھی اکثر اسے تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔

وہ نہ صرف قانونی بلکہ جذباتی اور سماجی سطح پر بھی بالکل اکیلی رہ جاتی ہے۔ بچوں سے جدائی، طلاق، یا مستقبل میں شادی کے امکانات کا خاتمہ اس کی زندگی کو اور زیادہ زہر آلود بنا دیتا ہے۔ ایسی صورتحال میں فیملی سپورٹ کی عدم موجودگی اسے مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار کر دیتی ہے۔

میڈیا اور سول سوسائٹی کا کردار بھی اس تناظر میں نہایت اہم ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستانی میڈیا قیدی خواتین کو سنجیدگی سے لینے کی بجائے انہیں سنسنی خیز انداز میں دکھاتا ہے۔ انہیں جرم کی علامت، اخلاقی گراوٹ کی نشانی یا ’بری عورت‘ کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، میڈیا کو چاہیے کہ وہ ان خواتین کی قانونی مشکلات، نفسیاتی دباؤ اور سماجی بائیکاٹ جیسے مسائل کو اجاگر کرے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی صرف بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے، جیسے قانونی معاونت، تربیت، آگاہی مہمات اور بحالی مراکز کا قیام۔

جیلوں میں تعلیم کا بھی کوئی جامع نظام نہیں ہے۔ زیادہ تر خواتین قیدی یا تو ناخواندہ ہیں یا محض ابتدائی درجے کی تعلیم رکھتی ہیں۔ تعلیمی محرومی ان کی خود اعتمادی اور قانونی فہم کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ نفسیاتی مسائل کی شدت اس وقت بڑھ جاتی ہے جب قید کے دوران تنہائی، معاشرتی تضحیک، عدالتی عمل کی طوالت اور جنسی ہراسانی جیسے عوامل ان کے ذہن پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ ڈپریشن، بے چینی اور اضطراب عام ہوتے ہیں، مگر جیلوں میں تربیت یافتہ نفسیاتی معاونین کی کمی یا غیر موجودگی ان مسائل کو بڑھا دیتی ہے۔

پولیس، جو کسی بھی قانونی عمل کا پہلا دروازہ ہے، وہاں صنفی تعصب اور بدعنوانی معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔ خواتین کے ساتھ تفتیش کے دوران جنسی ہراسانی، جسمانی تشدد اور دھمکیاں دینا ایک کھلی حقیقت ہے۔ اکثر تھانوں میں خواتین اہلکار موجود نہیں ہوتیں، جس کے باعث خواتین قیدیوں کے تحفظ کی ضمانت دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ پولیس اصلاحات وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہیں، جن میں خواتین کے لیے مخصوص تربیت، تحفظ، اور شفافیت کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ ہر تھانے میں خواتین ہیلپ ڈیسک، تربیت یافتہ خواتین اہلکار، قانونی مشیر، اور سی سی ٹی وی نگرانی کا مؤثر نظام ہونا چاہیے تاکہ ابتدائی سطح پر ہی خواتین قیدیوں کے ساتھ زیادتی یا غیر انسانی سلوک کا سدباب کیا جا سکے۔

یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ جیل کے اندرونی حالات خود ایک الگ قید ہیں وہ قید جو صرف جسم کو نہیں بلکہ روح اور ذہن کو بھی جکڑ لیتی ہے۔ خواتین جیلوں میں بنیادی سہولیات کی کمی ایک عام المیہ ہے۔ صاف پانی، متوازن خوراک، طبی سہولیات، صفائی اور ذاتی تحفظ جیسی بنیادی انسانی ضروریات تک رسائی محدود یا ناپید ہے۔ حاملہ خواتین یا دودھ پلانے والی ماؤں کو وہ سہولتیں میسر نہیں جو ان کے لیے نہ صرف ضروری بلکہ ان کے انسانی حقوق کا حصہ ہیں۔ جیل میں کام کرنے والی خواتین قیدیوں کو معاوضہ نہ دینا ایک اور ظلم ہے، جو ان کے وقار کو مجروح کرتا ہے۔

خواتین قیدیوں کی صحت کے مسائل بھی ان کے ساتھ جیلوں میں قید رہتے ہیں، خاص طور پر وہ مسائل جو مرد قیدیوں سے مختلف ہوتے ہیں، جیسے حیض، حمل، زچگی، اور نفسیاتی دباؤ۔ ان کے لیے مخصوص طبی سہولتوں کی عدم دستیابی، ماہر گائناکالوجسٹ کی کمی، اور صفائی کے ناقص انتظامات ان کی زندگیوں کو مسلسل خطرے میں ڈالتے ہیں۔ کئی خواتین کو جیل میں ہی بچوں کو جنم دینا پڑتا ہے، اور وہ بھی ایسے حالات میں جہاں نہ حفظانِ صحت کا خیال ہوتا ہے نہ انسانی ہمدردی کا۔

اقلیتوں، نچلی ذاتوں یا کمزور قومیتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین قیدیوں کی حالت تو مزید افسوسناک ہے۔ ان پر صرف جرم کا نہیں، بلکہ مذہبی، نسلی اور طبقاتی تعصب کا بھی بوجھ ہوتا ہے۔ جیل کے اندر ان کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک اکثر امتیازی، الگ تھلگ اور ظالمانہ ہوتا ہے۔ انہیں اپنی عبادات، خوراک اور شناخت کے اظہار کی آزادی تک نہیں دی جاتی۔ ان کے مقدمات اکثر نظرانداز ہو جاتے ہیں کیونکہ وکیل لینے کو کوئی تیار نہیں ہوتا، اور عدلیہ میں ان کے لیے ہمدردی کا جذبہ کم ہی نظر آتا ہے۔ اقلیتوں کے ان نمائندہ مسائل کو نظرانداز کرنا صرف ملکی سطح پر نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔

اسی طرح، خواتین قیدیوں کے مسائل کا کوئی ایک حل نہیں، بلکہ اس کے لیے ایک جامع، مربوط اور ہمہ جہت اصلاحاتی حکمت عملی درکار ہے۔ ہمیں ایک ایسے فریم ورک کی ضرورت ہے جس میں ریاست، عدلیہ، پولیس، میڈیا، سول سوسائٹی اور عوامی شعور سب شامل ہوں۔

عدلیہ کو صنفی حساسیت کی تربیت دی جانی چاہیے، پولیس میں خواتین کی بھرتی کو ترجیح دی جانی چاہیے، سول سوسائٹی کو نہ صرف قانون سازی میں بلکہ عملی اقدامات میں بھی شراکت دار بنایا جانا چاہیے، اور میڈیا کو اپنی رپورٹنگ میں سنسنی خیزی کے بجائے اصلاحی سوچ کو فروغ دینا ہوگا۔

عورت کی قید صرف جسمانی قید نہیں یہ سماجی، معاشی، نفسیاتی اور جذباتی قید بھی ہوتی ہے۔ انصاف کا تقاضا صرف سزا دینا نہیں، اس سزا کے بعد بھی انسانی وقار کی بحالی اور ایک باعزت زندگی کی ضمانت دینا ہے۔ جب تک خواتین قیدیوں کو انصاف، احترام، تحفظ اور واپسی کا ایک قابلِ قبول راستہ نہیں دیا جاتا، تب تک نہ ہمارا معاشرہ مکمل کہلائے گا، نہ ہمارا نظامِ عدل حقیقی۔ اور جب تک عورت کو قید میں ڈالنے کے بجائے اسے سنبھالنے، سمجھنے اور سہارا دینے کا راستہ نہیں اپنایا جاتا، تب تک اصلاح محض ایک خواب ہی رہے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے