قائد اعظم رح نے میلاد سے خطاب میں کہا تھا کہ کہاں رسول پاک، کہاں محمد علی: میاں محمد جاویدمحمد عربی ص کی بعثت کا تقاضا ہے کہ ہم انکے اخلاق حمیدہ اپنائیں:محمودہ غازیہ، میجرجنرل ( ر) محمد طاہر، سبین یونس، نعیم قریشی، نصرت یاب و دیگر کا خطاب .
نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام جہانوں کیلئے رحمت اللعالمین بناکر بھیجا گیا۔ انکی رحمت ہر شئے پر حاوی ہے۔ آپ نہ صرف انسانوں اور حیوانوں بلکہ نباتات و جمادات کیلئے بھی باعث رحمت ہیں۔
آپ اعلیٰ اخلاق اور نرم گفتار کے مالک ہیں اور آپکا کوئی ثانی نہیں ہے۔
ان خیالات کا اظہار اسلامی نظریاتی کونسل کے سیکریٹری و معروف دانشور ڈاکٹر حافظ اکرام الحق نے ایوان قائد میں نظریہ پاکستان کونسل ٹرسٹ کے زیر اہتمام عید میلاد النبی کے سلسلہ میں منعقدہ مجلس مذاکرہ سے مہمان خصوصی کے طور پر خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا موضوع تھا "حضور سراپائے ایثار و محبت”. انہوں نے مزید کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ کے مکی و مدنی دو اہم ادوار تھے۔ مکی زندگی میں آپ ایک شہری تھے اور اختیارات دوسروں کے پاس تھے جبکہ مدنی دور میں آپ حاکم تھے اور باقی سب قبائل رعایا تھے۔ اسکے باوجود آپکے اخلاق حمیدہ کے غیر مسلم بھی قائل تھے۔
مدنی دور میں کفارہ بار بار طویل مذاکرات کرکے آپ کو زچ کرتے رہے مگر آپ نے ہر ایک کے ساتھ ایثار و محبت کا رویہ اختیار کرکے غیروں کو اپنا بنایا اور وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ صاحب صدر و چیئرمین این پی سی میاں محمد جاوید کا کہنا تھا کہ کہاں میں اور کہاں حضور کی ذات مبارکہ۔ مجھے یاد آیا ایک بار قائد اعظم نے میلاد کی محفل سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "کہاں رسول پاک اور کہاں میں محمد علی جناح”. چنانچہ میں بھی این پی سی کے ادنی کارکن کی حیثیت سے اپنے قائد کے واقعات اور اقوال دوہراتا رہتا ہوں تاکہ قائد کا پیغام نئی نسل تک پہنچ جائے۔ آج ان بابرکت ساعتوں میں رب تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ جس نے ہمیں نبی آخر الزماں کی امت میں پیدا کیا۔ تقریب کی مہمان اعزاز معروف لکھاری و دانشور محمودہ غازیہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ رسولِ اکرم کی پوری حیاتِ مبارکہ ایثار، قربانی، عفو و درگزر اور بے مثال محبت سے روشن ہے۔ آپ نے اپنی ذات کیلئے کبھی کچھ نہ چاہا بلکہ ہمیشہ دوسروں کیلئے قربانیاں دیں اوراپنی امت پر بے پناہ شفقت فرمائی۔ آ پکی سیرت ہم سب کیلئے کامل رہنما ہے۔
نظریہ پاکستان کونسل کی ایگزیکٹو کونسل کے سینئر رکن اور روحانیت پر متعدد انگریزی کتب کے مصنف میجر جنرل ( ر) محمد طاہر نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضور کی زندگی کا ہر پہلو انسانیت کیلئے رحمت ہی رحمت ہے۔ رومی کے مطابق حضور نے دل کی صفائی اور تزکیہ نفس کو اصل کمال قرار دیا ہے۔ حضور کی معراج کو رومی انسان کے اندرونی سفرِ عشق اور معرفت کی علامت بتاتے ہیں۔ رومی کی نظر میں حضور کی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو مٹا کر، محبت و ایثار کے ذریعے اللہ کی قربت حاصل کرے۔ معروف شاعرہ و ماہر تعلیم پروفیسر سبین یونس نے کہا کہ رسول کریم کی صفات بیکراں سمندر کی مانند ہیں جنہیں بیان کرتے جائیں مگر ختم نہ ہوں۔ معروف لکھاری و دانشور نعیم اکرم قریشی نے اسم محمد میں شامل چاروں حروف سے "ماضی، حال، مستقبل اور درود "جیسے خوبصورت اور بامعنی الفاظ تشکیل دیئے۔ بعدازاں اسم محمد میں میم کی تکرار سے درجنوں خوبصورت الفاظ گنوا کر انکی اہمیت واضح کی۔ معروف شاعر و دانشور نصرت یاب نصرت نے کہا کہ میں نظریہ پاکستان کونسل کے چیئرمین اور پوری ٹیم کو اس بابرکت محفل کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آپ کی ذاتِ مبارکہ کی قربانیاں آج بھی ہم سب اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ نہ صرف ہم آپکی سنت پر عمل کریں بلکہ رہتی دنیا تک آپکی تعلیمات آنے والی نسلوں تک پہنچائیں۔
معروف افسانہ نگار و شاعرہ فرخندہ شمیم نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں نعت کے ذریعے گلہائے عقیدت پیش کرکے خوب داد سمیٹی۔ تقریب سے خطاب کرنے والوں میں معروف اہل علم و دانش سید ظہیر گیلانی، رفعت انجم اور نعیم خالد کا کہنا تھا کہ بعثت رسول اللہ کا تقاضا ہے کہ ہم آپ کے اخلاق حمیدہ کو نہ صرف خود اپنائیں بلکہ دوسروں میں بھی عام کریں اور دین اسلام کی روشنی سے جہالت کے اندھیروں کو مٹائیں۔