سپریم کورٹ رولز پر اختلافات منظرعام پر

سپریم کورٹ آف پاکستان کی فل کورٹ میٹنگ آج 8 ستمبر 2025 کو منعقد ہو رہی ہے جس کا واحد ایجنڈا سپریم کورٹ رولز 2025 ہے۔ لیکن میٹنگ سے قبل ہی چار معزز ججز جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس اطہر من اللہ نے چیف جسٹس کو خط لکھ کر اپنے شدید اعتراضات ریکارڈ کرا دیے ہیں۔ یہ خط سپریم کورٹ کے اندرونی معاملات پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے ادارہ جاتی ڈھانچے پر اہم سوالات بھی کھڑا کرتا ہے۔

معزز ججز نے سب سے پہلے یہ بنیادی نکتہ اٹھایا کہ:

"موجودہ سپریم کورٹ رولز کبھی بھی فل کورٹ کے سامنے پیش یا منظور نہیں کیے گئے۔ یہ کمی محض ایک طریقہ کار کی غلطی نہیں بلکہ اس کی قانونی حیثیت پر ہی سوال اٹھاتی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 191 کے مطابق سپریم کورٹ کو اپنے طریقہ کار کے ضابطے بنانے کا اختیار ہے، مگر یہ اختیار بطور ادارہ، اجتماعی طور پر استعمال ہوتا ہے۔ رولز جو فل کورٹ کی بحث و مشاورت اور منظوری کے بغیر بنائے گئے ہوں وہ قانونی حیثیت حاصل نہیں کر سکتے۔”

اس کے بعد انہوں نے اس طریقۂ کار پر سوال اٹھایا جس کے تحت رولز منظور کیے گئے:

"رولز کو سرکولیشن کے ذریعے منظور کیا گیا۔ سرکولیشن انتظامی سہولت کے لیے ہے تاکہ معمولی یا چھوٹے نوعیت کے معاملات نمٹائے جا سکیں۔ یہ سپریم کورٹ کی آئینی ساخت متعین کرنے کا ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ جب تک فل کورٹ نے خود اس مقصد کے لئے سرکولیشن کو اختیار نہ کیا ہو، چیف جسٹس اکیلے یہ فیصلہ نہیں کر سکتے تھے۔ اس لیے موجودہ رولز مواد اور طریقہ دونوں اعتبار سے غیر قانونی ہیں۔”

ایجنڈے کی تشکیل پر بھی انہوں نے سخت اعتراض کیا:

"اس میں رول 1(4) کے تحت ’مشکلات دور کرنے‘ کا حوالہ دیا گیا ہے اور چیف جسٹس کی بنائی گئی کمیٹی کا ذکر ہے۔ مگر کوئی ایسی مشکل شناخت ہی نہیں کی گئی جس کے لئے اس رول کا سہارا لینا پڑے۔ اس کا ذکر محض اس عمل کو جواز دینے کی کوشش دکھائی دیتا ہے جو پہلے ہی یکطرفہ طور پر اختیار کیا گیا۔”

خط میں واضح طور پر تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا:

"یہ گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنے کے مترادف ہے۔ پہلے رولز کو ’منظور شدہ‘ قرار دے کر گزٹ میں شائع کیا گیا، پھر فل کورٹ کو صرف بعد از وقت بلایا گیا۔ یہ تسلیم کرنے کے مترادف ہے کہ فل کورٹ ہی درست فورم ہے، مگر اس کے احترام کو بعد از وقت استعمال کیا جا رہا ہے۔”

چاروں ججز نے کھلے الفاظ میں لکھا:

"ایسی میٹنگ دراصل تضاد پر مبنی ہے اور اسے ترک کر دینا ہی بہتر ہے۔ بصورت دیگر فل کورٹ کو محض ڈیمیج کنٹرول کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جو ادارے کی اجتماعی اتھارٹی کو کمزور کرتا ہے۔”

سب سے اہم بات یہ کہ عوامی حق اور شفافیت کا مطالبہ کیا گیا:

"ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا اعتراض میٹنگ کے منٹس میں مکمل طور پر درج ہو اور یہ منٹس عوام کے سامنے لائے جائیں۔ عوام کا حق ہے کہ وہ جانیں کہ سپریم کورٹ کے اندرونی قواعد بغیر ججز کی مشاورت کے کیسے نافذ کر دیے گئے اور اب کس طرح ایک بعد از وقت میٹنگ کے ذریعے اس عمل کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”

اور آخر میں یہ بنیادی اصول اجاگر کیا گیا:

"ایک آئینی ادارے میں شفافیت ہی اس کی قانونی حیثیت کی بنیاد ہے۔ عوامی اعتماد ہی وہ بنیاد ہے جس پر اس عدالت کی اتھارٹی قائم ہے۔ اپنی کارروائیوں کو عوام کے سامنے لانے سے ہم وہ اعتماد مضبوط کرتے ہیں جس کے بغیر کوئی آئینی عدالت اپنا کردار ادا نہیں کر سکتی۔”

یہ خط بظاہر سپریم کورٹ کے داخلی معاملے پر ہے، مگر اس کے اثرات براہِ راست عوام اور آئین سے جڑے ہیں۔ چار معزز ججز نے اپنے مؤقف کے ذریعے یہ واضح کر دیا ہے کہ آئین اور ادارہ ہمیشہ فرد سے بالاتر ہے اور عدلیہ کی اصل طاقت صرف اور صرف شفافیت اور اجتماعی فیصلوں میں ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے