اندھیروں میں ڈوبا کوٹ بیلیاں ڈیرہ اترادیاں والا

اکیسویں صدی کی دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے۔ شہروں میں بجلی سے چلنے والی گاڑیاں سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں، بڑے بڑے کارخانوں میں جدید ٹیکنالوجی پروان چڑھ رہی ہے، مگر ضلع میانوالی کا کوٹ بیلیاں ڈیرہ اترادیاں والا آج بھی اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہاں بجلی کے کھمبے تو لگا دیے گئے لیکن تاحال بجلی کی فراہمی ممکن نہ بنائی جا سکی۔

یہاں کے مکین سوال کرتے ہیں کہ آخر کب تک انہیں لالٹینوں اور دیوں کے سہارے زندگی گزارنا پڑے گی؟ ان کے بچے اندھیروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، خواتین گھریلو کام کاج میں مشکلات اٹھاتی ہیں اور گرمیوں میں پانی تک ٹھنڈا نہیں مل پاتا۔ بجلی کی عدم دستیابی نے نہ صرف ان کی روزمرہ زندگی کو مشکل بنا دیا ہے بلکہ معاشی حالات کو بھی متاثر کیا ہے۔

حکمران جماعتیں جب الیکشن کا وقت آتا ہے تو بڑے بڑے وعدے کرتی ہیں لیکن ان دیہی بستیوں کی محرومیاں جوں کی توں رہتی ہیں۔ یہاں کے باسیوں نے کھمبوں کے لگنے پر جشن منایا تھا لیکن آج وہی کھمبے ان کے لیے مایوسی کی علامت بن چکے ہیں۔

مسائل کے حل کے لیے تجاویز

1. حکومتی سطح پر فوری نوٹس: وزیر اعلیٰ پنجاب اور وفاقی وزیر توانائی کو اس مسئلے کا فوری نوٹس لینا چاہیے تاکہ بجلی کی ترسیل جلد از جلد ممکن بن سکے۔

2. واپڈا اور مقامی انتظامیہ کی جواب دہی: مقامی حکام کو جواب دہ بنایا جائے کہ آخر کھمبے لگنے کے باوجود بجلی کی فراہمی کیوں رکی ہوئی ہے۔

3. خصوصی فنڈز کا اجرا: اگر بجٹ یا فنڈز کی کمی ہے تو دیہی ترقیاتی پروگرام کے تحت ہنگامی بنیادوں پر فنڈز فراہم کیے جائیں۔

4. عوامی کمیٹی کا قیام: علاقے کے لوگوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے جو واپڈا اور انتظامیہ سے باقاعدہ رابطے میں رہ کر کام کی نگرانی کرے۔

5. میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار: اس مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر مہم چلائی جائے تاکہ ارباب اختیار پر دباؤ بڑھے۔

یہ صرف بجلی کی تاروں اور کنکشن کا معاملہ نہیں، یہ انسانی بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے۔ کوٹ بیلیاں ڈیرہ اترادیاں والا کے باسی بھی پاکستانی ہیں اور انہیں بھی وہی سہولتیں ملنی چاہئیں جو بڑے شہروں کے مکینوں کو حاصل ہیں۔

اگر یہ محرومی برقرار رہی تو یہ اندھیرے صرف گھروں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عوام کے دلوں میں ناامیدی کی صورت میں پھیل جائیں گے، اور وہ دن دور نہیں جب لوگ احتجاج سے بڑھ کر کوئی اور قدم اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے