سفر کا معنی کھلنا اور ظاہر ہونا ہے۔ اس لفظ کا اصل فسْر ہے، جس کا مطلب سفر ہے اور سفر کے دوران چونکہ دوسرے مقامات کے حالات معلوم ہوتے ہیں اس لیے اسے سفر کہتے ہیں۔ سفر آگہی اور واقفیت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ سفر سے دل میں حوصلہ، نظر میں وسعت، صلاحیتوں میں نکھار، نقطہ نظر میں پختگی، رویوں میں معقولیت، تجربات میں اضافہ اور فوائد میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔
پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ "چی دہ پروت شیر نہ گرزیدونکے گیدڑ خہ ی” یعنی لیٹے ہوئے شیر سے چلنے پھرنے والا گیدڑ بہتر ہوتا ہے”۔ مجھے زندگی میں پہلے غیر ملکی سفر کا موقع دو ہزار چوبیس میں ملا جس وقت ہم نے "چالیس” کو کراس کیا تھا۔ دوران سفر ہمیں شدت سے محسوس ہوا کہ ہمیں سفر میں اتنی تاخیر نہیں کرنی چاہیے تھی لیکن خیر ہر کام کے لیے خدا کے منصوبے میں ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔
سفر ہماری زندگیوں اور احوال میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، سفر بے شمار فوائد کے دروازے انسان پر کھولتا ہے اور مختلف ضروریات کو پورا بھی۔ مواقع اور امکانات قدرت نے کسی ایک مقام میں جمع نہیں کیے بلکہ پوری دنیا میں انہیں جا بجا پھیلا دیا ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو سفر کے لیے درکار حوصلے اور دلچسپی سے مالا مال ہیں۔ آئیے ایسی کچھ وجوہات اور اسباب کا تذکرہ کرتے ہیں کہ جن سے سفر کی افادیت کا پتہ چلے۔
سفر ہمیں نئے مقامات، امکانات، ثقافتوں اور تجربات کو دریافت کرنے کا موقع دیتا ہے۔ یہ ہمارے ذہنی افق کو وسیع کرتا ہے، ہمارے علم میں اضافہ کر دیتا ہے اور ہمیں زندگی کے مختلف طریقوں اور جہتوں سے روشناس کراتا ہے۔ سفر ہمیں اپنے آپ کو مختلف طرح کے ماحول میں بسانے نیز دنیا اور اس کے متنوع گروہوں اور احوال کے بارے میں گہری سمجھ بوجھ حاصل کرنے میں مدد کرتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے وزٹ پر جانے کے لیے جب ہم (دوسرا شریکِ سفر میرا دوست اور بہنوئی سجاد علی تھا) پشاور ایئرپورٹ پہنچے تو اچانک بچپن کے دوست جمیل احمد سے ملاقات ہوئی۔ پچیس سال کے بعد اس سے یوں اتفاقی ملنا بے انتہا خوشی کا باعث بنا۔ آگے جا کر موصوف شارجہ میں ڈیڑھ ماہ تک ہمارا میزبان اور مہربان بنا رہا۔
سفر ہمیں اپنے علاقوں سے باہر نکلنے اور غیر مانوس حالات کا سامنا کرنے کا چیلنج دیتا ہے۔ یہ ناموافقت میں موافقت، سختی میں لچک اور پابندی میں آزادی تلاش کرنے کا موقع ہوتا ہے۔ یہ ہمیں "غیر” کو "اپنا” بنانے کی ترغیب دے کر ذاتی ترقی کے اسباب پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ سفر اعتماد بڑھانے میں بھی مددگار ہے، جیسا کہ ہم نئے ماحول میں رہتے ہیں، مختلف لوگوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں اور اپنے اہداف کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو عقل اور ہمت سے کام لے کر دور کرتے ہیں۔ ہم متحدہ عرب امارات میں ایسے بے شمار لوگوں سے ملیں جو کہہ رہے تھے کہ پچیس، تیس یا چالیس سال پہلے ہم یہاں آئے تھے، آغاز میں کچھ مشکلات ضرور حائل تھیں لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے مہربانی کر کے ہمیں خوب نوازا۔ میں نے کئی لوگوں سے پوچھا "آپ کا یہاں آنا بہتر ثابت ہوا یا وطن میں رہنا اچھا ہوتا؟” اکثر لوگ جواب دیتے "یہاں آنا اچھا تھا”۔
سفر کے دوران مختلف ثقافتوں کا خود تجربہ کرنا رواداری، ہمدردی اور تنوع کے لیے جذبہ قبولیت یا اصلاح کی تحریک کو فروغ دیتا ہے۔ مقامی کمیونٹیز کے ساتھ مشغول ہونے، نئے ماکولات و مشروبات آزمانے، مختلف تقریبات اور رسومات میں حصہ لینے اور ان کی پس منظر میں کار فرما اسباب کے بارے میں سیکھنے سے ہم مختلف نقطہ ہائے نظر کی بہتر تفہیم حاصل کرتے ہیں اور ایک زیادہ کھلے ذہن کے ساتھ عالمی نقطہ ہائے نظر تیار کرتے ہیں۔
یہ دنیا طرح طرح کے حقائق، احوال، پس منظر اور واقعات کا ایک حیرت کدہ ہے۔ اختلافات ہیں، تنازعات ہیں، تنوع ہے، رنگ بہ رنگ حالات، نقش بہ نقش رویے اور تہہ در تہہ عزائم ہیں اس منقسم منظر نامے میں ہم آہنگی، امن اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ یہاں بسنے والے ایک دوسرے کے ہاں آئیں، جائیں اور رہیں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ ظاہری دنیا کے پس منظر میں کیا کچھ کار فرما ہیں۔
سفر مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اکٹھا کرکے ثقافتی تبادلے کو فروغ دیتا ہے۔ جب ہم سفر کرتے ہیں تو ہمیں مقامی کمیونٹیز کے ساتھ مشغول ہونے، ان کے رسم و رواج، روایات اور اقدار کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا ہے۔ یہ نمائش باہمی افہام و تفہیم، ہمدردی اور تنوع کی تحسین کو فروغ دیتی ہے، جو قوموں اور لوگوں کے درمیان پرامن تعلقات استوار کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ دو ماہ سے زائد پر محیط متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے دورے کے دوران عربوں کی کئی خوبیاں ہم پر آشکار ہوئی۔ عرب نہایت باوقار، پر اعتماد، خوددار، نفیس، مہمان نواز اور مہربان لوگ ہیں۔
سفر تعلیم کی ایک عمیق شکل ہے یہ تاریخی مقامات، واقعات، عجائب گھروں اور نشانیوں کو دیکھنے کے مواقع فراہم کرتا ہے، جس سے ہمیں دنیا کے مجموعی ورثے اور اہم واقعات کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا ہے مزید برآں مقامی لوگوں کے ساتھ بات چیت کر کے مستند معلومات سے آگاہی پانے اور نتیجتاً زیادہ حقیقت پر مبنی خیالات پروان چڑھتے ہیں۔
سفر زندگی کے عمومی معمولات سے پہنچنے والی تھکاوٹ اور تناؤ سے نجات کا موقع فراہم کرتا ہے۔ سفر دماغوں اور جسموں کو کھولنے، دوبارہ چارج ہونے اور پھر سے تازہ دم ہونے میں مددگار چیز ہے۔ سفر کا تقاضا لازماً دور جانا نہیں اس کے فوائد قریبی مقامات تک نکلنے سے بھی میسر آتے ہیں چاہے ساحل سمندر پر آرام کے غرض سے نکلنا ہو، قریبی پہاڑی کا رخ کرنا ہو یا آس پاس واقع کوئی پرفضا مقام کی سیر ہو یا پھر عزیزوں کے ہاں جانا ہی کیوں نہ ہو، سفر کام اور ذمہ داریوں کے دباؤ اور اکتاہٹ سے جلدی نکلنے کا موثر سبب ہے۔
سفر ہمیں مختلف لوگوں سے تعلق رکھنے اور ان سے روابط بنانے اور نئی دوستیاں قائم کرنے کے قابل بناتا ہے۔ ہمیں اپنے وزٹ کے دوران چند افراد سے ایسی شناسائی ہوئی جو آج بھی ہمارے ساتھ رابطہ اور گپ شپ کرتے ہیں۔ سفر سماجی، مقامی اور بین الاقوامی تعامل کے لیے حوصلہ افزا ماحول فراہم کرتا ہے اور خوشگوار تعلقات کے احساس سے ہمارے دلوں اور روحوں کو راحت پہنچاتا ہے، سفر میں ہم طرح طرح کے لوگوں سے مل کر دیرپا یادیں تخلیق کرتے ہیں۔ یہ رابطے ہمارے نیٹ ورک کو وسیع کرتے ہیں اور ہمیں زندگی اور دنیا سے متعلق بیش قیمت بصیرت فراہم کرتے ہیں۔
سفر خود احتسابی اور خود شناسی کا موقع بھی دیتا ہے۔ اپنے مانوس ماحول سے ہٹنا ہمیں اپنی زندگیوں، ضروریات، مفاد اور اقدار کے بارے میں ایک نیا نقطہ نظر اور ہمت حاصل کرنے کا وسیلہ فراہم کرتا ہے۔ سفر ہمیں اپنے مقاصد کا از سر نو جائزہ لینے، اپنے اندر مثبت تبدیلیاں لانے، نظر انداز صلاحیتوں پر توجہ دینے، دنیا کے حال احوال، جا بجا پھیلے امکانات اور ان میں اپنے مقام کا ادراک بھی عطا کرتا ہے۔
متحدہ عرب امارات (شارجہ) میں ہمیں گجرات سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی، کہہ رہے تھے "میں انیس سو پچاسی (غالباً) میں آیا ہوں اور اب ماشاءاللہ پانچ ہوٹل اور ایک بڑی کنسٹرکشن کمپنی چلا رہا ہوں، بڑی تعداد میں پاکستانی ہمارے ساتھ کام کر رہے ہیں”۔ ان کے ہوٹل میں کھانے پینے کا معیار اچھا، ریٹ مناسب اور صفائی ستھرائی کا انتظام زبردست تھا اس لیے ہم اکثر وہاں کھانا کھانے چلے جاتے۔ ہوٹل میں مردان سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان بطور ویٹر کام کر رہا تھا۔ ہم نے تعارف اور گپ شپ کی کہا میں وزٹ پر آیا تھا لیکن یہاں کام کا موقع ملا اب مستقل ویزے کے لیے دستاویزات جمع کر دیا ہے۔ وہ ہمارا پکا دوست بن گیا تھا۔
مختلف قدرتی مناظر اور ماحولیاتی نظاموں کا سفر، ہمارے دلوں میں ماحول کے لیے گہری وابستگی کو فروغ دیتا ہے۔ ابوظہبی کو ہم نے قدرتی ماحول، سکون و اطمینان اور زبردست نظم و ضبط کے حوالے سے بہترین مقام پایا۔ سفر کے دوران وہاں جدید صحراؤں، خوبصورت پارکوں اور نفیس و لطیف ماحولیاتی نظاروں کا مشاہدہ کیا، ساحل سمندر پر چلے گئے اور وہاں کے سحر انگیز مناظر سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ وہاں کی مشہور جامع مسجد اور دوسرے تفریحی مقامات کی سیر کی۔
سفر اور سیاحت عالمی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سفر ملازمت کے مواقع پیدا کرتا ہے، لوگ وزٹ پر چلے جاتے ہیں لیکن جاب پانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ یہ مقامی کاروباروں اور صنعتوں کو بھی سپورٹ کرتا ہے اور مختلف خطوں میں اقتصادی ترقی کے عمل کو تحریک دیتا ہے مزید برآں بطور مسافر ہم دوسروں سے قیمتی چیزیں سیکھتے ہوئے، باہمی افہام و تفہیم اور احترام کو فروغ دیتے ہیں۔اپنی روایات اور رسوم و رواج کو بانٹ کر ثقافتی تبادلے میں اپنا گراں قدر حصہ بھی ڈالتے ہیں۔
سفر کر کے ہم دقیانوسی تصورات اور تعصبات بدل سکتے ہیں جو کہ مختلف ثقافتوں یا ممالک کے درمیان موجود ہیں۔ لوگوں سے رو بہ رو ملنا، ان کی مہمان نوازی کا تجربہ کرنا اور ان کے طرز زندگی کا مشاہدہ کرنا بہت ساری غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مدد کرتا ہے اور مختلف ثقافتوں کے بارے میں زیادہ درست آگہی کو فروغ دیتا ہے۔ سفر کے اہتمام سے رواداری، احترام اور پر امن بقائے باہمی کے جذبات میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔
سفر تنازعات کے حل اور قیام امن کی کوششوں میں ایک مددگار عامل ہے۔ یہ ان کمیونٹیز کے درمیان بات چیت اور مفاہمت کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے جن میں تاریخی تناؤ یا تنازعات موجود ہیں۔ تعلیمی سکالرشپس، ثقافتی تبادلے کے پروگراموں، تاریخی ورثے کی سیاحت اور سیاحت برائے امن و آگہی جیسے اقدامات کے ذریعے، مسافر متنوع گروہوں کے درمیان افہام و تفہیم اور پر امن تعامل کو فروغ دینے میں فعال حصہ لے سکتے ہیں۔
سفر اور سیاحت کا کمیونٹیز اور ممالک کی اقتصادی ترقی پر بھی نمایاں اثر پڑتا ہے۔ سیاحوں کو مختلف پراڈکٹس کی جانب راغب کرنے سے اور مختلف کاروباری آئیڈیاز کی رونمائی ہوتی ہے مزید برآں سفر مقامی صنعتوں کو بین الاقوامی درجہ دلانے میں مددگار ہے۔ سفر کے دوران طرح طرح کی اقتصادی سرگرمیاں غربت کے خاتمے میں معاون ہیں اور مختلف کمیونٹیز کے درمیان مجموعی فلاح و بہبود کو بہتر بناتی ہیں، سماجی تفاوت کو کم کرتی ہیں اور دیرپا استحکام اور خوشحالی کو فروغ دیتی ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے وزٹ کے دوران ہمیں محسوس ہوا کہ یہ ملک کاروبار اور رہائش دونوں کے لیے موزوں ترین ہے۔
سفر ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ قدرتی مناظر، قومی پارکوں اور نفیس و لطیف ماحولیاتی نظاموں کے دورے کرنے والے سیاح رفتہ رفتہ اپنے ہاں ماحول کی تحفظ کے وکیل بن جاتے ہیں۔ سیاح پائیدار سیاحت کے طریقوں کے ذریعے مثلاً گندگی پھیلانے سے اجتناب، تحفظ ماحول کے لیے جاری اقدامات میں اشتراک اور مقامی ماحولیاتی منصوبوں کے لیے تعاون کے جذبے، قدرتی وسائل کے تحفظ اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں مدد کر سکتے ہیں۔
سفر عوامی سفارت کاری میں سہولت فراہم کرتا ہے، جو صرف حکومتی سطح پر بات چیت پر انحصار کرنے کی بجائے افراد کے درمیان تعلقات اور افہام و تفہیم کی تعمیر پر مرکوز رہتا ہے۔ مختلف قوموں کے لوگوں کو سفر کے ذریعے جوڑ کر ہم دوستی اور تعاون کے ایسے نیٹ ورک بنا سکتے ہیں جو سیاسی اور انتظامی حدود و قیود سے بالاتر ہوں۔ یہ ذاتی روابط پر امن تعلقات میں بے حد مددگار ہو سکتے ہیں اور مختلف شعبوں جیسے تعلیم، کاروبار اور تحقیق میں تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے وزٹ کے دوران متحدہ عرب امارات میں ہر جگہ پاکستانی لوگ مختلف کاروباروں کے ساتھ منسلک نظر آئیں اور ماشاءاللہ بڑی متمول زندگی بسر کر رہے تھے۔
سفر تعلیم کی ایک وقیع شکل ہے جو کہ عالمی شہریت کو فروغ دیتی ہے۔ اپنے آپ کو مختلف ثقافتوں، زبانوں اور نقطہ نظر سے روشناس کر کے ہم عالمی مسائل اور وسائل سے زیادہ بہتر انداز میں آگاہ ہو جاتے ہیں اور کرہ ارض کی بھلائی کے لیے زیادہ ذمہ داری کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ یہ آگاہی ہمیں مثبت تبدیلی کے روادار بننے، ہماری اپنی برادریوں اور اس سے باہر کی دنیا میں امن، مساوات اور پائیداری کو فروغ دینے کی ترغیب دے سکتی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ سفر دنیا کو درپیش تمام چیلنجز کا حل نہیں لیکن یہ مثبت تبدیلی کے لیے ایک مددگار ذریعہ ضرور ہے۔ اپنی صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے کے لیے، سفر مطلوبہ آگہی، تعاون، احترام، ثقافتی حساسیت اور پائیدار بہتری کے عزم کے ساتھ کرنا چاہیے۔ سفر سے میسر آنے والی تبدیلی اور بہتری کے امکانات کو اپنا کر ہم ایک زیادہ پر امن، ہم آہنگ، باشعور اور خوشحال دنیا بنانے میں اپنا ذمہ دارانہ حصہ ڈال سکتے ہیں۔