انڈونیشیا کی سیاسی تاریخ میں جنرل سوہارتو ایک ایسے حکمران کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں جنہوں نے طویل عرصے تک اقتدار پر قبضہ کیے رکھا۔ 1967 سے 1998 تک ان کا دور تین دہائیوں پر محیط تھا۔ ابتدا میں ترقی اور استحکام کے نعرے لگائے گئے، لیکن وقت کے ساتھ یہ دور بدعنوانی، اقربا پروری اور عوامی مسائل سے چشم پوشی کا زمانہ بن گیا۔
1997 کے ایشیائی مالیاتی بحران نے انڈونیشیا کی بنیادیں ہلا دیں۔ کرنسی کی قدر تیزی سے گری، روزمرہ اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، لاکھوں لوگ بیروزگار ہو گئے۔ عوام جو پہلے ہی کرپشن سے نالاں تھے، اب کھلے عام حکومت کے خلاف سڑکوں پر آ گئے۔
سب سے پہلے یونیورسٹیوں کے طلبہ نے قیادت کی۔ ہزاروں طلبہ دارالحکومت جکارتہ کی سڑکوں پر نکلے اور احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی عمارت پر قبضہ کر لیا۔
یہ منظر پورے ملک کے لیے ایک علامت بن گیا کہ نئی نسل پرانے نظام کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جلوسوں میں عورتیں، مزدور اور دکاندار بھی شامل ہو گئے۔ طاقت کے باوجود عوامی طوفان کو روکا نہ جا سکا۔ بالآخر مئی 1998 میں سوہارتو نے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے جانے کے بعد انڈونیشیا نے بتدریج جمہوریت کی طرف سفر شروع کیا، غیر سیاسی مداخلت کو کم کیا گیا، اور آئینی اصلاحات متعارف کروائی گئیں۔ یہ سب کچھ آسان نہ تھا لیکن عوامی طاقت نے ملک کا رخ بدل کر رکھ دیا۔
اس سال اگست کے آخر میں انڈونیشیا کی پارلیمنٹ نے اراکین کے لیے ایسے ہاؤسنگ الاونس منظور کیے جو جکارتہ کی کم از کم اجرت سے دس گنا زیادہ تھے۔ معاشی بدحالی کے شکار عوام کے لیے یہ فیصلہ کسی طمانچے سے کم نہ تھا۔ سوشل میڈیا پر غم و غصہ بڑھا اور چند ہی دنوں میں یہ غصہ سڑکوں پر نکل آیا۔
ابتدا میں مظاہرے پرامن تھے لیکن پھر وہی ہوا جو تاریخ میں بارہا دیکھا گیا ہے: پولیس تشدد نے احتجاج کو بغاوت کا رنگ دے دیا۔ ایک موٹر سائیکل ڈلیوری ڈرائیور کی پولیس گاڑی تلے آ کر ہلاکت نے ملک گیر غصے کو بھڑکا دیا۔ لاکھوں لوگ جکارتہ اور دیگر بڑے شہروں میں سڑکوں پر نکل آئے۔ پارلیمنٹ، پولیس اسٹیشن اور متعدد سرکاری عمارتیں نذرِ آتش ہو گئیں۔ یونیورسٹیوں کے طلبہ نے بنڈونگ اور دیگر شہروں میں احتجاج کا نیا باب کھولا جہاں رات بھر آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے مناظر دیکھنے کو ملے۔
صورتحال اس قدر سنگین ہوئی کہ صدر پرابوو سوبیانتو کو ایک ہی دن میں پانچ وزراء کو فارغ کرنا پڑا، جن میں ملک کی مشہور اور عالمی سطح پر معتبر فنانس وزیر سری مملیانی بھی شامل تھیں۔ لیکن یہ اقدام بھی عوامی غصے کو کم نہ کر سکا۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد ہل گیا، انڈونیشیائی روپیہ تیزی سے گرنے لگا اور اسٹاک مارکیٹ مندی کا شکار ہو گئی۔ یوں سیاسی بحران نے معاشی طوفان کو بھی جنم دیا۔
یہ احتجاج صرف انڈونیشیا کی سرحدوں تک محدود نہیں رہا۔ ملبورن، نیویارک اور لندن میں بھی انڈونیشیائی کمیونٹی نے سڑکوں پر نکل کر اپنے ملک کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ دنیا بھر کے ٹی وی اسکرینز پر جکارتہ کی سڑکوں پر جلتی عمارتیں اور ہاتھوں میں جھاڑو لیے خواتین کے جلوس یہ پیغام دے رہے تھے کہ عوام اب اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے اشرافیہ کو مزید برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔
نیپال میں موجودہ حالات نے بھی دنیا کو چونکا دیا ہے۔ یہ ملک پہلے ہی شاہی حکومت کے خاتمے، ماؤ نواز تحریک اور جمہوری اتار چڑھاؤ کا عادی رہا ہے، لیکن ستمبر 2025 میں ایک نئے بحران نے سر اٹھایا۔ حکومت نے اچانک اعلان کیا کہ فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بند کر دیے جائیں گے۔ سرکاری مؤقف یہ تھا کہ یہ اقدام بدعنوانی کے خلاف ہے اور معاشرتی بگاڑ کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔ لیکن عوام، خاص طور پر نوجوان نسل نے اسے آزادی پر حملہ قرار دیا۔
چند ہی دنوں میں دارالحکومت کٹھمنڈو اور بڑے شہروں میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر آ گئے۔ ابتدا میں نعرے صرف سوشل میڈیا کی بحالی کے لیے تھے، لیکن جلد ہی یہ احتجاج برسوں سے جمع غصے کا لاوا بن گیا۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دیا، وزیراعظم ہاؤس پر دھاوا بولا، پولیس اور فوج سے شدید جھڑپیں ہوئیں۔ سرکاری عمارتوں کو نذرِ آتش کیا گیا، کئی جگہوں پر عوامی ہجوم نے حکومتی دفاتر کا محاصرہ کیا۔ ان جھڑپوں میں درجنوں جانیں ضائع ہوئیں۔ بالآخر عوامی دباؤ اس حد تک بڑھ گیا کہ وزیراعظم کے پی شرما اولی کو استعفیٰ دینا پڑا۔ پابندی ہٹا لی گئی، امدادی پیکجز کا اعلان ہوا، لیکن عوام کے دل سے غصہ ابھی نہیں نکلا کیونکہ انہیں یقین ہو چکا ہے کہ ان کے مسائل کی جڑ پورا سیاسی نظام ہے جو ان کی امیدوں پر پورا نہیں اترتا۔
یہ دونوں واقعات ایک بڑے اصول کو واضح کرتے ہیں کہ جب عوام کی برداشت ختم ہو جائے تو کوئی طاقت انہیں روک نہیں سکتی۔ انڈونیشیا میں طلبہ کا پارلیمنٹ پر قبضہ اس بات کا اعلان تھا کہ عوام اب پرانے نظام کو گرانا چاہتے ہیں۔ نیپال میں وزیراعظم ہاؤس پر دھاوا بولنا اس حقیقت کا مظہر ہے کہ عوام اگر فیصلہ کر لیں تو حکمرانوں کے محلات بھی محفوظ نہیں رہتے۔
پاکستان کے لیے ان حالات میں کئی سبق پوشیدہ ہیں۔ یہاں بھی عوام مہنگائی، بے روزگاری، انصاف کی کمی اور بدعنوانی کے بوجھ تلے دبے ہیں۔ ہر روز اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافہ عوام کو پسے ہوئے طبقے میں بدل رہا ہے۔ نوجوان جنہیں روزگار اور مواقع کی تلاش ہے، مایوسی کے سمندر میں ڈوبتے جا رہے ہیں۔ سیاست دان اپنی لڑائیوں اور اقتدار کی کشمکش میں مصروف ہیں جبکہ عام آدمی کے مسائل پسِ پشت ڈال دیے گئے ہیں۔
پاکستانی عوام کا یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ ان کی آواز سنی نہیں جا رہی۔ یہی وہ لمحہ ہے جب چھوٹی چھوٹی چنگاریاں بڑے شعلوں میں بدل سکتی ہیں۔ انڈونیشیا میں یہ چنگاری معاشی بحران تھی، نیپال میں یہ سوشل میڈیا پابندی بنی۔ پاکستان میں یہ کس چیز سے جنم لے، یہ کہنا مشکل ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب عوامی اعتماد ٹوٹ جاتا ہے تو پھر کوئی فیصلہ، کوئی اعلان اور کوئی طاقت دیرپا سہارا نہیں دے سکتی۔
حکومت کے لیے یہی اصل سبق ہے کہ عوامی رائے کا احترام کرنا، ان کے اعتماد کو بحال کرنا اور شفاف طرزِ حکمرانی اپنانا ہی اقتدار کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ ورنہ تاریخ نے بار بار دکھایا ہے کہ جب عوام اٹھ کھڑے ہوں تو کوئی تخت زیادہ دیر سلامت نہیں رہتا۔