ہم اکثر فلسفیوں کے اقوال سنتے اور پڑھتے ہیں کہ مذہب کو بادشاہوں نے ہمیشہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے استعمال کیا اور ہر دور کے مذہبی لوگ اس خدمت میں بادشاہوں کے آلہ کار رہے۔ مثلاً زلزلے آئے، سیلاب وغیرہ آئے تو ایسی ہنگامی صورت حال میں بادشاہوں نے مذہبی لوگوں کے ذریعے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ یہ حالات ہمارے اعمال کا نتیجہ ہیں۔ اسی طرح اعمال کی خرابی کے بیانیے کے آڑ میں حکمرانوں نے اپنی نااہلی اور بدعنوانی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی اور اس سلسلے میں مذہبی طبقے کی اچھی خاصی سپورٹ انہیں حاصل رہی۔ یعنی اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرنے کے لیے حکمرانوں نے مذہب کا سہارا لیا اور اس کام کے سلسلے میں مذہبی طبقے کی خدمات انہیں حاصل رہیں۔ لہٰذا اب بھی اگر کوئی ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے جو صاحب اختیار لوگوں کی نالائقی کو عوام کے سامنے expose کرنے والا ہو اور اپنے اندر یہ امکان رکھتا ہو کہ اس واقعے کی وجہ سے عوام مقتدر طبقے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے، تو اسی روایتی طریقہ واردات کو بروئے کار لایا جاتا ہے، جس میں مذہبی طبقہ اسے اعمال کا نتیجہ قرار دے کر صاحب اختیار لوگوں کو بچانے کی خدمت سرانجام دیتا ہے۔
ایک طرف تو فلسفی اور مذہب کے ناقدین مذہبی طبقے کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں کہ یہ کائنات میں رونما ہونے والے ناخوشگوار واقعات کو اعمال سے جوڑ کر حکمرانوں کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف یہ حضرات کائنات میں رونما ہونے والے ناخوشگوار واقعات اور حادثات کو فطری عمل قرار دیتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کائنات میں رونما ہونے والے واقعات کو فطرت سے جوڑنا بادشاہوں کی خدمت ہے یا اعمال سے جوڑنا؟ اعمال سے جوڑنے کا مطلب تو یہ ہے کہ ہم نے اپنی اجتماعی ذمہ داری کا احساس نہیں کیا، نااہل اور ظالم حکمرانوں کو قوم پر مسلط کرنے میں معاونت کی، درخت کاٹے، وافر مقدار میں غیر ضروری طور پر گیس، بجلی، پٹرول اور کائنات کے دیگر وسائل کا بے جا استعمال کیا، جبکہ فطرت سے واقعات نتھی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان واقعات کی ذمہ داری انسانوں پر نہیں، بلکہ یہ فطری عمل کا نتیجہ ہیں۔
غور کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بادشاہوں کے اصل خادم تو وہ لوگ ہیں جو کائنات میں رونما ہونے والے واقعات کومحض فطری عمل قرار دیتے ہیں، کیونکہ ان لوگوں کا یہی مؤقف دراصل ان واقعات کو انسانی ذمہ داری سے نکال کر فطرت کے دائرے میں لے جاتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے بڑے بڑے جرائم کیے ہوں، لوگوں کو قتل کیا ہو، اس کے رد عمل میں اسے قتل کیا جائے۔ ایسے میں اس کے قتل پر کوئی اٹھے اور کہے کہ جناب! یہ اسے اپنے عمل کی سزا ملی۔ دوسرا شخص کھڑا ہو کر کہے کہ نہیں، یہ اس کے عمل کی سزا نہیں بلکہ موت ایک فطری شے ہے اس لیے وہ مرا۔ دیکھا جائے تو یہ شخص ظلم کا ساتھ دے رہا ہے۔ مرنے والے کے مرنے کو اس کے ظالمانہ اعمال سے کاٹ کر ایسا شخص مزید ظالموں کے پیدا کرنے والا بیانیہ معاشرے میں عام کر رہا ہے۔
اس ضمن میں اگر اسلام کے تصور عمل پر غور کیا جائے اور اسلام پر اعتراض کرنے والے فلسفیوں کے رویوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہی حضرات اسلام کے آفاقی اور جامع تصور عمل کو خود محدود بھی کرتے ہیں اور اسلام کے حوالے سے اپنے اسی خودساختہ تصور کو بنیاد بنا کر یہ فرماتے ہیں کہ اسلام کا تعلق محض پوجا پاٹ سے ہے۔
اس کے بعد پھر ظلم یہ کرتے ہیں کہ اسلام کو اپنے ہی خودساختہ بیانیے کے ذریعے پوجا پاٹ تک محدود کرنے کے بعد، حادثات کے وقت اسلام کی ایسی تعلیمات جن میں بتایا گیا ہے کہ فساد انسان کے اعمال کی وجہ سے آتے ہیں، کو بھی محض پوجا پاٹ والے اعمال تک محدود کرتے ہیں اور بڑی بے شرمی کے ساتھ یہ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ دیکھیں یہ مذہبی لوگ کتنے بیوقوف ہیں کہ سیلابوں کو پوجا پاٹ میں کمزوری کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ اسلام کا تصورِ عمل اتنا وسیع ہے کہ اس سے زندگی کا کوئی لمحہ بھی باہر نہیں۔
اس کی تعلیمات ماں کی گود سے لے کر قبر تک تمام زندگی پر محیط ہیں۔ اسلام کے اس تصورِ عمل پر قرآن حکیم اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم گواہ ہیں اور ان کی گواہی آج بھی اپنی اصل شکل میں پورے آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ اگر کوئی خدا کے کلام سے عبادت کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کرے تو وہ اسلام کے اعمال کے حوالے سے ہرگز اس قسم کی بیوقوفانہ بات نہیں کرے گا کہ ان کا تعلق محض پوجا پاٹ سے ہے، بشرطیکہ اس میں تھوڑی بہت حیا اور اخلاق ہو۔
خدا کے کلام میں عبادت کا جو تصور بیان کیا گیا ہے، اس کا مطلب پوری زندگی میں، خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی، خدا کی اطاعت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر کرنے کا نام ہے۔ اور مسلمان کی زندگی کا کوئی لمحہ، کوئی عمل، کوئی معاملہ اور کوئی فکر عبادت سے آزاد نہیں۔ الغرض ہر وہ اچھا کام، خواہ وہ خالص دنیاوی ہی کیوں نہ ہو، جو خدا کی رضا کے لیے کیا جائے، اسے اسلام عبادت قرار دیتا ہے۔ اس سلسلے کا ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ خدا نے اپنے بندوں کو عبادت کی جو تعلیم اپنی کتاب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دی ہے، عبادت کو اسی مفہوم کے ساتھ فکری و نظریاتی طور پر ماننا اور اسی کے مطابق عمل کرنا اختیاری شے نہیں بلکہ لازمی ہے۔ کوئی اگر اس تصورِ عبادت کو نظریاتی طور پر قبول نہ کرے تو وہ باغی ہے اور عملی طور پر اس سلسلے میں کمزوری کا اظہار کرے تو وہ عاصی ہے۔
اس سلسلے میں ایک بات یہ بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ اگر خدا ہمارے خالق ہیں، مالک اور رب ہیں، وہ ہمیں سب کچھ عطا کرتے ہیں، اب اس نے اگر کوئی چیز ہم پر لازم کی ہو اور اس کے بارے میں اس نے ہمیں بتایا ہو کہ اگر اس میں کوتاہی کرو گے تو میں تمہیں فلاں سزا دوں گا۔
مثلاً اس نے ہمیں کسی کی جان بغیر حق کے لینے سے منع فرمایا ہے، یہ اس کا حکم ہے اور بتایا ہے کہ اگر تم اس طرح کرو گے تو فلاں صورت حال سے تمہیں بطور سزا دوچار کیا جائے گا۔ اب اگر وہی خدا نماز نہ پڑھنے کے بارے میں کہے کہ جب اسے ضائع کرو گے تو تم زوال کی طرف روانہ ہو جاؤ گے، میں بطور سزا تمہارے اوپر زوال لاؤں گا، تو آخر اس میں کون سی بات ناقابل فہم ہے؟ دونوں خدا کے احکام ہیں جن پر وہ سزا دے رہا ہے۔ اب اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ قتل پر تو عذاب اور سزا کی سمجھ آتی ہے مگر نماز ترک کرنے پر سزا کی سمجھ نہیں آتی، تو اس کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ آخر ان دونوں احکام کا منبع ایک ہی تو ہے۔ ان میں فرق کا حق اگر حاصل ہے تو اسی خدا کو حاصل ہے جس نے یہ احکام اتارے ہیں۔ بحیثیت بندہ کسی کو یہ حق قطعاً نہیں کہ خدا کے احکام اور ان کے نتائج کے بارے میں راۓ زنی کرے۔
وَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنٍ وَّلَا مُؤۡمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗۤ اَمۡرًا اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهُمُ الۡخِيَرَةُ مِنۡ اَمۡرِهِمۡ ؕ وَمَنۡ يَّعۡصِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيۡنًا
(سورۃ الأحزاب: 36)
**ترجمہ:** "کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول ﷺ کسی معاملے کا فیصلہ کر دے تو پھر اسے اپنے اس معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا۔”
خدا کے احکام اور ان کے نتائج کے بارے میں کلام کرنا سرے سے انسان کا کام ہی نہیں، کیونکہ اس کے پاس قرآن و سنت کے بغیر کوئی ایسا معیار ہی نہیں جس سے وہ اللہ پاک کے فیصلوں کو معلوم کر سکے یا اس حوالے سے قرآن و سنت سے آزاد ہو کر کوئی قیاس کر سکے۔ مثلاً ہم کسی انسان کے اپنے نوکر کو دیے ہوئے حکم کے بارے میں قیاس کر سکتے ہیں کہ آپ کے نوکر نے اگر چاول وقت پر تیار نہیں کیے تو اس میں کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے، کیونکہ ایک گھنٹہ لیٹ کھانے میں کوئی مسئلہ نہیں، اس لیے نوکر کو سزا نہ دو۔ یہ جو ہم نے قیاس کیا، اس کی بنیاد نوکر کے مالک کی حاجت تھی جو لیٹ ہونے کے باوجود پوری ہو سکتی تھی۔ مگر خدا کے احکام میں قیاس کے لیے قرآن و سنت کے علاوہ ہمارے پاس کوئی بنیاد ہی نہیں، کیونکہ وہ ہر عیب اور کمزوری سے پاک سبحان ذات ہے۔ لہٰذا بحیثیت مسلمان ہمیں قرآن و سنت سے خدا کے احکام پر عمل اور عدم عمل کی صورت میں جن نتائج کا بتایا گیا، انہیں من و عن تسلیم کرنا ایمان ہی کا تقاضا ہے۔
دراصل بات حکم کی اطاعت کی ہے۔ خدا نے اطاعت کا حکم دیا ہے اور اس کے کسی بھی حکم سے روگردانی کرنا اس کی نافرمانی ہے اور یہ اسی کا اختیار ہے کہ کس عمل میں اپنی نافرمانی کو موجب عذاب ٹھہرائے اور کس میں نہ ٹھہرائے۔
یہ بھی دیکھا جائے کہ دنیا میں عذابوں کا آنا تنبیہات بھی ہیں جن کے ذریعے خدا انسان کو اپنی طرف اور فلاح کے راستے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بھی خدا کا فضل ہے کہ وہ اپنے بندوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ایسے اسباب پیدا فرماتے ہیں جنہیں دیکھ کر انسان اپنا قبلہ درست کر لیتا ہے۔ یہ تو خدا کی بے پناہ جود و سخا کی دلیل ہے۔
ظَهَرَ الۡفَسَادُ فِى الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِى النَّاسِ لِيُذِيۡقَهُمۡ بَعۡضَ الَّذِىۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ۞
(سورۃ الروم آیت نمبر 41)
ترجمہ:”خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے، تاکہ وہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید کہ وہ باز آجائیں۔”
اگر ایک استاد اپنے شاگرد کو اس لیے تادیباً سزا دے کہ وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو جائے، وہ ضائع ہونے سے بچ جائے، تو کیا یہ استاد کی شفقت کے علاوہ بھی کچھ ہو سکتا ہے؟ یہ بات اب شاگرد ہی پر منحصر ہے کہ وہ اسے اپنے لیے رحمت بناتا ہے یا محض سزا سمجھ کر استاد کے خلاف کوئی بیانیہ بنانا شروع کر دیتا ہے۔
مذہب کے ناقدین جو خودساختہ اور متعصبانہ موقف اس سلسلے میں اختیار کرتے ہیں، وہ کبھی امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام احمد بن حنبل، امام ابن تیمیہ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ، سید احمد شہید بریلوی، شیخ سرہندی، سید قطب شہید، امام حسن البنا شہید، سید مودودی، حماس کے ٹاپ لیڈر شہید اسماعیل ہانیہ (جو حال ہی میں شہید کیے گئے) وغیرہ کا نام نہیں لیتے، کہ ان لوگوں کی پوری زندگی استحصالی حکمرانوں اور ظالموں کے خلاف گزری ہے۔ ان میں بہت سے لوگوں کو شہید کیا گیا، کچھ جیلوں میں بند کیے گئے، بعض کو عالمی سطح پر علمی خدمات کے باوجود اتنا گرایا گیا ہے کہ اپنے طبقے میں بھی ان کا نام لینا بیوی کو طلاق دلوانے کے مترادف ٹھہرایا گیا۔ جب اسلامی تاریخ کے ان ہیروز کی بات آتی ہے تو مذہب کے ناقدین انہیں دہشت گرد، شرپسند اور فساد گر گنوانا شروع کر دیتے ہیں۔ مذہب کے ناقدین کی اس افسوسناک دورنگی کو ملاحظہ کریں کہ ایک طرف مذہب کو بادشاہوں کی خدمت کے لیے محض انسانوں کا تراشا ہوا بیانیہ قرار دیتے ہیں اور دوسری جانب جب اسی مذہب کو بنیاد بنا کر کوئی مجاہد ظالم حکمرانوں کے خلاف کوئی کردار ادا کرنے اٹھتا ہے تو انہیں دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔
اس تحریر سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اس کے ذریعے زیر بحث مسئلے میں مذہبی طبقے کو من حیث الکل پاکیزہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بلکہ تحریر کا مقصد جہاں اعمال کے نتیجے میں رونما ہونے والے فسادات کے حوالے سے اسلام کی تعلیمات پر سوالات اٹھانے والوں کے رویوں پر تنقید ہے، وہیں واقعات کو محض اسلام کے چند اعمال سے نتھی کرنے والے مذہبی طبقے پر بھی نقد ہے۔
اس ضمن میں ایک معمہ یہ بھی ہے کہ جب کبھی اجتماع کے حوالے سے مذہبی تعلیمات کی بات کی جاتی ہے کہ مذہب سیاست، معیشت، معاش وغیرہ کا بھی امام ہے تو مذہب کے ناقدین سیخ پا ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مذہب کا اجتماعی نظام سے کیا تعلق ہے؟ اس دوران ان حضرات کی دلیل وہ مذہبی لوگ ہوتے ہیں جو مذہب کو پوجا پاٹ تک محدود سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں مذہب تو خدا اور بندے کے مابین ایک ذاتی معاملہ ہے۔ مگر جب واقعات اور حادثات رونما ہوتے ہیں، کوئی اجتماعی ذمہ داریاں آتی ہیں تو کہنا شروع کرتے ہیں کہ یہ نمازوں اور دعاؤں سے نہیں ہوگا، فلاں بندہ نماز بھی پڑھتا ہے اور حرام خوری بھی کرتا ہے،فلاں ٹھیکیدار حاجی بھی ہے اور کام مئں خیانت بھی کرتا ہے، اس قسم کے جملے بول کر وہ خود اعتراف کرتے ہیں کہ مذہب کو محض پوجا پاٹ تک محدود رکھنا ایک بیوقوفانہ اور احمقانہ رویہ ہے، بلکہ مذہب تو ایسا ہونا چاہیے جس میں حرام خوری سے روکنے کی صلاحیت ہو، جو انسان کے انفرادی اور اجتماعی کردار کو سنوارنے والا ہو۔
مذہب کو محدود کرنے والوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو ان کے مطابق مذہب میں یہ صلاحیت ہی نہیں کہ وہ اجتماع اور عملی زندگی میں رہنمائی دے سکے۔ عجیب بات ہے کہ جب مذہب میں ان حضرات کے نزدیک یہ صلاحیت ہی نہیں، تو پھر مذہب کو ایسے معاملات میں ذمہ دار کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟
دراصل یہ اسلام کی حقانیت ہے کہ اس کے آفاقی تصور پر تنقید کرنے والے خود اپنی تنقید کے نتیجے میں اس کے آفاقی تصور کی تائید کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ مذہب کے ناقص تصور رکھنے والوں کے بطلان کے لیے اگر ان پر کوئی تنقید نہ بھی کی جائے تو غیر معمولی حالات میں ان کے سیکولر مؤیدین کے مذہب پر اٹھانے والے سوالات ہی ان کی تنقید کے لیے کافی ہیں۔
اس ضمن میں اگر دعا کے فلسفے پر غور کیا جائے تو جہاں یہ عبادت کا مغز نظر آتا ہے، وہیں بندے کا خدا کے سامنے عجز کا اظہار بھی ہے۔
حضرت نوح علیہ السلام کی دعا کو ذرا ملاحظہ کیجیے اور اس دوران ان کی کیفیت کو محسوس کرنے کی کوشش کی جائے کہ وہ خدا کے سامنے اپنے عجز کا اظہار کرتے ہیں اور اس کے اس اظہار کو اللہ پاک نے اپنے کلام کا حصہ بناتے ہیں۔ نوح علیہ السلام اللہ پاک سے عرض کرتے ہیں:
فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّىۡ مَغۡلُوۡبٌ فَانْـتَصِرۡ۞
(سورۃ القمر آیت نمبر 10)
ترجمہ: "پس اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں بے بس ہوں، تو میری مدد کر۔”
مغلوب؛ مطلب ظاہری اسباب کے اعتبار سے ہر طرح کی بے بسی مجھ پر چھائی ہوئی ہے۔ میری طاقت کسی فطری نتیجہ دینے سے قاصر ہو چکی ہے۔
حضرت نوح علیہ السلام اللہ سے عرض کر رہے ہیں کہ میں تو بے بس ہو چکا ہوں۔ میں نے ظاہری اسباب کو بروئے کار لایا مگر کچھ نہ بن پڑا۔ مگر آپ تو خالق اسباب ہستی ہیں۔ فطرت کے خالق بھی آپ ہیں اور اسے بدلنے کا اختیار بھی آپ کے پاس ہے، لہٰذا آپ خود ہی مجھ پر درپیش معاملے کو دیکھیں۔
اس کے بعد قرآن کا بیان ہے:
فَفَتَحْنَآ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ(11)
پھر ہم نے موسلا دھار پانی سے آسمان کے دروازے کھول دیے۔
وَفَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُيُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰٓى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ (12)
اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کر دیے، پھر جہاں تک پانی کا چڑھاؤ چڑھنا ٹھہر چکا تھا، چڑھ آیا۔
وَحَـمَلْنَاهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّدُسُرٍ (13)
اور ہم نے نوح کو تختوں اور کیلوں والی کشتی پر سوار کیا۔
تَجْرِىْ بِاَعْيُنِنَاۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ(14)
جو ہماری عنایت سے چلتی تھی، یہ اس کا بدلہ تھا جس کا انکار کیا گیا تھا۔
وَلَقَدْ تَّـرَكْنَاهَآ اٰيَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ(15)
اور ہم نے اس کو ایک نشان بنا کر چھوڑ دیا، پس کیا کوئی نصیحت پکڑنے والا ہے؟
فَكَـيْفَ كَانَ عَذَابِىْ وَنُذُرِ(16)
پھر (دیکھا) ہمارا عذاب اور ڈرانا کیسا تھا۔
سورہ قمر کی یہ آیات بتاتی ہیں کہ نوح علیہ السلام کی قوم کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ اس لیے کہ ایسا کرنا خدا کو منظور تھا۔ اور کیسے ہوا؟ یعنی اسباب کیا خدا نے بنائے؟ وہ پانی تھا۔
اس پورے واقعے کے تناظر میں اگر ان لوگوں کے بیانیے کا جائزہ لیا جائے جو اعمال کو خدا کے عذاب ہونے پر معترض ہیں، تو ان کے نزدیک دعا بھی ایک غیر ضروری فعل ہے (العیاذ باللہ)، کیونکہ نوح علیہ السلام کی دعا بھی کسی ظاہری سبب کے نتیجے میں نہیں تھی بلکہ خدا پر ایمان کے نتیجے میں انہوں نے مانگی تھی۔ اگر سب کچھ اسباب ہی ہوتا تو خدا نوح علیہ السلام کو قطعاً یہ دعا نہ سکھاتا۔
واضح رہے کہ فطری قوانین کا یہاں انکار نہیں کیا جا رہا، بلکہ یہ حقیقت بیان کی جا رہی ہے کہ فطری قوانین خدا کے حکم کے تابع ہیں۔ اس لیے اگر خدا نے اپنے کلام یا اپنے نبی کے ذریعے کسی عمل پر عذاب نازل کرنے کا فرمایا ہو، تو اس عذاب کو خدا یا رسول کے بیان کردہ عمل کی طرف منسوب کرنا کوئی انوکھی بات نہیں۔
اسی طرح اس بات میں بھی کوئی وزن نہیں کہ فلاں جگہ تو عذاب نہیں آتا اگرچہ وہاں فلاں فلاں برائیاں ہوتی ہیں۔ اس ضمن میں یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ خدا کا ہر کسی کے ساتھ اپنا الگ معاملہ ہوتا ہے، یہ اسی کے علم اور اختیار میں ہے کہ فلاں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے اور فلاں کے ساتھ کیا۔ خدا اپنے کاموں کو خوب جانتا ہے، ان کے کاموں میں بندوں کو دخل دینے کا نہ تو اختیار ہے اور نہ ہی کسی بندے کی اتنی حیثیت ہو سکتی ہے کہ وہ خدا کے کاموں میں دخل دے سکے۔ ہم بحیثیت مسلمان اتنا جانتے اور مانتے ہیں کہ خدا جو کچھ کرتا ہے وہ حق ہی ہوتا ہے، حق کے سوا کچھ بھی نہیں۔
آخر میں عرض ہے کہ اس تحریر میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ متعلقہ موضوع کے حوالے سے ماحول میں پائے جانے والے افراط و تفریط کا جائزہ لیا جائے اور بحیثیت مسلمان ہم اپنے اپنے نقطہ نظر پر نظرثانی کرنے پر آمادہ ہو جائیں کہ آیا ہمارا نقطہ نظر اس سلسلے میں قرآن و سنت سے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔
یہ بات تحریر میں واضح بھی کی گئی ہے اور اہمیت کے پیش نظر آخر میں دوبارہ عرض کی جاتی ہے کہ وہ مذہبی طبقہ جو ہر شے کو محض چند اعمال کے ترک کرنے کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور کسی ذمہ دار پر ذمہ داری ڈالنے کے روادار نہیں، وہ بھی غلط ہیں۔ ان کا یہ نقطہ نظر حقیقتاً حکمران طبقے کی خدمت ہے۔ اور وہ لوگ جو مسلمان ہیں اور قرآن و سنت کے نصوص کو دیکھے یا سمجھے بغیر عذاب کو اعمال سے جوڑنے والے اسلام کے حقیقی نقطہ نظر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، وہ لوگ بھی واضح طور غلط مقام پر کھڑے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ‘لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا’ یعنی ہر فرد، خواہ وہ حکمران ہو یا عام شخص، اپنی استعداد کے مطابق کائنات میں رونما ہونے والے اور انسانوں کو متاثر کرنے والے حالات کا ذمہ دار ہے۔ اسی طرح طبعی قوانین بھی اس کائنات کے حقائق ہیں۔ ان کا انکار کرنا کسی طرح بھی معقول بات نہیں، مگر جس طرح ان کا انکار کرنا نامعقولیت ہے، بالکل اسی طرح انہیں سب کچھ ماننا اور خالق کا مقام دینا — اس طور پر کہ جب بھی ان قوانین کی مرضی ہو گی نتائج پیدا کریں گے — قطعاً نامعقولیت اور انتہائی درجے کا مصنوعی پن ہے۔ طبعی قوانین کا حرکت میں آنا اور نتائج دینا خدا ہی کے اختیار میں ہے۔
وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ
اور اللہ ہی کے قبضے میں سب کاموں کا انجام ہے۔