"چلاسیت”دراصل ایک کیفیت کا نام ہے، کسی جغرافیائی حدبندی یا محض ایک چھوٹے شہر کا نام نہیں۔ ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ تھلیچی سے لے کر تھور تک، بشمول گوہرآباد، گیس، رائیکوٹ، تھک نیاٹ، ہڈر اور کھنر تک پھیلا ہوا خطہ تحصیل چلاس کہلاتا ہے۔ سب ہی چلاسی کہلوائیں گے اور تمام قبائل کے لوگ مراد ہونگے۔
آج صبح چلاس کے عنوان سے اور اس مخصوص کیفیت پر ایک کالم لکھا، جس میں ایک واقعے کو "چلاسی” کے عنوان سے کوڈ کیا گیا تھا۔ مگر افسوس کہ بعض احباب نے اس تحریر کو ایسا بتنگڑ بنایا گویا میں چلاس شہر کے ایک چھوٹے حصے کو نشانہ بنا رہا ہوں اور گوہرآباد کو فرشتوں کی بستی بنا کر پیش کر رہا ہوں۔ حالانکہ میرا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا اور نہ کبھی ہوگا۔ چلاس شہر تو نالوں سے آکر بسنے والوں کی آماجگاہ ہے نہ کوئی الگ آبادی پر مشتمل علاقہ۔ اور جو باشعور لوگ ہیں انہوں نے حد درجہ تحسین بھی کی۔ سب کا شکریہ۔
میری اصل نفرت اور تکلیف چلاسیت سے ہے، یعنی وہ زہر آلود کیفیت جو ہمارے معاشرے کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہی ہے۔ یہ کیفیت کسی ایک قبیلے، ایک بستی یا ایک محلے کی نہیں، بلکہ پورے خطے میں مختلف درجوں میں رچی بسی ہے۔ یہ کیفیت ہے۔
قتل و غارت اور خونریزی
ظلم و ستم اور نسلی دشمنیاں
قبائلی تعصب اور اندھی نفرتیں
سودی لین دین اور حرام کمائی
ذرا سی بات پر تلواریں اور بندوقیں اٹھا لینا
اداروں کی بربادی اور سماجی نظام کا انہدام
تعلیم دشمن رویے اور جہالت پر ناز کرنا
جعل سازی اور میرٹ کو پیروں تلے روندنا
رشوت، سفارش اور اقربا پروری کا راج
غیرت کے نام پر قتل جیسے بھیانک جرائم
مسافروں کے ساتھ زیادتی اور لوٹ مار
دین کے مقدس نام پر بے ہودگیاں اور بدعات
خواتین کے ساتھ ناروا سلوک اور انہیں تعلیم سے دور رکھنا
اور سب سے بڑھ کر اصلاح کی بات کرنے والوں کی عزتیں اچھالنا
یہ سب کچھ محض چند واقعات نہیں، بلکہ ایسے سماجی ناسور ہیں جو ہمارے وجود کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ ان کا انکار کرنے سے یہ حقیقتیں ختم نہیں ہوں گی، بلکہ اور زیادہ بڑھیں گی۔ ہمیں چاہیے کہ کھلے دل سے ان مسائل کو تسلیم کریں، ان ناسوروں کو ڈسکس کریں، ان پر مدلل و مبرہن مکالمہ کریں، اور اصلاح کا بیڑا اٹھائیں۔ ورنہ یاد رکھیے! اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں تو آنے والا وقت چلاس کو ایک مستقل جہنم کا منظر بنا دے گا۔
چلاس شہر میں دیامر کے تمام نالوں کے لوگ آباد ہیں، اور ہر ایک کے اندر یہ کیفیت کم یا زیادہ ضرور موجود ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر ذی شعور شخص سب سے پہلے اپنی ذات کا محاسبہ کرے، خود کو اس کیفیت سے نکالے، پھر اپنے گھر، اپنے قبیلے اور اپنے علاقے کو اس سے نجات دلانے کی کوشش کرے۔ یہی سچی خدمت ہے، یہی اصل محبت ہے۔
یہ نفرت نہیں، یہ دشمنی نہیں، بلکہ اصلاح کی تڑپ ہے۔ اگر میری ان تلخ اور سچی باتوں پر لوگ مجھے لتاڑنا چاہتے ہیں تو میں خوشی خوشی ان کے طعنے برداشت کروں گا۔ اگر میری ذات کو گالیاں دینے سے ہی اس "چلاسیت” کا خاتمہ ممکن ہے تو میں سب کو اجازت دیتا ہوں، جو کہنا چاہیں کہیں۔ میرا مقصد کسی کو رسوا کرنا نہیں، بلکہ سچ کو سچ کہنا اور برائی کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔
یاد رکھیے! یہ دھرتی عظیم اہل علم کی جنم بھومی ہے۔ یہی وہ زمین ہے جس نے فاضلین دارالعلوم دیوبند جیسے مولانا غلام روف، مولانا سید رسول، مولانا شعیب، مولانا یوسف، مولانا رجی رحمت رحمہم اللہ اور بابا چلاسی، پروفیسر محفوظ الحق، مولانا عبدالباری، مولانا عبدالقدوس،مولانا معاذ جیسے درجنوں جید علماء کو جنم دیا۔ مگر کتنا المیہ ہے کہ آج وہ سب حضرات اس علاقے میں موجود نہیں ہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ ہر ذی شعور شخص اس زہریلی کیفیت سے تنگ آ کر اپنا آبائی علاقہ چھوڑ کر کہیں اور جا بستا ہے، آج بھی چلاس کی ہزاروں پڑھی لکھی فیملز چلاس سے باہر کہیں جاکر بس چکی ہیں اور یہ سلسلہ تواتر سے جاری ہے۔
میں نے یہ سب کچھ اپنے آپ کو علاقے سے جدا کرکے نہیں لکھا، بلکہ اسی دھرتی کا بیٹا ہو کر، اس کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہوئے لکھا ہے۔ میرا غصہ چلاس پر نہیں، چلاسیت پر ہے۔ اور یہ غصہ اور نفرت ہمیشہ قائم رہے گی۔
اور میں اپنی بساط کے مطابق اس پر مسلسل لکھتا رہوں گا۔
کچھ احباب نے ذاتی بغض و عناد کی بنیاد پر طعنے دیے، الزامات لگائے، اور بہت سارے احباب نے نیتوں پر شک کریں گے، کوئی بات نہیں۔ میرا رب جانتا ہے کہ میں نے ہمیشہ حق اور اصلاح کی نیت سے لکھا ہے، اور ان شاء اللہ آگے بھی لکھتا رہوں گا۔ میں تمہاری گالیوں اور نفرت سے رکنا والا نہیں، ہمیشہ جو سچ سمجھوں گا لکھتا رہونگا۔ کیونکہ میرے ہزاروں قارئین سچ کو پسند بھی کرتے ہیں اور تحسین بھی کرتے ہیں۔
میری تڑپ اور میری دعا یہی ہے کہ چلاس جہنم کا منظر نہ پیش کرے بلکہ جنت کا گہوارہ بنے۔