روسو کا فلسفہ انقلابِ آج کی تحریکیں

دنیا کی تاریخ میں چند ایسے مفکرین گزرے ہیں جن کے افکار نے صدیوں کے بوسیدہ ڈھانچوں کو لرزا دیا۔ انہیں میں ایک نام ژاں ژاک روسو (Jean-Jacques Rousseau) کا ہے جس نے اٹھارہویں صدی میں اپنے فلسفے اور تحریروں سے یورپ کے جاگیردارانہ اور شاہی نظام کو چیلنج کیا۔ اس کی شہرہ آفاق کتاب "سوشلس کانٹریکٹ” (Social Contract) نے نہ صرف فرانس بلکہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی انقلابی سوچ کو جنم دیا۔ روسو نے یہ پیغام دیا کہ ریاست بادشاہ یا کسی طاقتور طبقے کی جاگیر نہیں بلکہ عوام کی مشترکہ امانت ہے۔
اس نے لکھا کہ:

"ملک کا ہر شہری اس کا حکمران ہے۔”

"عوام کی مرضی کے بغیر حکومت نہ بن سکتی ہے اور نہ چل سکتی ہے۔”

"انسان فطرتاً آزاد پیدا ہوتا ہے لیکن معاشرتی نظم قائم رکھنے کے لیے وہ چند آزادیاں قوانین کے حوالے کرتا ہے، اور بدلے میں ریاست پر لازم ہے کہ اس کی جان و مال کی حفاظت کرے۔”

یہ سادہ لیکن پر اثر جملے فرانس کے بند کمرے کھولنے لگے۔ عوام نے سوچنا شروع کیا کہ آخر کیوں ایک بادشاہ ان کے خون پسینے کی کمائی پر عیش کرے، کیوں امراء اور جاگیردار ان کے وسائل پر قابض رہیں، اور کیوں عام آدمی کا کوئی فیصلہ اہمیت نہ رکھتا ہو۔ یہی سوچ رفتہ رفتہ فرانس کے عظیم انقلاب میں ڈھل گئی جس نے 1789ء میں دنیا کا سیاسی نقشہ بدل دیا۔

فرانس میں صدیوں سے بادشاہت قائم تھی۔ لُوئی شانز دہم اور اس کے جانشینوں کے دور میں شاہی خاندان نے بے پناہ فضول خرچی کی، جبکہ عوام غربت اور بھوک سے مر رہے تھے۔ روسو کے خیالات ان حالات میں عوام کے دلوں کی آواز بن گئے۔ لوگوں نے یہ ماننا شروع کر دیا کہ اگر ریاست عوام کی مرضی سے نہیں چلتی تو وہ ریاست عوام کی دشمن ہے۔ چنانچہ "Liberty, Equality, Fraternity” کا نعرہ لگا اور فرانس نے دنیا کو دکھا دیا کہ عوامی طاقت کیا کر سکتی ہے۔

بادشاہت کا خاتمہ ہوا، امیر طبقے کی اجارہ داری ٹوٹی، اور جمہوری اصولوں پر مبنی ایک نئی دنیا کے دروازے کھلے۔ روسو نے جس "عوامی مرضی” کا تصور دیا تھا، وہی آگے چل کر جدید جمہوریت کی بنیاد بنا۔

روسو کی کتاب کے الفاظ محض کاغذوں میں محدود نہیں رہے۔ یہ ایک ایسے بیج کی مانند تھے جس نے دنیا بھر میں عوامی بیداری کی فصل اگائی۔ بیسویں اور اکیسویں صدی میں کئی مرتبہ ایسے احتجاج ہوئے جنہوں نے حکومتوں کو جھکنے، پالیسی بدلنے یا استعفی دینے پر مجبور کر دیا۔

عرب بہار (Arab Spring) – 2011

مشرق وسطیٰ میں عوامی بیداری کی سب سے بڑی مثال عرب بہار ہے۔ تیونس میں محمد بوعزیزی کی خودسوزی نے وہ چنگاری جلائی جو پورے خطے میں پھیل گئی۔ عوام سڑکوں پر نکلے، "روٹی، آزادی اور انصاف” کے نعرے لگے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ:
تیونس کے صدر زین العابدین بن علی کو استعفی دینا پڑا۔
مصر میں حسنی مبارک کی تیس سالہ حکمرانی چند ہفتوں کے احتجاج کے بعد ختم ہو گئی۔

لیبیا میں معمر قذافی کی طویل آمریت کا خاتمہ ہوا۔
یمن اور شام میں بھی بغاوتیں پھوٹ پڑیں۔
یہ سب وہی اصول تھے جنہیں روسو نے بیان کیا تھا کہ عوام کی مرضی کے بغیر کوئی حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔
پاکستان میں عوامی تحریکیں
پاکستان میں بھی مختلف ادوار میں عوامی احتجاج نے حکومتوں کو جھنجھوڑا۔
1968ء کی عوامی تحریک نے ایوب خان کو استعفی دینے پر مجبور کیا۔
1977ء میں عوامی احتجاج اور فوجی دباؤ کے نتیجے میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم ہوئی۔
حالیہ دہائیوں میں اسلام آباد کے دھرنے اور تحریکیں حکومتوں کے لیے مسلسل دباؤ کا باعث بنی رہیں۔

روسو کے فلسفے کی تازہ جھلک سری لنکا میں 2022ء میں دیکھی گئی۔ معاشی بدحالی، مہنگائی اور ایندھن کے بحران نے عوام کو سڑکوں پر لاکھڑا کیا۔ لاکھوں لوگوں نے صدارتی محل کا گھیراؤ کیا اور بالآخر صدر گوتابایا راجا پکسے کو ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ یہ واضح ثبوت تھا کہ جب ریاست عوام کو بنیادی سہولتیں دینے میں ناکام ہو جائے تو عوام اپنے حق کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

بنگلہ دیش میں 2024 کے وسط میں شروع ہونے والے احتجاجات، جنہیں "بنگلہ ناکہ بندی” یا "جولائی انقلاب” بھی کہا جاتا ہے، ابتداً سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ نظام کے خلاف تھے۔ یہ احتجاجات اس وقت شدت اختیار کر گئے جب 5 جون 2024 کو بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ نے 2018 میں ختم کیے گئے 30 فیصد کوٹہ سسٹم کو بحال کر دیا، جو 1971 کی جنگ آزادی میں حصہ لینے والوں کے خاندانوں کے لیے مختص تھا۔ طلبہ نے اسے غیر منصفانہ اور امتیازی قرار دیتے ہوئے میرٹ کی بنیاد پر ملازمتوں کا مطالبہ کیا۔

نیپال میں ستمبر 2025 میں شروع ہونے والے احتجاجات، جنہیں "جیل Z احتجاجات” کہا جاتا ہے، بنیادی طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز (فیس بک، ایکس، یوٹیوب وغیرہ) پر حکومتی پابندی کے خلاف تھے۔ یہ پابندی 4 ستمبر 2025 کو 26 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عائد کی گئی تھی، جسے نوجوانوں نے آزادی اظہار پر حملہ قرار دیا۔

انڈونیشیا میں احتجاجات کا آغاز 25 اگست 2025 کو دارالحکومت جکارتہ سے ہوا، جب پارلیمنٹ ارکان کے لیے 50 ملین روپیاہ (تقریباً 3,075 امریکی ڈالر) ماہانہ ہاؤسنگ الاؤنس کے اعلان نے عوامی غم و غصے کو بھڑکایا۔ یہ الاؤنس جکارتہ میں کم از کم اجرت سے تقریباً دس گنا زیادہ تھا، جبکہ ملک معاشی مشکلات، جیسے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، اور بنیادی اخراجات میں اضافے سے دوچار تھا۔ اس کے علاوہ، صدر پرابوو کی مفت غذائی پروگرام (ایم بی جی) اور دیگر پالیسیوں کے لیے بجٹ کٹوتیوں نے تعلیم اور صحت کے شعبوں کو متاثر کیا، جس سے عوامی ناراضگی میں مزید اضافہ ہوا۔

یورپ میں بھی کئی مثالیں ہیں۔
2019ء میں برطانیہ میں بریگزٹ کے بحران اور پارلیمانی دباؤ کے نتیجے میں تھریسا مے نے وزارتِ عظمیٰ سے استعفی دیا۔
فرانس میں "پیلی جیکٹ تحریک” (Yellow Vest Movement) نے حکومت کو کئی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کیا۔
یہ سب روسو کے اپنے ملک کی سرزمین پر اس کے افکار کی بازگشت ہیں۔

آج کے دور میں جب جمہوریت کو کئی خطوں میں خطرات لاحق ہیں، روسو کا فلسفہ پہلے سے زیادہ اہم محسوس ہوتا ہے۔ عوام کو بتایا گیا کہ "ریاست تمہاری ہے، تم ہی اصل حاکم ہو۔” یہ پیغام آج بھی زندہ ہے۔
اگر حکومت عوام کو انصاف نہ دے تو عوام سڑکوں پر آ جاتے ہیں۔
اگر وسائل پر ایک طبقہ قبضہ کرے تو احتجاج جنم لیتے ہیں۔
اگر حکومت عوامی رائے کے بغیر جنگ یا معاہدہ کرے تو مخالفت بڑھ جاتی ہے۔
روسو کا نظریہ صرف یورپ کے لیے نہیں تھا بلکہ یہ ایک آفاقی اصول ہے جس نے دنیا بھر کی سیاست کو بدل ڈالا۔

ژاں ژاک روسو کا فلسفہ صرف ایک کتاب کا عنوان نہیں بلکہ انسانی آزادی، مساوات اور عوامی مرضی کی ایک تحریک ہے۔ انقلابِ فرانس اس کا پہلا بڑا اظہار تھا مگر اس کے اثرات آج تک دنیا کے کونے کونے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ چاہے وہ عرب بہار ہو، پاکستان کی عوامی تحریکیں ہوں یا بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال کا حالیہ بحران—ہر جگہ عوام نے ثابت کیا کہ اگر ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتی تو عوام اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

یہی روسو کا سب سے بڑا پیغام ہے:
ریاست عوام کے لیے ہے، عوام ریاست کے لیے نہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے