سستی شہرت، اخلاقی زوال اور معاشرتی المیہ

پختون معاشرہ اپنی روایتی، دینی اور خاندانی اقدار کے حوالے سے ہمیشہ سے ایک منفرد شناخت رکھتا آیا ہے۔ یہاں عزت، غیرت، شرم و حیا، اور خاندان کا تقدس صرف الفاظ نہیں بلکہ زندہ اقدار ہیں، جن پر نہ صرف انفرادی زندگی بلکہ اجتماعی نظام بھی استوار ہے۔

ایسے معاشرے میں جہاں عورت کو ماں، بہن اور بیٹی کے روپ میں بے مثال احترام حاصل ہوتا ہے، وہاں فحاشی، عریانی اور اخلاقی گراوٹ کو نہ صرف ناپسند کیا جاتا ہے بلکہ اسے ایک سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔

اسلامی تعلیمات پر استوار اس معاشرے میں کوئی بھی عمل جو ان اصولوں سے ٹکرائے، اُسے فوری طور پر عوامی ردعمل، مذمت اور تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تاہم، جدید دور میں سوشل میڈیا نے ایک نیا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم جہاں اظہارِ رائے کی آزادی فراہم کرتا ہے، وہیں بعض افراد اس آزادی کو مادر پدر آزاد روی میں تبدیل کر کے معاشرتی بگاڑ کا باعث بن رہے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ شہرت اور مالی مفاد کے لالچ میں کچھ لوگ اخلاقیات، اقدار اور تہذیب و شائستگی کی تمام حدود کو روند کر سامنے آتے ہیں، اور بدقسمتی سے یہی لوگ آج کل مقبول ترین شخصیات میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ علیشاہ اور سونیا شاہ کی مثال اس معاشرتی تضاد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک طرف عوام ان کی فحش حرکات پر تنقید کرتے ہیں، دوسری طرف ان کے لاکھوں فالورز اور کروڑوں ویوز اس دوغلے رویے کو آشکار کرتے ہیں۔

اگر واقعی ہم فحاشی اور بے حیائی کے خاتمے کے خواہشمند ہیں تو محض تنقید سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ سب سے پہلا قدم ایسے کرداروں کو فالو نہ کرنا ہے۔ انہیں نظر انداز کریں، بلاک کریں اور ان کے مواد کو دیکھنا ہی چھوڑ دیں۔ سوشل میڈیا کی مارکیٹ میں ڈیمانڈ ہی وہ طاقت ہے جو سپلائی کو قائم رکھتی ہے۔ جب تک معاشرہ خود ایسے کرداروں کو دیکھتا، شیئر کرتا اور تبصرہ کرتا رہے گا، یہ سلسلہ پھر رکنے والا نہیں۔

حال ہی میں پشاور پولیس کی جانب سے فحش مواد پھیلانے والے عناصر کے خلاف کی گئی کارروائی ایک نہایت خوش آئند اقدام ہے۔ ایس ایس پی آپریشن مسعود احمد بنگش کی قیادت میں جس انداز سے علیشاہ 007 کو گرفتار کیا گیا، وہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ ریاست اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اب حرکت میں آ چکے ہیں۔ تھانہ گلبہار کی پولیس نے پی ای سی اے 2016 اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت جو ایف آئی آر درج کی، وہ ایک واضح پیغام ہے کہ اب قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔ سوشل میڈیا پر بے راہ روی کی آزادی کا زمانہ ختم ہوتا نظر آ رہا ہے، اور یہ خوش آئند تبدیلی ہے جسے عوامی سطح پر سراہا جانا چاہیے۔

علیشاہ اور اس کی والدہ کا معاملہ صرف ایک فرد یا ایک خاندان کی حد تک محدود نہیں۔ یہ ایک علامتی واقعہ ہے جو اس وسیع تر اخلاقی بحران کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ہماری نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ ایک ماں، جو قدرتی طور پر اپنی اولاد کی محافظ ہوتی ہے، جب خود اپنی بیٹی کو شہرت اور دولت کے لالچ میں ایسی راہوں پر ڈال دے جہاں عزت، شرم، اور وقار کا کوئی تصور باقی نہ رہے، تو یہ صورتحال نہ صرف افسوسناک بلکہ قابل مذمت بھی ہے۔ یہ محض ایک کردار کی گمراہی نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والا لمحہ ہے۔

اسلام نے فحاشی کو ہمیشہ سے ایک مہلک زہر قرار دیا ہے۔ قرآن کریم میں بے حیائی کے قریب بھی نہ جانے کی تلقین کی گئی ہے، اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب بے حیائی کسی قوم میں عام ہو جاتی ہے تو اسے ذلت، رسوائی اور تباہی گھیر لیتی ہے۔ سوشل میڈیا اگر ایک نعمت ہے تو اس کا غلط استعمال ایک لعنت بن سکتا ہے۔ یہ ایسا ہتھیار ہے جو مثبت استعمال سے معاشروں کو بلند کرتا ہے، اور منفی استعمال سے انہیں تباہی کی گہرائیوں میں دھکیل دیتا ہے۔ آج ہماری نوجوان نسل تیزی سے اس منفی استعمال کی طرف راغب ہو رہی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ شہرت اور پیسے کی دوڑ ہے۔

علیشاہ اور اس جیسی دیگر شخصیات کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عزت اور دولت حاصل کرنے کے بے شمار باعزت ذرائع موجود ہیں۔ اگر مقصد صرف روزگار ہے تو خواتین کے لیے سلائی، کڑھائی، بیوٹیشن، آن لائن ٹیچنگ، فری لانسنگ، یا یوٹیوب پر تعلیمی ویڈیوز بنانا جیسے کئی مثبت راستے موجود ہیں۔ اگر تھوڑی محنت اور صبر سے کام لیا جائے تو یہی پلیٹ فارمز معاشرتی اصلاح اور تعلیم کے ذرائع بھی بن سکتے ہیں۔ سستی شہرت کے لیے اخلاقیات کو قربان کرنا نہ صرف خود کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ پورے معاشرے کو بگاڑنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

فحاشی کا سب سے بڑا اثر نوجوانوں پر پڑتا ہے، جو ذہنی طور پر ابھی تشکیل کے مراحل میں ہوتے ہیں۔ یہ مواد ان کے ذہن، رویوں، اور فیصلوں کو اس قدر متاثر کرتا ہے کہ وہ برائی کو نارمل سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں معاشرتی بگاڑ ناقابل واپسی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

خاندانی نظام تباہ ہونے لگتا ہے، مرد و عورت کے درمیان اعتماد ختم ہو جاتا ہے، جنسی جرائم میں اضافہ ہوتا ہے، اور فرد واحد سے لے کر پورا معاشرہ اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہو جاتا ہے۔

یہ صرف پولیس کی ذمہ داری نہیں کہ وہ ہر فحاش کردار کو گرفتار کرے۔ یہ والدین کی، اساتذہ کی، علما کی، اور میڈیا کی بھی اتنی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی نسل کو تربیت دیں، انہیں شعور دیں اور صحیح و غلط میں تمیز سکھائیں۔

تعلیمی ادارے صرف کتابیں پڑھانے کا نام نہیں، بلکہ کردار سازی کے مراکز ہونے چاہییں۔ علما کرام خطبوں میں محض عبادات کی تلقین پر اکتفا نہ کریں بلکہ جدید فتنوں، خاص طور پر سوشل میڈیا کی اخلاقی تباہ کاریوں پر کھل کر گفتگو کریں۔

حکومت کو چاہیے کہ سوشل میڈیا پر کنٹینٹ مانیٹرنگ کا ایک مضبوط، مؤثر اور جدید نظام بنائے۔ صرف شکایت درج کرنا کافی نہیں، بلکہ فوری ردعمل اور بروقت کارروائی ضروری ہے۔ جو لوگ مثبت، تعلیمی اور تربیتی مواد بنا رہے ہیں، ان کی حوصلہ افزائی کی جائے، مالی سپورٹ دی جائے، تاکہ وہ بھی شہرت کی اس دوڑ میں مثبت اقدار کے نمائندہ بن کر آگے آئیں۔

یہ ضروری ہے کہ غلطی کرنے والوں کو نہ صرف قانون کے کٹہرے میں لایا جائے بلکہ انہیں اصلاح کا موقع بھی دیا جائے تاکہ وہ اپنی سوچ کو تبدیل کر سکیں۔ تاہم، اصلاح کے عمل کے ساتھ عبرت کا پہلو بھی موجود ہونا چاہیے تاکہ دوسروں کے لیے یہ مثال بن سکے۔

معاشرے کی اجتماعی تربیت کا عمل صرف ریاست کی نہیں بلکہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کے موبائل فونز، ان کے دوستوں، اور آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ اساتذہ اپنے طالب علموں کے ساتھ دوستانہ ماحول میں اخلاقی گفتگو کریں۔ میڈیا ادارے مثبت مواد کو فروغ دیں اور منفی رجحانات کو پروموٹ کرنے سے گریز کریں۔

ہمیں صرف تنقید نہیں، عملی اقدام کی ضرورت ہے۔ صرف پولیس یا عدالتوں کے بھروسے معاشرے کی اصلاح ممکن نہیں۔ یہ ایک اجتماعی جدوجہد ہے جس میں ہر فرد، ہر ادارہ، اور ہر ذمہ دار شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ کل کا پاکستان باحیا، بااخلاق اور باوقار ہو تو آج ہمیں سوشل میڈیا کی سچی تصویر دیکھنی ہوگی۔ وہ تصویر جو ہماری تہذیب، دین، اور اقدار کے ساتھ جڑ کر ایک مثبت معاشرہ تشکیل دے۔

اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں، تو ہر روز ایک نئی "علیشاہ” پیدا ہوگی، اور ہر بار ہمیں یہی سوال ستائے گا کہ آخر ہم کہاں کھڑے ہیں؟ معاشرے کا وہ طبقہ جو ان کرداروں کو فالو کر رہا ہے، درحقیقت اسی زوال کا حصہ بن رہا ہے جس سے بچنے کے لیے وہ زبان سے مخالفت کرتا ہے۔ ہمیں اپنے قول و فعل کا تضاد ختم کرنا ہوگا، ورنہ آنے والی نسلیں ہم سے حساب ضرور لیں گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے