گزشتہ ڈھائی سالوں میں پاکستان کی سیاسی فضا ایک نئے اور اندوہناک تجربے سے گزری ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں ایف آئی آرز درج ہوئیں—کبھی کسی سیاسی رہنما کے خلاف، کبھی اس کے اہل خانہ پر، کبھی کارکنان پر، اور کبھی ان عام شہریوں پر جنہوں نے محض ایک سیاسی جماعت کے حمایت یافتہ آزسد امیدواروں کو ووٹ دیا یا حمایت کا اظہار کیا۔ ان مقدمات میں نہ عمر کا لحاظ رکھا گیا، نہ صنف کا، اور نہ ہی حالات کا۔ خواتین، بزرگ، اور حتیٰ کہ بچے بھی اس جبر کی لپیٹ میں آئے۔
پولیس کا کردار یہاں سب سے زیادہ نمایاں اور باعث تشویش ہے۔ پولیس کا بنیادی فرض عوام کی حفاظت اور خدمت ہے، لیکن افسوس کہ پنجاب اور اسلام آباد کی پولیس ایک ایسی مشینری میں تبدیل ہو چکی ہے جو طاقتوروں کے اشارے پر چلتی ہے۔ انصاف، قانون اور آئین سے ان کی وابستگی معدوم ہو گئی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ فورسز عوامی خدمت کے بجائے ظلم اور جبر کے آلہ کار بن گئی ہیں۔ یہ خطرناک رجحان ہے کیونکہ عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہیں لینے والے اہلکار جب عوام کے ہی خلاف ظالمانہ رویہ اختیار کرتے ہیں تو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔
اسی طرح عدلیہ کا رویہ بھی سوالیہ نشان بنتا جا رہا ہے۔ پولیس جو بھی مقدمہ عدالتوں کے سامنے رکھتی ہے، اکثر دیکھا گیا ہے کہ اس پر آنکھیں بند کر کے ریمانڈ دے دیا جاتا ہے۔ کبھی جسمانی ریمانڈ، کبھی جوڈیشل، اور بعض اوقات بلاوجہ سزائیں بھی۔ اس طرزِ عمل نے عدلیہ کی غیر جانبداری اور خودمختاری پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عدالتیں اگر پولیس کی ہر بات پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی رہیں گی تو آنے والے وقت میں ان کی ساکھ شدید متاثر ہوگی، اور عوام کا اعتماد مزید ٹوٹے گا۔
یہ روش دراصل ایک خطرناک کلچر کو جنم دے رہی ہے—ایسا کلچر جس میں پولیس اہلکار اور جج صاحبان یہ سمجھنے لگیں کہ طاقتوروں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے عوام پر سختی کرنا اور ان کے بنیادی حقوق سلب کرنا ضروری ہے۔ یہ سوچ نہ صرف اداروں کو کھوکھلا کر دے گی بلکہ ریاستی ڈھانچے کی جڑوں کو بھی کھا جائے گی۔ جب انصاف کے ادارے ہی انصاف نہ دے سکیں تو پھر معاشرے میں بے چینی، بد اعتمادی اور انتشار ناگزیر ہو جاتا ہے۔
اس پس منظر میں ضروری ہے کہ پولیس اور عدلیہ دونوں اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں۔ پولیس کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ عوام کے خادم ہیں، حکمرانوں کے آلہ کار نہیں۔ انہیں چاہیے کہ اپنی طاقت عوام کی حفاظت اور سہولت کے لیے استعمال کریں، نہ کہ سیاسی انتقام کے لیے۔ اسی طرح عدلیہ کو بھی اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری کو پہچاننا ہوگا۔ اندھی تقلید اور ریمانڈ کی مشین بننے کے بجائے انہیں ہر کیس کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ نظر سے دیکھنا ہوگا۔
ریاستیں اداروں کی مضبوطی سے قائم رہتی ہیں، اور اداروں کی مضبوطی انصاف اور قانون کی حکمرانی سے آتی ہے۔ اگر پولیس اور عدلیہ نے اپنے موجودہ رویے کو نہ بدلا تو آنے والے وقت میں نہ صرف ان اداروں کی ساکھ برباد ہوگی بلکہ پاکستان کا پورا نظام خطرے میں پڑ جائے گا۔ یہی وقت ہے کہ ہم اجتماعی طور پر سوچیں، اور وہ راستہ اختیار کریں جو عوام کے اعتماد کو بحال کرے، انصاف کو زندہ کرے اور ریاست کو محفوظ مستقبل کی ضمانت دے۔