مجھے اشفاق احمد کی یہ بات دل کے بہت قریب محسوس ہوتی ہے کہ پاکستان کے ہر نوجوان کو ایک کندھے کی ضرورت ہے جس پہ وہ سر رکھ کے اپنا دکھ بیان کرسکے میں نے پہلے بھی کہا تھا اور اب بھی کہتی ہوں کوئی اپنا دکھ سنانے آ جائے کوئی اپنے آنسو آپ سے پونچھنے کے لیے آ جائے تو ہم کیا کرتے ہیں ہم اسکو سنانے لگ جاتے ہیں اور اپنے آپ کو دانش مند سمجھتے ہوئے اس کو نصیحت کی ایک فہرست تھما دیتے ہیں وہ جو اپنا دل ہلکا کرنے آیا تھا وہ آنکھوں میں بے شمار سوالات لیے واپس چلا جاتا ہے واقعی ہمارے ہاں سننے سے زیادہ سنانے کا رواج ہے۔
اور ہم بذاتِ قوم ایک غیر سنجیدہ قوم واقع ہوئے ہیں اس لیے لوگ اپنا درد بیان کرنے سے ڈرتے ہیں، وہ تنہائی میں خوب رو لے گے اپنے آپ کو خوب سنا لے گے لیکن محفل میں ایسے قہقہے لگائے گے کہ دیکھنے والے کو لگے گا کہ اس سے خوش ترین انسان تو کوئی نہیں اور یوں وہ دیکھنے والا بھی اپنے آپ کو اداس روح کا خود زمہ دار ٹھہرائے گا اور یوں یہ سائیکل چلتا چلا جائے گا۔
ہم بات کرنے سے ڈرتے ہیں اور صحیح بات بھی یہی ہے ۔ہوئی اپنے دکھ کی سالوں پرورش کرے اور یوں ایک رات وہ اپنے دکھ کو مزید تھپکی دینے کی طاقت کھو بیٹھے اور صبح اس کی آنکھ نہ کھلے تو کسی کو اس کی اداس آنکھیں، کسی کو اس کے اندر چھپاتے آنسو اور کسی کو اس کی تلخی اور نہ جانے کیا کیا یاد اتا ہے۔
دنیا بھر میں دس ستمبر کو خود کشی سے بچاؤ کا عالمی دِن منایا جاتا ہے۔
بس اور کچھ نہ کرے،کسی سے کچھ نہ پوچھے، کسی کو کچھ نہ سنائے بس اپنا کندھا کسی روتے ہوئے کو دے دے، کسی اداس آنکھوں والے کو اپنے گلے سے لگا لے اس کو تھپکی دے دے اس سے کچھ بھی نہ پوچھے بس اس کو اپنے جلد میں محفوظ ہونے کا احساس دے۔