شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس 2025؛ عالمی طاقت کے توازن میں پاکستان کا متوازن اور باوقار کردار

بین الاقوامی سیاست کی بدلتی بساط میں خطے کے بڑے کھلاڑی اکثر کسی ایسے پلیٹ فارم کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں وہ یکساں بنیادوں پر مکالمہ کر سکیں اور اپنے سیاسی، معاشی اور سکیورٹی مفادات کو آگے بڑھا سکیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اسی تناظر میں سامنے آنے والی ایک اہم تنظیم ہے، جس کی بنیاد 2001ء میں شنگھائی میں رکھی گئی۔ اس کا مقصد ابتدا میں خطے میں سرحدی تنازعات کو حل کرنا اور اعتماد سازی کو فروغ دینا تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ تنظیم ایک وسیع البنیاد پلیٹ فارم میں ڈھل گئی ہے جو اب دنیا کی سب سے بڑی علاقائی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔

ایس سی او کے اجلاس عموماً ہر سال منعقد ہوتے ہیں جنہیں سربراہانِ مملکت کا اجلاس کہا جاتا ہے۔ میزبانی کا اصول یہ ہے کہ ہر رکن ملک باری باری تنظیم کی چیئرمین شپ سنبھالتا ہے اور پھر اسی ملک کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اگلے سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے۔ چین چونکہ بانی ارکان میں شامل ہے اور تنظیمی ڈھانچے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے جب بھی اس کے حصے میں چیئرمین شپ آتی ہے تو اجلاس زیادہ نمایاں اور عالمی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2025 کا حالیہ اجلاس بھی چین کے شہر تیانجین میں ہوا، جہاں دنیا کے بڑے رہنما جمع ہوئے۔

قریب ماضی پر نظر ڈالیں تو یہ تنظیم محض سکیورٹی تعاون تک محدود نہیں رہی بلکہ معاشی ترقی، توانائی، ٹیکنالوجی، ماحولیاتی تحفظ اور خطے کے درمیان رابطہ کاری جیسے موضوعات تک اس کا دائرہ پھیل چکا ہے۔ حالیہ اجلاس بھی اس بات کا غماز ہے کہ تنظیم اب اپنی سمت مزید واضح کر رہی ہے اور ایک ایسا ادارہ بننے جا رہی ہے جو مستقبل میں عالمی طاقت کے توازن کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس مرتبہ تیانجین اجلاس میں نہ صرف چین، روس، پاکستان اور بھارت جیسے اہم ممالک کے سربراہان شریک ہوئے بلکہ عالمی میڈیا کی نظریں خاص طور پر اس پہلو پر جمی رہیں کہ شی جن پنگ، ولادیمیر پوٹن اور نریندر مودی ایک ہی لائن میں کھڑے ہاتھ پکڑ کر اشاراتاً کچھ پیغام بھی دیتے نظر آئے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دنیا کا طاقت کا توازن ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ماضی کے تجربات، حالیہ اعلانات اور مستقبل کے امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اجلاس عالمی سیاست میں ایک نئے رخ کی نشاندہی کرتا ہے۔ اور یہی وہ پس منظر ہے جس میں پاکستان سمیت تمام رکن ممالک کو اپنی ترجیحات، امکانات اور خدشات کو متوازن کرتے ہوئے آگے بڑھانا ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس اجلاس میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

قارئین کرام! یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ جب بھی ہم پاکستان کی نمائندگی یا عالمی سیاست میں اس کے کردار کی بات کرتے ہیں تو ہمیں ملکی داخلی سیاست کو ایک طرف رکھ کر سوچنا ہوتا ہے۔ اندرونِ ملک سیاسی جماعتوں کے اختلافات اور باہمی تنقید اپنی جگہ، لیکن جب کوئی آفیشل یا پاکستان کے وزیراعظم کی حیثیت سے عالمی سطح پر کوئی فرد ملک کی نمائندگی کرتا ہے تو وہ صرف اپنی جماعت یا اپنے گروہ کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا ترجمان ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں ایسے مواقع پر داخلی سیاست کے چشمے اتار کر یہ دیکھنا چاہیے کہ پاکستان کے لیے کیا موقف پیش کیا گیا اور کس انداز میں پیش کیا گیا۔ کیونکہ عالمی سطح پر بحث صرف پاکستان کی ہوتی ہے، کسی پارٹی یا فرد کی نہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف توجہ کا مرکز بنے رہے۔ انہوں نے مختلف عالمی رہنماؤں سے نہ صرف پرجوش انداز میں مصافحہ کیا بلکہ برابری کی بنیاد پر قدم سے قدم ملا کر گفتگو کی، گویا پاکستان کی نمائندگی ایک فعال اور بااعتماد انداز میں سامنے آئی۔

ان کا اندازِ سفارت کاری فرنٹ فٹ پر کھیلنے کے مترادف تھا، جہاں وہ سینہ تان کر اپنی بات رکھتے رہے اور کسی موقع پر جھجک یا پسپائی کا تاثر نہیں دیا۔ قابلِ ذکر امر یہ بھی رہا کہ اس دوران پاکستان کے ازلی حریف بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو انہوں نے مکمل طور پر نظرانداز کیا۔ دوران اجلاس ایک موقع پر جب دونوں ایک ہی کمرے میں موجود تھے، شہباز شریف نے دانستہ طور پر انہیں بائی پاس کرتے ہوئے براہِ راست دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقات کو ترجیح دی، جس سے واضح پیغام گیا کہ پاکستان اپنے قومی مفاد اور مؤقف پر کسی بھی دباؤ کے بغیر برابری کے بنیاد پر ہی بات کرتا ہے۔

دوران گفتگو وزیراعظم شہباز شریف نے نریندر مودی کی موجودگی میں نہایت اعتماد اور وضاحت کے ساتھ پاکستان کا مؤقف عالمی برادری کے سامنے رکھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی پورے خطے کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور پاکستان کسی بھی شکل یا رنگ میں دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض قوتیں سیاسی مقاصد کے لیے دہشت گردی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن دنیا اب ان بے بنیاد بیانیوں کو قبول نہیں کرتی۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے حوالے سے بھی انہوں نے نشاندہی کی کہ ان واقعات کے پیچھے بیرونی عناصر کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں، لہٰذا ایسے گھناؤنے جرائم کے ذمہ داروں اور ان کے سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ جامع اور بامقصد مکالمے سے ہو کر گزرتا ہے اور پاکستان ہمیشہ اپنے ہمسایہ ممالک سے معمول کے تعلقات کا خواہاں رہا ہے۔

مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان کے اس مؤقف کی کھل کر تائید کی گئی، جسے اسلام آباد کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اعلامیے میں جعفر ایکسپریس، خضدار اور پہلگام جیسے واقعات کی مذمت کی گئی اور واضح پیغام دیا گیا کہ دہشت گردوں اور ان کے پشت پناہوں کو جواب دہ بنایا جائے۔ ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ دہشت گردی کے معاملے پر کسی قسم کا دہرا معیار قبول نہیں کیا جا سکتا اور سرحد پار دہشت گردی سمیت اس کے تمام پہلوؤں سے مؤثر طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔ رکن ممالک نے اس مؤقف کو بھی دہرایا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور عالمی انسداد دہشت گردی حکمتِ عملی کے تحت تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔

اجلاس کے دوران نہ صرف خطے میں دہشت گردی کے چیلنجز پر بات ہوئی بلکہ غزہ میں جاری انسانی المیے اور ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کی بھی شدید مذمت کی گئی۔ رکن ممالک نے فوری اور پائیدار جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل اور عالمی قراردادوں کے احترام پر زور دیا۔ اسی کے ساتھ اجلاس میں معیشت، سکیورٹی، ثقافتی تبادلوں اور ادارہ جاتی تعاون کو وسعت دینے کے لیے 24 اہم دستاویزات کی منظوری دی گئی۔ پاکستان نے اپنے مؤقف کو مؤثر انداز میں نہ صرف پیش کیا، بلکہ پاکستان کے موقف کو مشترکہ اعلامیے میں بھرپور جگہ دی گئی، اس کے ساتھ متعدد عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں نئی سمت متعین کی۔

عوامی ذہنوں میں یہ سوال بھی آتا ہے کہ بھارت اور چین کا قریب ہونا پاکستان کے لیے نقصان دہ تو نہیں۔ یاد رہے یہ بالکل نقصان دہ نہیں ہے بلکہ فائدہ مند ہے۔ یہ سیاسی حقیقت ہے کہ بھارت اور چین دونوں ہی ترقی اور اثر و رسوخ کے میدان میں ایک دوسرے کے ساتھ اب ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔ اس صورتِ حال میں پاکستان کو ہی فائدہ ہو گا، چین اور بھارت کے تعلقات میں بہتری آئے گی تو چین اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے لیے وہی کردار ادا کرے گا جو اس نے اپنی 75 سالہ تاریخ میں ادا کیا ہے، یعنی دوستی کا حق ادا کرے گا۔

پاکستان امریکہ اور مغرب کے ساتھ بھی تعلقات اور شراکت داری بڑھا رہا ہے۔ پاکستان کا عالمی تعارف کسی ایک رخ یا ایک زاویے تک محدود نہیں، بلکہ یہ مختلف جہات کا حسین امتزاج ہے۔ پاکستان اس وقت نہ صرف چین، امریکہ اور خطِ مغرب کے ساتھ توازن برقرار رکھا ہوا ہے، بلکہ اپنے پڑوسیوں، مسلم دنیا اور عالمی فورمز (مثلاً عالمی سطح کے تمام پلیٹ فارمز پر غزہ کے مسئلے پر آواز اٹھانے میں) کے ساتھ روابط کو بھی تقویت دے رہا ہے۔ پاکستان کے حالیہ سفارتی اقدامات نے یہ ثابت کیا کہ ایک محدود معاشی اور سیاسی وسائل والا ملک بھی وقار، احترام اور اعتدال سے عالمی تعلقات میں مثبت اور معتبر مقام حاصل کر سکتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے