میرے سامنے میرے اساتذہ ہمیشہ رول ماڈل رہے۔ ان کے وقار، کردار اور اخلاص کو دیکھ کر میرا دل کرتا تھا کہ میں بھی ایسا ہی استاد بنوں، لیکن جب ان ہی اساتذہ کی محرومیوں، ان کی مجبوریوں، اور سماج کی طرف سے ان کی مسلسل ناقدری کا مشاہدہ کیا تو یہ مثالیت لمحہ بہ لمحہ پگھلنے لگی۔ لیکن پھر بھی استاد کا بھرم باقی تھا۔
میں نے اللہ رب العزت سے بیسیوں بار دعا کی تھی
"یا اللہ! مجھے ایک کامیاب استاد بنا۔ پڑھنا اور پڑھانا ہی میری زندگی کا مقصد ہو۔”
میرا گمان یہ تھا کہ اگر میرا دس بار بھی جنم ہوتا، تو ہر بار استاد ہی بنتا۔ مگر زندگی کی تلخ حقیقتوں نے یہ سبق سکھا دیا کہ اس سماج میں دردِ تدریس رکھنے والے استاد کی کوئی حیثیت نہیں، یہاں ایک استاد کی قیمت ایک استعمال شدہ ٹشو پیپر سے زیادہ نہیں سمجھی جاتی۔
2011ء میں میں نے تدریس کے میدان میں قدم رکھا۔ بلاشبہ اس عرصے میں ہزاروں طلبہ و طالبات کو تعلیم دی، جتنا علم مجھے میسر تھا، اسے بانٹا، جتنا سکھا سکتا تھا، سکھایا۔ لیکن جیسے ہی حقیقی زندگی کے میدان میں قدم رکھا، تلخیوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔
میں سرکاری دفاتر میں جانا ہی پسند نہیں کرتا، سوائے اس وقت کے جب معاملہ بالکل ہی ہنگامی نوعیت کا ہو۔ کسی بااختیار افسر سے سفارش یا سفارش نما درخواست کرنا میرے مزاج کے خلاف ہے، لیکن جب کبھی انسان ہونے کے ناطے جائز ضرورت کے لیے ہمت کر کے کسی کے سامنے درخواست رکھی، تو بعد میں اس پر ایسی ندامت اور اذیت نے گھیر لیا کہ کئی دن سکون میسر نہ آیا۔
اس لیے کہ درخواست کے ساتھ جو تحقیر، بے ادبی اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ انسان کو اندر سے کھا جاتی ہے۔ اس لمحے دل کٹ کر رہ جاتا ہے اور میں خود کو کوستا ہوں کہ آخر صبر کیوں نہ کیا؟ کیوں یہ ریکوسٹ کی، کونسی قیامت آجاتی اگر کسی سے یہ ریکوسٹ نہ کرتے تو؟۔
گزشتہ ایک سال سے پروفیسر ہاسٹل چلاس میں کچھ احباب کے ساتھ مقیم تھا۔ وہاں رہتے ہوئے میرا سب سے قیمتی ساتھی مطالعہ تھا۔ کالج لائبریری سے درجنوں کتابیں لے آیا تھا۔ طالبات کے ایک مقامی مدرسے میں درسِ قرآن بھی دیتا تھا۔ اس کے لیے اپنی ذاتی اردو و عربی تفاسیر، قرآن کریم کے بیاض اور کئی نایاب تفسیری نسخے بھی ہاسٹل لے آیا تھا، حتیٰ کہ کچھ اضافی تفاسیر بھی لائبریری سے ایشو کروائی تھیں تاکہ تدریس اور مطالعہ دونوں کا سلسلہ رواں دواں رہے۔، مولانا ابوالکلام آزاد کی تفسیر بھی اسی چلاس لائیبریری سے میسر آئی تھی۔
دسمبر 2024 میں جب خبر ملی کہ پروفیسر ہاؤس سے ہمیں نکالا جا رہا ہے تو سب سے پہلے مجھے اپنی کتابوں کی فکر لاحق ہوئی۔ میں نے تمام تفاسیر اور دیگر کتب احتیاط سے کارٹن میں پیک کیں اور انہیں گھر منتقل کیا۔ ساتھ ہی لائبریری کی کتب اور تفاسیر بھی واپس کر دیں۔
ستمبر202 میں دوبارہ ہاؤس آیا تو لائبریری سے "نقوش” کا سیرت نمبر اور عباس اطہر کی ایک کتاب لایا۔ وہاں میرا قرآن کریم کا پرانا نسخہ بھی موجود تھا۔
اور پھر وہ لمحہ آیا جب ضلعی انتظامیہ نے پروفیسر ہاؤس پر دھاوا بولا۔ اس ہنگامے میں سب سے پہلے میں نے اپنے دو قیمتی نسخے اور قرآن کریم کو اٹھایا اور سفری بیگ میں محفوظ کیا۔ یہی میرا کل اثاثہ تھا اس ہاسٹل میں۔ جو لوگ باقی اساتذہ کا سامان بے دردی سے صحن میں پھینک رہے تھے، ان سے التجا کی کہ قرآن کے نسخے اور کتابوں کی بے حرمتی نہ کریں۔ میں نے ان سے کہا
"براہِ کرم قرآن کے نسخے فریج کے اوپر احتیاط سے رکھ دیں۔”
خدا کا شکر ہے انہوں نے اس بات کو مانا۔
ڈیڑھ گھنٹے تک صحن میں کھڑا یہ سب دیکھتا رہا۔ عمر رسیدہ اور نوجوان اساتذہ بے بسی اور مایوسی کے عالم میں کھڑے تھے۔ اپنے پیشے اور عزتِ نفس کی یہ حالت دیکھ کر میرا جی چاہا کہ کسی کمرے میں چھپ کر جی بھر کے روؤں، مگر ہاؤس کے دروازے تالہ زدہ تھے اور کوئی جگہ میسر نہ تھی۔ سات آٹھ نوجوان اور تین چار بزرگ استاد میرے سامنے تھے، ان سب کے چہروں پر یاسیت اور ٹوٹ پھوٹ کے نقش ابھرے ہوئے تھے۔
زندگی رہی تو ایک دن اس تمام روئیداد کو تفصیل سے قلم بند کروں گا۔ انتظامیہ اور مفاد پرستوں کے وہ تمام الفاظ، جو اس دن سننے کو ملے، آج بھی میرے ذہن میں آگ کی طرح دہک رہے ہیں۔ شاید یہ زخم کبھی مندمل نہ ہوں۔
میں استاد بنا ہوں اور تدریس سے عشق کیا ہے۔ کتابوں اور طلبہ سے بے پناہ محبت کی ہے۔ اگر کبھی کسی طالب علم کو سخت الفاظ بھی کہہ دیے، تو کئی دنوں تک ندامت کی آگ میں جلتا رہا، حتیٰ کہ اس طالب علم سے معذرت کر کے سکون پایا۔ میرے تمام شاگرد اس بات کے گواہ ہیں کہ میں نے انہیں ہمیشہ محبت اور عزت دی۔ اگر کسی شاگرد سے کوئی سخت بات کی ہے اور معافی نہیں مانگ سکا ہوں تو آج پوری دنیا کے سامنے اعلان کرتا ہوں کہ "مجھے معاف کیجئے”۔ اور ہاں مجھے میرے اساتذہ نے دوران تعلیم و تربیت جس طرح ڈانٹا ہے یا پیٹا ہے اس پر مجھے آج بھی فخر ہے اور فخریہ اس کو بیان بھی کرتا۔
لیکن پندرہ سال کے تجربات اتنے تلخ ہیں کہ اب شاید کبھی کسی شاگرد کو استاد بننے کی ترغیب دوں۔ میں انہیں سینکڑوں کیریئر کے راستے ضرور دکھاؤں گا، لیکن یہ کبھی نہیں کہوں گا کہ "بیٹا! معلم بنو، یہ پیغمبروں کا پیشہ ہے۔”
کیونکہ آج کے معاشرے میں استاد ہونا گالی بن گیا ہے۔
مجھے یاد ہے، ماضی میں جب کسی استاد کو دیکھتا کہ وہ تدریس چھوڑ کر کسی دفتر، ڈائریکٹریٹ یا سکریٹریٹ میں کلرکی کر رہا ہے، تو اسے طعنہ دیتا تھا۔۔۔۔
"تم نے تدریس جیسا عظیم کام کیوں چھوڑ دیا؟”
آج خود محسوس کر رہا ہوں کہ وہ درست کرتے تھے۔ کم از کم ان کی عزتِ نفس تو محفوظ رہتی تھی، انہیں صحن میں یوں رسوا تو نہ کیا جاتا۔
گزشتہ تین دن سے انہیں تلخ حالات میں الجھا ہوا ہوں۔ کتاب کھولنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن دماغ ماؤف ہو چکا ہے۔
مجھے زندگی میں کئی مواقع ملے کہ تدریس کے علاوہ کسی دوسرے شعبے میں چلا جاؤں۔ 2017ء میں انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے میرے لیے باقاعدہ این او سی تیار کیا۔ اس وقت کے سیکریٹری فدا حسین صاحب اور ڈائریکٹر فاروق صاحب نے مجھے وہاں آنے کی پیشکش کی اور لیٹر تھما دیا، لیکن میں نے صاف انکار کر دیا۔
شاید وہ میرے انکار پر ناراض بھی ہوئے ہوں، لیکن مجھے پڑھانے اور پڑھنے سے عشق تھا، اور میں سمجھتا تھا کہ تدریس سب سے اعلیٰ پیشہ ہے۔ اسلام آباد جانے کے مواقع بھی تھے اسی طرح یہاں گلگت بلتستان میں بھی تھوڑی کوشش کرتا تو کئی ایک پروٹوکول والی جگہوں پر آسانی سے ایڈجسٹ ہوسکتا تھا، لیکن نہیں کی۔ کیونکہ مجھے ” استاد رہنا تھا”۔ استاد کا خمار جو چڑھا ہوا تھا۔
آج سوچتا ہوں کہ اگر اس وقت انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ یا کہیں اور چلا جاتا تو کسی اچھی پوسٹ پر ایڈجسٹ ہوتا، لیکن نہیں گیا۔ کیونکہ میں نے استاد بننے کو عزت سمجھا تھا۔ لیکن عملی اور حقیقی طور پر ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔
مگر افسوس!
یہ معاشرہ استاد کو کبھی عزت نہیں دیتا۔ یہاں معلم کو سب سے کم تر اور حقیر سمجھا جاتا ہے، اور اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا ہے جو رذیلوں کے ساتھ ہوتا ہے۔
کاش!
یہ سب کچھ نہ ہوتا۔
اے کاش…!
شاید، شدید دکھ اور تکلیف کی کیفیت میں یہ سب کچھ لکھ رہا ہوں، امید ہے بہتری ہوگی۔