کہتے ہیں کہ کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو پہلی ملاقات میں ہی دل پر اپنا نقش چھوڑ جاتی ہیں۔ میری ملاقات بھی کچھ ایسی ہی تھی جب میں نے نشتر ہال کے دروازے میں قدم رکھا۔ سامنے ایک شخص کھڑا تھا جس کا نمبر میں نے اپنے موبائل میں “Shahab PLF” کے نام سے محفوظ کر رکھا تھا۔ اس نے مجھے بس ایک نظر دیکھا اور بڑے اعتماد کے ساتھ کہا: “حسین! اندر ہال میں جاؤ، میں آ رہا ہوں۔ اس ایک جملے نے مجھے دوہری الجھن میں ڈال دیا۔ پہلی یہ کہ میں نے اسے زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا تو اس نے مجھے فوراً پہچان کیسے لیا؟ اور دوسری یہ کہ کیا یہ واقعی اس ایونٹ کا چیف آرگنائزر ہے یا کوئی اور؟ خیر، میں نے سوچا کہ یہ راز وقت کے ساتھ کھلے گا۔
ایونٹ کے دوران اس کی ہدایات اور اندازِ گفتگو نے مجھے اور بھی متوجہ کیا۔ کبھی اردو میں بات کرتا اور پھر اچانک انگریزی کا جملہ درمیان میں ڈال دیتا۔ ابھی میں اس روانی پر حیران ہوتا کہ پشتو کی مٹھاس کانوں میں رس گھول دیتی پشتو سنتے ہی یقین ہوا کہ یہ پٹھان ہیں لیکن اس کثیر اللسانی گفتگو کی حکمت آج تک میری سمجھ میں نہ آ سکی۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ، گفتگو میں جھومتا ہوا سا انداز، بالوں کی خوشنما تراش اور ہلکی سی داڑھی ان کی شخصیت کو مزید نکھار دیتی تھی۔ پہلی بار دیکھنے کے باوجود اجنبیت کی کوئی دیوار باقی نہ رہی اور دل کہنے لگا کہ یہ شخص دل کے بہت قریب ہے۔
اسی ایونٹ میں انہوں نے خود تصحیح کی کہ ان کا پورا نام شہاب الدین” ہے تب جا کر مجھے احساس ہوا کہ یہ وہی ہیں جنہیں دوست عرفِ عام میں “پشپا” کہتے ہیں۔ بعد میں یہ مغالطہ بھی دور ہوا کہ پشاور لٹریری فیسٹیول کے اصل چیف آرگنائزر دراصل عبد الرحمن بھائی ہیں نہ کہ یہ۔
شہاب بھائی کی اصل پہچان ان کے اخلاق اور خلوص میں ہے۔ CLADO کی انٹرنشپ کے دوران ان سے کئی بار واسطہ پڑا۔ مانا کہ کبھی کبھار غصہ بھی آتا ہے مگر وہ غصہ بھی محبت سے لبریز ہوتا ہے۔ دوستوں سے ہمیشہ یہی سنا کہ یہ دل والے آدمی ہیں مگر اکثر دل والوں کے دل بھی ٹوٹے ہوتے ہیں شاید اسی لیے یہ دوسروں کے دل کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ سمر کیمپ میں ان کے ساتھ وقت گزارا تو اندازہ ہوا کہ یہ صرف میرے نزدیک ہی نہیں بلکہ ہر جاننے والے کی زبان پر ان کی تعریف جاری ہے ان کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ دوسروں کے لیے مواقع پیدا کرتے ہیں۔ جب بھی کسی سینیئر شخصیت یا کمپنی کے نمائندے سے ملاقات ہو، اپنے دوستوں کو اس طرح متعارف کرواتے ہیں جیسے اپنی کامیابی کا ذکر کر رہے ہوں ایک بار میرا بھی تعارف یوں کرایا کہ “یہ حسین احمد ہے، آئی ٹی کا طالب علم ہے اور بہترین ویب ڈویلپر ہے۔” حالانکہ مجھے خود معلوم ہے کہ میری ویب سائٹس کتنی بہترین ہیں، لیکن ان کی محبت بھری مبالغہ آرائی نے میرا دل جیت لیا۔
پاکستان میں جب بھی یہ موجود ہوتے ہیں، دوستوں کی مدد یا کسی کی بگڑی سنوارنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ کلائمیٹ چینج اور دیگر موضوعات پر ورکشاپس اور ایونٹس میں جس وضاحت اور دلچسپ انداز سے بات کرتے ہیں وہ سننے والوں کے دل کو چھو لیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے گفتگو کے ساتھ ساتھ الفاظ بھی ناچ رہے ہوں۔
یوں تو ان کی خوبیوں کی فہرست بہت طویل ہے، خامیوں پر بات کرنا مناسب نہیں لگتا۔ پھر بھی انصاف کے لیے دو باتیں عرض کرتا ہوں: ایک یہ کہ ان کے واٹس ایپ پیغام کا جواب اکثر چوبیس گھنٹے بعد ملتا ہے، اور دوسری یہ کہ جب بات کرتے ہیں تو جملے ناچنے لگتے ہیں، گویا گفتگو کے ساتھ ساتھ رقص بھی ہو رہا ہو۔ اب یہ خامیاں ہیں یا خصوصیات، یہ فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں۔
آخر میں سوچتا ہوں کہ آخر شہاب بھائی کی شخصیت اتنی پرکشش کیوں ہے؟ کیا یہ ان کا خلوص ہے، دوسروں کے لیے راستے کھولنے کا جذبہ ہے، یا وہ ہلکی سی مسکراہٹ جو ہر جملے کے ساتھ جھومتی ہے؟ یہ سوال آج بھی میرے ذہن میں ایک تجسس کی مانند قائم ہے اور شاید یہی تجسس ان کی شخصیت کو ناقابلِ فراموش بناتا ہے۔