مارک ٹوین کی تنبیہ اور ہمارا تعلیمی زوال

علم اور تعلیم کے فرق کو سمجھنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔ اس بنیادی نکتہ کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج کے زمانے میں اکثر افراد محض سند یافتہ ہونے کو علم یافتہ ہونے پر محمول کرنے لگے ہیں۔ جو علم دراصل انسان کو اپنی ذات کے ادراک سے لے کر کائنات کے اسرار تک کی سیر کراتا ہے، وہ اب کاغذی درجوں میں محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ تعلیم جو ہم اسکول، کالج یا یونیورسٹی سے حاصل کرتے ہیں، اپنی نوعیت میں محض معلومات کا ایک مجموعہ بن گئی ہے۔ وہ بصیرت جو حقیقی علم سے پیدا ہوتی ہے، اب شاید ہی کہیں نظر آتی ہو۔ جس علم کا ذکر صوفیا اور مفکرین نے کیا، وہ ایسا خزانہ ہے جو انسان کے باطن میں روشنی جگاتا ہے، اس کی روح کو جلا دیتا ہے۔

لیکن جدید نظامِ تعلیم اس شعور کو پروان نہیں چڑھاتا بلکہ ایک مخصوص دائرے میں گھما کر انسان کو ذہنی مشین میں تبدیل کردیتا ہے۔ اس کا مقصد فرد کی روحانی ترقی نہیں، بلکہ فقط معاشی مشینری میں ایک نیا پرزہ پیدا کرنا رہ گیا ہے۔ اسی لیے آج کا طالب علم سند تو حاصل کرلیتا ہے مگر سچائی، عدل، خیر اور محبت جیسے تصورات سے ناآشنا رہتا ہے۔

وہ یہ سیکھتا ہے کہ کیسے کمائی جائے، مگر یہ نہیں سیکھتا کہ زندگی کو کیسے بامعنی بنایا جائے۔ جب تعلیم سے اخلاقی اور روحانی پہلو جدا ہوجائیں تو وہ محض کاروباری ہنر بن جاتی ہے، علم کا وقار مجروح ہو جاتا ہے۔

مارک ٹوین کا وہ قول جس میں انہوں نے اسکولنگ کو ایجوکیشن میں مداخلت سے تعبیر کیا، درحقیقت ایک گہری تنبیہ ہے۔ ان کا اشارہ کسی مخصوص ادارے یا نظام کی مخالفت کی جانب نہیں تھا بلکہ وہ ذہن کو جکڑ دینے والے اندازِ تعلیم پر تنقید کر رہے تھے۔ اسکولنگ اگرچہ ضروری ہے، لیکن اگر وہ سوچنے، سمجھنے اور سوال اٹھانے کی صلاحیت کو سلب کر لے تو وہ تعلیم کے بجائے ذہنی قید بن جاتی ہے۔ مارک ٹوین کے دور میں اگر یہ احساس موجود تھا، تو آج اس کی شدت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ اب اسکولنگ طالب علم کے اندر سیکھنے کی لگن پیدا کرنے کے بجائے اسے رٹے رٹائے الفاظ کا غلام بناتی ہے۔

نصاب میں وہ وسعت نہیں رہی کہ طلبا اپنی ذات، معاشرے اور کائنات سے رشتہ جوڑ سکیں۔ نتیجتاً، انسان کا علمی سفر ادارے کی چار دیواری تک محدود ہو گیا ہے۔ وہ طالب علم جو کل تک جستجو کا پیکر تھا، اب ڈگری یافتہ ملازم بن کر رہ گیا ہے۔ سوچنے کا عمل رُک چکا ہے، کیونکہ اس کی حوصلہ افزائی کہیں بھی موجود نہیں۔ اسکولوں میں علم کو امتحان کی چکی میں پیسا جاتا ہے، اور زندگی کے حقیقی امتحانوں کے لیے نہ کوئی تیاری ہوتی ہے اور نہ ہی تربیت۔

تعلیم کو جب صرف روزگار کے حصول کا ذریعہ سمجھا جائے تو اس کا روحانی اور فکری پہلو پسِ پشت چلا جاتا ہے۔ اس وقت ہم جس المیے سے دوچار ہیں، اس کی جڑ یہی سوچ ہے کہ تعلیم کا مقصد فقط ملازمت حاصل کرنا ہے۔ یہ تصور نہ صرف تعلیم کی توہین ہے بلکہ انسان کی فطری طلبِ علم کو بھی دباتا ہے۔ علم وہ ہوتا ہے جو انسان کے دل و دماغ کو ایک نئی سمت دیتا ہے، جس سے وہ خود کو اور اپنے خالق کو پہچانتا ہے۔ لیکن موجودہ تعلیمی نظام ایسی کسی معرفت سے خالی ہے۔ جب کسی قوم میں یہ روش عام ہو جائے کہ تعلیم صرف ایک معاشی سیڑھی ہے، تو وہاں فکری قحط کا آنا لازم ہے۔

نتیجتاً، ہمیں ایسے لوگ ملتے ہیں جو سند یافتہ تو ہیں، مگر فکری اور اخلاقی طور پر مفلس ہیں۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ مطالعہ کا شوق دم توڑ چکا ہے، کتابیں صرف لائبریری کی زینت بن کر رہ گئی ہیں، تو یہ علم کے زوال کا واضح ثبوت ہے۔ ایسے معاشروں میں روحانی اور فکری ارتقا کا عمل رک جاتا ہے، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب قومیں تنزلی کا شکار ہونے لگتی ہیں۔

یہ مسئلہ صرف تعلیمی اداروں تک محدود نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی مزاج کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ سوشل میڈیا، جو کہ معلومات کے سیلاب کی شکل اختیار کر چکا ہے، علم کا متبادل نہیں بن سکتا۔ یہاں نہ تحقیق ہے، نہ تدبر، نہ حوالہ اور نہ سند۔ واٹس ایپ یونیورسٹی جیسے طنزیہ جملے اسی قحطِ علم کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ لوگ اب وہ ماننے لگے ہیں جو انہیں فوری ملتا ہے، بغور پڑھے یا سمجھے بغیر۔ کتابوں کی جگہ اسکرینز نے لے لی ہے، اور غور و فکر کی جگہ فوری ردِ عمل نے۔ اس رجحان کا نتیجہ یہ ہے کہ ذہنوں میں گہرائی نہیں رہی، افکار میں استدلال ناپید ہو گیا، اور مکالمہ صرف چیخ و پکار تک محدود ہو کر رہ گیا۔ جس قوم کے افراد سوال کرنا چھوڑ دیں، تحقیق سے گریز کرنے لگیں اور کتابوں کو فراموش کر دیں، وہ قوم فکری دیوالیہ پن کا شکار ہو جاتی ہے۔ مطالعہ وہ مشعل ہے جس سے ذہن روشن ہوتے ہیں، لیکن جب یہ شوق ماند پڑ جائے تو فکری اندھیرے چھا جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں نہ مفکر پیدا ہوتے ہیں، نہ مصلح، نہ رہنما، بلکہ فقط متبعین کا ایک ہجوم باقی رہ جاتا ہے۔

اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اس تعلیمی بحران کے حل کی طرف متوجہ ہوں۔ سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ تعلیم کو صرف نصاب تک محدود کرنے کے بجائے اسے زندگی سے جوڑا جائے۔ ہمیں اسکولوں اور کالجوں میں تفکر، تخلیق اور تنقیدی شعور کی تربیت دینی چاہیے۔ بچوں کو صرف یادداشت کا سہارا دینے کے بجائے یہ سکھایا جائے کہ سوچنا، سوال کرنا اور سمجھنا کیا ہوتا ہے۔ نصاب میں اخلاقیات، فلسفہ، ادب، روحانیت اور فنون کو شامل کیا جائے تاکہ طالب علم کا ذہن یک جہتی سے نکل کر وسعت کی طرف بڑھے۔ مطالعہ کو لازمی جزو بنایا جائے اور کتابوں سے رشتہ جوڑنے کی تحریک دی جائے۔

لائبریریوں کو جدید سہولیات کے ساتھ فعال کیا جائے اور مطالعہ کو امتحان کے ڈھانچے سے الگ کیا جائے تاکہ طلبا بغیر دباؤ کے کتاب سے محبت کریں۔ اس کے علاوہ، اساتذہ کو تربیت دی جائے کہ وہ صرف معلومات کے امین نہ ہوں بلکہ فکری رہنما بھی بنیں۔ جب تعلیم کا محور شعور، فہم اور انسان دوستی ہوگا تو پھر حقیقی علم پروان چڑھے گا۔

دوسرا بڑا حل یہ ہے کہ والدین، اساتذہ اور معاشرہ مل کر ایک ایسا ماحول قائم کریں جو مسلسل سیکھنے کی فضا کو جنم دے۔ والدین صرف اچھے گریڈز کی خواہش نہ کریں بلکہ بچوں میں علم کی پیاس پیدا کریں۔ اساتذہ محض تدریسی ذمہ داریاں نہ نبھائیں بلکہ طلبا کے اندر چھپی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کریں۔ میڈیا اور ٹیکنالوجی کا استعمال معلومات کی فراہمی تک محدود نہ ہو بلکہ سچائی، تحقیق اور علم دوستی کے فروغ کے لیے کیا جائے۔ معاشرے میں کتاب دوستی کی تحریک چلائی جائے، مطالعہ کے مقابلے ہوں، علمی نشستوں کا انعقاد کیا جائے اور نوجوانوں کو فکری مجالس کا حصہ بنایا جائے۔ جب علم کو سماجی قدر بنا دیا جائے تو پھر نہ صرف اسکولنگ میں بہتری آتی ہے بلکہ حقیقی ایجوکیشن کا آغاز بھی ہوتا ہے۔ طلبِ علم کو روح کی غذا بنایا جائے، نہ کہ صرف دماغی مشق۔ اور جب علم روح کی گہرائی میں اُترنے لگے تو وہی تعلیم پھر شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ بنتی ہے، سماج کی ترقی کا وسیلہ بنتی ہے اور انسانیت کا وقار بلند کرتی ہے۔

مزید برآں، علم ایک ایسا دریا ہے جو مسلسل بہتا رہتا ہے، اور جس کا پیاسا وہی ہوتا ہے جو طلبِ علم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بناتا ہے۔ یہ دریا کسی ایک کتاب، استاد یا ادارے میں محدود نہیں ہوتا بلکہ یہ ہر لمحہ نئے زاویوں سے زندگی کے راز کھولتا ہے۔ جو شخص سمجھتا ہے کہ وہ اب مزید سیکھنے کا محتاج نہیں، دراصل وہ علم کے دروازے خود پر بند کر رہا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی طالب علم وہی ہے جو عمر کے ہر حصے میں علم کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ علم کا سفر کبھی مکمل نہیں ہوتا، یہ وہ راستہ ہے جو نئی راہوں کو جنم دیتا ہے۔ انسان جب تک سیکھنے کی جستجو میں مصروف رہتا ہے، وہ نہ صرف خود کو بہتر کرتا ہے بلکہ اپنے اردگرد کی دنیا کو بھی روشن کرتا ہے۔ یہی جستجو اُسے اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتی ہے، جہاں سے اصل معرفت جنم لیتی ہے۔ علم، محض رٹے رٹائے سبقوں کا نام نہیں بلکہ ایک اندرونی بیداری کا نام ہے جو انسان کو سطحیت سے نکال کر گہرائی کی جانب لے جاتی ہے۔ سیکھنے کا عمل جب رُک جائے تو انسان ٹھہراؤ کا شکار ہو جاتا ہے، اور ٹھہراؤ کا مطلب زوال ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو مارک ٹوین نے اپنے قول میں سمیٹ دیا کہ اسکولنگ ایک حد تک معاون ہے، لیکن اصل تعلیم اس کے دائرے سے باہر نکل کر شروع ہوتی ہے۔

اگر ہم خود کو ہمیشہ طالب علم سمجھیں، تب ہی علم کا دریا ہمارے وجود میں روانی پا سکتا ہے۔ ہر دن ایک نیا سبق رکھتا ہے، ہر تجربہ ایک نئی بصیرت عطا کرتا ہے، بشرطیکہ ہم سیکھنے کی کھڑکیاں بند نہ کریں۔ جو شخص سوال کرنا نہیں جانتا، وہ سیکھنے کا حق کھو دیتا ہے، اور جو اپنی خامیوں کو نہیں پہچانتا، وہ کمال کی طرف بڑھ ہی نہیں سکتا۔ علم ایک مسلسل بیداری ہے، جو سوئے ہوئے ذہنوں کو جگاتی ہے، اور یہ بیداری ہی اصل تعلیم ہے۔

اسی طرح تعلیم کے اصل مقاصد کو بحال کیے بغیر کوئی بھی تعلیمی نظام معاشرے کی فکری اصلاح نہیں کر سکتا۔ ہمیں اس غلط فہمی سے باہر نکلنا ہوگا کہ ڈگری کا حصول علم کا حصول ہے۔ علم ایک زندہ عمل ہے، جو انسان کی ذات میں مسلسل ارتقاء کا نام ہے۔ تعلیم تبھی بامقصد ہو سکتی ہے جب وہ انسان کو اس کی حقیقت سے آشنا کرے، اُسے صرف سکھائے نہیں بلکہ جگائے، سوچنے پر مجبور کرے، اور سوالات کی چنگاری سلگائے۔ ایک تعلیم یافتہ انسان وہ ہے جو خود سے سوال کرتا ہے، معاشرے سے مکالمہ کرتا ہے، اور علم کے سفر میں خود کو شریک رکھتا ہے۔ آج ہمیں جس المیے کا سامنا ہے، وہ لاعلمی کا نہیں بلکہ اس زعم کا ہے کہ ہم علم رکھتے ہیں۔ حقیقی تعلیم انسان کو عاجز بناتی ہے، متواضع رکھتی ہے اور سیکھنے کی پیاس کو بڑھاتی ہے۔ وہ انسان جو خود کو مکمل سمجھ بیٹھے، دراصل علم سے محروم ہو چکا ہوتا ہے۔

اس لیے لازم ہے کہ ہم تعلیم کو ایک جاری عمل سمجھیں، اس کا احترام کریں، اور ہر دن کچھ نہ کچھ سیکھنے کا عزم کریں۔ جب تک سیکھنے کا عمل جاری ہے، ہم زندہ ہیں بصیرت کے ساتھ، فہم کے ساتھ، اور وہ شعور لیے ہوئے جو ہمیں خودی اور خدائی کے رازوں تک لے جانے کی صلاحیت بخشتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے