وہ بھی دن تھے

مصنف : گورچرن سنگھ ۔۔ تدوین مقدمہ ڈاکٹر حنیف خلیل-

وہ بھی دن تھے ” کے ٹائٹل سے جنگ آزادی کے ممتاز انقلابی کارکن کرتی کسان پارٹی کے رہنما گورچرن سنگھ کے بٹوارے سے پہلے صوبہ سرحد میں بائیں بازو کی سیاست 1940 – 1928 تک یاداشتیں پر مبنی کتاب ہے جو کہ پشتو اردو کے ممتاز لکھاری انور خان دیوانہ کی جانب سے دیگر غیر مطبوعہ مسودات کے ساتھ ڈاکٹر حنیف خلیل کے ہاتھوں چڑا ڈاکٹر صاحب متن کی تدوین کرکے اپنے مقدمے لکھا اور ادب محل پبلیشر پشاور نے حسن طباعت سے آراستہ کرکے منظر عام پر لے آئے ڈاکٹر حنیف خلیل کتاب "عرض خلیل ” کے عنوان سے اپنے مقدمے میں رقمطراز ہے ” اس غیر مطبوعہ مسودہ پر انور خان دیوانہ مرحوم نے ایک نوٹ لکھا ہے جس میں وضاحت کی گئی ہے کہ "کہ یہ کتاب گورمکھی میں لکھی گئی تھی ” گورچرن سنگھ نے 1977 میں سراج خان ولد عباد خان سکنہ پیرپائی کو ارسال کی ۔لیکن باوجود تلاش کے اس کے ترجمے کا کوئی بندوبست نہیں ہوسکا ۔

جنوری 1993 میں ایک طالب علم امرناتھ مردان کا رہنے والا ملالیکن ان ہی دنوں بابری مسجد کے فساد شروع ہوگی ۔ لیکن وہ ٹھیٹ پنجابی میں تھا ۔ پھر مین نے اس کو چوبارہ اردو میں لکھا ۔بھر حال ہم امرناتھ کے بڑے مشکور ہیں جن کے طفیل ہم کو اس کتاب کے سمجھنے میں مدد ملی اور جدوجہد کی معلومات میں مزید
اِضافہ ہوا” ۔

یوں تو مصنف نے ” بٹوارے سے پہلے صوبہ سرحد میں بائیں بازوں کی سیاست لکھا ہے لیکن اس میں مشرقی اور مغربی پنجاب کے اس وقت صوبہ سرحد قبائلی علاقہ جات اور افغانستان تک کے حالات و واقعات رقم ہیں اس طرح ہم گورچرن سنگھ کی تحریر سے انور خان دیوانہ مرحوم ،ڈاکٹر حنیف خلیل بل بوتے سے مستفیض ہورہے ہیں۔ اس کتاب کی متن کے بارے میں ڈاکٹر حنیف خلیل کا کہنا ہے ۔ ” انور خان دیوانہ مرحوم کے اس مختصر نوٹ سے بھی اس کتاب کے مندرجات اہمیت اور پس منظر کا اندازہ ہوتا ہے ۔ مگر کتاب کی اہمیت کا اندازہ پڑھنے کے بعد بخوبی ہو جائے گا کہ یہ جدوجہد آزادی کے پس منظر ا اور عملی جدوجہد کی ایک نادر داستان ہے ۔ میں نے مسودہ پڑھا تو جابجا تصحیح اور تدوین کی ضرورت تھی ۔ لہزا میں پورے مسودے پر نظر
ثانی کی اور اشاعت کے لیے تیار کیا” ۔

یقیناً ایک سو باون صفحات پر مشتمل اس کتاب میں وافر مقدار میں تاریخی معلومات ، واقعات محفوظ ہے کتاب کی جگہ روداد کہی رہورتاژ اور کہیں کہیں افسانوی اسلوب میں لکھی گئی ہے ۔ کردار نگاری , منظر کشی نے تحریر کا حسن دوبالا کر دیا گیا ہے ۔ گورچرن سنگھ لکھتے ہیں ” 1928 میں انگریزوں کے خلاف ہندوستان میں قومی تحریک زوروں پر تھی ۔ اس تحریک کا مطلب غلامی سے نجات دلانا تھا ۔ ان تحریکوں نوجوان بھارت سبھا کا بڑا زور تھا ۔ کیرتی کسان پارٹی نے اپنا پہلے فارم بنایا ہوا تھا کیمونسٹ پارٹی بھاگنے والی تھی ۔ بنگال کے خلافتی چوبارہ زندہ ہوگئے تھے ۔ ہندوستان سوشلسٹ ریپبلک آرمی اس تحریک کو بری نظر سے دیکھ رہی تھی ۔تحریک کا زور سورج کی کرنوں کی طرح انقلابی پارٹی کی طرف جارہا تھا بندے ماترم ہندو کا نعرہ کی جگہ انقلاب زندہ باد نے کے لی تھی ۔

کانگرس نے اس تحریک کو دیکھتے ہوئے کلکتہ کے اجلاس میں میں انگریز حکومت کے ہوتے ہوئے ایک چھوٹی سی مملکت بنانا چاہتے تھے ۔جب اس اجلاس کا کوئی نہیں ہوا تو 1929 میں ایک اور اجلاس کے دوران ایک بھرپور "مملکت کا نعرہ بلند کیا ۔

گورچرن سنگھ کے اس کتاب میں پنجاب کے پارٹی ورکروں کا ذکر کیا ہے جن کی غالب اکثریت سکھ کا تعلق سکھ برادری سے ہی ہے ، موجودہ پاکستان کے ضلع اٹک چج نوشھرہ ، رسالپور ، مردان رشکئ، پشاور کوہاٹ کرک میں موجود ان کی پارٹی آراکین پشتون انقلابیوں میں سے ، کاکاجی صنوبر حسین ، خوشحال کاکا ، عباد خان، میاں محمد شاہ ، میرغزن، میاں اکبر شاہ، بھگت رام تلوار، وارث خان، شہزاد خان، سکندر خان، مہرداد خان اور دیگر ناموں ، کا ذکر درج ہے حاجی صاحب ترنگزئی حاجی محمد آمین ، عبد الغفار خان ، اور فقیر ایپی کا ذکر موجود ہے ان سبوں میں فقیر ایپی کے بارے میں مصنف تاثر منفی تھا ، کیوں تھا؟ اس کے لیے آپ نے اس کتاب کو پڑھنا ہے ۔ اسی طرح افغانستان کے امیر امان اللّٰہ خان ذکر سامراج دشمن کی حیثیت سے کیا ہے جبکہ نادر خان کو سامراج دوست قرار دیا ہے کابل میں غدر پارٹی کا واسطہ 1921-1922 سے چلا آرہاتھا ۔

غدر پارٹی کی مدد امریکہ اور انقلابی پارٹی کی سرپرستی روس کرتا تھا ان دنوں افغانستان کا بادشاہ امان اللہ خان تھا جو انگریزوں کا بہت بڑا دشمن تھا آزادی پسند تھا ۔ جب 1925 میں قومی تحریک نے زور پکڑ لیا تو انگریز پریشان ہوئے کہیں یہ انقلابی آمان اللہ خان سے نہ جا ملے ۔

انگریزوں نے کروڑوں روپے خرچ کرکے آمان اللّٰہ خان کے خلاف مولویوں کو اکسایا آمان اللہ خان کے سقوط کے بعد نادر خان کو تخت پر بٹھایا وہ غدر اور انقلابی دونوں مخالف تھا ۔ اس کتاب سبھاش چندر بوس کا بھی ذکر ہے کہ کیسے ہندوستان سے کابل تک انقلابیوں نے پہنچایا اور وہ کیسے روس کے بجاے جرمنی گئے ۔

یقیناً ہندوستان کی آزادی کے متوالوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرکے اور جان و مال کی قربانیوں سے انگریزوں مجبور کیا کہ ہندوستان سے اپنا بوریا بستر لپیٹ کر چلے گئے اور اس آزاد ممالک میں زندگی بسر کررہے ہیں ۔

گورچرن سنگھ کے اس واقعے نے متاثر کیا وہ جب فقیر ایپی سے ملنے وزیرستان جارہے تھے تو رمضان کا مہینہ تھا مصنف عقیدے سکھ تھا اور انقلابی بھی تھا لیکن پھر بھی اس نے رمضان کا احترام کرتے ہوئے کچھ بھی نا کھایا پیا حالانکہ اسلام نے سفر چھوٹ دیا ہے لیکن اس نے پختون روایات کی پاسداری کی ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے