نوے ژوند تنظیم نے ایک قابلِ تحسین اقدام کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آنے والا چوتھا امن ایوارڈ مایہ ناز ادیب، انقلابی سیاستدان اور پختون قوم کے عظیم سپوت اجمل خان خٹک کے نام منسوب کیا جائے گا۔ یہ اعزاز ان کی صد سالہ جشنِ ولادت کے موقع پر پیش کیا جائے گا، جس کا مقصد نہ صرف اُن کی گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی ان کی فکر، جدوجہد اور قربانیوں سے روشناس کرانا ہے۔
اجمل خٹک ایک ایسا درخشندہ نام ہے جو علم، ادب، سیاست اور مزاحمت کے باب میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی ظلم، ناانصافی اور استحصالی نظام کے خلاف آواز بلند کرتے گزاری۔ وہ نہ صرف ایک حساس شاعر اور باخبر صحافی تھے بلکہ ایک باوقار رہنما بھی جنہوں نے ہر محاذ پر مظلوموں کا ساتھ دیا۔ نوے ژوند تنظیم کا یہ فیصلہ یقیناً وقت کی ضرورت اور اجمل خٹک کی جدوجہد کو زندہ رکھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ اس ایوارڈ کے ذریعے اُن کی قربانیوں کو ایک نئی معنویت ملے گی اور معاشرے میں امن، برداشت اور شعور کی بنیادیں مزید مضبوط ہوں گی۔
یہ تقریب محض ایک اعزاز نہیں بلکہ ایک عہد ہے کہ ہم اپنے نظریاتی اکابرین کی اقدار کو بھلانے کے بجائے اُن کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ایک پرامن، باوقار اور انصاف پر مبنی سماج کی تشکیل کی جانب بڑھیں گے۔ 14 ستمبر 2025 کو نوشہرہ کی ادبی فضاؤں میں ایک ایسا دن رقم ہوا جو پشتو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔ ڈسٹرکٹ کونسل ہال نوشہرہ میں منعقدہ اجمل خٹک کی صد سالہ جشنِ ولادت کی تقریب محض ایک رسمی تقریب نہ تھی بلکہ ایک فکری، ادبی اور تہذیبی اجتماع تھا جس میں علم، تحقیق، شاعری اور قومی شعور نے یکجائی کا منظر پیش کیا۔
اس یادگار موقع پر اسلام آباد کی معروف ادبی، ثقافتی اور فلاحی تنظیم "نوے ژوند” کو مشاعرے کی دوسری نشست کی صدارت کا اعزاز حاصل ہوا، جو تنظیم کے لیے ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اجمل خان خٹک، جنہیں محبت سے "اجمل بابا” کہا جاتا ہے، صرف شاعر یا سیاستدان نہیں تھے بلکہ وہ پختون قوم کی اجتماعی دانش اور مزاحمتی فکر کا استعارہ تھے۔ انہوں نے آزادی، خودی، ثقافت اور انسانی وقار جیسے موضوعات کو جس سوز و گداز سے بیان کیا، وہ پشتو ادب کی تاریخ میں ایک روشن باب ہے۔ ان کا کلام استعماری قوتوں کے خلاف آواز بھی ہے اور انسان دوستی و تہذیبی شائستگی کی بہترین مثال بھی۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کا شرف محمد نثار نثار کو حاصل ہوا۔ مرکزی پشتو ادبی جرگہ نوشہرہ کے سرپرست اعلیٰ ولی خان خاکسار نے افتتاحی کلمات میں مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے اجمل خٹک بابا کی علمی، فکری اور سیاسی خدمات کا مختصر مگر جامع جائزہ پیش کیا۔ پہلی نشست کی صدارت معروف ڈرامہ رائٹر، شاعر و ادیب نورالبشر نوید نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی کے طور پر ڈاکٹر یار محمد مغموم خٹک شریک ہوئے۔ شعیب خان خٹک نے اس نشست میں نظامت کے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ اس موقع پر اجمل خٹک کی زندگی اور فکر پر تحقیقی مقالات بھی پیش کیے گئے، جن میں سیدالامین احسن خیشکی، ڈاکٹر ساغر یوسفزئی اور فرہاد محمد غالب ترین کے مقالات نمایاں رہے۔ ان مقالات میں اجمل خٹک کی ادبی و سیاسی جدوجہد اور تہذیبی بصیرت کو نہایت فکری انداز میں اجاگر کیا گیا۔
پہلی نشست کے بعد منعقدہ منظوم نشست میں جید شعرا نے اپنے کلام کے ذریعے اجمل خٹک کو عقیدت، احترام اور فکری خراج پیش کیا۔ میا لطیف شاہ شاہد، ڈاکٹر محمد زبیر حسرت، حسن باچا حسن، سید محمد نشتر، انعام اللہ مجروح، وهاب خٹک، نیک محمد قمر، ڈاکٹر فقیر محمد فقیر، اور ڈاکٹر سردار عالم یوسفزئی نے اجمل بابا کی فکری میراث کو اپنے اشعار میں جذب و خیال کے خوبصورت سانچوں میں ڈھالا۔ ان کی شاعری نے محفل کو فکری اور جذباتی فضا میں اس طرح لپیٹ لیا کہ سامعین پر ایک گہرا اثر چھوڑا۔
اس کے بعد شروع ہونے والی دوسری نشست کو اپنی نوعیت کا ایک منفرد مشاعرہ کہا جا سکتا ہے۔ اس نشست کی صدارت نوے ژوند کے چیئرمین نسیم مندوخیل نے کی، جن کی ادبی خدمات کو بھرپور طور پر سراہا گیا۔ حسن باچا نے نظامت کے فرائض نہایت متوازن اور خوش ذوق انداز میں انجام دیے۔ اس نشست میں شریک شعرا میں شعیب خان خٹک، سہیل ننگیال، گوہر وفا، فقیر شاہ فقیر، ڈاکٹر محمد رازق کوثر، ڈاکٹر اسلم تاثیر اپریدی، وصال محمد خلیل، پښتونیار ہلال، حامد ساغری، گل اشنغری، عرفان الله ساروان، ڈاکٹر ریاض یوسفزئی، ڈاکٹر ساغر یوسفزئی، اور وحیدالرحمان ضیاء شامل تھے۔
ہر شاعر نے اپنے منفرد انداز میں اجمل بابا کے انقلابی خیالات، آزادی پسند نظریات اور قومی شعور کو شاعرانہ پیرائے میں اس انداز سے پیش کیا کہ سامعین یکسوئی سے ہمہ تن گوش ہو گئے۔ نسیم مندوخیل نے اپنے خطاب میں اجمل خٹک کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے نوشہرہ کے ڈپٹی کمشنر عرفان اللہ محسود کو ادب نوازی پر خصوصی خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایاز مندوخیل کے بعد عرفان محسود دوسرے ایسے ضلعی افسر ہیں جنہوں نے ادب اور ادیبوں کو عزت دی، جو قابلِ ستائش ہے۔
انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ اکوڑہ خٹک میں خوشحال بابا کے مزار کی تزئین و آرائش، گیسٹ رومز کی مرمت، اور وہاں موجود لائبریری کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مقامات صرف تاریخی نشانیاں نہیں بلکہ زندہ ثقافتی مراکز ہیں، جنہیں فعال بنانے کے لیے مقامی ادبی تنظیموں کو شاملِ مشورہ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان مقامات کو ادبی سرگرمیوں کے لیے باقاعدہ استعمال کرنے کی اجازت دی جائے اور ایک منظم کمیٹی بنائی جائے جو ان کے انتظام و انصرام کی نگرانی کرے۔
اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے مرحوم ادیب سرور خٹک کی علمی و ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی پہلی برسی کے موقع پر باضابطہ تقریب کے انعقاد کی تجویز دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر 20 ستمبر 2025 کو روح اللہ درانی جرگہ یا نیلاب ادبی جرگہ سرور خٹک کی یاد میں تقریب منعقد کرے تو یہ نئی نسل کے لیے بھی ایک مثبت مثال بنے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ خوشخبری بھی دی کہ نوے ژوند تنظیم نے "سرور خٹک ایوارڈ” کے نام سے ایک نیا ادبی اعزاز متعارف کرایا ہے، جو آئندہ ادبی تقریبات میں نمایاں اہلِ قلم کو پیش کیا جائے گا تاکہ ان کی خدمات کو سراہا جا سکے۔
آخر میں انہوں نے نوے ژوند کے تمام اراکین کو اس تاریخی موقع پر شرکت اور صدارت کی سعادت حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کی اور اپنی گفتگو کا اختتام ان الفاظ پر کیا کہ مرکزی پشتو ادبی جرگہ نوشہرہ اور دیگر تنظیموں کو اس کامیاب اور شاندار تقریب کے انعقاد پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ کئی چہرے ایسے تھے جن کی زیارت سے دل خوش ہوا، البتہ چند قریبی دوستوں سے ملاقات نہ ہو سکی، جو افسوس کا باعث ہے، مگر مثل ہے: "یار زندہ، صحبت باقی۔”
اجمل خٹک کی صد سالہ ولادت کی یہ تقریب اُن کے فکری ورثے کی گونج تھی اور نوے ژوند تنظیم کے لیے یہ لمحہ اس کی ادبی شناخت اور سفر میں ایک روشن سنگِ میل بن کر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ صرف ایک صدی کی یاد نہیں تھی بلکہ نئی صدی کے لیے فکری چراغ روشن کرنے کا آغاز بھی تھا۔
پریس سیکرٹری، نوے ژوند اسلام آباد