قومی شناختی کارڈ: معاشرتی شمولیت کی کنجی اور نادرا کے جدید اقدامات

شناخت کا عالمی دن ہر سال 16 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن ان کروڑوں افراد کی طرف توجہ دلانے کے لیے وقف ہے جو قانونی شناخت کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں اور جس کی وجہ سے وہ بنیادی خدمات تک رسائی سے محروم ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں آبادی کا ایک بڑا حصہ اب بھی غیر دستاویزی ہے، یہ دن خاص اہمیت رکھتا ہے۔ شناختی دستاویزات نہ صرف فرد کی قانونی حیثیت کی تصدیق کرتی ہیں بلکہ شہریوں کے لیے تعلیم، صحت، روزگار، سفر اور بینکاری جیسی بنیادی سہولیات تک رسائی کا ذریعہ بھی ہیں۔

شناخت صرف ایک کارڈ یا دستاویز کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ شناختی دستاویز کے بغیر انسان معاشرتی دھارے میں شامل نہیں ہو پاتا۔ آپ کون ہیں؟ کس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں؟ کس علاقے سے تعلق ہیں؟ کہاں رہتے ہیں؟ عمر کتنی ہے؟ آپ کے وجود میں کیا قدرتی نشانات اور امتیازات ہیں؟ (جیسا کہ فنگر پرنٹس وغیرہ) ازدواجی حیثیت کیا ہے؟ خاندانی حجم کیا ہے؟ یہ ساری بنیادی تفصیلات شناختی دستاویزات میں متعین ہوتی ہیں اور یوں ایک شہری کی مستقل شناخت بنتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ ہر فرد کے پاس ایک قانونی شناخت ہونی چاہیے جو اس کے وجود کو تسلیم کرے اور اسے ریاستی و غیر ریاستی خدمات تک رسائی فراہم کرے۔

معاشی ڈھانچے میں شمولیت کے لیے بھی شناخت ناگزیر ہے۔ بینک اکاؤنٹ کھولنے، سرکاری و غیر سرکاری امداد حاصل کرنے، اور روزگار کے حصول کے لیے شناختی دستاویزات لازمی ہیں۔ قانون کے مطابق پاکستان میں قومی شناختی کارڈ ہر شہری کے لیے ضروری ہے کیونکہ یہ تمام سرکاری و غیر سرکاری معاملات میں بنیادی دستاویز کا درجہ رکھتا ہے۔ آج کل تو شناختی دستاویزات کی اہمیت اس قدر بڑھی ہے کہ قدم بہ قدم ان کی ضرورت پیش آتی ہے اور ان کے بغیر زندگی گزارنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔

شناختی دستاویزات کے بغیر خواتین اور اقلیتی گروہوں کے حقوق کا تحفظ بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر دیہی خواتین جو ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، ان کے پاس اکثر کوئی دستاویزی شناخت نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے وہ سرکاری امداد اور دیگر سہولیات سے محروم رہ جاتی ہیں۔ ایک سرکاری رپورٹ میں دیہی خواتین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ان کی قانونی شناخت کو یقینی بنانا اولین شرط ہے۔ چند برس قبل وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کا ایک بیان اخبارات کی زینت بنا تھا جس میں ان کا کہنا ہے کہ صوبہ سندھ میں تقریباً پچاس فیصد خواتین کے پاس شناختی دستاویزات نہیں۔ یہ ایک حد درجہ تشویشناک صورتحال ہے۔

پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ، خاص طور پر دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد کے پاس اب بھی کوئی رسمی شناختی دستاویز نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے وہ ووٹ ڈالنے، بینک اکاؤنٹ کھولنے، بچوں کو سکول داخل کروانے سے محروم جبکہ دوسری سرکاری سہولیات سے استفادہ بھی نہیں کر سکتے۔

خواتین میں شناختی دستاویزات کی کمی خاص طور پر پریشان کن ہے۔ ایک تحقیقی اندازے کے مطابق پاکستان میں خواتین کے ناموں کے حوالے سے رسم و رواج میں خاصا تنوع پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بعض اوقات دستاویزات کی تکمیل میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ مثلاً بعض خواتین شادی کے بعد اپنا نام تبدیل کر لیتی ہیں، جبکہ بعض اپنے والد یا شوہر کے نام کو استعمال کرتی ہیں۔ اس صورتحال میں دستاویزات کی یکسانی اور تسلیم شدہ شکل کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے تاہم اب نادرا نے اپنی پالیسی میں رد و بدل لایا ہے۔ اب یہ خواتین کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ والد یا شوہر میں سے کس کا نام اپنے ساتھ لگانا چاہتی ہیں۔

بعض علاقوں میں جدید ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی اور انفراسٹرکچر کی کمی کی وجہ سے شناختی دستاویزات کا اجراء اور ان کی تصدیق مشکل ہو جاتی ہے۔ بائیومیٹرک سسٹم کے لیے درکار ٹیکنالوجی بعض دور دراز علاقوں میں موجود نہیں ہوتی۔ اس طرح بعض معاشرتی اور ثقافتی رکاوٹیں بھی شناختی دستاویزات کے حصول میں حائل ہیں۔ بعض علاقوں میں خواتین کا گھر سے باہر نکل کر اپنے بائیومیٹرک تصدیق اور تصاویر کے لیے جانا مشکل ہوتا ہے۔ نیز، بعض قبائلی علاقوں میں حکومتی دستاویزات کے حوالے سے عدم اعتماد پایا جاتا ہے۔

قومی ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کا قیام دو ہزار کو عمل میں لایا گیا تھا، جس کا مقصد پاکستانی شہریوں کے لیے یکساں معیاری شناختی دستاویزات جاری کرنا ہے۔ نادرا نے بائیومیٹرک سسٹم متعارف کرایا، جس کی بدولت شناختی کارڈز کے اجراء میں جعلسازی کے امکانات کافی حد تک کم ہو گئے ہیں۔

نادرا نے ملک بھر میں اپنے دفاتر کا جال بچھا رکھا ہے اور شہریوں کو شناختی دستاویزات جاری کرنے کے لیے کثیر الجہت اقدامات کیے ہیں۔ مثلاً میگا سینٹرز کا قیام جہاں سات دن اور چوبیس گھنٹے خدمات کی فراہمی جاری رہتی ہیں، اس طرح موبائل وین کے ذریعے دور دراز علاقوں میں خدمات کی فراہمی، خواتین کے لیے مخصوص کاونٹرز کی سہولت، اور آن لائن درخواست کے نظام نے شناختی دستاویزات کے حصول کو اب بہت زیادہ آسان بنا دیا ہے۔

سو فیصد آبادی کو شناختی دستاویزات فراہم کرنے کے لیے چند اہم تجاویز

1. بڑے پیمانے پر آگاہی مہم چلانا

شناخت محض ایک کارڈ نہیں، بلکہ یہ انسان کی قانونی حیثیت کا اثبات ہے۔ یہ فرد اور ریاست کے درمیان ایک معاہدہ ہے جس کے بغیر انسان معاشرے میں اپنا وجود ثابت نہیں کر سکتا۔ اس طرح عوامی آگاہی میں اضافے کے لیے میڈیا، تعلیمی اداروں، اور مذہبی رہنماؤں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح دیہی علاقوں میں واک اور سیمینارز کا انعقاد کر کے لوگوں کو شناختی دستاویزات کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔ خاص طور پر خواتین کو ان کے حقوق اور شناخت کی اہمیت کے بارے میں شعور دلانا بھی اس سلسلے میں اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

2. خواتین کے لیے مخصوص اقدامات

خواتین کے لیے الگ سے کاونٹرز کے علاوہ، خواتین عملہ کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ خواتین باآسانی اعتماد اور پرائیوسی کے ساتھ اپنی بائیومیٹرک تصدیق اور دیگر تفصیلات درج کروا سکیں۔ نیز، ایسی خواتین جو پردہ کرتی ہیں، ان کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں۔

3. تعلیمی اداروں کے ساتھ باہمی تعاون

تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر طلباء و طالبات کو شناختی دستاویزات کے حصول کے لیے ترجیح دی جائیں۔ ہائی اسکول اور کالج سطح پر ہی طلباء کو شناختی کارڈز جاری کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے۔

4. ٹیکنالوجی کو بہتر بنانا

مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید ترین ٹیکنالوجی کو اپنایا جائے۔ بائیومیٹرک سسٹم کو مزید بہتر بنایا جائے اور دور دراز علاقوں میں آف لائن کام کرنے کی صلاحیت پیدا کی جائے، جہاں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔

5. قانونی اور انتظامی اصلاحات

پاکستان میں ناموں کے حوالے سے مختلف رسم و رواج ہیں، جنہیں مدنظر رکھتے ہوئے قانونی اور انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر خواتین کے ناموں کے حوالے سے لچکدار پالیسی اپنائی جائے، تاکہ دستاویزات کے اجراء میں آسانی ہو۔ نیز، شادی کے بعد نام تبدیل کرنے والی خواتین کے لیے آسان کارروائی متعارف کرائی جائے۔

6. شمولیتی اور یکساں پالیسی

ہر فرد کے لیے شناختی دستاویزات کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے یکساں پالیسی اپنائی جائے۔ خاص طور پر اقلیتی گروہوں، بے گھر افراد، اور معذور افراد کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔

شناخت کا عالمی دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہماری کوششوں کے باوجود لاکھوں افراد اب بھی شناختی دستاویزات سے محروم ہیں۔ ان تک رسائی کے لیے حکومت، سول سوسائٹی، اور عوام کے درمیان مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ نادرا کو چاہیے کہ وہ اپنے موجودہ اقدامات کو مزید وسعت دے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے شناختی عمل کو تیز تر اور آسان تر بنائے۔

ہر شہری کی قانونی شناخت نہ صرف اس کے بنیادی حقوق کی تکمیل ہے، بلکہ ملکی ترقی اور استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ آئیں، اس عالمی دن پر ہم عہد کریں کہ ہر پاکستانی شہری تک شناختی دستاویزات کی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

پاکستان میں شناختی دستاویزات کی فراہمی کا بنیادی ذمہ دار آئینی ادارہ نادرا (قومی ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی) ہے۔ دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، نادرا نے اب تک کروڑوں پاکستانی شہریوں کو قومی شناختی کارڈ جاری کیے ہیں۔ نادرا کا ڈیٹا بیس ملک کے سب سے بڑے بائیومیٹرک ڈیٹا بیسز میں سے ایک ہے، جس میں اٹھارہ سال سے زائد عمر کے تقریباً ستانوے فیصد شہریوں کی معلومات درج ہیں۔

شناخت تحفظ اور توسیع دینے کے حوالے سے نادرا کے اقدامات

1. بائیومیٹرک سسٹم کی شمولیت: پاکستان دنیا کے ان پہلے ممالک میں سے ہے جس نے بائیومیٹرک شناختی کارڈ متعارف کرائے، جس سے جعل سازی کے امکانات کافی حد تک کم ہو گئے ہیں۔ نادرا کا نظام فنگر پرنٹس، آئرِس اسکین اور فشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔

2. خواتین کی شمولیت: نادرا کی حالیہ اصلاحات کے تحت، خواتین کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے شناختی کارڈ پر اپنے والد کا نام یا شوہر کا نام درج کروا سکتی ہیں، جو قانونی خودمختاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

3. ڈیجیٹل شناختی کارڈ: نادرا نے حال ہی میں ڈیجیٹل شناختی کارڈ متعارف کرایا ہے، جو ایک موبائل ایپ کے ذریعے استعمال ہوتا ہے۔ یہ کارڈ روایتی کارڈ کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہے اور اس کے گم یا چوری ہونے کا خطرہ نہیں ہے ۔

4. عالمی سطح پر تسلیم شدہ دستاویزات: نادرا کے جاری کردہ شناختی کارڈز اب بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہیں، جن میں انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں معلومات درج ہوتی ہیں اور ایک کیو آر کوڈ بھی شامل ہوتا ہے، جس سے سرحدی اداروں اور دیگر اداروں کے لیے تصدیق کا عمل آسان ہو گیا ہے۔

5. بچوں کا رجسٹریشن سسٹم: نادرا نے بچوں کی پیدائش کی رجسٹریشن کے نظام کو بہتر بنایا ہے، جس میں مختلف عمر کے بچوں کے لیے مختلف بائیومیٹرک تقاضے مقرر کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر، تین سال سے کم عمر بچوں لیے بائیومیٹرک ڈیٹا ضروری نہیں ہے، جبکہ دس سے اٹھارہ سال کی عمر کے بچوں کے لیے مکمل بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہے ۔

6. دور دراز علاقوں میں موبائل وین کے ذریعے خدمات میں اضافہ

اب نادرا کی موبائل وین خدمات کو مزید وسعت دی ہے اور اب دور دراز علاقوں میں بھی موبائل وین کی سہولت دستیاب ہے۔ ساتھ ہی، مقامی نمائندوں کو اس عمل میں شریک کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہریوں تک رسائی ممکن ہو جائے۔

شہریوں کے لیے نادرا کی حالیہ سہولیات

آن لائن خدمات: نادرا نے گھر بیٹھے آن لائن خدمات متعارف کرائی ہیں، جہاں شہری موبائل ایپ یا ویب پورٹل کے ذریعے اپنے شناختی کارڈ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، تجدید کر سکتے ہیں یا دیگر خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔

یونین کونسل سطح پر خدمات: اب شہری اپنے قریبی یونین کونسل میں جا کر بھی شناختی دستاویزات کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں، جس سے دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے سہولت پیدا ہوئی ہے۔

پاکستان میں نادرا نے شناختی دستاویزات کے حوالے سے قابل ذکر ترقی کی ہے، جس میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، خواتین کے حقوق کا تحفظ، اور بڑے پیمانے پر عوامی سہولیات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ عالمی یومِ شناخت کے موقع پر، یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا شناختی نظام بین الاقوامی معیارات کے مطابق ہے اور اسے مزید بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے